• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قاتل حسين يزيد نہيں بلکہ کوفي شيعہ ہيں , يزيد بريء ہے

سٹیٹس
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,340
پوائنٹ
800
صحابہ کی تعریف آپ کے الفاظ میں


کچھ اور بھی آیات قرآنی ہیں جو صحابہ کے بارے میں نازل ہوئیں

اے ایمان والو اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کر لو کہ کہیں کسی قوم کو بے جانے ایذا نہ دے بیٹھو پھر اپنے کئے پر پچتاتے رہ جاؤ
الحجرات : 6
مفسیرین کرام فرماتے ہیں کہ یہ آیت صحابی رسول ولید بن عقبہ کے بارے میں نازل ہوئی یعنی اس آیت میں ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالٰی فاسق کہہ رہا ہے
اعراب بولے ہم ایمان لائے تم فرماؤ تم ایمان تو نہ لائے ہاں یوں کہوں کہ ہم مطیع ہوئے اور ابھی ایمان تمہارے دلوں میں کہاں داخل ہوا اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو گے تو تمہارے کسی عمل کا تمہیں نقصان نہ دے گا بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے
الحجرات :14
اے محبوب وہ تم پر احسان جَتاتے ہیں کہ مسلمان ہو گئے تم فرماؤ اپنے اسلام کا احسان مجھ پر نہ رکھو بلکہ اللہ تم پر احسان رکھتا ہے کہ اس نے تمہیں اسلام کی ہدایت کی اگر تم سچے ہو
الحجرات :16

یہ آیات بھی آپ کی تعریف کے مطابق صحابہ کے بارے میں ہی نازل ہوئی ہیں
http://forum.mohaddis.com/threads/دفاع-سیدنا-ولید-بن-عقبہ.12765/
 

محمد علی جواد

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 18، 2012
پیغامات
1,988
ری ایکشن اسکور
1,549
پوائنٹ
304
صحابہ کی تعریف آپ کے الفاظ میں


کچھ اور بھی آیات قرآنی ہیں جو صحابہ کے بارے میں نازل ہوئیں

اے ایمان والو اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کر لو کہ کہیں کسی قوم کو بے جانے ایذا نہ دے بیٹھو پھر اپنے کئے پر پچتاتے رہ جاؤ
الحجرات : 6
مفسیرین کرام فرماتے ہیں کہ یہ آیت صحابی رسول ولید بن عقبہ کے بارے میں نازل ہوئی یعنی اس آیت میں ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالٰی فاسق کہہ رہا ہے
اعراب بولے ہم ایمان لائے تم فرماؤ تم ایمان تو نہ لائے ہاں یوں کہوں کہ ہم مطیع ہوئے اور ابھی ایمان تمہارے دلوں میں کہاں داخل ہوا اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو گے تو تمہارے کسی عمل کا تمہیں نقصان نہ دے گا بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے
الحجرات :14
اے محبوب وہ تم پر احسان جَتاتے ہیں کہ مسلمان ہو گئے تم فرماؤ اپنے اسلام کا احسان مجھ پر نہ رکھو بلکہ اللہ تم پر احسان رکھتا ہے کہ اس نے تمہیں اسلام کی ہدایت کی اگر تم سچے ہو
الحجرات :16

یہ آیات بھی آپ کی تعریف کے مطابق صحابہ کے بارے میں ہی نازل ہوئی ہیں
جہاں تک سوره الحجرات کی آیت کا تعلق ہے تو ولید بن عقبہ سے متعلق انس نضر صاحب نے پوسٹ میں وضاحت کردی ہے "واقعہ پر غور کرنے سےیہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ سیدنا ولید بن عقبہ رضی الله عنہ نے غلط بیانی سے ہرگز کام نہیں لیا، بلکہ ان کو اجتھاد میں غلطی ہوگئی"

