• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قرآن کریم کی تفسیر میں اسبابِ نزول (شانِ نزول) کی اہمیت!

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,342
پوائنٹ
800
اسباب نزول

بلاشبہ قرآن پاک تدریجاً بحسبِ الحوائج نازل ہوا ہے ۔ قرآن کا اکثر حصہ تو وہ ہے جو ابتداء موعظت وعبرت یا اصولِ دین اور احکامِ تشریع کے بیان میں نازل ہوا ہے لیکن قرآن کا کچھ حصہ وہ ہے جو کسی حادثہ یا سوال کے جواب میں اُترا ہے۔ علماء نے ان حوادث / سوالات کو اَسباب سے تعبیر کیا ہے ۔ ([1])
اسبابِ نزول کے علم سے چونکہ آیت کا پس منظر سمجھ آتا ہے اور آیت کے سبب سے جہالت بسا اوقات حیرت کا موجب بنتی ہے، اس لئے اسبابِ نزول کی معرفت کو علم تفسیر میں خاص اہمیت حاصل رہی ہے اور علماء نے علومِ قرآن پر جو کتابیں لکھی ہیں اُن میں اسبابِ نزول کے عنوان کو مستقل طور پر ذکر کیا ہے بلکہ خالصتاً اسبابِ نزول پر بھی کتابیں مرتب کی ہیں۔
جلال الدین سیوطی﷫ الاتقان میں لکھتے ہیں :
"أفرده بالتّصنیف جماعة أقدمهم علي ابن المديني شیخ البخاريّ." ([2])
کہ علما نے اس موضوع پر مستقل کتابیں بھی تالیف کی ہیں اور اس باب میں سب سے پہلی تصنیف علی بن مدینی کی ہے جو امام بخاری کے شیخ ہیں۔
اسی طرح سیوطی﷫ نے اس سلسلہ کی تالیفات کا ذکر کرتے ہوئے ابو الحسین علی بن احمد واحدی (468ھ) کی تالیف([3]) کو مشہور ترین قرار دیا ہے مگر ساتھ ہی فيه أعواز کہ اس میں کچھ مشکلات ہیں، کہہ کر اس پر تبصرہ بھی کیا ہے۔ پھر حافظ ابن حجر﷫ (852ھ) کی اسبابِ نزول کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے: فات عنه مسودة فلم نقف علیه کاملا کہ ان کی کتاب کا مسودہ ضائع ہو گیا لہٰذا ہم اس پر مطلع نہیں ہو سکے۔ سیوطی﷫ نے خود بھی اس موضوع پر ایک کتاب تالیف کی ہے جس کے متعلق لکھتے ہیں:
"وألفت فیه تألیفا موجزا لم یؤلّف مثله في هذا النوع سمّیته لباب النقول في أسباب النزول." ([4])
کہ اس موضوع پر میری بھی ایک یگانہ روزگار تالیف ہے جس کا نام میں نے لباب النقول فی اسباب النزول رکھا ہے ۔
بہرحال اسبابِ نزول کی اہمیت کے پیش نظر علما نے اس کو مستقل فن کی حیثیت دی ہے اور اس پر کتابیں بھی تالیف کی ہیں ۔ مفسرین نے اپنی تفاسیر میں اسباب کے بیان کا اہتمام کیا ہے ۔ شاہ ولی اللہ﷫ (1762م)نے اپنے رسالہ الفوز الکبیر میں اس کی معرفت کو المواضع الصّعبة (مشکل مقامات)سے شمار کیا ہے اور اس فن کے مباحث کو منقّح کرنے کی سعیٔ مشکور فرمائی ہے لہٰذا جن علماء نے اس کی افادیت اور تاریخی حیثیت کو ’لاطائل‘ (بے فائدہ)کہا ہے، ان کا موقف سراسر غلط فہمی پر مبنی ہے اور دیگر بعض علماء نے اس میں غلو کرتے ہوئے یہاں تک لکھ دیا ہے کہ اسبابِ نزول کی معرفت کے بغیر تفسیر قرآن نہیں ہو سکتی۔ سیوطی﷫ اس فن کی معرفت کے بغیر تفسیر قرآن پر اِقدام کو حرام قرار دیتے ہیں ، تاہم یہ دونوں گروہ اِفراط و تفریط میں مبتلا ہیں ۔ اصل اور صحیح موقف ان کے بین بین ہے جیسا کہ ابن دقیق العید﷫ (702ھ)اور ابوالفتح قشیری﷫ نے اس کی وضاحت کی ہے کہ اس فن کی معرفت فی الجملہ معاوِن ہو سکتی ہے ورنہ تفسیر قرآن صرف اس پر موقوف نہیں ہے ۔
