• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قراء اتِ قرآنیہ اور مستشرقین

شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,403
ری ایکشن اسکور
26,340
پوائنٹ
995
قراء اتِ قرآنیہ اور مستشرقین

ترجمہ: حافظ محمد زبیر
اس میں کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ قرآن سات حروف پر نازل کیا گیا ہے جو صحیح، قطعی اور متواترہ احادیث سے ثابت ہے۔ قراء نے قرآن کی قراء ات اس کے حروف کی روایات اور اس کے مختلف لہجات کو اپنے اساتذہ سے براہ راست سماع کے ذریعے حاصل کیا۔ یہاں تک کہ ان کی اسناد درجہ بدرجہ اللہ کے رسول ا تک جا پہنچتی ہیں۔
قرآن کی یہ معروف اور صحیح قراء ات تواتر حقیقی سے ثابت ہیں اور یہ تواتر ایسا ہے جواور کسی کتاب کو حاصل نہ ہوسکا۔ قراء نے ان قراء ات کو کلام کی تمام باریکیوں اور پختگی کے ساتھ نقل کیا ہے۔
یہ بات مسلمانوں کے علم میں ہے کہ اللہ کے رسول ا نے اس قرآن کومعروف قراء ات کے ساتھ لوگوں کو پڑھ کر سنایا اور انہیں ان قراء ات کے ساتھ قرآن کی تعلیم بھی دی۔ یہ قراء ات صحیح اور متواتر اسانید سے ثابت ہیں۔(۱) اور یہ بات اتنی معروف ہے کہ جو شخص علومِ قرآن اور قراء ات سے ذرا بھی شغف رکھتا ہے وہ اسے بخوبی جانتاہے۔
 
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,403
ری ایکشن اسکور
26,340
پوائنٹ
995
قرآن مجید اور ان کی قراء ات کے بارے میں مستشرقین کا نقطۂ نظر
مستشرقین کا خیال ہے کہ تمام علمائے اسلام اور قراء جھوٹے اور افترا پرداز ہیں، جنہوں نے رسم عثمانی سے ہر وہ قراء ات نکال لی، جس کا اس کے رسم سے نکلنے کا احتمال تھا۔
ان مستشرقین کا اول مقصود یہ ہے کہ وہ کسی طرح اللہ کی محفوظ کتاب قرآن مجید کے بارے میں لوگوں کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا کریں اور اللہ کے اس وعدے کو جھوٹا ثابت کریں جو کہ اس نے قرآن مجید کی حفاظت کے حوالے سے اپنے ذمہ لیا ہے اور قرآن کی آیت مبارکہ ’’باطل اس قرآن کے نہ آگے سے آسکتا ہے نہ پیچھے سے‘‘ کو جھٹلائیں۔ نیز وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ جیسے ان کی کتابوں کے بارے میں ان پر مسلمانوں کی طرف سے یہ تہمت لگائی جاتی ہے کہ انہوں نے اپنی کتابوں کو تبدیل کردیا ہے وہ یہی الزام مسلمانوں پر بھی ان کی کتابوں کے بارے میں لگائیں۔(۲)
