• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مبلغ اور داعی کے اوصاف !!!

شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,076
ری ایکشن اسکور
6,746
پوائنٹ
1,069
مبلغ اور داعی کے اوصاف !!!

دعوت:

عربی لغت کے اعتبار سے ( دعا ) کا مصدر ہے ۔ جس کا لغوی معنیٰ نداء، طلب ، قرض ، مذہب اور نسب وغیرہ ہے ۔ نیز دعاۃ ان لوگوں کو کہتے ہیں جو ہدایت یا ضلالت کی دعوت دیتے ہیں ۔ اس کا واحد ” داعی “ ہے ۔ اور اس کو داعیۃ بھی بولتے ہیں اور اس میں ” ۃ “ مبالغہ کے لیے ہے ۔

دعوت کا اصطلاحی مفہوم:

دائرہ اسلام میں داخل ہونے اور اس پر کاربند رہنے کی طلب کو دعوت کہتے ہیں ۔ انسانوں کے متعلق اللہ تعالیٰ کی رحمت و سنت اور عدل و انصاف یہی رہا ہے کہ وہ اتمام حجت کئے بغیر کسی قوم کو عذاب میں مبتلا نہیں کرتا ۔

جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا ( الاسرائ:15 )
” جب تک ہم رسول مبعوث نہ کریں ہم عذاب نہیں دیتے ۔ “
بنابریں اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے انبیاءو رسل علیہم السلام کو مبعوث فرمایا اور معجزات کے ذریعے ان کی تائید فرمائی ۔ اور کتب نازل فرمائیں

جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

رسلا مبشرین ومنذرین لئلا یکون للناس علی اللہ حجۃ بعد الرسل
( النسائ:165 ) ”

رسول بشارت دینے والے اور ڈرانے والے تا کہ رسولوں کے بعد لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں حجت نہ رہے ۔ “
اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت ہوتی تو تمام لوگوں کو ہدایت و رہنمائی کے لیے مبلغین کرام ، داعیان عظام مہیا فرماتا جو انہیں مقصد حیات سے آگاہ کرتے اور علی وجہ البصیرت بندگی رب سے آشنا کرتے تا کہ انہیں دو جہانوں کی سعادت نصیب ہو ۔ ان حقائق کی بدولت واضح ہوتا ہے کہ انسانوں کو خوردونوش سے بھی زیادہ دینی دعوت و تبلیغ کی ضرورت ہوتی ہے ۔

دعوت الی اللہ کا شرعی حکم:

ارشاد ربانی ہے:

ولتکن منکم امۃ یدعون الی الخیر ویامرون بالمعروف وینھون عن المنکر واولئک ھم المفلحون( آل عمران: 104 )

اور تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو خیر کی دعوت اور نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں ۔ “

کنتم خیر امۃ اخرجت للناس تامرون بالمعروف وتنھون عن المنکر وتومنون باللہ ( آل عمران: 110 )

” تم بہترین امت ہو جو انسانوں کے لیے نکالی گئی ہو تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو ۔ “
ارشاد باری تعالیٰ ہے:

ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ ( النحل: 125 )

” اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھے وعظ کے ساتھ دعوت دیں ۔ “
نیز فرمایا:

ومن احسن قولا ممن دعا الی اللّٰہ وعمل صالحا وقال اننی من المسلمین ( فصلت:33 )

” اور کون ہے زیادہ اچھا قول میں اس شخص سے جس نے اللہ کی طرف دعوت دی اور نیک اعمال کےے اور کہا کہ بلاشبہ میں مسلمانوں میں سے ہوں ۔ “
احادیث نبویہ:

(( بلغوا عنی ولو آیۃ )) ( رواہ البخاری )

” میری طرف سے تبلیغ کرو خواہ ایک آیت ہی ہو ۔ “

نیز فرمایا کہ:

(( لیبلغ الشاھد الغائب )) ( رواہ البخاری )

” جو حاضر ہے وہ غائب ( غیر حاضر ) تک ( دین کی ) تبلیغ کرے ۔ “

فرمایا:

(( من رای منکم منکرا فلیغیرہ بیدہ فان لم یستطع فبلسانہ فان لم یستطع فبقلبہ وذلک اضعف الایمان )) ( رواہ مسلم )

