• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قرأت میں اختلافات اور غامدی صاحب کے افترأات ​

شمولیت
اکتوبر 18، 2012
پیغامات
368
ری ایکشن اسکور
1,003
پوائنٹ
97


اصول غامدی:۔

غامدی صاحب اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے اپنے خود ساختہ اصول بیان کررہے ہیں '' پہلا سوال کا جواب یہ ہے کہ قرآن صرف وہی ہے جو مصحف میں ثبت ہے اور جسے مغرب کے چند علاقوں کو چھوڑ کر پوری دنیا میں امت مسلمہ کی عظیم اکثریت اس وقت تلاوت کررہی ہے یہ تلاوت جس قرأت کے مطابق کی جاتی ہے اس کے سوا کوئی قرأت نہ قرآن ہے اور نہ اسے قرآن کی حیثیت سے پیش کیا جاسکتا ہے ۔ (اصول ومبادی میزان ص۲۶)
اس کے بعد غامدی صاحب نے قرآن کی کچھ آیتیں پیش کی ہیں ۔
(۱) سنقرئک فلا تنسیٰ ، الا ما شاء اللہ ، انہ یعلم الجھر ومایخفی ٰ (سور ہ الاعلی آیت ،۶۔۷)
'' عنقریب (اسے ) ہم (پورا)تمہیں پڑھا دیں گے تو تم نہیں بھولوگے ، مگر وہی جو اللہ چاہے گا ، وہ بے شک جانتا ہے اس کو بھی جو اس وقت (تمہارے)سامنے ہے اور اسے بھی جو (تم سے )چھپا ہوا ہے ،
(۲) لا تحرک بہ لسانک لتعجل بہ ، ان علینا جمعہ وقرآنہ ،فاذا قرأنہ فاتبع قرآ نہ ، ثم ان علینا بیانہ ،(سورہ القیامہ۔ آیت ۱۹۔۱۶)
اس (قرآن ) کو جلد پالینے کے لئے (اے پیغمبر ) اپنی زبان کو اس پر جلدی نہ چلاؤ اس کو جمع کرنا اور سنانا یہ سب ہماری ہی ذمہ داری ہے ۔ اس لئے جب ہم اس کو پڑھ چکیں تو (ہماری ) اس قرأت کی پیروی کرو پھر ہمارے ہی ذمہ ہے کہ ( تمہارے لئے اگر کہیں ضرورت ہو تو ) اس کی وضاحت کردیں ۔(اصول ومبادی میزان ۲۶)
جواب:۔

غامدی صاحب قرآن پاک کے ترجمہ میں خیانت سے کام لے رہے ہیں ، انہ یعلم الجھر ، کا ترجمہ کررہے ہیں،وہ بے شک جانتا ہے اس کو بھی جو اس وقت (تمہارے) سامنے ہے۔''غامدی صاحب یہ '' اس وقت کس لفظ کا ترجمہ ہے ۔
اسی طرح غامدی صاحب 'ثم ان علینا بیانہ 'کا ترجمہ اس طرح کرہے ہیں'' پھر ہمارے ہی ذمہ ہے کہ (تمہارے لئے اگر کہیں ضرورت ہو تو)
اس کی وضاحت کردیں '' (تمہارے لئے اگر کہیں ضرورت ہو تو) کس عبارت کا مفہوم ہے یا کونسا ایسا قرینہ ہے جس سے اس عبارت کا استنباط کیا ہے ۔
دراصل بات یہ ہے کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنی اسکیم کے مطابق قرآن کا ترجمہ کرتے ہیں یا قرآن کو اپنے نظریہ کے مطابق ڈھالتے ہیں غامدی صاحب نے بھی یہاں کچھ اسی طرح کیا ہے حالانکہ ہونا تو یہ چاہئے کہ قرآن وسنت کے مطابق اپنے نظریہ کو بنایا جائے نہ کہ قرآن و سنت کو اپنے نظریئے کے مطابق ڈھالا جائے ۔
اصول غامدی:۔
آگے غامدی صاحب رقمطراز ہیں:ان آیتوں میں قرآن کا نزول اور اس کی ترتیب وتدوین سے متعلق اللہ تعالیٰ کی جو اسکیم بیان ہوئی ہے وہ یہ ہے (ایضا ، ۲۶،۲۷)
تنبیہ:یہاں پر ہم غامدی صاحب کی اس اسکیم سے متعلق انہی باتوں کا ذکرکریں گے جو انہوں نے اپنی طرف سے اللہ تعالیٰ کے ذمہ لگائی ہیں۔
غامدی صاحب فرماتے ہیں:اس کی جو قرأت اس کے زمانہ نزول میںاس وقت کی جارہی ہے اس کے بعد اس کی ایک دوسری قرأت ہوگی اس موقع پر اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے تحت اس میں سے کوئی چیز اگر ختم کرنا چاہیں گے تو اسے ختم کرنے کے بعد یہ آپ کو اس طرح پڑھا دیں گے کہ اس میں کسی سھو ونسیان کا کوئی امکان باقی نہ رہے گا اور اپنی آخری صورت میں بالکل محفوظ آپ کے حوالے کردیا جائے گا ۔
