• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قانون سازی میں شرکت، اطاعت اور رضا پر علامہ ابن عثیمین کا فتویٰ

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
799
ری ایکشن اسکور
224
پوائنٹ
111
قانون سازی میں شرکت، اطاعت اور رضا پر علامہ ابن عثیمین کا فتویٰ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

شیخ محمد بن صالح العثيمين فرماتے ہیں :

فالإشراك سواء كان بالقلب، أو بالقول، أو بالفعل يعتبر ردة عن الإسلام، ومن الإشراك بالله أن يشرك مع الله غيره في الحكم، بأن يعتقد أن لغير الله أن يشرع للناس قوانين، يُحِلِّونها محلٍ شريعة الله، لقوله تعالى: ﴿اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَمَا أُمِرُوا إِلاَّ لِيَعْبُدُوا إِلَهًا وَاحِدًا﴾ [التوبة: ٣١]، وكانوا يحلون ما حرم الله فيحلونه، ويحرمون ما أحل الله فيحرمونه، أما من سنَّ هذه القوانين فقد جعل نفسه في مقام الألوهية، أو في مقام الربوبية، يعني جعل نفسه رباً مشرعاً، ومن أطاعه في ذلك ووافقه عليه فهو مشرك؛ لأنه جعله بمنزلة الرب في التشريع.

شرک، خواہ وہ دل سے ہو، قول سے ہو یا عمل سے، اسلام سے مرتد ہونے کا سبب بنتا ہے۔ اور اللہ کے ساتھ شرک کرنے میں سے یہ بھی ہے کہ کوئی شخص اللہ کے ساتھ کسی اور کو حکم (حاکمیت) میں شریک کرے، یعنی اس کا یہ عقیدہ ہو کہ اللہ کے سوا کسی اور کے لیے یہ حق ہے کہ وہ لوگوں کے لیے قوانین بنائے، اور ان قوانین کو اللہ کی شریعت کے بدلے نافذ کیا جائے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "انہوں نے اپنے علما اور درویشوں کو اللہ کے سوا رب بنا لیا، اور مسیح ابن مریم کو بھی، حالانکہ انہیں حکم یہی دیا گیا تھا کہ صرف ایک معبود کی عبادت کریں۔[التوبہ: ۳۱] وہ لوگ اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال کر دیتے تھے، تو وہ (عوام) بھی انہیں حلال مان لیتے، اور اللہ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام کر دیتے تھے، تو وہ بھی انہیں حرام مان لیتے۔ پس جس شخص نے ان خودساختہ قوانین کو وضع کیا، اس نے اپنے آپ کو یا تو مقامِ الوہیت پر رکھا، یا مقامِ ربوبیت پر؛ یعنی اس نے اپنے آپ کو ایک ایسا رب بنا لیا جو قانون سازی کرتا ہے۔ اور جو شخص اس کی اس بات میں اطاعت کرے اور اس سے متفق ہو، وہ بھی مشرک ہے؛ کیونکہ اس نے اس (قانون ساز) کو تشریع (قانون سازی) میں رب کے مقام پر رکھا۔


[الشرح الممتع على زاد المستقنع، ج : ١٤، ص : ٤٠٩]

IMG_20250502_171539_107.jpg

IMG_20250502_171531_027.jpg

شیخ ابن عثیمین کے فرمان : "ومن الإشراك بالله أن يشرك مع الله غيره في الحكم، بأن يعتقد أن لغير الله أن يشرع للناس قوانين، يُحِلِّونها محلٍ شريعة الله..." سے معلوم ہوا کہ جو شخص اللہ کے سوا کسی اور کو قانون سازی کا حق دیتا ہے، وہ مشرک ہے، کیونکہ وہ حاکمیت کا حق اللہ سے چھین کر مخلوق کو دیتا ہے۔ پس جو لوگ پارلیمنٹ میں بیٹھ کر اللہ کے دین کو پسِ پشت ڈال کر "ووٹوں" سے جمہوریت کی بنیاد پر فیصلے کرتے ہیں، وہ ربِّ کائنات کے حقِ تشریع میں کھلم کھلا شرک کرتے ہیں۔

پھر شیخ ابن عثیمین فرماتے ہیں : "أما من سنَّ هذه القوانين فقد جعل نفسه في مقام الألوهية، أو في مقام الربوبية، يعني جعل نفسه رباً مشرعاً..." اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جو ان قوانین کو وضع کرتے ہیں وہ اللہ کے مقابلے میں خود کو رب بنا رہے ہیں۔ اور جو ان وضعی قوانین کو نافذ کرتے ہیں، وہ بھی اس قانون ساز کے فعلِ شرک کے شریک ہیں۔ خواہ وہ جج ہو، پولیس ہو، گورنر ہو یا ایڈمنسٹریٹر جب وہ اللہ کی شریعت کو چھوڑ کر انسان کے گھڑے ہوئے قوانین کو نافذ کرتے ہیں تو وہ دراصل طاغوت و طاغوتی نظام کے محافظ بنتے ہیں۔ یہ ربوبیت میں شرکت ہے اور ربوبیت میں شرک، شرکِ اکبر ہے، جو دائرہ اسلام سے خارج کر دیتا ہے۔

اسی طرح شیخ ابن عثیمین کے فرمان "...ومن أطاعه في ذلك ووافقه عليه فهو مشرك؛ لأنه جعله بمنزلة الرب في التشريع." سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ جو ان باطل قوانین پر راضی ہو جائے، یا انہیں تسلیم کرے، یا ان کی تائید میں ووٹ دے وہ صرف گناہگار نہیں، بلکہ مشرک ہیں؛ کیونکہ انہوں نے قانون ساز طاغوت کو رب کی جگہ پر بٹھا دیا۔ یہ صرف سیاسی جرم نہیں، عقیدے کا انحراف ہے۔ یہ بندگیِ طاغوت ہے، اور طاغوت کی بندگی کفرِ اکبر ہے۔ انہیں ووٹ دینے والے، حمایت کرنے والے، اس پر راضی رہنے والے سب ایک ہی صف میں ہیں: صفِ مشرکین۔

علامہ ابن عثیمین نے بالکل واضح انداز میں فرمایا ہے: "يُعتبر ردة عن الإسلام..." یہ عمل اسلام سے ارتداد ہے۔ یعنی جو شخص بھی رب کے مقابلے میں کسی کو قانون سازی کا اختیار دیتا ہے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔
 
Top