• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قصوں اورکہانیوں کا حکم

مفتی عبداللہ

مشہور رکن
شمولیت
جولائی 21، 2011
پیغامات
526
ری ایکشن اسکور
2,181
پوائنٹ
171
اساتذہ نے سمجھایا تھا کہ جب تک کوی قصہ کھانی قرآن یا صحیح حدیث میں نا ھو تو اس کی متعلق یھی حکم ھے( کہ لانصدق ولا نکذب ) ناھم اس کی تصدیق کرتے ھیں اور نا تکذیب کیونکہ یہ قصہ نا توقرآن میں ھے اور نا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح حدیث میں ھے
ھاں اقوال صحابہ اقوال تابعین بھی قبول کرنا چاھیے جب تک قرآن مجید اور صحیح حدیث سے نا ٹکراے
اب اگر کوی بھای اس میں غلطی کی تصحیح کریں یا معلومات کی اضافہ کریں تو ماشاء اللہ کتنی اچھی بات ھوگی کیونکہ کبھی اس موضوع پر مطالعہ کرنے کا موقع ملانھی
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,340
پوائنٹ
800
اساتذہ نے سمجھایا تھا کہ جب تک کوی قصہ کھانی قرآن یا صحیح حدیث میں نا ھو تو اس کی متعلق یھی حکم ھے( کہ لانصدق ولا نکذب ) ناھم اس کی تصدیق کرتے ھیں اور نا تکذیب کیونکہ یہ قصہ نا توقرآن میں ھے اور نا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح حدیث میں ھے
ھاں اقوال صحابہ اقوال تابعین بھی قبول کرنا چاھیے جب تک قرآن مجید اور صحیح حدیث سے نا ٹکراے
اب اگر کوی بھای اس میں غلطی کی تصحیح کریں یا معلومات کی اضافہ کریں تو ماشاء اللہ کتنی اچھی بات ھوگی کیونکہ کبھی اس موضوع پر مطالعہ کرنے کا موقع ملانھی
میں نہیں سمجھتا کہ کتاب وسنت میں موجود قصوں کے علاوہ تمام واقعات کو بیک قلم ردّ کرنا صحیح ہے، یا ہم ان کی تصدیق وتکذیب نہیں کر سکتے۔
اگر تحقیق وتفتیش کے بعد وہ قصّہ صحیح ثابت ہوا تو اس کی تصدیق کرنا ہوگی اور اگر غلط ثابت ہوا تو تکذیب۔
فرمان باری ہے:
﴿ يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَن تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ ٦ ﴾ ۔۔۔ سورة الحجرات
کہ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانستہ نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پشیمان ہو (6)

اگر آج بھی کوئی قصہ ہم خود مشاہدہ کر لیں یا تفتیش وتمحیص کے بعد صحیح ثابت ہو تو وہ صحیح ہے، اس کی تصدیق کیوں نہیں کی جائے گی؟؟

البتہ اگر کوئی اس سے دینی معاملات میں استدلال کرنا شروع کر دے تو ہم کہیں گے کہ بھائی ہمارا دین 1400 سال پہلے مکمل ہو چکا ہے، اب اس میں کسی کمی وبیشی کی کوئی ضرورت نہیں۔
 
Top