• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

:::: لوگوں کو سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی توحید کی دعوت دو :::

شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,071
ری ایکشن اسکور
6,729
پوائنٹ
1,069
:::: لوگوں کو سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی توحید کی دعوت دو :::
1451581_583596925039061_704507234_n.jpg
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,071
ری ایکشن اسکور
6,729
پوائنٹ
1,069
دعوت وتبلیغ کی ابتدا کس چيزسے کرنی چاہیے ؟

اگر کوئ کسی کو دعوت دینا چاہے توکس چيز سے ابتدا کرے اوراسے کیا کلام کرنی چاہیے ؟

الحمد للہ :

سائل دعوت الی اللہ کا کام کرنا چاہتا ہے یہ یاد رہے کہ دعوت الی اللہ میں حکمت اور موعظہ حسنہ اوراسی طرح نرم لہجہ اورعدم عنف اور ملامت و توبیخ سے احتراض کرنا ضروری ہے ۔

اور اسی طرح دعوت میں سب سے پہلے امورکی دعوت دینی چاہیے اور پھر اس سے کم درجہ والے امور ، جس طرح کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مبعوث ہوۓ ہرطرف اپنے ایلچی روانہ کیے اورانہیں حکم دیا کہ اہم اشیاہ اورپھر اس کےبعد دوسرے درجہ پر اہم امور کی دعوت دیں

جیسا کہ حدیث معاذ رضي اللہ تعالی عنہ میں ہے :

معاذ رضي اللہ تعالی عنہ کو جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کی جانب روانہ کیا توانہیں فرمایا :

( سب سے پہلے انہیں دعوت دینا کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ تعالی کے علاوہ کوئ اورمعبود نہیں اوریہ بھی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کے رسول ہیں ، اگرانہوں نے اس کا اقرار کرلیا توپھران کے علم میں یہ لائيں کہ اللہ تعالی نے دن رات میں ان پرپانچ نمازيں فرض کیں ہیں ، اگروہ اسے تسلیم کرلیں توپھرانہیں یہ بتائيں کہ اللہ تعالی نے ان پرزکاۃ فرض کی ہے جومالداروں سے لے کر غرباومساکین کودی جاۓ گی ) ۔
تو اس طرح اہم امورکی درجہ بندی کے ساتھ دعوت دے اوراس کے لیے مناسب وقت اور فرصت تلاش کرنا چاہیے اوراسی طرح جگہ بھی مناسب ہونی چاہۓ ، بعض اوقات مناسب یہ ہوتا ہے کہ کسی کواپنے گھرمیں دعوت دے کر اس سے بات کی جاۓ ۔

اور کسی کےلیے یہ مناسب ہوسکتا ہے کہ اس کے گھرمیں جاکر اسے دعوت دی جاۓ ، اوریہ بھی مناسب ہے کہ اسے وقتافوقتا دعوت دی جاۓ ، بہرحال عقلمنداوربصیرت رکھنےوالامسلمان لوگوں کوحق کی دعوت دینے میں تصرف کرناجانتا ہے ۔ .

شیخ محمد بن صالح عثیمین رحمہ اللہ
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,071
ری ایکشن اسکور
6,729
پوائنٹ
1,069
دعوت الی اللہ کس پرواجب ہے

کیا ہر مسلمان مرد وعورت پردعوت الی اللہ واجب ہے یا کہ صرف علماء کرام اورطلاب علم پرمنحصر ہے ؟

الحمد للہ :

جب انسان بصيرت كے ساتھ دعوت كا كام كرے توپھر اس میں کوئي‏ فرق نہیں کہ وہ کو‏ئى بڑا عالم ہو یا جس کی بات مانی جاۓ یا پھر وہ کوئي مجتھد طالب علم ہو اوریا کو‏ئى عامی ہو مسئلہ یہ ہے کہ اسے علم یقینی ہونا چاہیے-

کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے :

( اگرایک آیت کا بھی علم ہے تواسے بھی آگے پہنچادو ) ۔
داعی کے لیے کوئ شرط نہیں کہ وہ ایک بڑا عالم دین ہی ہو لیکن شرط صرف اتنی ہے کہ جس چیزکی وہ دعوت دے رہا ہے اس میں اسے علم چاہیے ، یہ جائزنہیں کہ وہ اپنے دعوتی شوق سے ہی دعوت دینی شروع کردے اوروہ اس مسئلہ ميں جاہل ہو ۔

تواس لیے ہم دیکھتےہیں کہ جنہیں دعوتی کاموں کا شوق ہوتا ہے لیکن ان کے پاس علم بالکل نہیں ہوتا سواۓ قلیل سے علم کے جس قابل ذکرنہیں ہوتا جس کی بنا پروہ ایسی اشیاء حرام کرنا شروع کردیتے ہیں جنہیں اللہ تعالی نے توحرام نہیں کیا ، اوراسی طرح ان اشیاء کوواجب قراردیتے ہیں جنہیں اللہ تعالی نے اپنے بندوں پرواجب نہیں کیا جوکہ ایک بہت ہی خطرناک بات ہے ۔

اس لیے کہ جسے اللہ تعالی نے حلال کیا ہواسے حرام قراردینا اللہ تعالی کی حرام کردہ چيزکوحلال کرنے کے مترادف ہے ، تومثلا جب وہ کسی دوسرے پراس چيزکے حلال ہونے کاانکارکریں گے تو ان کے علاوہ دوسرے ان پراس کے حرام ہونے کابھی انکار کریں گے ، اس لیے کہ اللہ تعالی نے یہ دونوں امربرابر قرار دیتے ہوۓ فرمایا ہے :

{ کسی چيزکے بارہ میں اپنی زبان سے جھوٹ موٹ یہ نہ کہہ دیا کرو کہ یہ حلال ہے اوریہ حرام ہے کہ اللہ تعالی پرجھوٹ بہتان باندھ لو سمجھـ لو کہ اللہ تعالی پربہتان بازی کرنے والے کامیابی سے محروم ہی رہتے ہیں } النحل ( 116 )۔

الشيخ محمد بن صالح بن عثیمین رحمہ اللہ تعالی
 
Top