ثانیاً:آپ کو بتایا گیا ہے کہ یہ دوسری قرأت قرآن کو جمع کرکے ایک کتاب کی صورت میں مرتب کردینے کے بعد کی جائے گی اور اس کے ساتھ ہی آپ اس کے پابند ہوجائیں گے کہ آئندہ اسی قرأت کی پیروی کریں گے اس کے بعد اس سے پہلے کی قرأت کے مطابق اس کو پڑھنا آپ کے لئے جائز نہ ہوگا۔
ثالثاً: یہ بتایا گیا ہے کہ قرآن کے کسی حکم سے متعلق اگر شرح ووضاحت کی ضرورت ہوگی تو وہ بھی اس موقع پر کردی جائے گی اور اس طرح یہ کتاب خود اس کے نازل کرنے والے ہی کی طرف جمع وترتیب اور تفھیم وتبیین کے بعد ہر لحاظ سے مکمل ہوجائے گی۔(ایضاً ،۲۷)
جواب:۔

قارئین کرام کتنے ہی افسوس کی بات ہے کہ غامدی صاحب اپنے موقف کو ثابت کرنے کے لئے کس طرح اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھ رہے ہیں ۔ غامدی صاحب اگر آپ قرأت سبعہ جو کہ متواتر ہیں کو نہیں مانتے تو اس کا انکار اس طرح کردیتے جس طرح آپ کے اکابر نے کیا ۔ قرآن پر جھوٹ باندھنے کی کیا ضروت تھی کاش اگر غامدی صاحب اس جھوٹ کو اللہ تعالیٰ کی ذات پر افتراء کرنے سے پہلے قرآن مجید کی اس آیت کو پڑھ لیتے ۔ اللہ تعالی فرماتا ہے ـ
:فمن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا ،(الزمر آیت ۔۳۲)
اس سے زیادہ ظالم اور کون ہوسکتا ہے جواللہ پر جھوٹ باندھے''۔
غامدی صاحب کہتے ہیں اگر قرآن کو کوئی غور وتدبر سے پڑھے تو خود ہی قرآن کی روشنی میں ہر چیز کی وضاحت ہوجاتی ہے اور پھر قرآن کے بعد کسی چیز کی وضاحت کی ضروت نہیں پڑھتی اور بقول غامدی صاحب ان آیتوں میں جو اسکیم بیان ہوئی ہے اس کی وضاحت کررہے ہیں جب قرآن سے باہر اس کی وضاحت کے لئے کسی چیز کی ضروت نہیں تو غامدی صاحب نے اس اسکیم کی وضاحت کیوں کی جو بقول غامدی صاحب ان آیتوں میں بیان ہوئی ہے؟جتنا بھی قرآن کو غور وتدبر سے پڑھ لیا جائے پھر بھی غامدی صاحب کی بیان کردہ اسکیم کی معرفت نہیں ہوگی کیونکہ یہ غامدی صاحب کی خود ساختہ اسکیم ہے جو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف منسوب کردی ۔
غامدی صاحب نے اپنے اس موقف کی تائید میں آگے ایک حدیث کا ذکر کیا ہے'' ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں :
کا ن یعرض علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم القرآن کل عام مرۃ فعرض علیہ مرتین فی العام الذی قبض فیہ (بخاری رقم ، ۴۷۱۲)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر سال ایک مرتبہ قرآن پڑھ کر سنا یا جاتا تھا ، لیکن آپ کی وفات کے سال یہ دو مرتبہ آپ کو سنایا گیا۔
(اصول و مبادی میزان ۲۷)
غامدی صاحب نے اس روایت کو پیش کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جس قرأت سے آپ کی وفات کے سال قرآن سنایا گیا وہ یہی قرأت ہے جو مصحف میں ثبت ہے اور جسے ہم قرأت حفص یا عامہ کہتے ہیںاور اس کے علاوہ جو قرأتیں ہیں ان کو ماننا یا ان قرأتوں میں قرآن پڑھنا اب جائز نہیں ۔
اور پھر غامدی صاحب نے اس مسئلہ کی وضاحت کے لئے ''البرھان '' کے حوالے سے ابو عبدالرحمان السلمی کا قول ذکر کیا ہے ۔
'' کانت قرأۃ ابی بکر وعمر وزید بن ثابت والمھاجرین والانصار واحدۃ ۔۔۔الخ''( البرھان الزرکشی ۱/۲۷۳)
ابو بکر وعمر عثمان زید بن ثابت اور تمام مہاجرین وانصار کی قرأت ایک ہی تھی وہ قرأت عامہ کے مطابق قرآن پڑھتے تھے ۔ یہ وہی قرأت ہے جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات کے سال جبریل امین کو دو مرتبہ قرآن سنایا ،عرضہ اخیر ہ کی اس قرأت میں زید بن ثابت بھی موجود تھے ۔ دنیا سے رخصت ہونے تک وہ لوگوں کو اسی کے مطابق قرآن پڑھاتے تھے۔
(اصول ومبادی میزان ۲۸)
اسی طرح ابن سیرین کا'' الاتقان ''کے حوالے سے ایک قول ذکر کیا ہے '' القرأۃ الذی عرضت علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی العام الذی۔۔۔۔الخ (الاتقان ، السیوطی ۱/۵۰۹) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی وفات کے سال جس قرأت پرقرآن سنایا گیا یہ وہی قرأت ہے جس کے مطابق لوگ اس وقت بھی قرآن کی تلاوت کررہے ہیں ۔(اصول ومبادی میزان،۲۹)
(۱) ان اقوال میں یہ بات واضح ہے کہ آخری مرتبہ جس قرأت کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل امین سے دورکیا وہ قرأت عامہ تھی لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی واضح ہے ۔ اس عرضہ اخیر ہ کی قرأت کے علاوہ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عرضہ اخیرہ سے پہلے دوسری قرأتوں میں جبریل امین سے قرآن کا دور کیا کیونکہ اگر قرآن ایک ہی قرأت ہوتی تو وفات کے سال میں قرآن کا جو دورہوا اس میں عرضہ اخیرہ کی وضاحت کی کیا ضروت تھی ؟ اس کا مطلب ہے کہ اس سے پہلے بھی عرضہ اخیرہ کی قرأت کے علاوہ بھی کچھ قرأتیں موجود تھی اور شاید غامدی صاحب بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں۔ لیکن وہ کہتے ہیں صحابہ اور تابعین کے تواتر سے صرف عرضہ اخیرہ کی قرأت منقول ہے لہٰذا دیگر قرأتوں کا کوئی جواز نہیں۔اور یہ ان کی بہت بڑی غلط فہمی ہے کیونکہ جتنے بھی دلائل یا اقوال غامدی صاحب نے ذکر کئے ہیں ان میں کہیں بھی اس بات کا ذکر نہیں کہ باقی کی قرأتیں منع ہوگئیںیا اب ان کا پڑھنا حرام ہوگیا ۔
۲) غامدی صاحب کوئی ایک ایسی واضح دلیل پیش کریں جس سے یہ بات ثابت ہوجائے کہ ایک قرأت کے علاوہ تمام قرأتیں منسوخ ہیں ؟
(۳) غامدی صاحب نے ''البرھان '' اور '' الاتقان ''کے حوالے سے اقوال پیش کئے ہیں لیکن ان دونوں کتابوں کو غور سے نہیں پڑھا پڑھتے تو یہ نوبت نہ آتی غامدی صاحب نے (البرھان کے حوالے سے ابو عبدالرحمان السلمی کا قول تو پیش کردیا لیکن اس قول کو نہیں دیکھا جو امام زرکشی نے اپنی کتاب میں اس طرح بیان کیا ہے '' القراء ت السبع کلھا صحت عن رسول صلی اللہ علیہ وسلم ''(البرھان الزرکشی ج۱ ص ۲۲۷)
'' ساتوں قرأتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح ثابت ہیں ''اسی طرح صاحب برھان امام زرکشی نے قرأت سبعہ پر مسلمانوں کا اجماع ذکر کیا ہے فرماتے ہیں '' وقد اجمع المسلمون علی الاعتماد فی ھذہ الاعصار علی ما صح عنھم '' (البرھان ج۱ ص ۲۲۷)جس قرأت کی ان (سات اماموں)سے صحت ثابت ہوجائے اس پر تمام اس زمانے کے مسلمانوں کا اعتماد کرتے ہیں ۔
اسی طرح غامدی صاحب نے ''الاتقان ''کے حوالے سے اپنے مطلب کے اقوال تو نقل کردئیے لیکن ان اقوال کو نظر انداز کردیا جو ان کے نظریہ کے خلاف ہے۔
