• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

لعان کے بارے میں ایک سوال اہل علم سے

شمولیت
دسمبر 21، 2015
پیغامات
137
ری ایکشن اسکور
36
پوائنٹ
46
شوہر، بیوی پر تہمت زنا لگائے پھر گواہ پیش نہ کر سکے تو لعان ہے،
لیکن اگر بیوی شوہر پر تہمت زنا لگائے یا اپنی آنکھوں سے شوہر کو حالت زنا میں دیکھے تو کیا بیوی کے لیے لعان نہیں ہے؟
دلائل سے جواب مطلوب ہے،،

Sent from my Redmi Note 3 using Tapatalk
 
شمولیت
دسمبر 21، 2015
پیغامات
137
ری ایکشن اسکور
36
پوائنٹ
46
ابن داؤد بھائی
حضر حیات بھائی
اسحاق سلفی بھائی
توجہ فرمائیں

Sent from my Redmi Note 3 using Tapatalk
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,535
پوائنٹ
791
اگر بیوی شوہر پر تہمت زنا لگائے یا اپنی آنکھوں سے شوہر کو حالت زنا میں دیکھے تو کیا بیوی کے لیے لعان نہیں ہے؟
درج ذیل فتوی ملاحظہ فرمائیں :
سوال :
اگر بیوی خاوند پرزنا كى تہمت لگائے تو كيا بيوى لعان كر سكتى ہيں ؟
ميں يہ معلوم كرنا چاہتى ہوں كہ جو عورت اپنے خاوند پر زنا كى تہمت لگائے تو كيا وہ اپنے خاوند كے ساتھ لعان كر سكتى ہے جيسا كہ سورۃ النور ميں بيان ہوا ہے ؟
يا كہ يہ صرف خاوند پر جارى ہو گا جو اپنى بيوى پر تہمت لگاتا ہے ؟
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جواب :
الحمد للہ:

لعان دو وجہ كى بنا پر مشروع ہے:

پہلى وجہ:
جب خاوند اپنى بيوى پر زنا كى تہمت لگائے، اور اس كے پاس چار گواہ نہ ہوں، تو خاوند كو حد قذف سے بچنے كے ليے لعان كرنے كا حق حاصل ہے.

دوسرى وجہ:
وہ اپنے سے بچے كى نفى كرنا چاہتا ہو.

اس ميں اصل دليل اللہ سبحانہ و تعالى كا يہ فرمان ہے:
( وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنْفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ أَحَدِهِمْ أَرْبَعُ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ ...الآيات) النور/6
{ جو لوگ اپنى بيويوں پر بدكارى كى تہمت لگائيں اور ان كے پاس اپنے علاوہ اس كا كوئى اور گواہ نہ ہو تو ايسے لوگوں ميں سے ہر ايك كا ثبوت يہ ہے كہ چار مرتبہ اللہ كى قسم كھا كر كہيں كہ وہ سچوں ميں سے ہيں }.
{ اور پانچويں مرتبہ كہے كہ اگر وہ جھوٹا ہے تو اس پر اللہ تعالى كى لعنت ہو }.
{ اور اس عورت سے سزا اس طرح دور ہو سكتى ہے كہ وہ چار مرتبہ اللہ كى قسم كھا كر كہے يقينا اس كا خاوند جھوٹ بولنے والوں ميں سے ہے}.
{ اور پانچويں دفعہ كہے كہ يقينا اس پر اللہ تعالى كا غضب ہو اگر اس كا خاوند سچوں ميں سے ہو }النور ( 6 - 9 ).

امام ابن كثير رحمہ اللہ اس كى تفسير ميں كہتے ہيں:
" اس آيت كريمہ ميں خاوند كے ليے نكلنے كى راہ بيان كى گئى ہے كہ جب ان ميں سے كوئى اپنى بيوى پر بدكارى كى تہمت لگائے، اور اس كے ليے اسے ثابت كرنا اور گواہ پيش كرنے مشكل ہوں تو پھر وہ بيوى كے ساتھ لعان كر سكتا ہے، جيسا كہ اللہ سبحانہ و تعالى نے حكم ديا ہے.
وہ اس طرح كہ وہ بيوى كو قاضى اور حكمران كے سامنے لا كر اس كے ساتھ اس تہمت پر لعان كرے، تو قاضى اور حاكم چار گواہوں كے مقابلہ ميں اسے چار بار اللہ كى قسم اٹھوائے كہ وہ سچ بول رہا ہے، يعنى اس نے جو اس پر زنا كى تہمت لگائى ہے وہ اس ميں سچا ہے، اور پانچويں بار يہ كہے كہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر اللہ كى لعنت ہو.

