• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

لفظ "انشاءاللہ اور ان شاءاللہ" میں فرق

طلحہ غازی

مبتدی
شمولیت
اکتوبر 05، 2015
پیغامات
20
ری ایکشن اسکور
8
پوائنٹ
13
السلام علیکم ورحمتہ اللہ !
احباب ایک پوسٹ فیس بک پر دیکھی ۔ دل میں کچھ شکوک و شبہات اٹھ رہے ہیں۔ بتا دیں کہ کیا اس میں کہی گئی بات ٹھیک ہے؟
اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگ ‘ان شاء اللہ’ کو ‘انشاء اللہ’ لکھتے ہیں جو کہ درست نہیں ہے.. ابنِ ہشام کی شذور الذہب میں آیا ہے کہ ‘انشاء’ کا مطلب ہے بنانا یا دریافت کرنا، ارشادِ باری تعالی ہے: ‘انا انشانہن انشاء’ یعنی ہم نے (ان عورتوں کو) بنایا ہے.. چنانچہ جب ہم ‘انشاء اللہ’ لکھتے ہیں تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ نعوذباللہ ہم نے خدا کو بنایا ہے..!؟
درست لفظ ‘ان شاء اللہ’ ہے.. ارشادِ باری تعالی ہے: ‘وما تشاؤن الا ان یشاء اللہ’ … اور حضرت یوسف کی زبانی ارشاد فرمایا: ‘ستجدنی ان شاء اللہ من الصابرین’’.
امید ہے فرق واضح ہوگیا ہوگا..
موبائل یا ای میل کے ذریعہ جو پیغامات ارسال کیے جاتے ہیں ان میں ان شاء اللہ ہی لکھیں اور اگر انگریزی میں لکھیں تو (insha ALLAH) نہ لکھیں اور نہ ہی ملا کر (inshaAllah) لکھیں بلکہ اس طرح لکھیں: ان شاء اللہ
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,073
ری ایکشن اسکور
6,736
پوائنٹ
1,069
السلام علیکم ورحمتہ اللہ !
احباب ایک پوسٹ فیس بک پر دیکھی ۔ دل میں کچھ شکوک و شبہات اٹھ رہے ہیں۔ بتا دیں کہ کیا اس میں کہی گئی بات ٹھیک ہے؟
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ :

شیخ محترم @اسحاق سلفی بھائی اس کی مذید وضاحت کر دے لفظ ان شاءاللہ کی -
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,461
پوائنٹ
791
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ :

شیخ محترم @اسحاق سلفی بھائی اس کی مذید وضاحت کر دے لفظ ان شاءاللہ کی -
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ :
محترم بھائی صحیح جملہ ہے اس طرح ہے :
إِنْ شَاءَ اللهُ
إِنْ ۔۔۔۔شَاءَ ۔۔۔۔اللهُ
اگر۔۔چاہے ۔۔۔اللہ
جیسا کہ قرآن مجید میں ہے :إِنَّ الْبَقَرَ تَشَابَهَ عَلَيْنَا وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَمُهْتَدُونَ ‘‘ اور دوسری جگہ فرمایا ۔۔ادْخُلُوا مِصْرَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ آمِنِينَ‘‘
اور ایک جگہ فرمایا : قَالَ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ صَابِرًا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور ملا کر لکھنا غلط ہے ،کیونکہ وہ دوسرے معنی و مفہوم کیلئے ہے
جیسے اس آیت میں ہے : ( إِنَّا أَنْشَأْنَاهُنَّ إِنْشَاءً ) ہم نے ان (کی بیویوں کو) خاص طور پر بنایا ہے۔
اس آیت میں (إِنْشَاءً ) جو مصدر ہے ،وہ مفعول مطلق کی حیثیت رکھتا،یہاں مراد ہے اچھی طرح بنانا ،از سر نو بنانا ، خاص طور پر بنانا ،
 
Last edited:

