• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قرض کو بطور زکاۃ سمجھ کر ختم کر دینے کا حکم

شمولیت
اپریل 23، 2022
پیغامات
17
ری ایکشن اسکور
1
پوائنٹ
6
قرضدار کے تنگدست ہونے کی بنا پر قرض کو بطور زکاۃ سمجھ کر ختم کر دینے کا کیا حکم ہے؟

سوال: ایک شخص کے ذمہ میرا کچھ قرض ہے، کافی وقت گزر جانے کے باوجود اس نے ادا نہیں کیا اور نا ہی وہ ادا کرنے کی استطاعت رکھتا ہے چونکہ وہ فقیر ہے لہذا میں نے اس رقم کو زکاۃ سمجھ کر معاف کر دیا تو کیا میرا یہ عمل جائز اور درست ہے؟ وضاحت فرما کر عند اللہ مأجور ہوں.

جواب: تنگ دست کو مہلت دینی چاہئے حتی کہ اللہ تعالی اس کے لئے ادائیگی آسان فرما دے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَ اِنۡ کَانَ ذُوۡ عُسۡرَۃٍ فَنَظِرَۃٌ اِلٰی مَیۡسَرَۃٍ ؕ وَ اَنۡ تَصَدَّقُوۡا خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ. ترجمه: اور اگر کوئی تنگی والا ہو تو اسے آسانی تك مہلت دینی چاہیے اور صدقہ کرو تو تمہارے لئے بہت ہی بہتر ہے، اگر تم میں علم ہو۔ ﴿البقرة: 280﴾ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی تنگ دست (قرض دار) کو مہلت دے یا اس کا کچھ قرض معاف کر دے، تو اللہ اسے قیامت کے دن اپنے عرش کے سایہ کے نیچے جگہ دے گا جس دن اس کے سایہ کے علاوہ کوئی اور سایہ نہ ہو گا۔ [ترمذی: 1306] لیکن زکاۃ سمجھ کر قرض کو ختم کرنا درست نہیں ہے، اہل علم کے نزدیک ایسا کرنا جائز نہیں ہے، کیونکہ زکاۃ کا مطلب ہے دینا عطا کرنا اور ایسی صورت (قرض کو زکاۃ سمجھ کر ختم کر دینے) میں اپنے مال کا تحفظ ہے، قرض کا مال ممکن ہے ملے یا ممکن ہے نا ملے اس (قرض کو زکاۃ سمجھ کر ختم کر دینے) میں عطا کرنا اور دینا نہیں ہے بلکہ (اپنے مال کو) چھڑانا ہے چنانچہ ایسا کرنا جائز نہیں ہے لہذا آپ پر واجب ہے کہ آپ اپنے مال کی زکاۃ نکالیں اور قرض دار کے پاس موجود مال کو اس کے حال پہ رہنے دیں.


ماخوذ: فتاوی ابن باز
ترجمہ: عبد الرحمن فيض الله سلفی
 
Last edited:

مفتی عبداللہ

مشہور رکن
شمولیت
جولائی 21، 2011
پیغامات
530
ری ایکشن اسکور
2,182
پوائنٹ
171
قرضدار کے تنگدست ہونے کی بنا پر قرض کو بطور زکاۃ سمجھ کر ختم کر دینے کا کیا حکم ہے؟

سوال: ایک شخص کے ذمہ میرا کچھ قرض ہے، کافی وقت گزر جانے کے باوجود اس نے ادا نہیں کیا اور نا ہی وہ ادا کرنے کی استطاعت رکھتا ہے چونکہ وہ فقیر ہے لہذا میں نے اس رقم کو زکاۃ سمجھ کر معاف کر دیا تو کیا میرا یہ عمل جائز اور درست ہے؟ وضاحت فرما کر عند اللہ مأجور ہوں.

جواب: تنگ دست کو مہلت دینی چاہئے حتی کہ اللہ تعالی اس کے لئے ادائیگی آسان فرما دے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَ اِنۡ کَانَ ذُوۡ عُسۡرَۃٍ فَنَظِرَۃٌ اِلٰی مَیۡسَرَۃٍ ؕ وَ اَنۡ تَصَدَّقُوۡا خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ. ترجمه: اور اگر کوئی تنگی والا ہو تو اسے آسانی تك مہلت دینی چاہیے اور صدقہ کرو تو تمہارے لئے بہت ہی بہتر ہے، اگر تم میں علم ہو۔ ﴿البقرة: 280﴾ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی تنگ دست (قرض دار) کو مہلت دے یا اس کا کچھ قرض معاف کر دے، تو اللہ اسے قیامت کے دن اپنے عرش کے سایہ کے نیچے جگہ دے گا جس دن اس کے سایہ کے علاوہ کوئی اور سایہ نہ ہو گا۔ [ترمذی: 1306] لیکن زکاۃ سمجھ کر قرض کو ختم کرنا درست نہیں ہے، اہل علم کے نزدیک ایسا کرنا جائز نہیں ہے، کیونکہ زکاۃ کا مطلب ہے دینا عطا کرنا اور ایسی صورت (قرض کو زکاۃ سمجھ کر ختم کر دینے) میں اپنے مال کا تحفظ ہے، قرض کا مال ممکن ہے ملے یا ممکن ہے نا ملے اس (قرض کو زکاۃ سمجھ کر ختم کر دینے) میں عطا کرنا اور دینا نہیں ہے بلکہ (اپنے مال کو) چھڑانا ہے چنانچہ ایسا کرنا جائز نہیں ہے لہذا آپ پر واجب ہے کہ آپ اپنے مال کی زکاۃ نکالیں اور قرض دار کے پاس موجود مال کو اس کے حال پہ رہنے دیں.


