• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قانون عدم یقینیت

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
ہائزن برگ کا قانون "عدم یقینیت "

تحریر: ادریس آزاد

قدیم و جدید فزکس کی پوری تاریخ میں اس جیسا حیران کر دینے والا کوئی ایک قانون بھی موجود نہیں۔
کیمسٹری میں البتہ پانی کی فطرت، نقطۂ کھولاؤ اور انجماد پر اس کے مختلف رویے کچھ عرصہ پہلے تک مجھے یوں لگتا تھا جیسے پانی کوئی جاندار مخلوق ہے۔ بالکل اِسی طرح کبھی کبھی لگتا ہے کہ "الیکٹران" بھی شاید سیانے ہیں۔ کم ازکم ہم سے تو سیانے ہیں۔ بظاہر یہ کہا جاسکتا ہے کہ مادے کے چھوٹے ذرات کو پتہ چل جاتا ہے کہ اب ان کی پیمائش کی جا رہی ہے اور وہ اپنا طرزِ عمل بدل دیتے ہیں۔
خیر! یہ بات تو میں نے یونہی ضمنی طور پر لکھ دی ہے۔ ہمارا ٹاپک ہے غیر یقینیت کا قانون۔
میں ہمیشہ اس قانون کے نام پر سٹپٹا جاتا ہوں۔
ایک اٹل قانون ہونے کے باوجود اس کا نام ہے “غیر یقینیت کا قانون”ــــ جبکہ قانون کہتے ہی اس کو ہیں جو سو فیصد یقینی ہو۔ ذرا سی غیر یقینیت موجود ہو تو کوئی بھی نظریہ مفروضہ کہلا سکتا ہے قانون نہیں۔
یہی سائنس کا اپنا اصول ہے۔ لیکن ہائزن برگ نے غیر یقینیت کا قانون دریافت کیا ہے۔ یعنی بظاہر یہ ایک سیلف کینسلنگ ٹرم ہے۔ اگر وہ غیر یقینی ہے تو پھر قانون کیسا؟؟
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
لیکن ہم جوں جوں اس قانون کے بارے میں جانتے جاتے ہیں ہماری حیرت دو چند ہوتی چلی جاتی ہے۔
اس قانون کو قانون کے بانی ‘ہائزن برگ’ کے نام پر “ہائزن برگ اَن سرٹینٹی پرنسپل” بھی کہا جاتا ہے۔
لیکن اِس سے پہلے کہ ہم "اَن سرٹینٹی پرنسپل" کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ میں چاہتا ہوں کہ کلاسیکل فزکس سے ایک مثال کے ذریعے پوزیشن اور مومینٹم والی مشکل بات کو آسان کر کے پہلے دہرا لیا جائے۔

فرض کریں آپ ایک سڑک کے کنارے کھڑے ہیں۔ اور سڑک پر سے کئی گاڑیاں گزر رہی ہیں۔ آپ ایک کار کو غور سے دیکھنے لگتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ اس کائنات میں جو آبجیکٹس ہمیں نظر آتے ہیں وہ اِس لیے نظر آتے ہیں کہ روشنی کی شعاع ان سے ٹکرا کر ہماری آنکھوں تک آتی ہے۔ ہم جب کار پر نظر جماتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ کار سڑک پہ کسی نہ کسی مقام پر موجود ہوتی ہے۔ اِسے کہتے ہیں کار کی پوزیشن۔
اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ وہ ہر مقام پر ایک خاص ولاسٹی یعنی کمیت اور ولاسٹی کے ساتھ موجود ہوتی ہے۔ اسے کہتے ہیں کار کا مومینٹم۔

اگر ہم اُس کار کی ویڈیو بنائیں اور ویڈیو کو بے شمار رُکی ہوئی (Still) تصویروں میں تقسیم کر دیں۔ تو ہم کلاسیکل فزکس کی رُو سے باسانی بتا سکتے ہیں کہ ہر تصویر میں کار جس بھی نقطے پر رُکی ہوئی محسوس ہو رہی ہے اس نقطے پر اِس کا مومینٹم ۔۔۔۔۔۔اتنا اتنا ۔۔۔تھا۔
مثال کے طور پر ہم بتاسکتے ہیں کہ اس کا مومینٹم تصویر نمبر بیالیس پر 200 Kgm/s تھا اور تصویر نمبر دو سو ستر پر 359 Kgm/s تھا وغیرہ وغیرہ۔
چونکہ ہم جانتے ہیں کہ وہ تصاویر سڑک پر ایک خاص مقام کی ہیں۔ اس لیے اب ہم دونوں چیزیں ایک ہی وقت میں جانتے ہیں۔ یعنی کار کی پوزیشن بھی اور اس کا مومینٹم بھی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
یہاں لگے ہاتھوں ابتدائی فزکس کا ایک یہ اصول بھی سمجھتے چلتے ہیں۔
مومینٹم کیا ہے؟ کسی آبجیکٹ کا ماس (Mass) اور اُس کی ولاسٹی (رفتار+سمت) کے حاصل ضرب کو مومینٹم کہتے ہیں۔
عام قارئین کے لیے مزید آسان کرتا ہوں۔ فرض کریں ایک بہت چوڑی سڑک پر ایک موٹر سائیکل اور ایک ٹرک ساتھ ساتھ دوڑتے چلے جارہے ہیں، اور دونوں کی سپیڈ برابر ہے۔ فرض کریں دونوں کی سپیڈ ایک سو کلو میٹر فی گھنٹہ ہے۔ اب چونکہ وہ دونوں ایک ہی رفتار سے جا رہے ہیں اس لیے ٹرک ڈرائیور اور موٹرسائیکل سوار ایک دوسرے کے لیے رُکے ہوئے ہیں اور ایک دوسرے کو بخوبی دیکھ سکتے ہیں۔ دونوں کی رفتار تو بے شک برابر ہے لیکن دونوں کا مومینٹم برابر نہیں ہے۔ کیونکہ ٹرک کا ماس (Mass) یعنی کمیت بہت زیادہ ہے اور اُس کے مقابلے میں موٹر سائیکل کا ماس بہت کم ہے۔ اسی رفتار کے ساتھ اگر وہ ٹرک کسی مضبوط دیوار سے بھی ٹکرائے گا تو اسے ٹکڑے ٹکرے کردے گا، لیکن وہ موٹر سائیکل شاید کسی کمزور دیوار کو بھی نہ گرا سکے۔ دونوں کی رفتار سو کلومیٹر فی گھنٹہ تھی لیکن ٹرک کا مومینٹم زیادہ ہونے کی وجہ سے اس کی طاقت زیادہ ہوگئی۔ مومینٹم کی مساوات یہ ہے،