جب يہ كہہ چكے تو اس لعان كى بنا پر شافعى حضرات اور علماء كى ايك جماعت كے ہاں عورت اس كے نكاح سے نكل جائيگى اور اس پر ہميشہ كے ليے حرام ہو جائيگى، اور خاوند اسے اس كا مہر ادا كريگا، اور اس عورت پر زنا كى حد واجب ہو گى.

اور اس سے يہ حد اس وقت تك ختم نہيں ہو سكتى جب تك وہ بھى لعان نہ كر لے، اگر وہ بھى پانچ قسميں اٹھائے، چار بار كہے كہ اللہ كى قسم وہ جھوٹا ہے، اور پانچويں بار كہے كہ اگر وہ ( خاوند ) سچا ہو تو اس ( مجھ ) پر اللہ كا غضب ہو " انتہى.

اور رہا بيوى كا مسئلہ كہ جب وہ اپنے خاوند پر زنا كى تہمت لگائے اور چار گواہ پيش نہ كرے تو اسے حد قذف لگائى جائيگى؛ كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ اور وہ لوگ جو پاكدامن عورتوں پر زنا كى تہمت لگائيں پھر چار گواہ پيش نہ كر سكيں تو انہيں اسى كوڑے لگاؤ، اور كبھى بھى ان كى گواہى قبول نہ كرو، يہ فاسق لوگ ہيں }النور ( 4 ).

اور يہ آيت تہمت ميں مرد اور عورت سب كو شامل ہے.

امام قرطبى رحمہ اللہ كہتے ہيں:
" اللہ سبحانہ و تعالى نے آيت ميں عورتوں كا ذكر كيا ہے اس ليے كہ وہ اہم ہيں، اور عورتوں پر فحاشى كى تہمت زيادہ شنيع اور نفس كے ليے بہت زيادہ ناپسند ہے، اور مردوں پر زنا كى تہمت بالمعنى اس آيت ميں داخل ہے، اور امت كا اس پر اجماع ہے " انتہى.

اور علامہ الماوردى رحمہ اللہ كہتے ہيں:
" اور اگر بيوى اپنے خاوند پر زنا كى تہمت لگائے تو عورت كو حد لگائى جائيگى، اور وہ لعان نہيں كر سكتى " انتہى.
ديكھيں: الاحكام السلطانيۃ ( 287 ).

اور اگر بيوى اپنے خاوند كے زنا كرنے كا علم ركھتى ہو اور اس كے پاس كوئى دليل اور گواہى يعنى چار گواہ نہ ہوں، تو بيوى كو چاہيے كہ وہ اپنے خاوند كو وعظ و نصحيت كرے اور اسے سمجھائے، اور اللہ كا خوف دلائے، اور اگر پھر بھى خاوند اپنى گمراہى ميں پڑا رہے تو عورت اس سے طلاق كا مطالبہ كر سكتى ہے، يا اس سے خلع لے لے، كيونكہ ايسے خاوند كے ساتھ رہنے ميں كوئى خير و بھلائى نہيں، اور اس ليے بھى كہ اس سے مجامعت كرنے ميں نقصان اور ضرر ہو سكتا ہے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,577
ری ایکشن اسکور
6,736
پوائنٹ
1,207
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
جزاکم اللہ خیرا یا شیخ!
فورم پر دوبارہ خوش آمدید!!
اھلا وسھلا مرحبا!!
اللہ تعالی آپ کے ایمان و اولاد و مال و وقت و عمل میں برکت دے۔ آمین
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,535
پوائنٹ
791
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
جزاکم اللہ خیرا یا شیخ!
فورم پر دوبارہ خوش آمدید!!
اھلا وسھلا مرحبا!!
اللہ تعالی آپ کے ایمان و اولاد و مال و وقت و عمل میں برکت دے۔ آمین
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
جزاکم اللہ تعالی احسن الجزاء و بارک اللہ فیکم
وعافانا اللہ وایاکم
 
شمولیت
دسمبر 21، 2015
پیغامات
137
ری ایکشن اسکور
36
پوائنٹ
46
لیکن عورت کے لئے لعان کیوں نہیں ہے، اس کے لیے قرآن و سنت سے کوئی دلیل؟

