محمد اصغر رفیق
مبتدی
- شمولیت
- دسمبر 09، 2025
- پیغامات
- 8
- ری ایکشن اسکور
- 2
- پوائنٹ
- 3
لفظ “خُدا” کا استعمال
لفظ “خُدا” نہ تو اللہ کا ذاتی نام ہے اور نہ صفاتی۔ یہ لفظ شریعت میں کہیں بھی نہیں آیا۔ بھارت، پاکستان اور ایران میں زیادہ تر لوگ اور کئی علماء اللہ تعالیٰ کے لیے اس لفظ کا استعمال کرتے ہیں، حالانکہ یہ فارسی لفظ ہے اور فارسی میں یہ غیر اللہ کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔
مثلاً:
عورت اپنے شوہر کو “مجازی خدا” کہتی ہے۔
کشتی کے ملاح کو “ناخُدا” کہا جاتا ہے۔
شاعر کو “خدایِ سخن” کہا جاتا ہے۔
سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ مجوسی (آگ پرست) عقیدے کے مطابق دو خدا ہیں:
1. ہرمزد — نیکی کا خدا
2. اہرمن — برائی کا خدا
جبکہ اللہ تعالیٰ ہر طرح کی عیب، کمی اور کسی بھی شریک سے پاک ہے۔
آج لفظ “خدا” اتنا عام ہو گیا ہے کہ اگر کسی کو اس کے استعمال سے روکا جائے تو وہ کہتا ہے:
“اتنے بڑے بڑے علماء بھی تو خدا کہتے ہیں، کتابوں میں بھی لکھا ہے، کیا وہ غلط ہیں؟”
مگر حقیقت یہ ہے کہ لفظ “خدا” نہ قرآن میں ہے نہ حدیث میں۔ ہمیں کیا ضرورت ہے کہ ہم مجوسیوں کے استعمال کردہ لفظ کو اپنے رب کے لیے بولیں؟ یہ تو دین میں اضافہ ہے۔ چاہے یہ لفظ صدیوں سے استعمال ہو رہا ہو، مگر نہ قرآن میں ہے، نہ نبی ﷺ نے کہا، نہ صحابہ نے، نہ تابعین نے اور نہ سلف صالحین نے۔
بعض لوگ کہتے ہیں: “خدا پہچان کے طور پر بولا جاتا ہے، جیسے انگریزی میں God۔”
تو جواب یہ ہے کہ مسلمان دنیا کے کسی بھی ملک کا ہو، وہ “اللہ” کے نام کو خوب پہچانتا ہے، کیونکہ نماز اور قرآن کی تلاوت میں بار بار اسمِ جلالہ استعمال ہوتا ہے۔ اس لیے یہ کہنا کہ پہچان کے لیے خدا کہنا ضروری ہے، صرف بہانہ ہے۔
قرآن کا حکم
وَلِلَّهِ الأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا… (الأعراف: 180)
ترجمہ:
“اور اللہ ہی کے لیے سب اچھے نام ہیں، سو اسے انہی ناموں سے پکارو، اور جو لوگ اس کے ناموں میں کج روی کرتے ہیں انہیں چھوڑ دو، انہیں ان کے اعمال کی سزا ملے گی۔”
قُلِ ادْعُوا اللَّهَ أَوِ ادْعُوا الرَّحْمَٰنَ… (الإسراء: 110)
ترجمہ:
“آپ کہہ دیجیے کہ اللہ کہہ کر پکارو یا رحمان کہہ کر، جس نام سے پکارو، سب اچھے نام اسی کے ہیں۔”
ایک اہم بات
حضرت سلمان فارسیؓ فارس (ایران) سے مدینہ آئے تھے۔ اس وقت فارس میں لوگ اپنے معبود کو “خدا” کہتے تھے۔ اس کے باوجود انہوں نے کبھی اللہ تعالیٰ کے لیے یہ لفظ استعمال نہیں کیا۔ اگر یہ درست ہوتا تو وہ ضرور کہتے، مگر انہوں نے صرف وہی اختیار کیا جو نبی ﷺ نے سکھایا۔
نتیجہ
ہمیں چاہیے کہ غیراللہ کے لیے استعمال ہونے والے ناموں سے پرہیز کریں، تاکہ اللہ کی ناراضی سے بچ سکیں۔ اللہ کا ذاتی نام “اللہ” ہے اور صفاتی نام قرآن و حدیث میں موجود ہیں۔
اس لیے:
خود بھی “خدا” کہنا چھوڑ دیں۔
جو آپ کے سامنے “خدا” کہے اسے نرمی سے سمجھائیں۔
اگر کتاب میں لکھا ملے تو پڑھتے وقت “اللہ” پڑھیں۔
حدیث کا حکم
إِنَّ أَصْدَقَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ… (صحیح مسلم: 867)
ترجمہ:
“بے شک سب سے سچی بات اللہ کی کتاب ہے، سب سے بہترین راستہ محمد ﷺ کا راستہ ہے، اور دین میں نئی چیز پیدا کرنا بدترین چیز ہے، ہر نئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔”