طلحہ غازی

مبتدی
شمولیت
اکتوبر 05، 2015
پیغامات
20
ری ایکشن اسکور
8
پوائنٹ
13
جزاک اللہ خیر
اچھا بھائی لگے ہاتھوں ایک اور بھی بات بتا دیں ۔
جزاک اللہ کے جواب میں "وایاک یا وایکم " کہنا کیسا ہے ۔
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,461
پوائنٹ
791
جزاک اللہ کے جواب میں "وایاک یا وایکم " کہنا کیسا ہے ۔
کسی کے جزاک اللہ خیراً ۔۔کے جواب میں " وانتَ فجزاكم الله خيرا "
امام طبرانی رحمہ اللہ نے ’’ المعجم الكبير ‘‘ اس ضمن میں درج ذیل حدیث نقل فرمائی ہے :
1- حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بن الْعَبَّاسِ الأَصْبَهَانِيُّ ، حَدَّثَنَا بَشَّارُ بن مُوسَى الْخَفَّافُ . حوَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بن عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ ، حَدَّثَنَا مَسْرُوقُ بن الْمَرْزُبَانِ ، قَالا : حَدَّثَنَا يَحْيَى بن زَكَرِيَّا بن أَبِي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بن إِسْحَاقَ ، عَنْ حُصَيْنِ بن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بن عَمْرِو بن سَعْدِ بن مُعَاذٍ ، عَنْ مَحْمُودِ بن لَبِيدٍ ، عَنِ ابْنِ شَفِيعٍ ، وَكَانَ طَبِيبًا ، قَالَ : قَطَعْتُ مِنْ أُسَيْدِ بن حُضَيْرٍ عِرْقَ النَّسَا ، فَحَدَّثَنِي حَدِيثَيْنِ ، قَالَ : أَتَانِي أَهْلُ بَيْتَيْنِ مِنْ قَوْمِي ، فَقَالُوا : كَلِّمْ لَنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقْسِمُ لَنَا مِنْ هَذَا التَّمْرِ ، فَأَتَيْتُهُ فَكَلَّمَتْهُ ، فَقَالَ : نَعَمْ نَقْسِمُ لِكُلِّ أَهْلِ بَيْتٍ شَطْرًا ، وَإِنْ عَادَ اللَّهُ عَلَيْنَا عُدْنَا عَلَيْهِمْ ، فَقُلْتُ : جَزَاكَ اللَّهُ عَنَّا خَيْرًا ، قَالَ : وَأَنْتُمْ فَجَزَاكُمُ اللَّهُ عَنِّي مَعَاشِرَ الأَنْصَارِ خَيْرًا ، فَإِنَّكُمْ مَا عَلِمْتُ أَعِفَّةٌ صُبُرٌ ، أَمَا إِنَّكُمِ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً ، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي.
أُسَيْدُ بن ظُهَيْرٍرَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ . المعجم الكبير للطبراني
 
Last edited:

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,565
ری ایکشن اسکور
6,714
پوائنٹ
1,207
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
محترم شیخ اسحاق! حفظک اللہ!
کیا "فجزاکم اللہ خیرا" بھی کفایت کرے گا۔۔؟
 

حسیب

رکن
شمولیت
فروری 04، 2012
پیغامات
116
ری ایکشن اسکور
85
پوائنٹ
75
کافی پہلے کی بات ہے کہ فیس بک پہ ہی ایک بھائی کا کہنا تھا کہ
عربی میں بھی اگر انشاء کو ملا کر ان شاء اللہ کی بجائے انشاء اللہ لکھ دیا جائے تو اس سے معنی میں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا۔ انشاء کے معنی اس میں اس وقت پیدا ہو سکتے ہیں جبکہ پہلے اور آخری ہمزہ پہ زبر اور شین کے بعد والے الف کے بغیر پڑھا جائے۔ اس وقت اس کے معنی ہوں گے کہ "اللہ نے تخلیق کی"۔
یا آخری ہمزہ پر پیش ہو تو اس وقت یہ معنی ہو گے کہ "اللہ کی تخلیق"
اور اس بات کی تصدیق شیخ رفیق طاہر نے بھی کی کہ انشاء اللہ اور ان شاء اللہ دونوں ایک ہی معنوں میں استعمال ہوتے ہیں اور ساتھ یہ بھی کہا کہ انشاء اللہ میں املا کی غلطی ہے جیسے آلو کو عالو لکھ دیا جائے
 

حسیب

رکن
شمولیت
فروری 04، 2012
پیغامات
116
ری ایکشن اسکور
85
پوائنٹ
75
اور اس بارے میں ایک اور پوائنٹ بھی کافی اہم ہے کہ انشاء اللہ اب اردو زبان میں استعمال ہوتا ہے اور اردو کا ہی ایک لفظ بن چکا ہے جب ہم اردو میں انشاء اللہ لکھتے ہیں تو اس سے مراد وہی مطلب ہو گا جو اردو زبان بولنے والے اس سے مراد لیتے ہیں اگر بالفرض ہم یہ تسلیم کر لیں کہ انشاء اللہ کے عربی میں معنی "اللہ نے پیدا کیا" یا کچھ اور بھی ہیں تو اردو میں یہ معنی نہیں لیے جاسکتے جیسا کہ بہت سے الفاظ مختلف زبانوں میں مختلف معنوں میں استعمال ہوتے ہیں مثال کے طور پر مکتب عربی زبان میں ڈیسک کو کہتے ہیں اور اردو زبان میں سکول کو ۔اسی طرح اردو میں نہر سے مراد دریا سے نکالی گئی نہر ہوتی ہے جبکہ عربی میں نہر سے مراد دریا ہوتا ہے
 