P = mv

جبکہ P مومینٹم کی علامت ہے ، m ماس کی اور v ولاسٹی کی۔

کار کی مثال جو ہم نے پہلے اوپر دیکھی اُس میں کار ایک بڑا آبجیکٹ ہے، جو ہمیں کھلی آنکھوں سے ، حتیٰ کہ عینک کے بغیر بھی نظر آجاتاہے۔ لیکن جب بات آتی ہے ایٹم کے چھوٹے ذرات اور اُن کی حرکت کی تو کلاسیکل فزکس کے بہت سے اُصول وہاں کام کرتے دکھائی نہیں دیتے۔ مثلاً ہم ایک الیکٹران کا مومینٹم اور پوزیشن ایک ہی وقت میں نہیں بتا سکتے۔ یہی بات ہے جسے “اَن سرٹینٹی پرنسپل” کہا جاتا ہے۔ یعنی قانون عدم یقینیت..
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
اس کا تعلق آلات کے اچھا یا برا ہونے سے قطعا نہیں۔ یہ معاملہ ہی مختلف ہے۔ الیکٹران اتنا چھوٹا ذرا ہے کہ اُس سے ٹکرا کر ہماری آنکھوں تک آنے والی روشنی ہی اپنا پیغام بدل دیتی ہے۔ یعنی سڑک پر چلتی ہوئی کار سے ٹکرا کر ہم تک آنے والی روشنی تو شرافت سے بالکل وہی کر رہی تھی جو وہ ہمیشہ سے کرتی ہے۔ یعنی ہماری آنکھ کے پردے پر کار کی الٹی تصویر بناتی ہے اور ہم جان جاتے ہیں کہ سامنے جو چیز ہے وہ کار ہے اور وہ اِس وقت “سپیس” میں کس مقام پر موجود ہے۔ لیکن جب روشنی الیکٹران سے ٹکرا کر ہم تک اس بات کی خبر دینے کے لیے کہ الیکٹران اس وقت کہاں موجود ہے، آنے لگتی تو پیچھے موجود الیکٹران اس عرصہ میں اپنی جگہ بدل چکا ہوتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
اس بات کو مزید دیسی زبان میں سمجھتے ہیں۔
فرض کریں ایک پارک میں بہت سے گیس بھرے غبارے اُڑ رہے ہیں۔ یا صابن ملے پانی سے بنائے گئے بلبلوں سے بچے کھیل رہے ہیں۔ اب یہ اُڑتے ہوئے غبارے اور یہ پانی کے بلبلے فضا میں جس جگہ موجود ہیں وہاں وہ آپس میں ٹکرا بھی جاتے ہیں اور بلبلے ہیں تو ٹکرا کر ٹوٹ بھی جاتے ہیں۔ بلبلوں سے بلبلے اس لیے ٹکرا رہے ہیں کہ وہ جسامت کے اعتبار سے لگ بھگ ایک جتنے آبجیکٹس ہیں۔کیونکہ چھوٹے بلبلے بھی بہت زیادہ چھوٹے نہیں ہیں۔ وہ بھی کھلی آنکھ سے نظر آرہے ہیں۔ اس لیے کافی بڑے ہیں۔ اب تصور کریں کہ ان بلبلوں یا غباروں کو ہم نے کسی طرح بہت چھوٹا کر دیا ہے۔
یا ان کی جگہ گیندیں سوچ لیں۔ فرض کریں کہ ایک گیند کو ہم نے بہت زیادہ چھوٹا کرلیا ہے۔ اتنا چھوٹا، اتنا چھوٹا کہ اُسے ایک الیکٹران جتنا چھوٹا کر دیا ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ الیکٹران مادے کے پارٹیکلز ہیں اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ فوٹان انرجی کے پارٹیکلز ہیں۔
چنانچہ جب ہم اُس گیند کو جو اب ایک الیکٹران جتنی چھوٹی ہو گئی ہے اپنے کمرے میں چھوڑیں گے تو وہ کمرے میں اُڑنے لگے گی۔
فرض کریں ہمارے کمرے میں بلب جل رہا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہمارا کمرہ اِس وقت روشنی کے ذرات یعنی فوٹانوں سے بھرا ہوا ہے۔ تو جب وہ گیند جو ایک الیکٹران جتنی چھوٹی ہوچکی ہے، کمرے میں پرواز کرنے لگے گی تو بلبلوں والے اُصول کے مطابق اُس گیند کے ساتھ کس کو ٹکرانا چاہیے؟ ۔۔۔۔۔
یعنی وہ کون سے ذرات ہیں جو ہماری گیند کے ساتھ ٹکرائیں گے؟ یقیناً وہ ہمارے کمرے میں لگے بلب سے آنے والی روشنی کے فوٹانز ہیں۔ اور فوٹانز ہمیں کوئی شئے دکھانے کا واحد ذریعہ ہیں کیونکہ یہ روشنی کے ذرات ہیں۔
اگر اس الیکٹران کو دیکھنے کے لیے ہم روشنی استعمال نہیں کرتے تو ظاہر ہے وہاں اندھیرا ہوگا اور ہم کچھ دیکھ نہیں پائینگے۔
چنانچہ واحد دیکھنے کا عمل ہی ایسا ہے جو الیکٹران کی پوزیشن یا مومینٹم میں تبدیلی کا باعث بن جاتاہے۔
یہ سب کچھ محض اس تعلق کی وجہ سے ہوتا ہے جو فطرت میں “ویو Wave” اور پارٹیکل کے درمیان پایا جاتا ہے۔

اُمید ہے اب میں نے معاملے کو قدرے آسان زبان میں بیان کرلیا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
خیر! جب ایک الیکٹران کے ساتھ کوئی فوٹان ٹکراتا ہے تو فوٹان کا مومینٹم الیکٹران میں منتقل ہوجاتا ہے۔
یہ بالکل اور بعینہ وہی مومینٹم ہے جو بلیئرڈ کھیلتے ہوئے ہم ملاحظہ کرتے ہیں۔جب ایک بال دوسری بال کو لگتی ہے تو اپنی انرجی اُس میں منتقل کر دیتی ہے۔
اسی طرح جب ایک فوٹان کسی الیکٹران سے ٹکراتا ہے تو اپنی انرجی اسے منتقل کردیتا ہے اور وہ الیکٹران کسی بھی سمت میں اپنی پہلی رفتار سے تیز رفتار کے ساتھ چل پڑتا ہے۔


مزے کی بات یہ کہ ہم انسان جو چیزوں کو دیکھتے ہی روشنی کی مدد سے ہیں، جیسا کہ ہم نے کار والی مثال میں روشنی کی مدد سے ہی کار کی پوزیشن کو جگہ جگہ نوٹ کیا، اس معاملے میں کیسے لاچار ہو جاتے ہیں کہ ہم اب الیکٹران کی پوزیشن کو اُس کار کی پوزیشن کی طرح کبھی نہیں نوٹ کرسکتے ۔ کیونکہ جس روشنی نے ہماری آنکھوں تک انفارمیشن پہنچانا تھی وہ خود ہمارے زیر تجربہ الیکٹران کے ساتھ ٹکرا گئی ہے۔ ہماری آنکھوں تک اطلاع پہنچنے پر ہمیں پتہ چلنا تھا کہ الیکٹران کی پوزیشن کیا ہے لیکن اس سے پہلے ہی الیکٹران اپنی جگہ سے ہٹ چکا تھا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
اچھا اب اِسے قدرے اکیڈمک طریقے سے پڑھتے ہیں۔
فرض کریں ایک وائیٹ بورڈ پر ہم نے ایک دائرہ سا لگا کر ایک الیکٹران کو ظاہر کیا۔ پھر ہم نے کچھ ہی فاصلے پر ایک انسانی آنکھ اِس طرح بنائی کہ وہ الیکٹران کی طرف دیکھ رہی تھی۔
اب بورڈ پر بنی اُس آنکھ کو وہ الیکٹران کیسے نظر آئے گا؟
اُصول یہ ہے کہ اس الیکٹران کے ساتھ کوئی.چیز ٹکرائے گی اور وہ اُسے دیکھنے والی آنکھ تک جائے گی۔ اب فرض کریں کہ وہ چیز روشنی کا ایک ذرہ یعنی فوٹان ہے۔
اب ہم وائیٹ بورڈ پر ایک فوٹان کی شبیہ بناتے ہیں جو الیکٹران کی طرف آرہا ہے اور اس سے ٹکرائے گا اور باؤنس ہو کر بورڈ پر بنی آنکھ کی طرف چلا جائیگا۔ اس طرح اس آنکھ کو پہلی بار پتہ چلے گا کہ الیکٹران کہاں موجود ہے۔لیکن فی الحقیقت ایسا ہوتا نہیں ہے۔
ہوتا یہ ہے کہ وہ فوٹان جب الیکٹران سے ٹکراتا ہے تو الیکٹران اُس کی انرجی اپنے اندر جذب کرلیتا ہے۔ اب یہ فوٹان کے مومینٹم پر منحصر ہے کہ وہ کتنی طاقت کے ساتھ آرہا تھا۔ جونہی وہ الیکٹران کے ساتھ ٹکرایا ۔۔۔۔۔۔ الیکٹران کے پہلے سے موجود مومینٹم میں اضافہ ہوگیا۔
اب الیکٹران کے پاس زیادہ توانائی ہے۔ وہ یقیناً اُسی وقت اپنی جگہ بدل لے گا۔ اور اس سے پہلے کہ فوٹان آنکھ تک پہنچ کر آنکھ کو یہ بتائے کہ الیکٹران “سپیس” میں کہاں واقع ہے، الیکٹران اپنی پوزیشن بدل چکا ہوگا۔
چنانچہ آنکھ کے لیے یہ اندازہ لگانا کہ الیکٹران کہاں ہوسکتا ہے ناممکن ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نہیں جانتے فوٹان کس طرف سے آکر اُس الیکٹران سے ٹکرا گیا۔ چنانچہ ٹھوکر کھانے کے بعد الیکٹران جب اپنی جگہ تبدیل کرلے گا تو وہ کہیں بھی ہوسکتا ہے۔ اُس کا کہیں بھی ہونا ہی اصل پریشانی کی بات ہے ۔ یعنی اب ہم اس کی پوزیشن نہیں بتاسکتے۔ بلکہ ایک اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ ایک مخصوص ویو لینتھ یا اِس وائیٹ بورڈ والی مثال کی رُو سے ایک مخصوص دائرے کے اندر کہیں بھی ہوسکتاہے۔ ہم صرف اس کے کہیں بھی ہونے کے امکانات سے باخبر ہیں ۔ وہ فی الحقیقت کہاں ہے اس بات سے ہم آگاہ نہیں ہو سکتے..
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
ہم وائیٹ بورڈ پر الیکٹران کے ارد گرد بہت سے تیر کے نشان اِس طرح بناتے ہیں کہ ہر تیر باہر کی طرف کو سفر کرتا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔
جہاں ہم نے چھوٹا سا الیکٹران ڈرا کیا ہے وہاں سے چاروں طرف کو نکلتے ہوئے تیر ایک دائرے کی صورت ڈرا کرینگے۔
یہ دائرہ کتنا بڑا بنایا جانا چاہیے؟ ۔۔۔۔ اس بات کا تعلق فوٹان کے مومینٹم سے ہے۔ اگر اس نے زیادہ زور سے ٹھوکر ماری ہے الیکٹران کو تو الیکٹران کا مومینٹم اُسے زیادہ دور تک لے جائیگا اور دائرہ بڑا بنے گا۔ جتنی ولاسٹی اُتنا بڑا دائرہ ۔ جتنا بڑا دائرہ اتنی زیادہ پوزیشن کی مقدار میں اَن سرٹینٹی ۔جتنی اَن سرٹینٹی اتنے زیادہ امکانات۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
ہائزن برگ کو مادے کے چھوٹے ذرات کی اس فطرت کا علم ہوا تو اُس نے اپنے اصول کے لیے اپنی میتھ ڈیولپ کی۔
جو کچھ زیادہ مشکل نہیں ہے۔ مثال کے طور پر اس نے ایک مساوات تخلیق کی جو غالباً آئن سٹائن کی E=MC2 کے بعد سب سے مشہور مساوات ہے۔