لفظ “خُدا” نہ تو اللہ کا ذاتی نام ہے اور نہ صفاتی۔ یہ لفظ شریعت میں کہیں بھی نہیں آیا۔ بھارت، پاکستان اور ایران میں زیادہ تر لوگ اور کئی علماء اللہ تعالیٰ کے لیے اس لفظ کا استعمال کرتے ہیں، حالانکہ یہ فارسی لفظ ہے اور فارسی میں یہ غیر اللہ کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔
مثلاً:
عورت اپنے شوہر کو “مجازی خدا” کہتی ہے۔
کشتی کے ملاح کو “ناخُدا” کہا جاتا ہے۔
شاعر کو “خدایِ سخن” کہا جاتا ہے۔
سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ مجوسی (آگ پرست) عقیدے کے مطابق دو خدا ہیں:
1. ہرمزد — نیکی کا خدا
2. اہرمن — برائی کا خدا
جبکہ اللہ تعالیٰ ہر طرح کی عیب، کمی اور کسی بھی شریک سے پاک ہے۔
آج لفظ “خدا” اتنا عام ہو گیا ہے کہ اگر کسی کو اس کے استعمال سے روکا جائے تو وہ کہتا ہے:
“اتنے بڑے بڑے علماء بھی تو خدا کہتے ہیں، کتابوں میں بھی لکھا ہے، کیا وہ غلط ہیں؟”
مگر حقیقت یہ ہے کہ لفظ “خدا” نہ قرآن میں ہے نہ حدیث میں۔ ہمیں کیا ضرورت ہے کہ ہم مجوسیوں کے استعمال کردہ لفظ کو اپنے رب کے لیے بولیں؟ یہ تو دین میں اضافہ ہے۔ چاہے یہ لفظ صدیوں سے استعمال ہو رہا ہو، مگر نہ قرآن میں ہے، نہ نبی ﷺ نے کہا، نہ صحابہ نے، نہ تابعین نے اور نہ سلف صالحین نے۔
بعض لوگ کہتے ہیں: “خدا پہچان کے طور پر بولا جاتا ہے، جیسے انگریزی میں God۔”
تو جواب یہ ہے کہ مسلمان دنیا کے کسی بھی ملک کا ہو، وہ “اللہ” کے نام کو خوب پہچانتا ہے، کیونکہ نماز اور قرآن کی تلاوت میں بار بار اسمِ جلالہ استعمال ہوتا ہے۔ اس لیے یہ کہنا کہ پہچان کے لیے خدا کہنا ضروری ہے، صرف بہانہ ہے۔
قرآن کا حکم
وَلِلَّهِ الأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا… (الأعراف: 180)
ترجمہ:
“اور اللہ ہی کے لیے سب اچھے نام ہیں، سو اسے انہی ناموں سے پکارو، اور جو لوگ اس کے ناموں میں کج روی کرتے ہیں انہیں چھوڑ دو، انہیں ان کے اعمال کی سزا ملے گی۔”
قُلِ ادْعُوا اللَّهَ أَوِ ادْعُوا الرَّحْمَٰنَ… (الإسراء: 110)
ترجمہ:
“آپ کہہ دیجیے کہ اللہ کہہ کر پکارو یا رحمان کہہ کر، جس نام سے پکارو، سب اچھے نام اسی کے ہیں۔”
ایک اہم بات
حضرت سلمان فارسیؓ فارس (ایران) سے مدینہ آئے تھے۔ اس وقت فارس میں لوگ اپنے معبود کو “خدا” کہتے تھے۔ اس کے باوجود انہوں نے کبھی اللہ تعالیٰ کے لیے یہ لفظ استعمال نہیں کیا۔ اگر یہ درست ہوتا تو وہ ضرور کہتے، مگر انہوں نے صرف وہی اختیار کیا جو نبی ﷺ نے سکھایا۔
نتیجہ
ہمیں چاہیے کہ غیراللہ کے لیے استعمال ہونے والے ناموں سے پرہیز کریں، تاکہ اللہ کی ناراضی سے بچ سکیں۔ اللہ کا ذاتی نام “اللہ” ہے اور صفاتی نام قرآن و حدیث میں موجود ہیں۔
اس لیے:
خود بھی “خدا” کہنا چھوڑ دیں۔
جو آپ کے سامنے “خدا” کہے اسے نرمی سے سمجھائیں۔
اگر کتاب میں لکھا ملے تو پڑھتے وقت “اللہ” پڑھیں۔
حدیث کا حکم
إِنَّ أَصْدَقَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ… (صحیح مسلم: 867)
ترجمہ:
“بے شک سب سے سچی بات اللہ کی کتاب ہے، سب سے بہترین راستہ محمد ﷺ کا راستہ ہے، اور دین میں نئی چیز پیدا کرنا بدترین چیز ہے، ہر نئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔”