• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مثل قرآن کتاب یا آیت لانے کے چیلنج کاحقیقی معنی ومفہوم اور غلطی ہائے مضامین

شاکر

تکنیکی ناظم
رکن انتظامیہ
شمولیت
جنوری 08، 2011
پیغامات
6,595
ری ایکشن اسکور
21,402
پوائنٹ
891
مثل قران دینی کتاب لانے یا اس کی جیسی سورت اور آیت لانے کے چیلنج کاحقیقی معنی ومفہوم اور غلطی ہائے مضامین


ایک بہت بڑا علمی فریب اور مغالطہ سادہ لوح لوگوں کے سامنے یہود و نصاری کے جھوٹے چمچے یہ دیتے ہیں کہ قران نے اپنے جیسا قران لکھنے یا سورت بنانے یا اس کے مثل آیت لانے کا جو چیلنج کیا ہے وہ چیلنج کئی بار پورا کردیا گیا ہے۔

پھر نمونے کے طور پر کچھ ایسی مزاحیہ عربی جملے والی آیات منظر عام پرلائی جاتی ہیں جو ہو بہو قران کی اندهى تقلید (blind following) ہوتی ہیں جس سے زیادہ سے زیادہ اتنا کہا جاسکتا ہے کہ قرانی الفاظ کی تقلید تو کرلی لیکن اس کی تاثیر کو جواب ديتے وقت موثر ودندان شكن جواب نا دے سکے اور علمی محفل میں غیر جانب دار محققین ماہرین لسانیات عرب کی نظروں میں خود کو نمونہ بناکر رہ گئے کیونکہ اس قسم کی لچر تحریروں پر قرانی عربی سے آشنا اہل علم و اہل زبان ہنس ہی سکتے ہیں-

اس معاملے کا سب سے پر لطف پہلو یہ ہے کہ فیس بوک پر کچھ نو وارد دہرئے تو كبھی کبھار اس قدر مشتعل و جذباتی ہوکر پوچھ بیٹھتے ہیں کہ چلو میں قران جیسی کتاب تحریر کردوں لیکن یہ فیصلہ کون کرے گا کہ میری کتاب افضل ہے یا قران؟؟؟
ان کے جواب میں ہم ان سے ہمیشہ یہ کہتے ہیں کہ " برادر من" قران کے مثل کتاب لکھ كر تنقيد وتبصره اور موازنہ كى خاطر پیش کردو باقی فیصلہ دنیا کے غیر جانب دار عربی آشنا اهل علم وقلم عوام کو خود کرلینے دو اور اس کتاب کو مارکیٹ میں آجانے کےبعد لوگوں کو اس کے اوپر ایمان لانے دو اور اس كتاب كو اپنااسوہ حیات بنانے دو۔

تاکہ پتہ چلے کہ آپ کی اس "تصنیف لطیف" کی مقبولیت کی معراج کیا ہے اور کتنی صدیوں تک لوگوں کے ذہن پر یہ حاوی رہنے کی صلاحیت رکھتی ہے؟؟؟؟

اصل مسئلہ یہ ہے کہ قران کریم نے اہل عرب کو جو چیلینج دیا تھا کہ اس کے مثل یا اس کے جیسی ایک سورت یا ایک آیت لائی جائے تو وہ اتنے بیوقوف نا تھے کہ اس چیلنج کی گہرائی اور حساسيت کو نہیں سمجھتے تھے اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو جھوٹا ثابت کرنے کے لئے عربی کی 500 صفحات کی محاورات اور لسانى وثقافتى وسماجى ومعاشى ادبیات پر کتاب لکھ نہيں سکتے تھے -

لیکن انہوں نے قران کو سنا سمجھا اور اس کے بعد ان سابقہ کافروں پر اس قران کا اثر دیکھا جو کسی وقت گناہوں میں لت پت تھے لیکن قران نے انہیں کیا سے کیا بنادیا تھا-

اس لئے ہمارے ننھے منے دہریوں کے لئے اس قرانی چیلینج کو قران سے ہی سمجھنا بے حد ضروری ہے کہ قران کے مثل قران لانے کا چیلینج آخر ہے کیا ۔

کیا وہ انسان جس نے قران کو اول تا آخر پڑھا ہی نا ہو اس پر تدبر نا کیا ہو وہ قران کے مثل یا اس جیسی کتاب یا سورت یا ایک آیت پیش کرسکے گا قران كا مقابلہ كرنا ہو توکم ازکم مد مقابل بندے کو اتنا پتا ہوناچاہئے کہ

1-قران کے اندر ایسے کون سے نمایاں مضامین و موضوعات ہیں جس كا تکرار واعاده كيا گیا ہے
2-اور سماجی پہلو سے کیا كيا تعلیمات ہیں مادی حوالے سے کیا رہنمائیاں ہیں
3-آخرت کے حوالے سے کیا انسٹرکشن ہیں
4-اور مختلف ادیان کا علمی رد کس طرح کیا گیا ہے
5- اور خود قران نے قران کے اندر اپنا تعارف کیسے کرایا ہے
5-اپنی تاثیر کیا گنوائی ہیں جو بقیہ کتابوں میں نہیں پائی جاتیں

مثلا اس حوالے سے تو سب سے پہلے خود قران نے ہی اپنے اہم اوصاف کے متعلق خبر دی ہے مثلا:-