” تم میں سے جو منکرات دیکھے اس کو چاہیے کہ وہ اسے اپنے ہاتھ سے مٹائے اگر استطاعت نہ ہو تو زبان کے ساتھ روکے اگر اتنی استطاعت بھی نہ ہو تو دل کے ساتھ ( برا جانے ) اور یہ سب سے کمزور ایمان ہے ۔ “

جاری ہے
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,076
ری ایکشن اسکور
6,746
پوائنٹ
1,069
دعوت دین کا ذمہ دار کون ہے:

دعوت دین کی ذمہ داری ہر مسلمان مرد اور عورت پر عائد ہوتی ہے ۔ وہ معاشرے میں پھیلی ہوئی برائیوں سے لوگوں کو روکے ۔ اتنی تبلیغ کرنے کے لیے ضروری نہیں کہ داعی دینی علوم پر مکمل عبور رکھتا ہو ۔ ایسے شخص کو دین کی جزئیات پر بحث نہیں کرنی چاہیے ۔ اور نہ ان کی دعوت پیش کرنی چاہیے تا کہ یہ اپنی لاعلمیت کی بنا پر غلط بات نہ کہہ دے کہ جس پر عمل کرنے سے دوسرے لوگ گمراہ ہو جائیں اور ان کا وبال بھی اسی کے سر پر ہو ۔ کیونکہ یہ علماءکرام کے منصب کا تقاضا ہے کہ وہ اپنے وسیع علم اور ایمانی بصیرت کی بنیاد پر دینی مسائل کی جزئیات کو بیان کریں اور دشمنان اسلام کی جزئیات کو بھی بیان کریں ۔ غلو پسندوں کے مبالغہ کا رد کریں ۔

دعوت کے اہداف اور اصول:

درج ذیل سطور میں دعوت کے اہداف اور اصول کا خلاصہ پیش کرتے ہیں ۔
مقصد تخلیق انسانیت کو پورا کرنا اور وہ ہے اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کرنا جیسا کہ

فرمان ربانی ہے:

وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون
اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس اور اس کے اسماء حسنی ، اس کی صفات
جلیلہ اور اس کے افعال کاملہ کی معرفت اور پہچان اور شرک کی تمام صورتوں سے اجتناب کے لیے لوگوں کی رہنمائی کرنا ۔

لوگوں کو دینی احکام کی تعلیمات دینا اور ان میں تفقہ فی الدین کا ملکہ پیدا کرنا تا کہ وہ علی وجہ البصیرت اپنے رب تعالیٰ کی عبادت کر سکیں ۔
 انسانیت کو تباہی اور بربادی سے بچانا کیونکہ انسان محض اپنی عقل اور خواہش کے بل بوتے پر نقصان دہ امور سے محفوظ نہیں رہ سکتا ۔ یہ شریعت الٰہی کا خاصہ ہے کہ اس کے اصول و قوانین اور حلال و حرام کے ضابطے اپنے پیروکار کو صلاح و فلاح اور سعادت و عزت کی ضمانت فراہم کرتے ہیں ۔

تا کہ سیدالمرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں اضافہ ہو ۔

تا کہ عاملین دین کی تعداد میں اضافہ اور منحرفین اور نافرمان لوگوں کی تعدادمیں کمی ہو سکے ۔

اسلام کی خوبیوں کو اجاگر کرنا اور اس کی جامعیت اوربارگاہ الٰہی میں مقبولیت کو واضح کرنا اور آخری دین ہونے کی انفرادی شان کو ظاہر کرنا

دعوت کے اسلوب:

اسلوب سے مراد دعوت و تبلیغ کا طریقہ کار ہے ۔ دینی دعوت و تبلیغ کے متعدد اور متنوع طریقے ہیں ۔ جو کہ مبلغین اور عوام کی مناسبت سے مختلف ہوتے ہیں کیونکہ بعض اوقات دعوت کا ایک انداز کسی انسان پر موثر ہوتا ہے جبکہ دوسرے انسان پر موثر نہیں ہو پاتا ۔ تبلیغ کا ایک طریقہ ایک دور میں بہت اثر انگیز ہوتا ہے جبکہ دوسرے دور میں وہی طریقہ کار گر نہیں ہوتا ۔ چنانچہ ایک مبلغ کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ ان امور کو ملحوظ رکھے

اس ضمن میں فرمان الٰہی کس قدر جامع ہے:

ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ وجادلھم بالتی ھی احسن ان ربک ھو اعلم بمن ضل عن سبیلہ وھو اعلم بالمھتدین
( النحل: 125 )
مبلغ کو دعوت و تبلیغ کے اسلوب اور طریقے سیکھنے کے لیے درج ذیل بنیادی مصادر سے استفادہ کرنا چاہیے ۔

