• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ماں کے پاؤں کو بوسہ دینے کی فضیلت سے متعلق ایک حدیث کی حقیقت

عامر عدنان

مشہور رکن
شمولیت
جون 22، 2015
پیغامات
917
ری ایکشن اسکور
257
پوائنٹ
142
ماں کے پاؤں کو بوسہ دینے کی فضیلت سے متعلق ایک حدیث کی حقیقت

از قلم :*
*حافظ اکبر علی اختر علی سلفی / عفا اللہ عنہ*

* ناشر :*
*البلاغ اسلامک سینٹر*
=================================

*الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی رسولہ الامین، اما بعد :*

*محترم قارئین!* ماں کے پاؤں کو بوسہ دینے سے متعلق ایک حدیث معاشرے میں، امیج کی صورت میں گردش کر رہی ہے۔ آج اللہ کی توفیق سے اِس تحریر میں اُس کی حقیقت پیش کی جائے گی تاکہ لوگ اُسے نا پھیلائیں۔

*سب سے پہلے اِس حدیث کا متن پیش خدمت ہے۔ ملاحظہ فرمائیں :*

شمس الائمہ محمد بن احمد السرخسی رحمہ اللہ (المتوفی :483ھ) رقمطراز ہیں :
”وَقَالَ - صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : مَنْ قَبَّلَ رِجْلَ أُمِّهِ، فَكَأَنَّمَا قَبَّلَ عَتَبَةَ الْجَنَّةِ“
”اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : جس نے اپنی ماں کے پیر کو بوسہ دیا تو گویا کہ اُس نے جنت کی چوکھٹ کو بوسہ دیا“۔
(المبسوط بتحقیق خليل محي الدين :10/257)

*[
حکم حدیث]* اِس حدیث کی کوئی اصل نہیں ہے، بے سند روایت ہے۔ حدیث کی کسی بھی کتاب میں موجود نہیں ہے.

* اب چند باتیں بطور فائدہ پیش خدمت ہیں :*
*[
فائدہ نمبر :1]* شیخ احمد عزو عنایہ حفظہ اللہ زیر بحث روایت کی بابت فرماتے ہیں:
”لم اعثر علیہ“
”میں اِس حدیث سے واقف نہیں ہو سکا“۔
(فی تحقیق تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق :7/43)

*[
فائدہ نمبر :2]* زیر بحث روایت درج ذیل حنفی علماء کرام کی کتابوں میں اُسی طرح موجود ہے جس طرح علامہ سرخسی رحمہ اللہ نے بیان کیا :

*(
1)* المحيط البرهاني في الفقه النعماني بتحقیق عبد الکریم الجندی :5/332.
*(
2)* تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق بتحقیق الشیخ احمد:7/43.
*(
3)* البحر الرائق شرح كنز الدقائق :8/221.
*(
4)* رد المحتار على الدر المختار :6/367.
*(
5)* الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار بتحقیق عبد المنعم ،ص:655.

*[
فائدہ نمبر :3]* زیر بحث روایت کتب العلل، کتب التخریج اور شروحاتِ احادیث وغیرہ میں بھی موجود نہیں ہے. واللہ اعلم.

*خلاصتہ التحقیق :*
ماں کے پاؤں کو بوسہ دینے کی فضیلت سے متعلق جو روایت معاشرے میں گردش کر رہی ہے، وہ بے سند ہے. حدیث کی کسی بھی کتاب میں موجود نہیں ہے۔ واللہ اعلم وعلمه أتم.

*وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین.*

*حافظ اکبر علی اختر علی سلفی / عفا اللہ عنہ*
*صدر البلاغ اسلامک سینٹر*
*️ 20 - ذو الحجہ - 1441ھ*
*️ 11 - اگست - 2020ء*


 

عامر عدنان

مشہور رکن
شمولیت
جون 22، 2015
پیغامات
917
ری ایکشن اسکور
257
پوائنٹ
142
Top