Δ X Δ P ≥ ħ /2

اس مساوات میں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ڈیلٹا ایکس پوزیشن کی اَن سرٹینٹی کی علامت ہے ۔
ڈیلٹا پی، مومینٹم کی اَن سرٹینٹی کی علامت ہے
اور ان دونوں کا حاصل ضرب ۔۔۔۔۔۔۔ ایچ بار (ħ) کا نصف ہے یعنی ħ /2 ہے۔ جبکہ ایچ بار۔۔۔ ħ ۔۔۔۔۔۔۔۔سادہ الفاظ میں پلانک کے کانسٹینٹ ایچ (h) کو دو پائی (pi2) کے ساتھ تقسیم کیا گیا ہے۔ چونکہ پلانکیَن کانسٹینٹ کو دو پائی کے ساتھ تقسیم کیا گیا ہے اور اس سے ایچ بار اووَر(ħ /2) ٹُو حاصل ہوا ہے۔
تو ثابت ہوا کہ اصل میں یہ پلانکین کانسٹینٹ ایچ h کو فورپائی کے ساتھ تقسیم کیا گیاہے۔ یعنی اسے ہم h/4pi کی شکل میں بھی لکھ سکتے ہیں۔

چنانچہ مساوات ، Δ X Δ P ≥ ħ /2

میں Greater than کی علامت کے بائیں طرف موجود پوزیشن اور مومینٹم کی اَن سرٹینٹی ہمیشہ دائیں طرف موجود پلانک کانسٹینٹ کی ویلیو کے برابر یا اس سے زیادہ ہوگی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
یہاں ریاضی سے اجتناب کرتے ہوئے ہم محض یہ کہنے پر اکتفا کرتے ہیں کہ ہائزن برگ نے بالآخر یہ ثابت کیا کہ اگر ہم کسی مادی ذرّے کی پوزیشن کے بارے میں جان لیں تو ہم اس کے مومینٹم کے بارے میں نہیں جان سکتے .
اور اگر ہم کسی مادی ذرّے کے مومینٹم کے بارے میں جان لیں تو ہم اس کی پوزیشن کے بارے میں نہیں جان سکتے۔

اور اس کے بعد پھر وہ قیامت آئی کہ آج تک کوئی نہیں روک پایا۔ کُل دنیا کا سارا “کے اوس” فزکس کے ایک قانون “پرنسپل آف اَن سرٹینٹی” سے شروع ہوتا ہے۔

مصنف: ادریس آزاد
پروفیسر، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی، اسلام آباد
لنک
 
Top