• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

لاہوت اور ناسوت

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,718
پوائنٹ
1,207
جب ہم صوفی نظریات کا مطالعہ کرتے ہیں تو اللہ تعالی سے محبت کے لیے ہمیں ایسے الفاظ ملتے ہیں جو عیسائیت کے ہیں ، مثلا
لاہوت اور ناسوت کا لفظ ہے۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ لاہوت نے ناسوت میں حلول کیا، یعنی خدا جو لاہوت ہے اس نے مسیح علیہ السلام جو ناسوت ہے، اس میں حلول کیا ہے۔ اسی طرح لفظ کلمہ سے جو عیسائی مذہب میں اللہ اور مخلوق کے درمیان ایک واسطہ ہے۔ بعض صوفی اسے حقیقت محمدیہ قرار دیتے ہیں کہ وہ اللہ پاک کی سب سے پہلی مخلوق تھے، یا وہ کہتے ہیں کہ ذاتِ الٰہی کے لیے پہلے یہ لفظ متعین ہوا اور باقی تمام مخلوقات اسی لفظ سے روحانی اور مادی اعتبار سے پیدا ہوئے۔ یہ خیالات مسلمانوں میں اس وقت پیدا ہوئے جب ان کا عیسائیوں کے ساتھ اختلاط ہوا، عیسائیوں کے ساتھ ان کے بحث و مباحثہ اور مناظرہ ہوئے۔ یہ بات کسی حد تک فطری بھی ہے کہ ان بحث مباحثے کے نتیجے میں عیسائیوں کے عقائد مسلمانوں میں پھیل گئے اور انہیں اسلام کے قلعے میں شگاف ڈالنے کا موقع مل گیا۔ صوفی حضرات محبت الہی میں اس حد تک غلو کرنے لگے کہ انہوں نے رب اور عبد کو جسدِ واحد قرار دے دیا اور کہنے لگے کہ رب نے عبد میں حلول کر لیا۔

"تصوف ، تاریخ و حقائق از علامہ احسان الہی ظہیر رحمہ اللہ"
 

ابن داود

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 08، 2011
پیغامات
3,376
ری ایکشن اسکور
2,689
پوائنٹ
556
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
محمد نعیم یونس بھائی! اگر قتباس کا حوالہ یعنی کہ کتاب کا نام صفحہ ، جلد اور اشاعت بھی لکھ دی جائے تو دیگر احباب کے لئے آسانی ہو گی، کہ اسے کہیں پیش کر سکیں، اور اگر اسین صفحات بھی لگا دیں تو مزید بہتر ہے!
 
شمولیت
ستمبر 13، 2014
پیغامات
393
ری ایکشن اسکور
274
پوائنٹ
71
رحمک اللہ ایھا العلامۃ حقا تستحق ھذا اللقب
بہت خوب لکھی یہ کتاب بھی
امید ہے جلد ہی الاسماعیلیہ کا ترجمہ بھی بازار میں دستیاب ہو گا
 
Top