• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ماہ رمضان المبارک اور تقوی

شمولیت
فروری 14، 2017
پیغامات
9
ری ایکشن اسکور
2
پوائنٹ
10
عنقریب اللہ کا مہمان اور خیر و برکت والا مہینہ ہم سب پر سایہ فگن ہونے والا ہے جس ماہ مبارک کی آمد کی رسول کائنات جناب محمد رسول اللہ ﷺ صحابہ کوبشارت و خوشخبری دیا کرتے تھے اور نصیحت کیا کرتے تھے کہ اس ماہ مبارک میں بندہ اللہ کی رضا کیلئے صیام و قیام کی پابندی کر کےاور اس رب کریم کا تقوی اختیار کر کے جنت میں جگہ بنا لے۔ یہ بات واضح رہے کہ صیام کی مشروعیت کا اصل مقصد تقوی کا حصول ہے ۔
بیشک اللہ تبارک و تعالی نے اپنے بندوں کو تقوی اختیار کرنے کا حکم دیاجس کے ذریعہ وہ دنیا و آخرت کی سعادت اور اللہ کی رضا حاصل کر کے اس کی تیار کردہ بیش بہا نعمتوں والی جنت کو حاصل کر سکتے ہیں۔جو اللہ پر ایمان نہ لائے ، اس کا تقوی اختیار نہ کرے تو اللہ تعالی نے ایسے بندوں کیلئے بھڑکتى ہوئى آگ کا عذا ب تیار کر رکھا ہے۔تقوی کی وصیت، وصیت کبری ہے ،اور اللہ تعالی نے اولین اور آخرین تمام کو تقوی کی وصیت کی ہےجیسا کہ اس کا ارشاد ہے: { وَلَقَدْ وَصَّيْنَا الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَإِيَّاكُمْ أَنِ اتَّقُوا اللَّهَ }ترجمہ :ہم نے ان لوگوں کو جو تم سے پہلے کتاب دیئےگئے تھے اور تم کو بھی یہی حکم کی اکہ اللہ سے ڈرتے رہو (النساء:131) اللہ تعالی نے رمضان کا روزہ اس لئے مشروع کیا تاکہ اس کے بندےاس ماہ کا روزہ رکھ کر اس کا تقوی اختیار کرے۔،ارشاد باری تعالی ہے : { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ}
ترجمہ : اے ایمان والوں !تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم تقوی اختیار کرو۔(البقرۃ : 183) رمضان کا روزہ اللہ کا تقوی اختیار کرنے کا اہم ذریعہ ہے ، بندہ روزے کی حالت میں اللہ کے بعض حلال کردہ چیزوں کو صرف تقوی کی بنیاد پرترک کر دیتا ہے،مثلا کھانا ، پانی وغیرہ۔اور حرام کردہ چیزوں سے یکسر گریز کرتا ہے مثلا خواہشات نفسانی وغیرہ ۔
عبدا لرحمن بن سعدی رحمہ اللہ اپنی تفسیر میں اللہ کے اس قول { لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ } کے متعلق فرماتے ہیں "بیشک صیام (روزہ) حصول تقوی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے،کیوں کہ اس میں اللہ کے حکم کی تابعداری ہے،اور اس کے منع کردہ امور سے رک جاناہے،صیام میں وہ امور جن کا تعلق تقوی سے ہے"۔
(۱) بیشک صائم بحالت صوم اللہ کے حلال کردہ اشیاءمثلا کھانا ،پینا،جماع اور وہ تمام کام جس طرف نفس مائل ہو ،تقرب الہی اور ثواب کی نیت سے چھوڑ دیتا ہے،یہ علامت تقوی ہے۔
(۲) بیشک صائم اپنے نفس کو اللہ کی مراقبت و نگاہ بانی کا عادی بنا دلیتا ہے،اپنی خواہشات کو پورا کرنے کی قدرت کے باوجود اللہ کی مراقبت کا خیال کر کے چھوڑدیتاہے،یہ علامت تقوی ہے۔
(۳) بیشک صیام شیطانی وسوسوں کو کم کردیتا ہے، جبکہ شیطان ابن آدم کے خون میں دوڑتا ہے،لہذا صائم اپنے صیام کے ذریعہ شیطانی وسوسوں سے محفوظ رہتا ہے اور اپنے کی نافرمانی بہت کم کرتا ہے،یہ تقوی کی علامت ہے۔
(۴) اکثر و بیشتر صائم اللہ کی اطاعت کرتا ہوا نظر آتا ہے،اور اطاعت الہی تقوی کی علامت ہے۔
(۵) بیشک جب کوئی مالدار اور غنی آدمی بھوک اور پیاس کا مزہ چکھتا ہے تو وہ فقرا و مساکین کے تکلیف کا اندازہ لگا کر ان سے اخوت و بھائی چارگی کے تحت ان پر اپنا مال خرچ کرتا ہے،اور یہ تقوی کے خصال میں سے ہے"۔
لہذا ہر کلمہ گو مرد و عورت کی ذمہ داری ہیکہ اس ماہ مبارک کو غنیمت سمجھے صیام و قیام اور طاعات وحسنات کے ذریعہ اپنے رب کریم کا تقوی اختیار کرے،کثرت سے توبہ واستغفار کرے ، غفور ورحیم سے اپنے گناہوں کی بخشش طلب کرلےاور کامیاب ہونے والوں میں سے ہوجائے
 
Top