یہ بات عام و خاص سب پر عیاں ہے کہ قرآن ہم تک قطعی الثبوت تواتر کے ذریعے نقل کیا گیاہے، جو مصاحف میں بھی لکھا ہوا ہے۔(۳) اسی طرح قرآن کی متواتر قراء ات بھی اس رسم کے مطابق ہم تک قطعی الثبوت تواتر کے ذریعے منقول ہیں یا بعض قراء ات ایسی بھی ہیں کہ جو اگرچہ متواتر تو نہیں ہیں، لیکن صحیح سند کے ساتھ ثقہ راویوں سے منقول ہیں اور قراء کے مابین معروف و مشہور ہیں۔ ایسی قراء ات بہت کم بلکہ نہ ہونے کے برابر ہیں کہ جن میں تواتر کی شرط پوری نہ ہورہی ہو، یہ قراء ات بھی براہ راست سماعت سے ہم تک پہنچی ہیں اور ان کی ادائیگی کے مختلف طریقے اور تلفظ کی وضاحت بھی براہ راست سماعت سے منقول ہے۔(۴)
 
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,403
ری ایکشن اسکور
26,340
پوائنٹ
995
اُمت مسلمہ اور مستشرقین کے درمیان اصل اختلاف
مستشرقین کا کہنا یہ ہے کہ رسم پہلے ہے اور اس رسم میں بہت سی قراء ات کا احتمال تھا۔ مسلمان قراء نے اپنی خواہش اور استطاعت کے مطابق اس رسم سے قراء ات نکال لیں جبکہ اُمت مسلمہ کے نزدیک قراء ات اصل ہیں پھر ان قراء ات کی ادائیگی کے لئے رسم بنایا گیا تاکہ تمام قراء ات اس رسم میں سما جائیں اور کوئی بھی قراء ت باقی نہ رہے۔ مستشرقین کا گمان یہ ہے کہ جس قران کو حضرت جبرئیل ؑ آپﷺ پر لے کرنازل ہوتے اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ ایک ہی حرکت اور ایک ہی لفظ کی صورت میں ہو۔
مستشرقین کا خیال یہ ہے کہ شروع شروع میں رسم عثمانی میں نقطے اور حرکات نہیں تھیں۔ لہٰذا ہر قاری نے اپنی خواہش اور مرضی سے رسم عثمانی پر حرکات اور نقطے لگا لئے جو کہ بعد میں قراء ات بن گئیں۔(۵)
مستشرقین کی اس رائے سے صرف ایک ہی مطلب نکلتا ہے اور وہ یہ کہ مسلمانوں یعنی صحابہ، تابعین اور ان کے بعدکے زمانے کے لوگوں نے یہ قراء ات گھڑ لی ہیں اور رسم میں جن قراء ات کا احتمال تھا مسلمانوں نے انہیں قرآن کا نام دے کر اپنے رسول ا کی طرف منسوب کردیا اور تمام کے تمام مسلمان اپنے اس دعویٰ میں جھوٹے ہیں کہ یہ قراء ات آپؐ سے ثابت ہیں اور اس میں کہ انہوں نے یہ قراء ات درجہ بدرجہ نسل در نسل آپؐ سے حاصل کی ہیں۔ جبکہ مسلمانوں کے نزدیک یہ قراء ات اصل ہیں اور رسم عثمانی اس کے تابع ہے اور وہ ان قراء ات کے لئے بنایا گیا ہے۔ ان کے نزدیک یہ بات قطعی الثبوت ہے کہ آپؐ نے صحابہ کرام ؓ کو مختلف قراء ات کے ساتھ قرآن کی ادائیگی اور اس کے تلفظ کی تعلیم دی اور پڑھ کر بھی سنایا۔ مزید یہ کہ تمام قراء ات حق ہیں اور اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہیں۔ اور یہ کہ تمام قراء ات لغت ِعرب اور قبائلی لہجات کے مطابق ہیں۔
