• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

فناء اور بقاء

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,524
ری ایکشن اسکور
11,562
پوائنٹ
641
صوفیاء نے تزکیہ نفس میں فناء اور بقاء کی اصطلاحات استعمال کی ہیں۔ متقدمین صوفیاء کا تصور فناء وبقا سادہ تھا۔ فناء سے ان کی مراد رذائل نفس سے اپنی ذات کو پاک کرنا اور بقاء سے مراد اخلاق حمیدہ سے اپنے آپ کو متصف کرنا تھا۔ فناء کی اصطلاح رذائل کے لیے تھی اور بقاء کی اخلاق عالیہ کے لیے۔

اس کے بعد صوفیاء کی ایک ایسی جماعت آئی جنہوں نے تصوف کوا عمل سے زیادہ نظریہ بنا دیا۔ انہوں نے فناء فی اللہ اور بقاء باللہ کو سالک کی منازل قرار دیا۔ ان کے نزدیک فناء فی اللہ عروج ہے اور بقاء باللہ زوال ہے۔ یعنی سالک اپنے تزکیہ نفس میں اپنے قلب وذہن کو اللہ کے غیر سے اس طرح پاک کر لے کہ وہ یعنی غیر اس یعنی سالک کے ہاں درجہ علم میں نہ رہیں۔ سالک کو اپنے خالق کے علاوہ کچھ محسوس نہ ہو۔ ایسا سالک اپنے آپ کو اللہ کی ذات میں فناء کر دیتا ہے بایں معنی کہ اس پر اللہ کے تصور اور محبت کا اس قدر غلبہ ہے کہ غیر کا وجود اس کے دل ودماغ میں باقی نہیں رہا ہے۔ ان کے بقول فناء فی اللہ کے بعد بعض سالکین کو بقاء باللہ کا مرتبہ دیا جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ جس نے اپنے آپ یعنی اپنے دل ودماغ کو اللہ کی ذات میں فناء کر دیا ہے بایں معنی کہ اللہ کے ماسواء کسی کا نہ تو اس کے ذہن میں تصور باقی ہے اور نہ دل میں محبت، تو مخلوق اس کے لیے ایک اعتبار معدوم ہو گئی ہے۔ اب اللہ کی طرف سے تبلیغ ودعوت یا کسی دوسری مصلحت کے سبب سے سالک کو دوبارہ مخلوق کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے اور وہ اللہ کے تصور کے ساتھ غیر کا تصور اپنے ذہن میں اور اللہ کی محبت کے ساتھ مخلوق کی محبت اپنے دل میں محسوس کرتا ہے۔ اس طرح مخلوق جو کہ فناء فی اللہ میں سالک کے لیے معدوم ہو چکی تھی، اگرچہ حقیقت میں وہ موجود تھی، تو بقاء باللہ میں وہ مخلوق دوبارہ سالک کے قلب وذہن میں آ موجود ہوتی ہے۔

ہمیں فناء وبقاء کی ان دونوں تعبیرات سے دلچسپی نہیں ہے۔ پہلی تعبیر اگرچہ اپنے مقصود میں تو شرعی ہے یعنی رذائل کا خاتمہ اور اخلاق عالیہ سے متصف ہونا لیکن یہ معنی متبادر الذہن معلوم ہوتا ہے۔ اور فناء وبقاء کی دوسری تعبیر تو شرعی اعتبار سے بھی مطلوب نہیں ہے کیونکہ اس تعبیر کو مان لینے کی صورت میں فناء فی اللہ کا عروج استغراق اور سکر قرار پاتا ہے جو شرعی اعتبار سے مطلوب صفات نہیں ہیں۔ استغراق اگر مطلوب ہوتا تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جماعت کی نماز میں بچے کی رونے کی آواز سن کر نماز مختصر نہ کرتے اور سکر تو ہے ہی مدہوشی۔

اگر ہم کتاب وسنت سے فناء وبقاء کا تصور اخذ کرنا چاہیں تو وہ اس سے بہتر کیا ہو سکتا ہے کہ فناء وبقاء سے مراد اللہ کے قرب کے شوق میں اپنی جان کو قربان کر دینا۔ اللہ کے رستے میں جان دے دینا، جسے ہم شہادت کہتے ہیں، سے بڑھ کر انسان کیا مرتبہ فناء حاصل کرے گا؟ اور اس فناء یا شہادت کے بعد اللہ کے عرش کے نیچے قندیلوں میں رات گزارنے سے بڑھ کر بقاء باللہ کا کیا تصور ہمارے قلب وذہن میں آ سکتا ہے اور کتاب وسنت سے تصدیق حاصل کر سکتا ہے۔ شہید در اصل مقام فناء سے گزر کر بقاء کا ایک ایسا مقام حاصل کر لیتا ہے کہ جس کو پھر زوال نہیں ہے۔ اور یہاں فناء زوال ہے اور بقاء عروج ہے۔ اللہ عزوجل کا ارشاد ہے:
" وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ " [ آل عمران : 169 ]

اور تم ان لوگوں مردہ خیال مت کرو جو اللہ کے رستے میں مارے گئے بلکہ وہ زندہ ہیں اور اپنے رب کے ہاں رزق دیے جاتے ہیں۔
جبکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
" أَرْوَاحُ الشُّهَدَاءِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي حَوَاصِلِ طَيْرٍ خُضْرٍ، لَهَا قَنَادِيلُ مُعَلَّقَةٌ بِالْعَرْشِ، تَسْرَحُ فِي أَيِّ الْجَنَّةِ شَاءُوا، ثُمَّ تَرْجِعُ إِلَى قَنَادِيلِهَا فَيُشْرِفُ عَلَيْهِمْ رَبُّهُمْ فَيَقُولُ: أَلَكُمْ حَاجَةٌ؟ تُرِيدُونَ شَيْئًا؟ فَيَقُولُونَ: لَا، إِلَّا أَنْ نَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا فَنُقْتَلَ مَرَّةً أُخْرَى "
شہداء کی ارواح قیامت کے دن تک اللہ کے پاس رہتی ہیں اور انہیں سبز پرندوں کے پیٹوں میں ڈال دیا جاتا ہے۔ ان کی رہائش کے لیے عرش کے ساتھ لٹکی ہوئی قندیلیں ہیں۔ یہ ارواح جنت میں جہاں چاہتی ہیں، چرتی چگتی ہیں اور پھر شام کو عرش کے نیچے اپنی قندیلوں میں واپس آ جاتی ہیں۔ پس ان کا رب انہیں جھانک کر دیکھتا ہے اور ان سے پوچھتا ہے کہ تمہیں کسی چیز کی ضرورت ہے، کچھ چاہیے؟ تو وہ کہتی ہیں: نہیں، کچھ نہیں چاہیے سوائے اس کے کہ ہم دنیا میں ایک بار دوبارہ بھیجی جائیں اور ہمیں دوبارہ اسی طرح قتل کیا جائے۔

فناء وبقاء کا یہ تصور انسان کے وجود میں جو سرمستی وسرشاری، امید وحیات اور اپنے رب پر بار بار نثار ہونے کی کیفیات پیدا کر دیتا ہے، وہ کسی اور تصور سے پیدا ہونی ممکن ہیں؟
 
Last edited:
Top