• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ماہِ رمضان کے بعد شوال

شمولیت
جنوری 23، 2018
پیغامات
17
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
32
رمضـــــان کے بعد شوال
تحریر:عبد السلام بن صلاح الدین مدنی
=====================
الحمد لله رب العالمين، و الصلاة و السلام على أشرفلا الانبياء و المرسلين أما بعد
ماہِ رمضان اپنی تمام تر رحمتوں,برکتوں,مغفرتوں ,سعادت مندیوں,کامیابی کے زینوں,کامرانی کے خزینوں اور بامرادی کے سفینوں کے ساتھ رخصت ہوگیا,باتوفیق لوگوں نے نمازوں کا اہتمام کیا,تراویح پڑھیں,قیام الیلں کیا,ذکر و اذکار,دعا و مناجات ,اور تلاوتوں میں مشغول رہے,صدقہ و خیرات کیا ,کار ِ خیر انجام دیا, عبادتیں,اطاعتیں بجا لائیں,غریبوں ,مسکینوں,فقیروں اور محتاجگان کی امداد کی,بے بسوں کی خبر گیری کی,ان کی پریشانیوں میں ان کے کام آئے,ٹوٹے دلوں کو جوڑنے کی کوشش کی,وغیرہ وغیرہ ,مگر اب یہ خاص الخاص ہم سے رخصت ہوگیا,مگر نمازیں باقی رہنی چاہئیں ,روزے رکھنے اورتلاوتوں کا سلسلہ ختم نہیں ہونا چاہئے ,ذکر و اذکار,اوراد و وظائف جاری رہنے چاہئیں,ایک مسلمان رمضانی نہیں ہوتا ,شوالی و شعبانی نہیں ہوتا بلکہ ربانی ہوتا ہے,وہ جس رب کی رمضان میں عبادتیں کیا کرتا تھا,شوال میں بھی اسی رب کی عبادتیں کرتا ہے,وہ رب صرف رمضان کا نہیں,بلکہ شوال و شعبان و دیگر ماہ کا بھی ہے,بشر بن حافی فرماتے ہیں:(بئس القوم لا يعرفون الله إلا في رمضان)(مفتاح الأفکار للتأھب لدار القرار ۲/۲۸۳)ترجمہ:بہت برے ہیں وہ لوگ جو اللہ کو صرف رمضان ہی میں پہچانتے ہیں۔
رمضان نیکیوں,خوبیوں,اچاکئیوں, اوراچھے کاموں کے لئے موسم ِ بہار ہے,مگر رمضان کے بعد اللہ نے نیکیوں کئی موسم بہار رکھا ہوا ہے,چنانچہ رمضان کے بعد شوال میں چھ روزے رکھنے کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے,نبی کریمﷺ نے فرمایا:(مَن صامَ رَمَضانَ ثُمَّ أتْبَعَهُ سِتًّا مِن شَوَّالٍ، كانَ كَصِيامِ الدَّهْرِ)(مسلم حدیث نمبر۱۱۶۴من حدیث ابی أیوب الأنصاری۔رضی اللہ عنہ۔)ترجمہ: جو شخص رمضان کے روزے رکھ کر (ہر سال) شوال میں بھی چھ روزے رکھے اسے عمر بھر روزہ رکھنے کا ثواب ملتا ہے,اللہ اکبر!اس اجمال کی تفصیل خود زبانِ فیض ِ ترجمانﷺسے ملاحظہ فرمائیں(صيامُ شهرِ رمضانَ بعشرةِ أشهرٍ، وصيامُ ستةِ أيامٍ بعدَهُ بشهرينِ، فذلكَ صيامُ السنةِ)( حدیث صحیح من حدیث ثوبان۔رضی اللہ عنہ۔دیکھئے:صحیح الترغیب حدیث نمبر۱۰۰۷)ترجمہ: رمضان کے روزے(ثواب کے اعتبار سے) دس مہینے کے برابر ہیں اور (شوال ) کے چھ روزے(بطورِ ثواب)دو مہینے کے برابر ہیں، پس یہ پورے(سال کے روزے)ہوئے,قرآنی صراحت(سورہ ٔ الأنعام:۱۶۰) کے مطابق ایک نیکی کا ثواب دس گنا تک بڑھا کر دیا جاتا ہے,نبی ٔ کریمﷺنے فرمایا:(من صام ستة أيام بعد الفطر كان تمام السنة}مَنْ جاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثالِها, {)(صحیح الجامع ۶۳۲۸)ترجمہ:جس نے عید کے بعدچھ روزے رکھے,تو یہ پورے سال کا روزہ ہواجو شخص نیک کام کرے گا اس کو اس کے دس گنا ملیں گے,اس اعتبار سے بھی رمضان کے تیس روزے اور شوال کے چھ روزے کا ثواب ایک سال کے ثواب کے برابر ہوجاتا ہے(30+6=36×10=360)و الحمد للہ ,اور اللہ جسے چاہتا ہے,مزید کئی گنا بڑھاکر دیتا ہے,اس طرح اگر کسی نے ہر سال رمضان اور شوال کے چھ روزہ کا اہتمام کیا تو اسے پوری عمر روزہ رکھنے کا ثواب ملتا ہے۔
رب کریم سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں اپنی مرضیات پر چلائے,اور دین اسلام کی تعلیمات کے مطابق عمل کرنے کی توفیق ارزانی فرمائے۔۔۔۔آمین یا رب العالمین
 
Top