قرآن کو مختلف قراء ات میں نازل کرنے کا مقصد اس کی حفاظت کو یقینی بنانا اور اُمت کے لئے اس کو یاد کرنے میں آسانی پیدا کرنا تھا۔ صحابہ نے ان قراء ات کو اللہ کے رسول ا سے سنا اور آپؐ کو بالمشافح پڑھ کر سنائیں اور اپنے سینوں میں محفوظ کیا۔ پھر صحابہؓ نے آپؐ کے حکم سے جو کچھ آپؐ سے سنا تھا اس کو لکھا۔ آپؐ نے یہ قراء ات سکھانے کے بعدصحابہ کرام ؓسے کہا کہ قرآن مجید ان حروف پر نازل کیا گیا ہے پس جو حرف تمہیں آسان لگے اس کے مطابق پڑھ لو۔ پس صحابہ نے جیسے آپؐ سے قرآن اور اس کی قراء ات سنی تھیں ویسے ہی ان کو آگے ادا کرتے ہوئے تابعین کو سنا دیا۔ جیسے انہوں نے ادائیگی اور تلاوت کی مختلف وجوہات سے قرآن پڑھا تھا اسے بغیر کسی کمی بیشی کے آگے پہنچا دیا۔ جوکچھ بھی صحابہ نے قرآن اور اس کی قراء ات کو آپ سے سنا تھا یا زبانی یاد کیا تھا اس کو انہوں نے رسم عثمانی میں جمع کرنے کی کوشش کی۔ صحابہ کی یہ جماعت وحی کی امین تھی۔پھر ان کے بعد آنے والے ثقہ، امانت دارراویوں نے ان سے قرآن اور ان قراء ات کو واضح اور قطعی تواتر کے ساتھ نقل کیا۔
پس مستشرقین کا یہ کہنا کہ رسم پہلے ہے اور قراء ات اس کے تابع ہیں؛ اک گمانِ باطل ہے، جس کی کوئی دلیل ان کے پاس نہیں، جبکہ مسلمانوں کے نزدیک قراء ات پہلے اور رسم ان قراء ات کے تابع ہے، یہ اصول تاریخی حقائق سے زیادہ حقیقی اور یقینی طو رپر ثابت ہے۔
مسلمانوں کا آپؐ کے زمانے سے لے کر آج تک وہی قول رہا ہے کہ رسم قراء ات کے تابع ہے کیونکہ اس کے ماسوا کوئی قول عقلاً بھی درست نہیں ہے اور نقلی دلائل بھی اس بات کے متقاضی ہیں کہ اسی قول کو درست قرار دیا جائے۔ مسلمان اہل ِ علم، مستشرقین کی نسبت اللہ کے رسول ا صحابہؓ اور دیگر علماء و ائمہ قراء ات کے متعلق زیادہ واقفیت رکھتے ہیں کہ جنہوں نے ان تک علم دین اور قرآن کو نقل کیا ہے۔ لہٰذا وہ ان کے بارے میں جھوٹ اور افتراء پردازی کا بُرا گمان نہیں کرسکتے۔
قراء ات کی کتنی ہی مطبوعہ اور غیرمطبوعہ کتب (مخطوطات) اور ان کے مطابق قرآن کو پڑھنے والے بے شمار قراء دنیا کے کونے کونے میں موجود ہیں۔ ان میں ہر ایک اسناد ِ قراء ات کو ثقہ راویوں کے واسطے سے اللہ کے رسول ا تک پہنچاتا ہے(۶) اور یہ قراء اپنی صداقت، امانت اور تقویٰ میں اتنے معروف ہیں کہ ان پر کوئی طعن یا الزام نہیں لگایا جاسکتا۔
پس مستشرقین یا ان سے متعلقین کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ ان واضح اور روشن حقائق کے بعد بھی وہ قراء اتِ قرآنیہ کے بارے میں شکوک و شبہات کے سائے میں رہیں اور اگر ان حقائق کے بعد بھی کوئی شکوک و شبہات کا شکار رہا تو وہ جاہل اور منہ کے بل اوندھا چلنے والا ہے۔
جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’پس وہ لوگ کہ جن کے دلوں میں کجی ہے وہ فتنے کی تلاش اور ان کی حقیقت جاننے کے لئے متشابہات کی پیروی کرتے ہیں ‘‘
اگر مستشرقین کے چیلوں کو جو اس چیز سے اعراض کرتے ہیں جس کو وہ جانتے تک نہیں ہیں اور اس چیز میں فضول بحث کرتے ہیں جو ان کی سمجھ سے بالاتر ہے، عقل آجائے تو یہ جان لیں گے کہ مستشرقین کی اس رائے کا کوئی نتیجہ یا مقصد نہیں ہے۔ عقل و منطق تو اس بات کی متقاضی ہے کہ قرآن جس طرح آپؐ پر نازل ہوا، اسی طرح یہ مسلمانوں سے قراء ات کی مختلف وجوہات کے ساتھ آگے منتقل ہوا۔
گولڈ زیہر یہودی کا یہ کہنا بھی خلافِ عقل ہے کہ ’’قرآن کے لئے لازم ہے کہ وہ ایک ہی لفظ اور ایک ہی جیسی حرکات پر مشتمل ہو‘‘۔ اور اس کا کہنا کہ ’’قرآن کے پڑھنے کا ایک انداز بعد کے زمانوں میں غیر معین اور غیر معروف پڑھنے کے مختلف اندازوں میں تبدیل ہوگیا۔‘‘ مزید یہ کہ ’’قرآن ان وجوہاتِ قراء ات پر نازل نہ ہوا تھا۔ مسلمانوں نے رسم کے مطابق قراء ات اپنی مرضی سے ایجاد کرلیں اور یہ قراء ات اللہ کے رسول ا پر نازل نہیں کی گئی او نہ ہی ان کی صحت یا ان کے پڑھنے اور آگے پہنچانے کا حکم آپؐ سے ثابت ہے۔‘‘
گویامستشرقین اور ان کے متبعین کے نظریہ کے مطابق یہ تمام کی تمام قراء ات قرآن کے ساتھ نازل نہیںہوئیں،بلکہ قرآن ایک ہی قراء ات پر نازل ہوا تھا جو کہ غیر معین تھی جسے نہ مسلمان جانتے ہیں اور نہ مستشرقین۔
اللہ کی پناہ کہ معاملہ ایسا ہی ہو جیساکہ مستشرقین کا کہنا ہے۔ ہم اللہ کے بارے میں ایسی بات نہیںکہتے کیونکہ وہ اس سے پاک ہے اور یہ اس پربہت بڑا بہتان ہے۔
اہل اسلام کے علم میں ہونا چاہئے کہ خلیفہ حضرت عثمان بن عفانؓ نے جو مصاحف مختلف شہروں کی طرف بھیجے تھے، وہ چھ تھے۔(۷)
 
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,403
ری ایکشن اسکور
26,340
پوائنٹ
995
مصحف امام :
یہ وہ مصحف ہے جسے سیدنا عثمانؓ نے اپنے پاس رکھا ہوا تھا اوراسے ابوعبید قاسم بن سلام نے نقل کیا ہے۔
 
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,403
ری ایکشن اسکور
26,340
پوائنٹ
995
مصحف مکی:
یہ مصحف حضرت عثمانؓ نے اہل مکہ کے لئے تیار کروایا تھا۔ اس مصحف اور پہلے دو مصاحف کو مصاحف دجازیہ یا حرمیہ بھی کہتے ہیں۔
 
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,403
ری ایکشن اسکور
26,340
پوائنٹ
995