امام ابن تیمیہ﷫ فرماتے ہیں :
"معرفة سبب النّزول تعین على فهم الآية فإن العلم بالسّبب یورث العلم بالمسبّب." ([5])
کہ سببِ نزول کی معرفت آیت کے سمجھنے میں معاون ہے کیونکہ سبب کی معرفت کے ذریعے مسبّب تک رسائی ہو جاتی ہے۔
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,342
پوائنٹ
800
حقیقت یہ ہے کہ صحابہ یا تابعین نے جو اسباب نزول بیان فرمائے ہیں ۔ ان کی دو قسمیں ہیں: اول وہ جن کی طرف خود آیات میں اشارہ پایا جاتا ہے ۔ مثلاً مغازی یا دیگر واقعات کہ جب تک ان واقعات کی تفصیل سامنے نہ ہو متعلقہ آیت میں مذکورہ جزئیات ذہن نشین نہیں ہو سکتیں ۔ اس قسم کے اسباب نزول کے متعلق تو واقعی یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایک مفسر قرآن کیلئے ان پر عبور لازم ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ علما ء نے تاریخ جاہلیت اور مغازی کی معرفت کو قرآن فہمی کیلئے لازمی قرار دیا ہے کیونکہ متعلقہ آیات میں ان کی طرف اشارات پائے جاتے ہیں ۔ لیکن دوسری قسم کے اسباب وہ ہیں جنہیں صحابہ یا تابعین کسی آیت کے تحت نزلت أو أنزل الله في کذا کے الفاظ سے ذکر کرتے ہیں ۔
پہلی قسم کے اسباب کے بیان میں چونکہ صحابہ﷢ کے اجتہاد کو دخل نہیں ہوتا بلکہ وہ سراسر روایت وسماع پر مبنی ہوتا ہے ۔ اس بنا پر علماء نے بلا اختلاف اس کو حدیث مسند کا درجہ دیا ہے ۔ امام ابن تیمیہ﷫ لکھتے ہیں :
"وإذا ذکر سببا نزلت عقبه فإنهم كلهم یدخلون مثل هذا في المسند، لأن مثل ذلك لا یقال بالرأي"([6])
کہ صحابی جب کسی آیت کے سبب نزول میں ’اس کے معاً بعد یہ آیت نازل ہوئی‘ جیسے الفاظ استعمال کرے تو اس طرح کی روایات حدیث مرفوع کے حکم میں ہوتی ہیں ، کیونکہ اس طرح کی بات فقط رائے سے نہیں کہی جاسکتی۔
اور دوسری قسم (یعنی جب کوئی صحابی نزلت في کذا کے الفاظ استعمال کرے ) میں اختلاف ہے کہ کیا یہ بھی قسم اول کی طرح مسند حدیث کے حکم میں ہے یا اس کی بنیاد صحابی کے اجتہاد و رائے پر ہے ؟
جلال الدین سیوطی﷫ امام حاکم﷫ کا قول نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
"وإذا أخبر الصّحابي الّذي شهد الوحي والتنزیل عن آية من القرآن أنها نزلت في کذا، فإنه حدیث مسند ومشی على هذا ابن الصّلاح وغیره." ([7])
کہ جب کوئی صحابی جو نزولِ وحی / آیت کے وقت موجود تھا، قرآن کی کسی آیت کے بارے میں خبر دے کہ یہ آیت فلاں واقعہ میں نازل ہوئی تو یہ بھی حدیث مرفوع ہے ، یہی رائے ابن صلاحa وغیرہ کی بھی ہے ۔
مگر امام ابن تیمیہ﷫ اس میں تفصیل و توزیع کے قائل نظر آتے ہیں اور وہ یہ کہ اگر ان الفاظ سے سبب نزول مراد ہے تو یہ تمام کے نزدیک حدیث مسند میں داخل ہے اور اگر اس سے صحابی کا مقصد یہ ہے کہ یہ واقعہ بھی اس آیت کے حکم میں داخل ہے (مگر اس کا سبب نزول نہیں ہے ) تو اس میں علماء کا ا ختلاف ہے کہ کیا یہ بھی مسند حدیث کے حکم میں ہو گا یا نہیں ۔ امام بخاری﷫ (256ھ) تو اسے اس صحابی کی مسند میں داخل مانتے ہیں لیکن دوسرے علماء اس کا انکار کرتے ہیں اور اکثر مسانید اسی اصطلاح کے مطابق جمع کی گئی ہیں۔ جیسے مسند امام احمد بن حنبل وغیرہ اور اکثر علماء کا میلان بھی امام احمد بن حنبل (241ھ) کی طرف ہے۔
امام زرکشی﷫ لکھتے ہیں :
"قد عرف من عادة الصحابة والتابعین أن أحدهم إذا قال: نزلت هذه الآية في کذا فإنه یرید بذلك أن هذه الآية تتضمّن هذا الحکم لا أن هذا کان السّبب في نزولها ... فهو من جنس الاستدلال على الحکم بالآية لا من جنس النقل لما وقع."([8])
کہ صحابہ و تابعین کی یہ معروف عادت ہے کہ جب وہ ’یہ آیت فلاں مسئلے میں نازل ہوئی‘ کہیں تو اس سے ان کی یہ مراد ہوتی ہے کہ وہ آیت اس حکم کو شامل ہے نہ کہ فلاں واقعہ اس آیت کا سبب نزول ہے ... پس صحابہ کا یہ کہنا آیت سے کسی حکم کے بارے میں استدلال کرنے کی قبیل سے ہوتا ہے نہ کہ واقعہ کی خبر نقل کرنے کی جنس سے ۔
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,342
پوائنٹ
800
اس قسم کے واقعات کو ایک مناسبت کی بناء پر آیت کے تحت ذکر کیا جاسکتا ہے ۔ ورنہ آیت کے مفہوم کو ذہن نشین کرنے کے لئے ان کی معرفت لازمی نہیں ہے ۔ شاہ ولی اللہ﷫ رقمطراز ہیں :
"وقد ذکر المفسّرون تلك الحادثة بقصد الإحاطة بالآثار المناسبة للآیة أو بقصد بیان ماصدق عليه العموم ولیس هذا القسم من الضروریات ... وکان غرضهم تصویر ما صدقت عليه الآیة."([9])
کہ بسا اوقات مفسرین آیت کے تحت کوئی واقعہ اس مقصد سے ذکر کر دیتے ہیں کہ اس آیت سے مناسبت رکھنے والے واقعات جمع ہو جائیں یا جس امر کی عموم تصدیق کر رہا ہو اس کی وضاحت ان کا مقصود ہوتی ہے ۔ یہ قسم ضروری اسبابِ نزول سے نہیں ہے ۔ اس سے ان کامقصد اس امر کی تصویر کشی کرنا ہوتا ہے جس پر آیت صادق آ سکتی ہے ۔
شانِ نزول کے بارے میں عبد اللہ روپڑی﷫ (1962ء) کا موقف یہ ہے کہ اس میں فہم کا دخل نہیں بلکہ یہ محض نقل سے معلوم ہو سکتا ہے۔ اس لئے یہ بھی حدیث مرفوع کے درجہ میں ہو گا جو کہ حجّت ہے ۔ انہوں نے اسکے چند شواہد پیش کیے ہیں:
سید شریف علی جرجانی﷫ (816ھ) فرماتے ہیں :
’’تفسیر صحابی موقوف ہے۔ اور جو قول شان نزول کی قسم سے ہو جیسے جابر﷜ کا کہنا کہ یہود ی کہتے تھے پس اللہ تعالیٰ نے فلاں آیت اُتاری اور مثل اس کی مرفوع ہے ۔ ‘‘ ([10])
جلال الدین سیوطی﷫ نے الاتقان میں بیان کیا ہے :
’’حدیث کے بعد تفسیر میں قولِ صحابی کا درجہ ہے کیونکہ صحابی کی تفسیر ان کے نزدیک بمنزلہ مرفوع کے ہے جیسا کہ حاکم نے مستدرک میں کہا ہے ۔ اور ابوالخطاب حنبلی کہتے ہیں کہ ممکن ہے کہ تفسیر صحابی کی طرف رجوع نہ کیا جائے جب ہم یہ کہیں کہ قول صحابی حجت نہیں مگر صحیح بات اس کا حجت ہونا ہے کیونکہ تفسیر صحابی روایت کی قسم سے ہے نہ کہ رائے کی قسم سے ۔ میں (صاحب اتقان) وہی کہتا ہوں جو حاکم نے کہا ہے کہ تفسیر صحابی مرفوع ہے ۔ ابن صلاح وغیرہ نے اس کا خلاف کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ یہ شانِ نزول وغیرہ کے ساتھ خاص ہے جس میں رائے کا دخل نہیں پھر میں نے خود حاکم کو دیکھا کہ انہوں نے علوم حدیث میں اس کی تصریح کی ہے چنانچہ فرماتے ہیں کہ موقوفات سے مراد تفسیر صحابہ ہے اور جو مرفوع کہتا ہے وہ شانِ نزول کی بابت کہتا ہے، پس حاکم نے علوم حدیث میں خاص کر دیا اور مستدرک میں عام چھوڑدیا ۔ ‘‘([11])
ابن الصلاح﷫ (643ھ) فرماتے ہیں:
’’یہ جو کہا گیا ہے تفسیر صحابی مرفوع ہے تو یہ شانِ نزول وغیرہ کی بابت ہے ۔‘‘ ([12])
مولانا عبدالحی لكهنوی﷫ ’قابل تحقیق ہے۔‘ میں لکھتے ہیں :
’’حاکم نے جو مستدرک میں کہا ہے کہ تفسیر صحابی جس نے وحی کا مشاہدہ کیا ہے حکماً مرفوع ہے تو اس سے مراد وہ تفسیر ہے جو ایسی بات پر مشتمل ہو جس میں رائے کا دخل نہ ہو اور بغیر سماع کے معلوم نہ ہو سکتی ہو۔ ‘‘([13])
مزید فرماتے ہیں:
’’شانِ نزول کا مرفوع کے حکم میں ہونا باعتبارِ ظاہر کے ہے ([14]) کیونکہ ممکن ہے کہ صحابی کا شانِ نزول کو بیان کرنا ظاہر حال دیکھ کر ہو اور رسول اللہﷺ سے سننے کی ضرورت نہ پڑی ہو۔ ‘‘ ([15])
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,342
پوائنٹ
800
شان نزول کی بابت شاہ ولی اللہ (1762ء)کے موقف پر تبصرہ کرتے ہوئے عبد اللہ محدث روپڑی﷫ فرماتے ہیں :
’’صحابہ﷢ کبھی وہ عبارت جس کے ساتھ شان نزول بیان کیا جاتا ہے ، غیر شان نزول پر بھی بول دیتے ہیں اور اس التباس کی وجہ سے شان نزول کا پہچاننا بعض دفعہ مشکل ہو جاتا ہے ۔ یہی شاہ ولی اللہ﷫ کے سارے کلام کا خلاصہ ہے۔‘‘ ([16])
گویا جن لوگوں نے شاہ صاحب﷫ کے کلام سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ صحابہ کے بیان کردہ شان نزول کا اعتبار نہیں رہے گا تو ان کا موقف درست نہیں کیونکہ اس طرح توکسی حدیث کا بھی اعتبار نہیں رہے گا کیونکہ احادیث کے صحت و ضعف میں بھی بہت دفعہ التباس ہو جاتا ہے۔
اسی طرح راویوں کی جرح و تعدیل میں بہت اشتباہ ہو جاتا ہے ۔ اسی طرح محدثین کی اصطلاحات صحت و ضعف کے متعلّق اور راویوں کی جرح و تعدیل کے متعلّق الگ الگ ہیں مثلا امام احمد﷫ (241ھ) وغیرہ کے نزدیک حسن اورصحیح میں کچھ فرق ہی نہیں۔ امام ترمذی﷫ (279ھ) کے نزدیک حسن کے اور معنی ہیں۔ امام نسائی﷫ (303ھ) کا خیال تھا کہ جب تک کسی راوی کی روایت کے ترک پر محدثین جمع نہ ہوں اس کی روایت کو لے لیا جائے۔ ابن حبان﷫ (354ھ)بھی بہت متساہل تھے، اسی طرح کسی راوی کو ’منکرالحدیث‘ وغیرہ کہنا مختلف معنی رکھتا ہے کسی محدث کے نزدیک کچھ، کسی محدث کے نزدیک کچھ مثلاً کسی کے نزدیک منکرالحدیث وہ راوی ہے جو ضعیف ہو کر ثقہ کی مخالفت کرے اور کسی کے نزدیک کم ثقہ زیادہ ثقہ کی مخالفت کرنے والا بھی اس میں داخل ہے ۔
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,342
پوائنٹ
800
خلاصہ یہ کہ جب محدثین اور مفسرین کے اصول سے یہ بات طے ہو گئی کہ شانِ نزول مرفوع کےحکم میں ہے تو جیسے احادیث کا فیصلہ ہوتا ہے ویسے ہی اس کا فیصلہ کر لینا چاہئے ۔ اس کے فیصلہ کی صورت یہی ہے کہ جس حدیث میں اختلاف نہیں ہوتا وہ تو سر آنکھوں پر، اور جس میں اختلاف ہوتا ہے وہاں راجح قول اختیا رکیا جاتا ہے اس طرح جس شانِ نزول کو دیکھا کہ اس میں کسی نے اختلاف نہیں کیا وہ بے چوں چرا تسلیم کرنا چاہئے اور جس میں اختلاف ہو وہاں راجح مرجوح کو دیکھنا چاہئے۔
چنانچہ امام واحدی﷫ لکھتے ہیں :
"لا یحلّ القول في أسباب نزول الکتاب إلا بالرواية والسّماع ممن شاهدوا التنزیل ووقفوا على الأسباب و بحثوا عن علمها." ([17])
کہ کتاب اللہ کے اسباب نزول کے بارے میں کچھ کہنا جائز نہیں ہے۔ اس سلسلے میں انہی صحابہ کی روایت اور سماع معتبر ہے جو نزول قرآن کے وقت موجود تھے اور وہ اس کے اسباب سے واقف تھے اور اسی کے جاننے کے لئے بحث وکرید میں لگے رہتے تھے۔
اس بناء پر سلف صالحین﷭ اسباب نزول کے سلسلہ میں روایت قبول کرنے میں تشدّد سے کام لیتے اور جب تک کسی صحابی سے صحت سند کے ساتھ اس کا مروی ہونا ثابت نہ ہو جاتا وہ اسے قابل التفات نہ سمجھتے ۔ امام ابن سیرین﷫ (110ھ)بیان کرتے ہیں کہ میں نے عبیدہ﷜ سے ایک آیت کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا:
"اتق الله وقل سدادًا ذهب الذین یعلمون فیما أنزل القرآن." ([18])
کہ اللہ سے ڈرو اور کھری بات کہو، وہ لوگ چلے گئے جو جانتے تھے کہ قرآن کس بارے میں نازل ہوا؟
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,342
پوائنٹ
800
یہاں پر یہ بھی ذہن نشین کر لینا ضروری ہے کہ کوئی آیت اپنے نفس الامری مفہوم اور عموم کے اعتبار سے سببِ نزول کے ساتھ مقید و مختص نہیں ہوتی بلکہ معنی و مفہوم کے اعتبار سے اس آیت کو عموم پر ہی محمول کرنا ضروری ہے۔
جلال الدّين سیوطی﷫ لکھتے ہیں :
’’اَصح یہ ہے کہ نظم قرآن کو اس کے عموم پر محمول کیا جائے اور اسبابِ خاصہ کا اعتبار نہ کیا جائے ... کیونکہ صحابہ کرام﷢ پیش آمدہ واقعات کی توضیح میں آیات کے عموم سے استدلال کرتے رہے ہیں ، گو ان کے اسبابِ نزول خاص تھے ۔ ‘‘
امام ابن تیمیہ﷫ فرماتے ہیں:
"قَصْر عمومات القرآن علی أسباب نزولها باطلٌ فإن عامة الآیات نزلت بأسباب اقتضت ذلك وقد علم أن شیئا منها لم یقصر على سببه."([19])
کہ عمومِ قرآن کو اسبابِ نزول پر محدود کر دینا باطل ہے کیونکہ اکثر آیات ایسے اسباب کے تحت نازل ہوئی ہیں جو اسکے مقتضی تھے ۔ جبکہ یہ معلوم ہے کہ کوئی آیت بھی اپنے سبب نزول تک محدود نہیں ہے۔(بلکہ باعتبار عمومِ لفظ اسمیں وسعت ہے۔)
آگے چل کر فرماتے ہیں :
"ورود اللفظ العامّ على سبب مقارن له في الخطاب لا یوجب قصره عليه ... غاية ما یقال: إنها تختص بنوع ذلك الشخص فتعمّ ما يشبهه."([20])
کہ کسی عام لفظ کا خطاب کے مخصوص سبب کی بنا پر آنا اس کو اس سبب سے مقید نہیں کرتا ... زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے۔ یہ الفاظ اس قسم کے لوگوں کے بارے میں آئے ہیں اور اس سے ملتے جلتے لوگوں کو یہ الفاظ شامل ہوں گے۔
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,342
پوائنٹ
800
حاشیہ جات

[1] الجامع لأحكام القرآن: 1 / 39
[2] الاتقان: 1 / 34
[3] التبيان في علوم القرآن: ص17 ؛ التّحبير في علم التفسير: ص173 ؛ مناهل العرفان: 2 / 31
[4] الإتقان: 1 / 87
[5] مجموع فتاوى ابن تيمية: 13 / 339
[6]
مقدّمه في أصول التّفسير: ص9
[7] الاتقان: 1 / 93
[8] البرهان: 1 / 31
[9] الفوز الكبير: ص73
[10] الرّسالة في فن الحديث: ص3
[11] الإتقان: 2 / 505، 506
[12] مقدّمة ابن الصّلاح: ص23
[13] اہل سنت کی تعريف: ص232
[14] چونکہ شریعت کی بنا ظاہر پرہے یہاں تک کہ کسی محدث کا کسی حدیث کو صحیح کہنا یا ضعیف کہنا یہ بھی ظاہر پر مبنی ہے ورنہ ممکن ہے کہ نفس الامر میں اس کے خلاف ہو اسی بنا پر مولانا عبد الحیa اس عبارت میں فرماتے ہیں کہ رفع کا حکم قطعی نہیں ، ممکن ہے کہ رسول اللہﷺ سے سننے کی ضرورت نہ پڑی ہو، جیسے ایک واقع ہو گیا۔ ا س کے بعد ایک آیت اتری اس سے صحابی نے خود ہی سمجھ لیا کہ یہ واقعہ اس آیت کا شان نزول ہے اور نبی اکرمﷺ سے کچھ نہ سنا مگر ظاہر چونکہ سماع ہے ا س لئے محدثین نے رفع کا حکم لگایا۔
[15] اہل سنت کی تعريف: ص232
[16] حوالہ بالا
[17] أسباب نزول القرآن: ص5
[18] تفسیر القرآن العظیم: 1 /12
[19] مجموع فتاوى ابن تيمية: 15 / 364
[20] أيضا: 15 / 451
 

مفتی عبداللہ

مشہور رکن
شمولیت
جولائی 21، 2011
پیغامات
530
ری ایکشن اسکور
2,182
پوائنٹ
171
سبحان اللہ انس بھای علم کاسمندر ھو لیکن اتنا لمبا لکھا اتنا لمبا کہ پڑھ تے ھوے لایٹ چلی جاتی ھے اور آپ کی تحریر ختم نھی ھوتی میں ھمیشہ محدث فورم کو اس لیے دیکھتا ھو کہ ان سے کچھ سیکھ لو اور واقعی سیکھتا ھولیکن اگر آپ کی یہ تحریر مختصر ھوتی تو بھت فایدہ ھوتا جزاک اللہ خیرا کثیرا وبارک اللہ فی علمک وعملک
 
Top