• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قاتلِ حسینؓ کا تعین اور دامانوی صاحب کا اضطراب

ابو داؤد

مبتدی
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
157
ری ایکشن اسکور
27
پوائنٹ
28
قاتلِ حسینؓ کا تعین اور دامانوی صاحب کا اضطراب

تحریر: محمد صالح حسن

دامانوی صاحب نے کتاب لکھنے میں دس سال کا عرصہ لگایا ہے (کیوں کہ کتاب کے آخر میں" کتبہ ابو جابر عبداللہ دامانوی :۸/ربیع الثانی ۱۴۳۳ھ "درج ہے)۔ لیکن اس کے باوجود یہ بہت ہی کمزور اور ناکام سی کوشش کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اس پر اسٹیکر لگا کر شیخ کفایت اللہ سنابلی حفظہ اللہ کا جواب بھی ظاہر کیا ہے لیکن یہ سنابلی صاحب کا جواب بھی نہیں ہے، جس کی تفصیل میں اپنی گذشتہ پوسٹ میں لکھ چکا ہوں۔

FB_IMG_1631444993051.jpg


کتاب کے مطالعہ کے دوران ہمیں یہ پتا چلتا ہے کہ مصنف نے بلا ترتیب random چیزیں اور مواد جمع کر کے ایک کتاب تیار کر لی ہے۔ اس لیے دورانِ مطالعہ مختلف واقعات تکرار کے ساتھ آپ کے سامنے آتے رہتے ہیں۔ یعنی مصنف اگر حرہ کی بات کر رہے ہیں تو اچانک واقعہ کربلا شروع ہو جائے گا، پھر آگے چلیں گے تو واقعہ حرہ کی تفصیلات نظر آجائیں گی ،(427) صفحات لکھتے ہوئے انھیں اچانک یاد آئے گا تو فضائل حسینؓ کا تذکرہ کہیں (صفحہ:308) پر پہنچ کر شروع کر دیں گے۔ پھر واقعہ کربلا کی random تفصیلات ادھر ادھر سے جمع کرتے رہیں گے اور جب کتاب کے اختتام پر پہنچیں گے تو صفحہ (419) پر ایک عنوان قائم کریں گے "یزید کے جرائم کی فہرست طویل ہے" اور اس کے تحت پانچ سطروں میں قتل حسینؓ، شراب نوشی، ترک صلات اور واقعہ حرہ کا وہی رونا دھونا اورگھسے پٹے، رٹے رٹائے الزامات جو پوری کتاب میں بار بار دہرائے ہیں ، ان کا نام لے کر گزر جائیں گے۔
ان random تفصیلات کو جمع کرنے کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ متضاد بیانات اکٹھے ہو جاتے ہیں جو صاحب کتاب کی تردید بھی کر جاتے ہیں۔ اس کی مثال پیشِ خدمت ہے۔

دامانوی صاحب کتاب کے آغاز میں یزید کو قاتلِ حسینؓ نامزد کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"پھر سیدنا حسینؓ اور ان کے اہل و عیال اور صحابہ کرام کے قتل عام کا اس(یزید) نے ارتکاب کیا"(یزید ن معاویہ کی شخصیت ص:7)

FB_IMG_1631445186704.jpg


دامانوی صاحب یہاں یزید کو قاتل قرار دے رہے ہیں۔ لیکن آگے چل کر جہاں واقعہ کربلا کی تفصیلات ذکر کرتے ہیں وہاں"مظلوم کربلا کی شہادت کا المیہ" کا عنوان قائم کرکے ایک روایت لائے ہیں، چناں چہ لکھتے ہیں:

"شہر بن حوشب (صدوق حسن الحدیث و ثقہ الجمہور) سے روایت ہے کہ (سیدنا) حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی شہادت کی خبر عراق سے آئی تو ام سلمہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: عراقیوں پر لعنت ہو ، عراقیوں نے آپ کو قتل کیا ہے، اللہ انھیں قتل کرے ، انھوں نے آپ سے دھوکا کیا اور آپ کو ذلیل کیا ، اللہ انھیں ذلیل کرے۔"(فضائل الصحابہ وغیرہ ۔۔ وسندہ حسن)"(ص:325)

FB_IMG_1631445314501.jpg


اس روایت میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ سیدہ ام سلمہؓ نے عراقیوں(اہل کوفہ) کو قاتلِ حسین قرار دیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ حسینؓ کو انھوں نے ہی دھوکا دیا تھا۔ اس روایت سے دامانوی صاحب کے اپنے ہی دعویٰ کی تکذیب اور تردید ہو گئی ہے کہ یزید نے قتل حسینؓ کا ارتکاب کیا تھا۔

بات صرف اس ایک روایت کی نہیں آگے چلیے ۔۔۔۔
دامانوی صاحب تھوڑا اور آگے جا کر ایک اور روایت لائے ہیں، لکھتے ہیں:

" ابن ابی نعیم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن عمرؓ کے پاس موجود تھا کہ ایک شخص نے ان سے (حالتِ احرام میں) مچھر کے خون کے بارے میں سوال کیا۔
پس انھوں نے پوچھا کہ تو کہاں کا رہنے والا ہے؟ تو اس نے جواب دیا کہ عراق کا رہنے والا ہوں۔ آپ نے فرمایا: اس شخص کو دیکھو! یہ مجھ سے مچھر کے خون کا پوچھ رہا ہے جب کہ ان عراقیوں نے نبی ﷺ کے بیٹے (حسینؓ) کو قتل کر دیا ہے (اور انھیں ان کے خون کا بالکل احساس نہیں ہے) اور میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : یہ دونوں (حسن و حسینؓ) دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔"
( یزید بن معاویہ کی شخصیت ص 336)

FB_IMG_1631445468307.jpg


صحیح بخار ی کی روایت بھی اپنے مدعا پر بالکل واضح اور صریح ہے، ترجمہ بھی (ہومیوپیتھی) ڈاکڑ صاحب کا ہے، بتلائیے! عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے قاتل کسے کہا ہے؟ پوری روایت میں کہیں یزید کا دور دور تک نام و نشان نہیں صرف عراقیوں (کوفیوں) کو قاتل حسینؓ بتایا ہے۔ دامانوی صاحب کی نقل کردہ دونوں صحیح روایات سے انھی کے دعویٰ کی زبردست تردید ہو گئی ہے۔

اس بات کا احساس خود مصنف کو بھی تھا اس لیے ان روایات سے ادھر ادھر کی باتیں کرکے جان چھڑانے کی ناکام کوشش بھی کرتے ہیں، لیکن اس بوکھلاہٹ میں ان کے قلم سے یہ الفاظ بھی نکل گئے ہیں:

"اب رہی یہ بات کہ ان روایات میں یزید کا نام نہیں لیا گیا تو اس کی یہی وجہ ہے ان روایات میں اہل عراق کا تذکرہ ہے، اس لیے جن کا تذکرہ ان روایات میں ہے اور حسینؓ جہاں شہید ہوئے ان کا ہی نام لیا جائے گا۔۔"(ص:341)

مصنف کے اس بیان کو بار بار پڑھیں ۔۔۔دامانوی صاحب کا یہ اعتراف ان کی، ان صحیح ، صریح روایات کے سامنے بے بسی اور لاچاری کا منہ بولتا ثبوت ہے، اسے ان کی "علمی خودکشی" سے تعبیر کیا جائے تو غلط نہ ہو گا۔

سیدہ ام سلمہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کی صحیح روایات اور دامانوی صاحب کے اس اعترافی بیان اور بے بسی کے بعد ہم قاتلوں کا فیصلہ سیدنا حسین ؓسے ہی کروا دیتے ہیں۔

حسین ؓ کو بلانے والے کون تھے؟

دامانوی صاحب لکھتے ہیں:
"سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو کوفہ والوں نے اپنے ہاں آنے کی دعوت دی تھی اور اس سلسلہ میں انھیں کئی خطوط ارسال کیے تھے ۔۔۔ چناں چہ حسینؓ کوفہ کی طرف روانہ ہو گئے۔"(ص؛340)

FB_IMG_1631445834431.jpg


کوئی ضدی یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ بلانے والے یہ کوفی"حسینی" نہیں " یزیدی" تھے، تو اس کا جواب بھی دامانوی صاحب سے لیتے ہیں، لکھتے ہیں:

"دریں اثنا جب کوفہ والوں کو اس کا پتا چلا کہ حضرت تو مکہ شریف پہنچ گئے ہیں تو انھوں نے اپنے قاصد حضرت حسینؓ کی خدمت مین روانہ کیے اور ان سے درخواست کی آپ کوفہ تشریف لے آئیں ۔ ہم اب آپ ہی کے ہو گئے ہیں، ہم لوگ یزید کی بیعت سے منحرف ہیں۔"(ص:343)

FB_IMG_1631445907912.jpg


پتا چلا کہ خطوط لکھنے والے اور دعوت دے کر بلانے والے کوفی "حسینی" تھے، "یزیدی" نہیں تھے۔

قاتلِ حسین ؓ خود حسینؓ کی نظر میں:

دامانوی صاحب سیدنا حسین ؓ کا بیان نقل کرتے ہیں کہ حسینؓ نے کہا:
"اے اللہ ہمارے اور ایسے لوگوں کے بارے میں فیصلہ فرما، جنھوں نے پہلے یہ لکھ کر ہمیں یہاں بلایا کہ ہم آپ کی مدد کریں گے ، پھر اب وہی ہمیں قتل کر رہے ہیں۔"(ص:348)

FB_IMG_1631446050037.jpg


اورہمارے(ہومیو پیتھی) ڈاکٹر دوسری جگہ ایک اور بیان بھی نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حسینؓ سے ملاقات کی، وہ کہتا ہے :
"میں نے بیابان میں خیمے لگے دیکھے، میں نے پوچھا یہ کس کے خیمے ہیں؟ انھوں نے بتایا: یہ حسین ؓ کے خیمے ہیں۔ پھر میں ان کے پاس آیا، کیا دیکھتا ہوں کہ ایک شیخ قرآن کی تلاوت کر رہا ہے اور اس کے رخسار و داڑھی پر اشک رواں ہیں، میں نے پوچھا اے رسول اللہ ﷺ کی بیٹی کے بیٹے، آپ کو اس بیابان میں جہاں کوئی شخص موجود نہیں ہے کس نے اتارا ہے۔ آپ نے فرمایا:
یہ خطوط اہل کوفہ نے مجھے لکھے ہیں اور میں انھیں اپنا قاتل پاتا ہوں ۔۔"
(ص:363)

FB_IMG_1631446098928.jpg


دامانوی صاحب کی کتاب میں انھی کی پیش کردہ روایات اور بیانات سے اس بات کا فیصلہ ہو جاتا ہے کہ صحابہ کرام اور پھر خود حسین رضی اللہ عنہما نے بھی اپنے قاتلوں کی نشاندہی کر دی ہے، اور وہ قاتل اہل کوفہ ہی ہیں، یزید نہیں۔ موصوف کی کتاب کے یہ اقتباسات ان کے اس دعویٰ کی تردید کے لیے کافی ہیں کہ قاتلِ حسینؓ، یزید ہے۔

ع وہ اپنے مطلب کی کہہ رہے ہیں زبان پر گو ہے بات میری۔۔!

ان واضح اور سیدھی سادی روایات پر بریکٹیں لگا کر موصوف نے جو ہیر پھیر کرنے کی کوشش کی ہے وہ سب بے سود ہے، بلکہ اس حاشیہ آرائی میں بھی موصوف جو ٹامک ٹوئیاں مارتے رہے ہیں، وہاں بھی اضطراب کا شکار ہیں، لیکن فی الوقت اس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں۔

ان بے تکی حاشیہ آرائیوں کے لیے میں موصوف کا ہی ایک بیان پیش کر دیتا ہوں، جو انھوں نے سنابلی صاحب کی کتاب کے متعلق دیا ہے، لیکن حقیقتاً دامانوی صاحب خود اس کے اصل مصداق ہیں۔

"پھر موصوف نے اپنی پوری کتاب میں جگہ جگہ جو احادیث کے من مانے مطالب بیان کیے ہیں اور اپنی مرضی سے احادیث کی تشریح کی ہے اور اپنی چرب زبانی سے قارئین کو متاثر کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے، اس سے بھی موصوف کی حقیقت واضح ہو جاتی ہے اور محدثین کرام کبھی بھی ایسے شخص کی خبر پر اعتماد نہیں کرتے۔"(ص:330)

اور ایک جگہ لکھتے ہیں:"ناصبیوں نے یزید کو قتلِ حسینؓ سے بری کرنے کے لیے مختلف تاویلات کی ہیں اور اس سلسلے میں مختلف کہانیاں تراشی ہیں"(ص:340)

عرض ہے کہ یہ کہانیاں "ناصبیوں" نے نہیں تراشیں بلکہ رافضیوں اور نیم رافضیوں نے تراشی ہیں تاکہ کسی طرح یزید کو قتلِ حسینؓ کا ذمہ دار ثابت کیا جائے، جس کی جیتی جاگتی مثال موصوف کا یہ مجموعہ اکاذیب و اباطیل اور قصے کہانیوں کا کباڑخانہ ہے، جسے اسٹیکر لگا کے فروخت کیا جا رہا ہے۔
 
Top