مصاحف میں قرآن کی کتابت کا سبب یہ تھا کہ حضرت عثمانؓ کو یہ بات پہنچی کہ اہل حمص، اہل دمشق، اہل کوفہ اور اہل بصرہ میں سے ہر ایک اپنی قراء ت کو دوسرے کی قراء ت سے بہتر قرار دیتے تھے تو حضرت عثمانؓ نے۱۲ صحابہ کو جمع کیا۔ حضرت عثمانؓ نے جب انہیں خبر دی تو انہوں نے اسے بہت بڑا فتنہ سمجھا اور حضرت عثمانؓ سے پوچھا کہ آپ کی کیا رائے ہے تو حضرت عثمانؓ نے کہا کہ میری رائے یہ ہے کہ لوگوں کوایک مصحف پر جمع کردوں تاکہ تفرقہ باقی نہ رہے تو صحابہ ؓ نے کہا : کیا ہی خوب رائے ہے۔
اس کے بعد حضرت عثمانؓ نے خلافت ابی بکر میں جمع شدہ مصحف منگوایا جوکہ حضرت حفصہؓ کے پاس تھا۔ آپ نے حضرت زید بن ثابتؓ وغیرہ کو مصاحف کی کتابت کا حکم دیا تو حضرت زیدؓ نے ان مصاحف کو عرضہ أخیرہ کے مطابق لکھا؛ یعنی آخری بار جب اللہ کے رسولﷺ نے حضرت جبرئیل ؑ کو اپنی وفات والے سال قرآن سنایا تھا۔ پھر حضرت عثمانؓ نے ایک ایک مصحف مکہ، مدینہ، کوفہ اور بصرہ بھیجا۔ ایک مدینہ میں روک لیا اور ایک مصحف اپنے پاس رکھ لیا، جسے انہوں نے مصحف امام کا نام دیا۔
حضرت عثمانؓ نے ان تمام مصاحف کے ساتھ ایک ایک قاری بھی بھیجا، جو اس شہر والوں کو اس مصحف کے رسم کے مطابق صحیح اور متواتر قراء ات کی تعلیم دے۔ حضرت زید بن ثابتؓ کو حکم دیاگیا کہ وہ اہل مدینہ کو مدنی مصحف کے مطابق قرآن پڑھائیں۔ عبداللہ بن السائب کو اس کام کے لئے مکہ بھیجا گیا۔ مغیرہ بن ابی شہاب کو شام، ابوعبدالرحمن السلمی کو کوفہ اور حضرت عامر کوبصرہ روانہ کیا گیا۔
ان شہروں میں اس وقت تابعین میں سے حفاظِ قرآن کریم کا ایک جم غفیر تھا۔ ہر شہر کے لوگوں نے اپنے شہر کے تیار کردہ مصحف کے مطابق مذکورہ بالا قراء سے قرآن پڑھا اور اپنے شہر کے مصحف کی تمام قراء ات کو صحابہ سے نقل کیا، وہ قراء ات جو صحابہ نے آپؐ سے لیں تھیں۔
یہ بات اہم ہے کہ حضرت عثمانؓ نے مصاحف کے لکھنے اور ان کو مختلف اسلامی شہروں کی طرف بھیجنے کی جو مہم چلائی تھی اس کا مقصد قرآن کی ایک نص پر لوگوں کواکٹھا کرنا نہیں تھا بلکہ اس سے مطلوب صرف یہ تھا کہ اللہ کے رسول ا سے ثابت متواتر قراء ات کو جمع کر دیا جائے اور جو قراء ات شروع میں امت کی آسانی کے لئے نازل کی گئی تھیں بعد میں عرضہ اخیرہ میں منسوخ ہوگئی تھیں اور اکثر لوگ جن کو ان کے نسخ کا علم نہ تھا، کا سد ِ باب کیا جائے، جو ان کو برابر پڑھتے چلے آرہے تھے۔ مصاحف عثمانیہ کو حرکات اور نقاط سے خالی اس لئے رکھا گیا، کیونکہ مصاحف کا حرکات اور نقاط سے خالی ہوناحضرت عثمانؓ کے ہاں اس لحاظ سے مفید تھا کہ وہ ان لوگوں کو منسوخ اور شاذہ کی بجائے متواتر قرا ء ات پر جمع کرسکیں۔
قاضی ابوبکر بن ابی طیب نے لکھا ہے کہ حضرت عثمانؓ کا مقصد حضرت ابوبکرؓ کی طرح دو تختیوں کے درمیان قرآن کو جمع کرنا نہیں تھا، بلکہ ان کا اصل مطلوب قراء ات ثابتہ متواترہ پر لوگوں کو اکٹھا کرنا اور ان کو ان کے ماسواء قراء ات سے جداکرناتھا۔