اجتہادی غلطی کوئی بری بات نہیں - جب زبیر رضی الله عنہ، حضرت عائشہ رضی الله عنہ اور حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہ وغیرہ نے حضرت علی رضی الله عنہ سے بطور خلیفہ قاتلین عثمان رضی الله عنہ سے قصاص لینے کا ،مطالبہ کیا تو حضرت علی رضی الله نے اس پر کوئی فوری اقدام نی اٹھایا - یہ ان کی اجتہادی غلطی تھی (یہ بات ذہن میں رہے کہ حضرت عثمان رضی الله عنہ اسلام کی وہ معتبر شخصیت ہیں کہ جب صلح حدبیہ کے موقع پر نبی کریم صل الله علیہ وسلم کو ان کی شہادت کی خبر ملی جو اگرچہ بعد میں جھوٹی ثابت ہوئی مگر اس موقع پر آپ صل الله علیہ وسلم نے اپنے ١٤٠٠ اصحاب سے قتل عثمان کے قصاص کے لئے اپنے ہاتھ پر بیت کی اور دوسرے ہاتھ کو عثمان کا ہاتھ قرار دیا جس پر الله نے وحی بھیج کر ان تمام صحابہ سے راضی ہونے کا اعلان کر دیا جو اس بیت میں شامل تھے ) - تفصیل سوره الفتح کی تفسیر میں دیکھیے-

سوال ہے کہ کیا کسی اہل سنّت نے حضرت علی رضی الله عنہ کو فوری اقدام نہ اٹھاننے کی بنا پر فاسق قرار دیا ؟؟؟ اگر ایسا نہیں تو باقی صحابہ پر الزام و تعن تشنیع کیوں ؟؟؟

الله نے قرآن میں صحابہ کرام کے ہدایت یافتہ ہونے کی گواہی خود دی ہے- جس کو اللہ ہدایت دے ور پھر اس کی گواہی بھی دے تو پھر ایسے صحابہ کو فاسق کیسے قرار دیا جاسکتا ہے؟؟؟ صحابہ کی متعلق الله کا فرمان ہے -

جَزَاؤُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۖ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ ۚ ذَٰلِكَ لِمَنْ خَشِيَ رَبَّهُ سوره البينة ٨
ان (صحابہ کرام ) کا بدلہ ان کے رب کے ہاں ہمیشہ رہنے کے بہشت ہیں ان کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے الله ان (صحابہ کرام ) سے راضی ہوا اور وہ اس سے راضی ہوئے یہ اس کے لئے ہے کہ وہ اپنے رب سے ڈرتے ہے-

ویسے بھی قرآن کے احکامات تدریجی طور پر نازل ہوے -کچھ لوگ جن کو دین اسلام کی طرف دعوت دی گئی جو مدینہ وغیرہ کے اطراف میں رہنے والے تھے - ابتدا میں ان کا ایمان اتنا مضبوط نہیں تھا- اس لئے الله نے ان سے فرمایا کہ ابھی ایمان تمہارے دلوں میں کہاں داخل ہوا اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو گے تو تمہارے کسی عمل کا تمہیں نقصان نہ دے گا بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے-
 
شمولیت
اگست 05، 2012
پیغامات
115
ری ایکشن اسکور
453
پوائنٹ
57
صفی الرحمن المباركپوری اپنی کتاب الرحیق المختوم بارہ ایسے صحابہ کو جو غزوہ تبوک میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمرا ہ تھے منافق کہا ہے آپ لکھتے ہیں
یہ یاد رہے کہ منافقین پہلے ہی بہانہ بنا کر اس جنگ میں جانے سے گریز کرچکے تھے اور کچھ راستے سے واپس آگئے تھے
کیا امام بخاری امام احمد اور امام مالک کے یہ فتوے صفی الرحمن المباركپوری پر کارگر ہونگے جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک میں شریک ان بارہ صحابہ کو منافق بتا رہیں ہیں ؟؟؟؟
مدینہ منورہ میں منافقین کی موجودگی ثابت کرنے کیلئے آپ کو متاخرین کی کتب کا حوالہ دینے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ اس کیلئے اللہ رب العٰلمین کا سچا کلام ہی کافی ہے، سورۃ التوبہ میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان عالی شان ہے:
﴿ يـٰأَيُّهَا النَّبِىُّ جـٰهِدِ الكُفّارَ‌ وَالمُنـٰفِقينَ وَاغلُظ عَلَيهِم ۚ وَمَأوىٰهُم جَهَنَّمُ ۖ وَبِئسَ المَصيرُ‌ ٧٣ يَحلِفونَ بِاللَّـهِ ما قالوا وَلَقَد قالوا كَلِمَةَ الكُفرِ‌ وَكَفَر‌وا بَعدَ إِسلـٰمِهِم وَهَمّوا بِما لَم يَنالوا ۚ وَما نَقَموا إِلّا أَن أَغنىٰهُمُ اللَّـهُ وَرَ‌سولُهُ مِن فَضلِهِ ۚ فَإِن يَتوبوا يَكُ خَيرً‌ا لَهُم ۖ وَإِن يَتَوَلَّوا يُعَذِّبهُمُ اللَّـهُ عَذابًا أَليمًا فِى الدُّنيا وَالـٔاخِرَ‌ةِ ۚ وَما لَهُم فِى الأَر‌ضِ مِن وَلِىٍّ وَلا نَصيرٍ‌ ٧٤ ﴾
﴿ وَمِمَّن حَولَكُم مِنَ الأَعر‌ابِ مُنـٰفِقونَ ۖ وَمِن أَهلِ المَدينَةِ ۖ مَرَ‌دوا عَلَى النِّفاقِ لا تَعلَمُهُم ۖ نَحنُ نَعلَمُهُم ۚ سَنُعَذِّبُهُم مَرَّ‌تَينِ ثُمَّ يُرَ‌دّونَ إِلىٰ عَذابٍ عَظيمٍ ١٠١ ﴾ وغيرها من الآيات

آپ کی اصل خباثت یہ ہے کہ آپ ان آیات مبارکہ کو عشرہ مبشرہ صحابہ اور ان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر چسپاں کرتے ہیں جنہیں اللہ رب العٰلمین نے قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں بارہا جنت کی بشارت دی ہے۔ سیدھی سی بات ہے کہ کلام اللہ میں تضاد نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا مدینہ منورہ میں منافقین کی موجودگی کا ایمان رکھنے کے باوجود قرآن وسنت کو ماننے والا، اللہ، نبی، صحابہ کرام اور اہل بیت رضوان اللہ علیہم اجمعین سے محبت رکھنے والا کوئی مومن بھی جنتی صحابہ کرام کو منافق تسلیم نہیں کر سکتا۔ سورة الفتح میں اللہ سبحانہ نے اصحابِ شجرہ کو جنت کی بشارت دی ہے، لیکن آپ لوگ قرآن کو بھی ناقص اور محرف مانتے ہیں۔ احادیث کو تو ویسے ہی آپ لوگ تسلیم نہیں کرتے، لیکن مطلب برآوری کیلئے موضوع احادیث کا سہارا تک لے لیتے ہیں۔
واللہ المستعان علیٰ ما تصفون!
 

difa-e- hadis

رکن
شمولیت
جنوری 20، 2017
پیغامات
294
ری ایکشن اسکور
27
پوائنٹ
71
علی رضی اللہ عنہ کی خلافت جسے امت کی ایک عظیم تعداد نے قبول نہیں کیا اس متنازع خلافت سے لوگ اختلاف کریں تو وہ باغی ہیں اوران سے لڑنے میں علی رضی اللہ عنہ حق بجانب ہیں۔
اس خلافت پر رسول اللہ نے مہرثبت کی ہے اور اس وجہ سے کی ہےجوان پر طعن کریں گے اس کا جواب رسول اللہ اپنی زبان مبارک سےدے دیا
اور ان کی خلافت پر اہل علم متفق ہیں اسی طرح باغی گروہ پر بھی امت کا اجماع ہے کہ وہ کون سا ہے
اور یزید کو اہل علم میں سے کسی نے حق پرنہیں کہا (الا ناصبی) اس کی دلیل یہ ہے
قِسْمٌ خَرَجُوا غَضَبًا لِلدِّينِ مِنْ أَجْلِ جَوْرِ الْوُلَاةِ وَتَرْكِ عَمَلِهِمْ بِالسُّنَّةِ النَّبَوِيَّةِ فَهَؤُلَاءِ أَهْلُ حَقٍّ وَمِنْهُمُ الْحَسیَنُ بْنُ عَلِيٍّ وَأَهْلُ الْمَدِينَةِ فِي الْحَرَّةِ وَالْقُرَّاءُ الَّذِينَ خَرَجُوا عَلَى الْحَجَّاجِ(ُفتح الباری تحت رقم 6929)
ابن حزم لکھتے ہیں
وَمِنْ قَامَ لِعَرَضِ دُنْيَا فَقَطْ، كَمَا فَعَلَ يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، وَمَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ فِي الْقِيَامِ عَلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ، وَكَمَا فَعَلَ مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ فِي الْقِيَامِ عَلَى يَزِيدَ بْنِ الْوَلِيدِ، وَكَمَنْ قَامَ أَيْضًا عَنْ مَرْوَانَ، فَهَؤُلَاءِ لَا يُعْذَرُونَ، لِأَنَّهُمْ لَا تَأْوِيلَ لَهُمْ أَصْلًا، وَهُوَ بَغْيٌ مُجَرَّدٌ.
 
سٹیٹس
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
Top