Sent from my Redmi Note 3 using Tapatalk
 

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,767
ری ایکشن اسکور
5,408
پوائنٹ
562
لیکن عورت کے لئے لعان کیوں نہیں ہے، اس کے لیے قرآن و سنت سے کوئی دلیل؟

Sent from my Redmi Note 3 using Tapatalk
دلیل ”ہونے“ کی طلب کی جاتی ہے نہ کہ ”نہ ہونے“ کی۔
مثلاً
اگر کوئی آپ سے کہی آپ ”جھوٹے ہو“ ۔۔ ۔ تو آپ اُس سے دلیل مانگیں گے کہ دلیل سے ثابت کرو
لیکن اگر کوئی آپ سے کہے کہ آپ ”جھوٹے نہیں ہو“ تو کیا پھر بھی آپ دلیل طلب کریں گے

گو کہ یہ مثال آپ کے سوال سے مکمل مماثلت نہیں رکھتی پھر بھی ((( دلیل ”ہونے“ کی طلب کی جاتی ہے نہ کہ ”نہ ہونے“ کی۔))) سمجھنے کے لئے کافی ہے

واللہ اعلم
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,535
پوائنٹ
791
لیکن عورت کے لئے لعان کیوں نہیں ہے، اس کے لیے قرآن و سنت سے کوئی دلیل؟
لعان کے متعلق قرآنی آیات میں وارد حکم دیکھئے :
وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنْفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ أَحَدِهِمْ أَرْبَعُ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ (6) وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَتَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ (7) وَيَدْرَأُ عَنْهَا الْعَذَابَ أَنْ تَشْهَدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ (8) وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ (9) (سورۃ النور )
ترجمہ : اور جو لوگ اپنی بیویوں پر تہمت لگائیں اور ان کے پاس گواہ نہ ہوں بجز ان کی اپنی ذات کے تو (اس صورت میں) ان میں سے ایک کی (یعنی شوہر کی) گواہی یہ ہے کہ وہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر کہے کہ وہ سچا ہے۔
اور پانچویں بار یہ کہے کہ اللہ کی لعنت ہو اس پر اگر وہ جھوٹا ہے۔
اور عورت سے سزا اس طرح ٹل سکتی ہے کہ وہ چار بار اللہ کی قسم کھا کر کہے کہ یہ شخص (اس کا شوہر) جھوٹا ہے۔
اور پانچویں مرتبہ یہ کہے کہ اس پر اللہ کا غضب ہو اگر مرد سچا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تفسیر احسن البیان میں ہے :
یہاں اس میں لعان کا مسئلہ بیان کیا گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ کسی مرد نے اپنی بیوی کو اپنی آنکھوں سے کسی غیر کے ساتھ بدکاری کرتے ہوئے دیکھا، جس کا وہ خود عینی گواہ ہے لیکن چونکہ زنا کی حد کے اثبات کے لئے چار مردوں کی عینی گواہی ضروری ہے، اس لئے جب تک وہ اپنے ساتھ مزید تین عینی گواہ پیش نہ کرے، اس کی بیوی پر زنا کی حد نہیں لگ سکتی۔
لیکن اپنی آنکھوں سے دیکھ لینے کے بعد ایسی بد چلن بیوی کو برداشت کرنا بھی اس کے لئے ناممکن ہے۔ شریعت نے اس کا حل یہ پیش کیا ہے کہ یہ شخص عدالت میں یا حاکم مجاز کے سامنے چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر کہے گا کہ وہ اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگانے میں سچا ہوں بچہ یا حمل اس کا نہیں ہے۔ اور پانچویں مرتبہ کہے گا کہ اگر وہ جھوٹا ہے تو اس پر اللہ کی لعنت۔ انتہی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ۔
لعان کا حق صرف مرد کو اسلئے دیا گیا کہ اگر عورت زنا کرے گی تو مرد کیلئے نسب خالص نہیں رہے گا
اسلئے اسے گواہوں کی عدم موجودگی کے سبب لعان کا موقع دیا تاکہ وہ اس زنا سے پیدا ہونے والے بچے سے براءت کا اظہار کرسکے،

جبکہ خاوند اگر زنا کا مرتکب تو عورت کو نسب کا کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہوگا ، اسلئے وہ گواہی کا شرعی نصاب پورا کئے بغیر مرد پر زنا کا الزام نہیں لگاسکتی ،
 
Top