جیساکہ امام سیوطی ؒ فرماتے ہیں :
'' قال الدّانی وائمۃ القرا ء ۃ لاتعمل فی شئی من حروف القرآن علی الافشی فی اللغۃ والا قیس فی العربیۃ بل علی الاثبت فی الأ ثر ، والاصح فی النقل ، واذا ثبتت الروایۃ لم یردھا قیاس عربیۃ ولافشولغۃ ،لا ن القراء ۃ سنۃ متبعۃ ،یلزم قبولھا والمصیر الیھا'' (الاتقان جلد ۱ ص ۱۵۳)
ترجمہ:
'' دانی فرماتے ہیں کہ جن قرأت کے امام قرآن کے کسی حرف میں زبان کے مشہور طریقہ اور عربیہ کے قیاس قاعدہ پر ہر گز عمل نہیں کرتے بلکہ وہ روایت کے ذریعے سے ثابت شدہ اور نقل کے واسطہ سے صحیح مانی ہوئی بات تسلیم کرتے ہیںاور روایت کا ثبوت بہم پہنچنے کی صورت میں اسے زبان دانی سے مشہور تلفظ اور عربیت کے قواعد کوئی بھی رد نہیں کرسکتے کیونکہ قرأت ایک ایسی سنت متبعہ ہے جس کا قبول کرنا لازم اور اس پر چلنا واجب ہے
آگے امام سیوطی کہتے ہیں'' قلت أخرج سعید بن منصور فی سننہ عن زید بن ثابت قال : القرأۃ سنۃ متبعۃ '' (الاتقان جلد ۱ ص ۱۵۳۔سنن سعید بن منصور جلد ۲ کتاب فضائل القرآن حدیث ۶۸ صفحہ ۲۶ متبعۃ کا لفظ سنن سعید بن منصورمیں نہیں ہے بلکہ سنن بیہقی میں امام بیہقی نے اسے روایت کیا ہے دیکھئے سنن بیہقی جلد۲ صفحہ ۵۳۹حدیث ۳۹۹۵کتاب الصلوۃ باب وجوب القرأۃ علی مانزل من الاحرف السبعۃ )
ترجمہ:
'' میں کہتا ہوں کہ( اس موقف کی تائید میں) سعید بن منصور نے اپنی سنن میں زید بن ثابت سے روایت کی ہے ، کہ قرأت ایک پیروی کی جانے والی سنت ہے لہٰذا غامدی صاحب کا یہ کہنا کہ قرأت عامہ کے علاوہ تمام قرأتیں غلط ہیں ان کی کم علمی کا نتیجہ ہے ۔
کیونکہ ایک دو قول پڑھنے سے مسئلہ کا نتیجہ نہیں نکلتا ۔ آگے غامدی صاحب کہتے ہیں '' قرآن مجید پر اگر اس کے نظم کی روشنی میں تدبر کیا جائے تو اس کے داخلی شواہد بھی پوری قطعیت کے ساتھ یہی فیصلہ سناتے ہیں (اصول ومبادی میزان ۲۹)
غامدی صاحب بہت ہی عجیب وغریب بات کررہے ہیں اگر قرآن کے داخلی شواہد سے صرف اسی قرأت عامہ کی معرفت ہوتی ہے تو سوال یہ پیداہوتا ہے کہ جب غامدی صاحب یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اس قرأت عامہ کے علاوہ بھی قرأت تھی تو کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے زمانے میں دوسرا قرآن تھا ؟یا یہ داخلی شواہد صحابہ کوجو عربی لغت کے ماہرین تھے معلوم نہ ہوسکے ؟ لیکن آج ۱۴ سو سال بعد ایک غیر عربی شخص نے معلوم کرلئے ؟
غامدی صاحب کا ان قرأتوں پر ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ مختلف قرأت سے معنی بھی مختلف ہوجاتے ہیں یہ بھی غامدی صاحب کے اغلاط میں سے ہے۔
حافظ ابن حجر ؒ نے فتح الباری میں ذکر کیا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ کسی لفظ کو مختلف پڑھنے سے اسکے معنی مختلف یا تبدیل نہیں ہوتے بلکہ معنی ایک ہی رہتے ہیں (فتح الباری جلد ۹ صفحہ ۳۴)
اسی طرح امام بیہقی نے سنن کبریٰ میں ابن سیرین کا قول نقل کیا ہے ( دیکھئے بیہقی سنن کبریٰ جلد ۲ صفحہ ۳۹)
مثال کے طور پر قرآن مجید میں ہے'' مالک یوم الدین '' اس کو ''مَلِک یوم الدین بھی پڑھا گیا اور یہ دونوں قرأتیں متواتر ہیں (تفسیر القرطبی جلد۱ صفحہ ۱۳۰ وتفسیر ابن کثیر جلد ۱ صفحہ ۲۵وتفسیر الطبری جلد ۱ صفحہ ۹۸)لیکن ان قرأتوں میں معنی تبدیل نہیں ہوئے۔
 
Top