1- قرآن
2- سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم
3- سیرت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین
4- سیرت تابعین کرام رحمہم اللہ تعالیٰ

جاری ہے
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,076
ری ایکشن اسکور
6,746
پوائنٹ
1,069
دعوت الی اللہ کی فضیلت:

دعوت و تبلیغ جہاں پر امت مسلمہ کے ہر فرد پر فرض ہے وہاں بارگاہ الٰہی سے بے شمار انعامات جلیلہ کے حصول کا ذریعہ بھی ہے ۔ تبلیغ دین پاکباز انبیاءو رسل علیہم السلام کی ذمہ داری ہے ۔ جو کہ انذار وتبشیر کے اسلوب کے ساتھ انسانوں کو دین الٰہی کی دعوت دیتے رہے ۔ تاکہ اتمام حجت ہو جائے اور سید الانبیاءاور خاتم المرسلین جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فریضہ منصبی بھی دینی دعوت و تبلیغ ہی تھی ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تاقیامت پیروکاروں کا منہج یہی تبلیغ ہے ۔

مبلغین اور دعاۃ کے لیے اس سے بڑھ کر اور کیا اعزاز ہو گا کہ جس فریضہ کو انبیاءو رسل علیہم السلام ادا فرماتے تھے آج اللہ تعالیٰ نے وہ ان کے کندھوں پر ڈال دیا ہے اور وہ وادی ضلالت میں بھٹکنے والوں کو راہ نجات کی طرف بلاتے ہیں اور دل کے اندھوں کو بصیرت کا حامل بنا رہے ہیں ۔ ابلیس کے شکار زدہ کتنے ہی افراد کو مبلغین کرام نے تبلیغ سے نئی زندگی سے آشنا کر دیا ۔ اور کتنے ہی بھٹکتے ہوئے افراد کو راہ ہدایت دکھائی ۔ تبلیغ درحقیقت جہاد فی سبیل اللہ بلکہ اکثر اوقات تقریر کا جہاد شمشیر کے جہاد سے زیادہ موثر ہوتا ہے ۔ دعوت حق بکثرت ذکر الٰہی کرنے اور درود و سلام پڑھنے کا اہم ذریعہ ہے کیونکہ کوئی خطبہ ، تقریر ، دینی لیکچر خواہ وہ کس قدر مختصر ہی کیوں نہ ہو ، ذکر الٰہی اور درود و سلام سے خالی نہ ہو گا اور یہ ایک داعی حق کے لیے کتنے شرف کی بات ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ کلمہ حق کہنے کی توفیق بخشے اور اس کے کلمہ خیر کو شرف قبولیت سے نوازے ۔

جاری ہے
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,076
ری ایکشن اسکور
6,746
پوائنٹ
1,069
داعی کے اوصاف :

ایک مبلغ کے لیے عام لوگوں کی نسبت زیادہ ضروری ہے کہ وہ اسلامی اوصاف ، دینی ، اخلاقی آداب سے متصف ہو کیونکہ داعی اور مبلغ کا باعمل ہونا دعوت و تبلیغ کے لیے موثر ہونے میں فیصلہ کن کردار کی حیثیت رکھتا ہے ۔ درج ذیل سطور میں بعض اوصاف کا تذکرہ کیا جا رہا ہے ۔

1 ۔ اخلاص:

اخلاص دین اسلام کی اساس و بنیاد ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اخلاص کا پابند بنایا ہے کوئی عمل خواہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو اس کو ادا کرنے والا کس قدر قربانی کیوں نہ پیش کرے اگر اس میں اخلاص نہ ہو تو وہ مردود ہوتا ہے ۔ اس حدیث نبوی کا مطالعہ فرمائیں جس میں ان تین بدنصیب اشخاص کا تذکرہ کیا گیا ہے جن کے ساتھ آتش جہنم کو بھڑکایا جائے گا ( العیاذ باللہ ) وہ قاری قرآن ، سخی اور مجاہد ہوں گے جنہوں نے اپنی جان و مال اور وقت کی قربانی پیش کی ہو گی جو انسان کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتا ہے لیکن ان تینوں کی نیکیاں عدم اخلاص کی وجہ سے قبول نہ ہوں گی ۔

2 ۔ شرعی علم:

اخلاص اور علم شرعی ایک مبلغ اور داعی کا اصل سرمایہ ہوتا ہے-

جس کی نشاندہی اللہ تعالیٰ نے اس طرح سے فرمائی ہے:

قل ھذہ سبیلی ادعو الی اللہ علی بصیرۃ ( یوسف: 108 )

” کہہ دیجئے یہ میرا راستہ ہے میں اللہ کی طرف بصیرت کے ساتھ دعوت دیتا ہوں ۔ “
یعنی امور دنیا یا خواہشات نفس کی طرف نہیں ۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتا ہوں اور بصیرت کے ساتھ دعوت حق پیش کرتا ہوں اور بصیرت شرعی علم کا نام ہے جو کتاب و سنت اور طریقہ سلف صالحین رحمہم اللہ تعالیٰ پر مبنی ہے ۔ پس دعوت حق علم سے عاری مجرد جوش و جذبہ کا نام نہیں بلکہ ایک مبلغ کے لیے از حد ضروری ہے کہ وہ دینی علوم سے بہرہ ور ہو ، صحیح عقیدہ ، سنت مطہرہ ، سیرت نبوی ، تاریخ اسلام اور دیگر دینی علوم و فنون کی معلومات رکھتا ہو اس کا وعظ و تقریر کتاب و سنت کے دلائل سے مزین ہو ۔

فرمان ربانی ہے:

فذکر بالقرآن من یخاف وعید ( ق: 45 )

” قرآن کے ساتھ نصیحت کرو جو میری وعید سے ڈرتا ہے ۔ “
3 ۔ تقویٰ:

تقویٰ کی خوبی ایک مبلغ کا نفع مند زاد راہ اور میدان تبلیغ کی تمام مشکلات کا کامیاب علاج ہے ۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وتزودوا فان خیر الزاد التقویٰ ( البقرۃ: 197 )

” اور زاد راہ پکڑو بلاشبہ بہترین زاد راہ تقویٰ ہے ۔ “
تبلیغ کا معاوضہ طلب نہ کرنا:

یہ تمام انبیاءکرام ورسل علیہ السلام کا طرہ امتیاز تھا-

جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

ویاقوم لا اسالکم علیہ مالا ان اجری الا علی اللّٰہ ( ھود:29 )

” اے میری قوم میں تم سے اس ( تبلیغ ) پر مال نہیں مانگتا میرا اجر نہیں مگر اللہ پر ۔ “
جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:

ازھد فی الدنیا یحبک اللہ وازھد فیما فی ایدی الناس یحبوک ( ابوداود )

” دنیا سے بے نیازی کرو تو اللہ تمہارے ساتھ محبت کرے گا اور لوگوں کی چیزوں سے بے نیاز ہو جاؤ تو لوگ تمہارے ساتھ محبت کریں گے ۔ “
داعی حق کے لیے لازمی ہے کہ وہ آخرت کی کامیابی کو دنیا پر ترجیح دے اور لوگوں کی چیزوں سے امیدیں وابستہ نہ کرے ۔

نرم اسلوب اختیار کرے:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:

(( ان اللّٰہ یحب الرفق فی الامر کلہ )) ( صحیح البخاری )

” بے شک اللہ تعالیٰ ہر معاملے میں نرمی کو پسند کرتا ہے ۔ “
اسی طرح فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:

(( ان الرفق لا یکون فی شی الا زانہ ولا ینزع من شی الا شانہ )) ( مسلم )

” جس معاملے میں نرمی ہو وہ اسے مزین کر دیتی ہے اور اگر نرمی نکل جائے تو اسے بدنما کر دیتی ہے ۔ “
مجمع شناسی:

مبلغ کے لیے لازمی ہے کہ وہ مجمع شناس ہو ، سامعین کی علمی اور ذہنی استعداد کے مطابق گفتگو کرے-

جناب علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:

(( حدثوا الناس بما یعرفون اتحبون ان یکذب اللہ ورسولہ )) ( بخاری )

” لوگوں کی معرفت کے مطابق ان سے گفتگو کرو ( وگرنہ ) کیا تم چاہتے ہو کہ اللہ اور اس کے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کی جائے ۔ “
جناب عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

(( ما انت بمحدث قوما حدیثا لا تبلغہ عقولھم الا کان لبعضھم فتنۃ )) ( مسلم )

” اگر تم کسی قوم کی ذہنی استعداد سے بالا گفتگو کرو تو ان میں سے بعض فتنے میں مبتلا ہو جائیں گے ۔ “
مسلسل محاسبہ نفس:

مبلغ کا مسلسل محاسبہ نفس کرنا اور میدان دعوت میں اپنے وسائل و ذرائع اور نتائج و ثمرات پر بار بار نظرثانی کامیابی کی ضمانت ہے ۔ مبلغ کو اپنے نقائص و عیوب پر نظر رکھنی چاہیے اور ان کو دور کرنے کے لیے جستجو کرتے رہنا چاہیے ۔

ارشاد ربانی ہے:

یا یھا الذین آمنوا اتقوا اللّٰہ ولتنظر نفس ما قدمت لغد واتقوا اللّٰہ ان اللّٰہ خبیر بما تعملون ( الحشر:18 )

” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو اللہ سے ڈرو اور ہر نفس دیکھے کہ اس نے کل ( آئندہ ) کے لیے کیا بھیجا ہے اللہ سے ڈرتے رہو اور یقینا اللہ تعالیٰ باخبر ہے جو تم عمل کرتے ہو ۔ “
تنظیم اوقات کار:

ہم اپنے مال و دولت کے متعلق جس قدر حریص ہیں اس سے بڑھ کر سلف صالحین رحمہم اللہ تعالیٰ اپنے اوقات زندگی کی حفاظت کرتے تھے کیونکہ لمحات زندگی ایسی دولت ہے جو جانے کے بعد لوٹا نہیں کرتے اور ہم سب وقت کی اہمیت کو جانتے ہیں لیکن پھر بھی ہماری حالت تعجب خیز ہے کہ اوقات کار کی تنظیم و ترتیب کے بجائے فضول اور بے مقصد کاموں میں قیمتی لمحات زندگی ضائع اور برباد کر دیتے ہیں ۔

تالیف قلبی:

مبلغ کا فرض ہے کہ وہ عوام کی تالیف قلبی کے لیے ہاتھ کھلا رکھے اور اپنے اثر و رسوخ کے ساتھ ان کے مسائل اور معاملات کو حل کرنے کی کوشش کرتا رہے کیونکہ اس طرز عمل کا لوگوں پر بہت بڑا اچھا اثر پڑتا ہے ویسے بھی کرم نوازی ایمان کی ایک شاخ ہے ۔ اللہ تعالیٰ کریم کرم کو پسند کرتا ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ ہمارے لیے مشعل راہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس قدر غرباءاور نادار افراد اور نو مسلموں کے ساتھ خلق عظیم کا برتاؤ فرماتے تھے ۔

لوگوں سے میل جول:

لوگوں سے میل جول رکھنا اور خود ان کے پاس چل کر جانا اور انہیں دعوت اسلام دینا خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم موسم حج میں بالخصوص اور عام دنوں میں بھی مکہ مکرمہ میں آنے والے عرب وفود سے ملاقاتیں کرتے اور ان کے سامنے دعوت اسلام پیش کرتے تھے کیونکہ دینی دعوت کی مثال باران رحمت جیسی ہے جو ہر جگہ دوست اور دشمن پر برستی ہے ۔

پروٹوکول کی دیواریں:

پروٹوکول کی دیواریں کھڑی کرنا اور عوام کی دسترس سے باہر ہو جانا ان کے لیے ملاقات کا طریقہ مشکل بنا دینا ایک داعی حق کے لیے مناسب نہ ہوگا کیونکہ لوگوں کا جسمانی غذا سے زیادہ روحانی غذا کے حصول کے لیے مبلغ دین کو اہم معاملے کا ادراک کرتے ہوئے اپنے آپ کو عوام کے لیے نرم خو اور ان کے قریب تر کرنا چاہیے ۔ جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ کس قدر عظیم ہے کہ بسا اوقات کوئی لونڈی حاضر خدمت ہوتی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک پکڑ کر اپنے کام کاج کے لیے لے جاتی ۔

بلند ہمت ہونا:

ایک داعی کے شایان شان ہے کہ وہ بلند ہمت ، متحرک اور سخی ہو اور اپنے آپ کو امت کی خیر خواہی کا ذمہ دار سمجھے ۔ اعلیٰ اہداف کے حصول کے لیے مسلسل جدوجہد جاری رکھے اس ضمن میں حد درجہ حریص ہونا ایک داعی حق کا طرہ امتیاز ہوتا ہے کیونکہ مومن خیر اور بھلائی سے کبھی بھی سیر نہیں ہوتا ۔

رحمن کے پاک باز بندوں کی شان قرآن میں یوں بیان کی گئی ہے:

والذین یقولون ربنا ھب لنا من ازواجنا وذریاتنا قرۃ اعین واجعلنا للمتقین اماما ( الفرقان:74 )

اللہ تعالیٰ ہمیں ان تمام باتوں پر عمل کرنے کی توفیق اور اخلاص کی دولت سے مالا مال فرمائے ۔ آمین
مولانا عبدالرحمن ثاقب
 
شمولیت
جولائی 16، 2018
پیغامات
5
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
6
بسا اوقات کوئی لونڈی حاضر خدمت ہوتی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک پکڑ کر اپنے کام کاج کے لیے لے جاتی

@محمد عامر یونس بہائی آپ سے گزارش ہے کہ اس واقعہ کا مکمل حوالہ دیں
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,495
پوائنٹ
791
بسا اوقات کوئی لونڈی حاضر خدمت ہوتی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک پکڑ کر اپنے کام کاج کے لیے لے جاتی

@محمد عامر یونس بہائی آپ سے گزارش ہے کہ اس واقعہ کا مکمل حوالہ دیں
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
یہ حدیث صحیح بخاری میں موجود ہے ؛
انس بن مالك، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ "إن كانت الامة من إماء اهل المدينة لتاخذ بيد رسول الله صلى الله عليه وسلم فتنطلق به حيث شاءت".
(صحیح بخاری 6072 )
سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق فاضلہ کا یہ حال تھا کہ ایک لونڈی مدینہ کی لونڈیوں میں سے آپ کا ہاتھ پکڑ لیتی اور اپنے کسی بھی کام کے لیے جہاں چاہتی آپ کو لے جاتی تھی۔

Anas bin Malik said, "Any of the female slaves of Medina could take hold of the hand of Allah's Apostle and take him wherever she wished."
USC-MSA web (English) Reference: Book 73 , Number 97

اور مسند احمد (11941 )میں یہی روایت ان الفاظ سے موجود ہے :
حدثنا هشيم، أخبرنا حميد، عن أنس بن مالك قال: " إن كانت الأمة من أهل المدينة لتأخذ بيد رسول الله صلى الله عليه وسلم فتنطلق به في حاجتها "
وقال الشيخ شعيب الارناؤط : إسناده صحيح على شرط الشيخين

سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ : (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق فاضلہ کا یہ حال تھا کہ ) ایک لونڈی مدینہ کی لونڈیوں میں سے آپ کا ہاتھ پکڑ لیتی اور اپنے کسی بھی کام کے لیے آپ کو لے جاتی تھی۔))

اور مسند کے حاشیہ میں ہاتھ پکڑنے سے مراد یہ بتائی ہے کہ :
قوله: "لتأخذ بيد رسول الله"، المراد بالأخذ باليد لازمه وهو الانقياد، وهذا دال على فريد تواضعه ومكارم أخلاقه، وبراءته من جميع أنواع الكبر صلى الله عليه وسلم. أفاده العيني والعسقلاني والقسطلاني
" علامہ ابن حجر عسقلانیؒ فتح الباری میں اور علامہ بدر الدین عینیؒ عمدۃ القاری میں اور علامہ قسطلانی ؒ ارشاد الساری شرح صحیح بخاری میں اس کی شرح میں جو فرمایا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس روایت میں ہاتھ پکڑنے سے مراد " اس لونڈی کی بات ماننا ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تواضع سے پیش آنا ، مکارم اخلاق کا اعلی نمونہ پیش کرنا، اور تکبر کی تمام صورتوں سے مبرا و منزہ ہونا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور دینی تعلیم و فتاویٰ کی عظیم سائیٹ (الاسلام سؤال و جواب ) پر مشہور سعودی محقق عالم شیخ صالح المنجد حفظہ اللہ لکھتے ہیں :

" كان النبي صلى الله عليه وسلم لا يصافح النساء ، وما مست يده يد امرأة أجنبية قط .
ولما أرادت النساء أن يبايعن الرسول صلى الله عليه وسلم بالمصافحة ، اكتفى بمبايعتهن بالكلام وقال لهن : (إِنِّي لَا أُصَافِحُ النِّسَاءَ، إِنَّمَا قَوْلِي لِمِائَةِ امْرَأَةٍ كَقَوْلِي لِامْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ) رواه النسائي (4181) - وهذا لفظه - وابن ماجة (2874) ، وأحمد (27006) ، وصححه الألباني في "صحيح النسائي"

. یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی عورتوں سے مصافح نہیں کرتے تھے ،اور نہ ان کے ہاتھ نے کسی اجنبی عورت کے ہاتھ کو چھوا تھا ،ایک دفعہ انصار کی خواتین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیعت کیلئے حاضر ہوئیں ، اور عرض کی کہ : اجازت دیجیے کہ ہم آپ کے دست مبارک پر بیعت کریں۔ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: ’’ میں عورتوں سے ہاتھ نہیں ملاتا۔ میرا زبانی طور پر سو عورتوں سے(بیعت کی) بات چیت کرنا ایسے ہی ہے جیسے ہر ہر عورت سے الگ طور پر بات چیت کروں۔ ‘‘
وقالت عائشة رضي الله عنها : " قَالَ لَهُنَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (انْطَلِقْنَ، فَقَدْ بَايَعْتُكُنَّ) وَلَا وَاللهِ مَا مَسَّتْ يَدُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَ امْرَأَةٍ قَطُّ ، غَيْرَ أَنَّهُ يُبَايِعُهُنَّ بِالْكَلَامِ " رواه البخاري (4891) ، ومسلم (1866) .
یعنی ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ : رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مومن عورتوں سے بیعت لیتے تو زبانی طور پر فرماتے کہ میں نے تمہاری بیعت قبول کر لی اور اللہ کی قسم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ نے کسی عورت کا ہاتھ بیعت لیتے وقت کبھی نہیں چھوا صرف آپ ان سے زبانی بیعت لیتے تھے "
وفي رواية للبخاري (7214) : " وَمَا مَسَّتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَ امْرَأَةٍ ، إِلَّا امْرَأَةً يَمْلِكُهَا " .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ نے کبھی کسی عورت کا ہاتھ نہیں چھوا‘ سوا اس عورت کے جو آپ کی لونڈی ہو ۔
قال ولي الدين العراقي رحمه الله :
" فيه : أنه عليه الصلاة والسلام لم تمس يده قط يد امرأة غير زوجاته وما ملكت يمينه ، لا في مبايعة ، ولا في غيرها ، وإذا لم يفعل هو ذلك مع عصمته وانتفاء الريبة في حقه : فغيره أولى بذلك .
والظاهر أنه كان يمتنع من ذلك لتحريمه عليه ؛ فإنه لم يُعدَّ جوازه من خصائصه " .
انتهى من "طرح التثريب

" ( 7 / 44 ، 45 ) .
عظیم محدث امام ولی الدین عراقیؒ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :اس حدیث سے واضح ہے کہ پیارے نبی ﷺ کے ہاتھ نے ازواج مطہرات اور اپنی لونڈیوں کے علاوہ کبھی کسی عورت کے ہاتھ کو مس نہیں کیا ، نہ بیعت کرتے وقت نہ کسی اور موقع پر ،
تو جب معصوم ہونے اور شک ہر گنجائش سے مبرا ہونے کے باوجود جب آپ ﷺ نے کسی عورت کے ہاتھ کو نہیں چھوا تو آپ کے علاوہ کسی کیلئے ایسا کرنا کیسے جائز ہوسکتا ہے ؟
اور ان احادیث سے ظاہر ہے کہ غیر عورت کو چھونا حرام ہے ۔
أما ما رواه البخاري (6072) عن أنس رضي الله عنه أنه قَالَ: " إِنْ كَانَتِ الأَمَةُ مِنْ إِمَاءِ أَهْلِ المَدِينَةِ، لَتَأْخُذُ بِيَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَنْطَلِقُ بِهِ حَيْثُ شَاءَتْ " .​

فقد حمل العلماء هذا الحديث على أن المراد به حسن خلق الرسول صلى الله عليه وسلم ، وانقياده لتلك الأمة ، وموافقته لها حتى يقضي حاجتها .
ولم يحملوا الأخذ باليد في هذا الحديث على ظاهره في الإمساك باليد ، وهذا أسلوب عربي معروف ، كما في الدعاء : "اللهم خذ بأيدينا إليك" أي : وفقنا للانقياد لك ، لأن من أخذ بيدك فقد انقدت له . "​

