• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قوم کے اصل ہیرو

شمولیت
اکتوبر 09، 2019
پیغامات
1
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
3
قوم کے اصل ہیرو

بقلم. حافظ علی معاذ

اساتذہ ملک و قوم کے لیے عظیم سرمایہ ہوا کرتے ہیں اور قوم کے معمار کی حیثیت سے قوم و ملت کی جو خدمت سرانجام دیتے ہیں اس کو سراہا جانا از حد ضروری ہے جو مدرسہ و کالج کی سطح پر بھی ہو اور ملکی سطح پر بھی ایسا اہتمام کیا جائے تاکہ ان معماران قوم کی اہمیت اجاگر ہو اور طلبہ کے دلوں میں اپنے محسنین کی محبت جاگزیں ہوجائے
لیکن ایسا بہت کم نظر آتا ہے بل کہ شاید طلبہ کو انعامات دینے سے فرصت نہیں ملتی کہ اساتذہ کی محنتوں اور محبتوں کا بھرم رکھا جائے ان کے لیے بھی خصوصی پروگرامز اور ایوارڈز مقرر کیے جائیں
اساتذہ کی حوصلہ افزائی نا کرنا بھی شاید ایک وجہ ہے کہ طلبہ اپنے محسنین کو محبت و چاہت کی نگاہ سے بہت کم دیکھتے ہیں
طالب علم جس قدر بھی محنتی ہو استاد کی رہ نمائی کے بغیر تو کچھ بھی نہیں

دیکھا نہ کوہ کن کوئی فرہاد کے بغیر
آتا نہیں ہے فن کوئی استاد کے بغیر

پھر یہ کیوں کر درست ہوسکتا ہے کہ طلبہ اپنی محنت کو سب کچھ سمجھیں اور اپنے روحانی باپ کی محنت کو یکسر بھلادیں
بوجوہ زمانہ طالب علمی میں ہم اساتذہ کی سختی کو محسوس کرتے ہیں اور ان کو اپنا دشمن سمجھ کر ان کے خلاف ہرزہ رسائی کرنے کو عار نہیں سمجھتے اور علم کی منزلیں صحیح معنوں میں طے نہیں کرپاتے حالاں یہ سختی ہمارے حق میں بہتر ہوتی ہے کوئی اکا دکا واقعہ شاید ایسا ہو کہ استاد کی طرف سے زیادتی والا معاملہ ہوجائے ورنہ استاد جو روحانی باپ کا درجہ رکھتا ہے اپنے بیٹے سے کیوں دشمنی رکھے گا
ماں باپ اور استاد سب ہیں خدا کی رحمت
ہے روک ٹوک ان کی حق میں تمہارے نعمت

کچھ عرصہ قبل کا واقعہ سب کے سامنے ہے ایک درندہ صفت طالب علم نے اپنے ہی روحانی باپ کو سفاکیت و درندگی کا نشانہ بنا ڈالا اور چھریوں کے وار کرکے موت کی نیند سلا دیا
اس جیسے کئی واقعات رونما ہوچکے ہیں اسلاف تو اپنے مربیین کے بارے دعا گو رہتے کہ مولا ہمارے اساتذہ کے عیوب کو ہماری نگاہ سے اوجھل رکھنا اور پھر احترام کا یہ عالم کہ جوتیاں اٹھانے کو سعادت سمجھتے اور استاد کی موجودگی میں اونچا بولنا بھی گوارہ نا ہوتا
پھر آج یہ جرأت کہاں سے آئی کہ استاد جیسی مہان شخصیت کے خلاف جس کا دل کرتا ہے خبث باطن نکال دیتا ہے
اس سے زیادہ افسوس ناک امر یہ ہے کہ ایسے حساس معاملات کو درخور اعتناء نہیں سمجھا جاتا اور بات آئی گئی ہوجاتی ہے پھر کسی نئے واقعے کا انتظار کیا جاتا ہے
حال ہی میں ایک خبر پڑھ کر افسوس ہوا کہ ایک طالب علم کی مذموم حرکات پر استاد نے کچھ سختی کی طالب علم کی طرف سے ایڈٹ شدہ ویڈیو پیش کرکے استاد محترم کی چادر کو داغ دار کرنے کی مذموم سعی کی گئی
اور کئی ایسے واقعات ہیں جن میں استاد جیسی شفیق و محترم ہستی سے بد تمیزی اور ان کے خلاف مذموم قسم کے پروپیگنڈے کیے جاتے ہیں یہ خرابی کیوں پیدا ہوتی ہے اس کے محرکات کو تلاش کیا جانا چاہیے اور روک تھام کے لیے اقدامات کیے جانے چاہیے
اگر کہیں استاد کی غلطی ہوتو چاردیواری میں رہ کر اس معاملے کو حل کیا جائے اور اساتذہ کو بھی شفقت و پیار اور انصاف کا دامن تھام کر معاملے کو نمٹانا چاہیے
اگر ایسے معاملات کی روک تھام نا کی گئی تو استاد کے خلاف جو گھٹیا سوچ آج پنپ رہی ہے یہ ایک ناسور بن جائے گا جو لاعلاج مرض میں تبدیل ہوسکتا ہے
استاد جو فرش سے عرش تک کا سفر طے کرواکر زمین سے اٹھا کر اوج ثریا کی بلندیوں پر ہہنچاتا ہے اس کے ساتھ محبت و تعاون کریں ارباب حل و عقد اس پر نظر فرمائیں اداروں کے ذمہ داران کی اس طرف توجہ مبذول کروائی جائے اور آنے والی نسلوں میں استاد کو ایک ہیرو بنا کر پیش کیا جائے کہ اصل ہیرو یہی ہوا کرتے ہیں
اللہ رب العزت ہمارے محسنین کی حفاظت فرمائے شریروں کے شر سے اور حاسدوں کے حسد سے قدم قدم پر حفاظت فرمائے

رہبر بھی یہ ہمدم بھی یہ غم خوار ہمارے
استاد یہ قوموں کے ہیں معمار ہمارے
 
Top