حسیب

رکن
شمولیت
فروری 04، 2012
پیغامات
116
ری ایکشن اسکور
85
پوائنٹ
75
شیخ @اسحاق سلفی اس عبارت کا اردو ترجمہ کر دیں جزاک اللہ خیر
ِنَّا أَنشَأْنَاهُنَّ إِنشَاءً ﴿٣٥﴾

جاء في كتاب شذور الذهب لابن هشــام أن معنى الفعل إنشاء أي إيجاد ومنه
قوله تعالى " إِنَّـآ أَنشَأنَهُنَّ إِنشَـآءً " سورة الواقعة 35 أي أوجدناها إيجادا .
فمن هذا لو كبتنا " إنشاء الله " يعني كأننا نقول أننا أوجدنا الله تعالى شأنه عز وجل (( استغفر الله العظيم )) وهذا غير صحيح كما عرفنا ..
أما الصحيح هو أن نكتب "إن شاء الله" فإننا بهذا اللفظ نحقق هنا إرادة الله عز وجل ..
فقد جاء في معجم لسان العرب معنى الفعل شــاء ،أي أراد ..
فالمشيئة هي الإرادة فعندما نكتب إن شاء الله
كأننا نقول بإرادة الله نفعل كذا..
ومنه قول تعالى " وَمَا تَـشَـآءُونَ إِلا أَنْ يَـشَـآءَ اللهُ "
سورة الإنسان 30 ..
أي ما نريد شيئا إلا إن أراد الله عز وجل
فهنـاك فرق بين الفعلين أنشئ أي أوجد والفعل شــاء أي أراد

فيجب علينــا كتابة إن شاء الله وتجنب كتابة إنشاء الله
 

طلحہ غازی

مبتدی
شمولیت
اکتوبر 05، 2015
پیغامات
20
ری ایکشن اسکور
8
پوائنٹ
13
امام طبرانی رحمہ اللہ نے ’’ المعجم الكبير ‘‘ اس ضمن میں درج ذیل حدیث نقل فرمائی ہے :
1- حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بن الْعَبَّاسِ الأَصْبَهَانِيُّ ، حَدَّثَنَا بَشَّارُ بن مُوسَى الْخَفَّافُ . حوَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بن عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ ، حَدَّثَنَا مَسْرُوقُ بن الْمَرْزُبَانِ ، قَالا : حَدَّثَنَا يَحْيَى بن زَكَرِيَّا بن أَبِي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بن إِسْحَاقَ ، عَنْ حُصَيْنِ بن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بن عَمْرِو بن سَعْدِ بن مُعَاذٍ ، عَنْ مَحْمُودِ بن لَبِيدٍ ، عَنِ ابْنِ شَفِيعٍ ، وَكَانَ طَبِيبًا ، قَالَ : قَطَعْتُ مِنْ أُسَيْدِ بن حُضَيْرٍ عِرْقَ النَّسَا ، فَحَدَّثَنِي حَدِيثَيْنِ ، قَالَ : أَتَانِي أَهْلُ بَيْتَيْنِ مِنْ قَوْمِي ، فَقَالُوا : كَلِّمْ لَنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقْسِمُ لَنَا مِنْ هَذَا التَّمْرِ ، فَأَتَيْتُهُ فَكَلَّمَتْهُ ، فَقَالَ : نَعَمْ نَقْسِمُ لِكُلِّ أَهْلِ بَيْتٍ شَطْرًا ، وَإِنْ عَادَ اللَّهُ عَلَيْنَا عُدْنَا عَلَيْهِمْ ، فَقُلْتُ : جَزَاكَ اللَّهُ عَنَّا خَيْرًا ، قَالَ : وَأَنْتُمْ فَجَزَاكُمُ اللَّهُ عَنِّي مَعَاشِرَ الأَنْصَارِ خَيْرًا ، فَإِنَّكُمْ مَا عَلِمْتُ أَعِفَّةٌ صُبُرٌ ، أَمَا إِنَّكُمِ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً ، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي.
أُسَيْدُ بن ظُهَيْرٍرَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ . المعجم الكبير للطبراني
شیخ ان کا ترجمہ بھی کر دیں ۔
 
Top