ماخوذ: فتاوی ابن باز
ترجمہ: عبد الرحمن فيض الله سلفی
کیا یہ متفقہ فتوی ہے باقی اہل علم کا کیا رای ہے ؟
 
شمولیت
اپریل 23، 2022
پیغامات
17
ری ایکشن اسکور
1
پوائنٹ
6
تنگ دست فقیر کے قرض کو زکاۃ کی نیت سے ختم دینا

اگر کسی شخص کا کسی تنگ دست پہ قرض ہے اور وہ اس قرض کو زکاۃ سمجھ کر ختم دینا چاہے تو یہ جائز نہیں ہے۔ چارو فقہی مذاہب: حنفیہ، مالکیہ، شافعیہ اور حنابلہ کا اس پر اتفاق ہے ابو عبید کہتے ہیں کہ اسی پر عمل رہا ہے نیز ابن تیمیہ کہتے ہیں کہ اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔

دلائل:
پہلی دلیل قرآن سے:
1:-
قال اللهُ تعالى:خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً [التوبة: 103] ترجمہ: آپ ان کے مالوں میں سے صدقہ لے لیجئے ۔
وجہ دلالت: آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ زکوٰۃ لینے اور دینےكو كہتےہیں ، اور جو شخص اپنے قرضدار کو معاف کر دے اور اسے اپنے مال کی زکوٰۃ میں شمار کرلے تو اس میں نہ دینا ہے اور نہ لینا ہے، اس لیے زکوٰۃ کئے بغير اس کی ذمہ داری پوری نہیں ہوگی۔
2:- قال اللهُ تعالى: وَلَا تَيَمَّمُواْ الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنفِقُونَ [البقرة: 267] ترجمہ: ان میں سے بری چیزوں کے خرچ کرنے کا قصد نہ کرنا ۔
وجہ دلالت: جس نے اپنے قرضدار کو زکوٰۃ دینے کی نیت سے اس کا قرض معاف کیا تو يہ ایسے ہے جیسے اچھا مال نہ دے کر برا مال نکال دیا۔ اس لیے کہ اس نے جو اس کی ملکیت میں ہے اسے دینے سے اعراض کیا اور جو دیوالیہ ہو چکا ہے اسے دے دیا۔

دوسری دلیل:
زکاۃ کے معاملہ میں رسول اللہ ﷺکا طریقہ اس کے بر خلاف ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺامیروں سے زکاۃ لے کر غریبوں کو واپس کر دیتے تھے اور یہی حال رسول اللہ ﷺکے بعد خلفاء کا بھی تھا۔

تیسری دلیل:
قرض کو زکاۃ سمجھ کر معاف کر دینے میں یہ نیت بھی ہوتی ہے کہ اپنے ڈوب چکے مال کی حفاظت کر لے، اور اللہ تعالى اسی عمل کو قبول کرتا ہے جس میں اخلاص ہو ۔

قرض دار کو زکوٰۃ اس شرط پر ادا کرنا کہ قرض کى ادائیگی کے طور پر وه مال اسی کو واپس کر دے

اگر کوئی شخص اپنے مقروض کو زکوٰۃ اس شرط پر ادا کرتا ہے کہ وہ اسے اس کے قرض کے بدلے میں اسى كو واپس کر دے۔تو اس طرح ادا کرنا درست نہیں، نا زکوٰۃ کی ادائیگی ہوگی، اور نا ہی قرض ساقط ہوگی۔ شوافع اور حنابلہ کا یہی مذہب ہے نیز ابن تیمیہ اور ابن القیم نے اسے اختیار کیا ہے ۔

ایسا درج ذیل وجوہات کی بنا پر:
نمبر1:- زکوٰۃ اللہ تعالیٰ کا حق ہے، اس لیے اسے اپنے فائدے پر خرچ کرنا جائز نہیں۔
نمبر2:- قبضہ کرنے سے پہلے قرض کے مال کو زکاۃ شمار کرنا جائز نہیں۔
نمبر3:- آدمی کو قرض کی ادائیگی کا حکم ہے جبکہ یہ ادائیگی نہیں اسقاط (ختم کرنا) ہے۔
نمبر4:- یہ زکاۃ پر باطل چال ہےاور اس طرح شرعا اور عرفا کسی طرح بھی زکاۃ نکالنا نہیں شمار کیا جاتا ہے گویا اس نے اپنا قرض معاف کیا اور اس کا حساب زکوٰۃ سے لیا۔

بلا شرط مقروض کو زکاۃ دینا

اگر کسی شخص نے بلا شرط مقروض کو زکاۃ کا مال دیا اور مقروض نے وہی مال قرض کی ادائیگی میں اسی شخص کو واپس کر دیا تو ایسا کرنا جائز ہے اور زکاۃ بھی ادا ہو جائے گی. جمہور احناف، شوافع، حنابلہ اور مالکیہ کا یہی مذہب ہے۔

ایسا درج ذیل وجوہات کی بنا پر:
نمبر1:- مقروض کو زکاۃ دینا جائز ہے۔ اور یہ شخص بھی مقروض میں سے ایک ہے۔
نمبر2:- اپنے مقروض کو زکاۃ شرط لگا کر دینا نا جائز ہے کیونکہ جب شرط لگا کر دیا تو گویا دیا ہی نہیں اور یہاں بلا شرط دیا جا رہا ہے۔

 
شمولیت
اپریل 23، 2022
پیغامات
17
ری ایکشن اسکور
1
پوائنٹ
6
السلام علیکم ورحمة الله وبركاته

معظم صاحب یہسب کیا ہے؟
 
Top