جہاں اس حدیث کی بات ہے جس میں منقول ہے کہ ((مدینہ کی کوئی بھی لونڈی آپ کا ہاتھ پکڑ لیتی اور اپنے کسی بھی کام کے لیے آپ کو لے جاتی تھی ))
تو اہل علم کے مطابق اس مطلب یہ ہے کہ :
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کریمانہ اتنے عمدہ اور اعلیٰ تھے ، کہ آپ کسی لونڈی کو بھی کسی کام سے انکار نہیں کرتے تھے ،​
یہ حدیث اپنے ظاہر پر محمول نہیں یعنی اس کا یہ معنی نہیں کہ وہ آپ ﷺ کا ہاتھ پکڑلیتی تھی ، بلکہ مراد یہ ہے کہ وہ آپ ﷺ کو اپنی غرض سے بلا کرلے جاتی ، یہ (ہاتھ پکڑنا ) ایک معروف عربی اسلوب ہے ، جیسا کہ ایک دعاء کے الفاظ ہیں (یا اللہ ! ہمارے ہاتھ اپنی طرف پکڑکر لے جا ) یعنی ہمیں اپنی اطاعت و بندگی پر لگادے،

قال الحافظ ابن حجر رحمه الله في "الفتح" (10/490) :
" الْمَقْصُودُ مِنَ الْأَخْذِ بِالْيَدِ : لَازِمُهُ ، وَهُوَ الرِّفْقُ ، وَالِانْقِيَادُ " انتهى .
وقال العيني رحمه الله في "عمدة القاري" (22/ 141):
" الْمرَاد من الْأَخْذ بِيَدِهِ : لَازمه ، وَهُوَ الرِّفْق والانقياد ، يَعْنِي : كَانَ خلق رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم على هَذِه الْمرتبَة، هُوَ أَنه لَو كَانَ لأمة حَاجَة إِلَى بعض مَوَاضِع الْمَدِينَة ، وتلتمس مِنْهُ مساعدتها فِي تِلْكَ الْحَاجة ، و وسلماحتاجت بِأَن يمشي مَعهَا لقضائها : لما تخلف عَن ذَلِك حَتَّى يقْضِي حَاجَتهَا " انتهى .

وانظر : "إرشاد الساري" (9/51) ، "مرقاة المفاتيح" (9/ 3713) .
مشہور حنفی محدث علامہ بدر الدین عینیؒ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں : اس حدیث میں ہاتھ پکڑ کر لے جانے سے مراد اس کی بات ماننا ،اور اس کے کام کیلئے اس کے ساتھ جانا مراد ہے ۔اور اصل مقصود یہ بتانا ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق شمائل ایسے تھے کہ ایک لونڈی بھی اگر کسی کام کیلئے کہتی ،یا کہیں لے جاتی تو انکار نہ فرماتے تھے ،اور اس کا کام کرنے سے پیچھے نہ ہٹتے تھے "
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وقد بَيَّن ثابت البناني في روايته عن أنس معنى هذا الحديث ، فروى ابن حبان في "صحيحه" (4527) من طريق ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : " أَنَّ امْرَأَةً كَانَ فِي عَقْلِهَا شَيْءٌ ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً ؟
فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ( يَا أُمَّ فُلَانٍ ، خُذِي أَيَّ الطُّرُقِ شِئْتِ ، فَقُومِي فِيهِ حَتَّى أَقُومَ مَعَكِ ) !!
فَخَلَا مَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنَاجِيهَا ، حَتَّى قَضَتْ حَاجَتَهَا ".
وصححه الشيخ شعيب الأرناؤوط في تعليقه على صحيح ابن حبان .
فليس في هذا الحديث التصريح بمس اليد ، ولا هو مخالف لما جزمت به عائشة رضي الله عنها ، من أن يد النبي صلى الله عليه وسلم ، لم تمس يد امرأة قط .

اور ہاتھ پکڑنے سے حقیقی مراد کیا ہے اس کی تصریح ثابت البنانی ؒ کی روایت میں ہے جو امام ابن حبان ؒ نے روایت کی ہے کہ : سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : کہ ایک ذہنی معذور عورت نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ مجھے آپ سے ایک کام ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا : اے ام فلاں ! آپ مجھے اپنے کام کیلئے جہاں لے جانا چاہیں لے جاسکتی ہیں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ علیحدگی میں تشریف لے گئے ،اور اس کے کہنے کے مطابق اس کا کام کردیا ،
شیخ شعیب ارناؤطؒ نے اس روایت کو صحیح کہا ہے ،
تو اس روایت سے واضح ہے کہ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ نہیں پکڑا ، اور یہ روایت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کے عین مطابق ہے جس میں وہ فرماتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی عورت کا ہاتھ نہیں پکڑا ،
https://islamqa.info/ar/226616
 
Top