حافظ ابوعمروالدانی فرماتے ہیں۔ حضرت عثمانؓ اور صحابہ کی جماعت نے کچھ حروف اور باطل قراء ات جو غیر معروف اورغیر ثابت تھیں کو الگ کر دیا۔یہ قراء ات نبی مکرمؐ سے نقل ِاحادیث کے طریقے سے روایت کی گئیں تھیں، جبکہ اس طرح نقل شدہ قرا ء ات سے قرآن ثابت نہیں ہوتا۔
حافظ ابوعمروالدانی ؒ ایک اور جگہ لکھتے ہیں کہ حضرت عثمانؓ نے حضرت ابوبکرؓ کی طرح دو تختیوں میں قرآن جمع کرنے کا ارادہ نہ کیا، بلکہ انہوں نے تو صحابہ کو آپؐ سے ثابت معروف قراء ات پر جمع کیا تھا اور ان کے علاوہ دیگر قراء ات کو الگ کر دیا، لیکن آپ سے مروی اور ثابت کوئی بھی صحیح قراء ات ان سے ضائع نہ ہوئی۔ جو کچھ اوپر ہم نے بیان کیا ہے اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ خلیفہ عثمانؓ نے جن مصاحف کی کتابت کا حکم دیا تھا وہ ان میں بہت سے مقامات پر رسم کا اختلاف تھا، تاکہ ان مقامات پر قراء ات کا اختلاف معلوم ہوسکے۔ جیسا کہ قراء ات اور رسم القرآن کی کتابوں میں لکھا ہوا ہے۔( بلکہ رسم کا یہ اختلاف مختلف مصاحف میں بہت کم مقامات پر تھا۔)
اگر حضرت عثمان نے قرآن کی ایک نص پر لوگوں کو جمع کرنے کا ارادہ کیا ہوتا، تو تمام مصاحف کو ایک ہی صورت میں لکھا جاتا اور ان میں کسی قسم کا بھی اختلاف نہ ہوتا، لیکن مصاحف عثمانیہ کی مختلف صورتوں اور متعدد کیفیات میںکتابت اس با ت کی واضح دلیل ہے کہ حضرت عثمانؓ نے ایک نص کے حصول کا ارادہ نہ کیا تھا بلکہ ان کا اصل مقصود لوگوںکو غیر متواتر قراء ات کے بالمقابل متواتر قراء ات پر جمع کرنا تھا۔
جب یہ بات واضح ہوگئی تو اب کسی کو بھی پروپیگنڈا کرنے والوں کی یہ بات پریشان نہ کرے کہ جب حضرت عثمانؓ نے مسلمانوں میں قراء ات کے اختلافات محسوس کئے تو ان کو ایک ایک مصحف پر جمع کردیا اور وہ مصحف وہی ہے جو بلادِمشرق میں پایا جاتا ہے( جیسا کہ بعض متجددین کہتے ہیں۔ یاد رہے کہ بلادِ مشرق، مشرق میںموجود مسلمان ممالک کوکہتے ہیں اور مسلمانوں کا بلادِ مغرب پانچ ممالک پر مشتمل ہے۔ تیونس، الجزائر، مراکش، لیبیا اور موریطانیہ)
ان لوگوں کا یہ قول سلف و خلف میں سے کسی ایک کا بھی نہیں ہے اور اس قول کے قائلین کے پاس دلیل تو کجا اس سے مشابہ عقل و نقل کی بھی کوئی چیز ایسی نہیں ہے، جس کو وہ اس قول کی بنیاد بنا سکیں، بلکہ یہ من گھڑت باتوں کی طرح ایک بات ہے اور ایسے لوگوں کا قول ہے، جو قرآن، علوم قرآن اور قراء ات قرآنیہ سے بالکل جاہل اور ناواقف لوگ ہیں۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 
Top