1- اگر یہ قران کریم پہاڑ پر نازل ہوتا تو قران کی ہیبت وجلال سے پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجاتے (الحشر 21)
2-اس قران کو سننے کے بعد ان لوگوں کی آنکھوں سے بھی آنسو بہ پڑتے ہیں جو اس پر ایمان و یقین نہیں رکھتے (نساء 83)
3- اس قران کی تلاوت کرتے ہوئے یا یا اس کی آیت سننے کے بعد اہل ایمان کے دل کانپ جاتے ہیں (حج 34/35)
4-اگر اس کے اندر کچھ سختی ہو تو ان آیات کی برکت سے ان کے دل موم ہوجاتے ہیں (الزمر 23)
4-اہل ایمان کے ایمان میں زیادتی اور دل میں خشوع و خضوع پیدا ہوتا ہے (الانفال 2)
4- اس قران کو سننے کے بعد غور وفکر کے نتیجے میں لوگ روتے ہوئے سجدے میں گر پڑتے ہیں (بنی اسرائیل 109-107

قران دنیا کی واحد آسمانی کتاب ہے جو اپنے متعلق صاف طور پر
صد فی صد اعتماد سے یہ بتلاتی ہےکہ

5- کیوں اور کس لیے نازل ہوئی؟
6-اس سے فائدہ اٹھانے والےحقیقی لوگ کون ہیں؟
7-وہ کس پر نازل ہوئی؟
8-وہ کب نازل ہوئ اور کس رات نازل ہوئی؟
9-کس زبان میں نازل ہوئی؟
10-کہاں سے نازل ہوئی؟
11-کس کے ذریعے نازل ہوئی؟
12-دنیا کی سب سے پہلی دینی کتاب ہے جو کہتی ہے کہ اس کی حفاظت کی ضمانت اس کے مصنف ومنزل کی ہے

اس خاص زاوئے سے غور کیجیے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ ھندو اور
عیسائیت اور یہودیت اور دیگر ادیان باطلہ کی کتابیں اپنے متعلق ان سوالوں کا قابل اطمینان جواب نہیں فراہم کرتیں۔۔۔
قصه مختصر یاد رہے کہ تاریخ میں ہمیں بہت سی ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ دشمنان اسلام نے قرآن پاک کے ہی الفاظ لے کر چند آیات ترتیب کرنے کی کوششيں کیں ۔ خير كيا اس طرح قران كا چیلینج ٹوٹ گیا؟؟

جوابا عرض ہے کہ قرآن مجید کے الفاظ استعمال کرتے ہوئے دس یا پندرہ فقرات ترتیب دے لینا ، کسی عربی یا عجمی عالم کے لیے نہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مشکل تھا نہ آج ہے ۔

قرآن میں جو چلینج ہے وه يہ ہےكہ اگر سمجھتے ہو کہ قرآن دراصل رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم جیسے بشر رسول کی طبع زاد ايسى تصنیف ہے ہے جس کو پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں دل کانپ اٹھتے ہیں ۔ اور انکھوں سے آنسو نکلتے ہیں اور سوچ و فکر میں عظیم انقلاب برپا ہوتا ہے جسے صبح شام تلاوت کرنا لوگ باعث ثواب سمجھتے ہیں ، اور جس کی تعلیمات پر عمل کر کے زندگی بسر کرنا باعث نجات سمجھتے ہیں تو بنا لاؤ ایسی ہی ایک کتاب جو عربی فصاحت وبلاغت کی سب سے آخری چوٹی پر فائز ہو اور اس قدر جوامع الکلم ہوں کہ عقل دنگ رہ جائے جسے پڑھ کر پتھر دل انسان موم ہوجائيں جو دل و دماغ میں انقلاب برپا کردے اور جسے سات تا دس سال کا بچہ بھی بآسانی حفظ کرسکے اور اس پر فخر محسوس کرے۔ جس کی دن رات مشرق تا مغرب شمال تا جنوب مسلسل تلاوت ہو اور جس پر عمل کرنے میں لوگ اپنی نجات سمجھیں، جسے ویسا قبول عام حاصل ہو جیسا قرآن پاک کو حاصل ہے ، جسے پڑھنے کے بعد عربوں كى طرح مختلف جاهل اور مفلوك الحال غير متمدن وناخوانده افراد اوراجڈ لوگوں کی اصلاح ایسی ہو کہ قیصرو کسری جیسی اپنے وقت کی سپر پاور کو ناکوں چنے چنے چبوادیں-جسے پڑھنے کے بعد لوگوں کی سماجی زندگی میں ایس انقلاب آجائے کہ چوری زناکاری اور لڑکیوں پر بہتان لگانا یا انہیں زندہ دفن کرنا بند کردیا جائے دل ودماغ كى لت يعنى شراب پینی چھوڑ دی جائے مساکین ویتیم کی پرورش کی جائے اور صدقات و خیرات و زکوت کے زریعے دل سے مال کی محبت کماور انسانيت نوازى زياده ہو جائے-(سوره بقره 24/25)

کس کافر نے آج تک ایسی روحانی و قلبی انقلاب پیداکردینے والی کتاب لکھی ہے جس کے اندر دنیا اور آخرت اور ماضی و حال اور مستقبل میں ہونے والے تمام حالات کے متعلق پیشین گوئی قصے اور خبریں تک لکھ دی گئی ہوں اور دنیا نے اختلاف نا کیا ہو بلکہ یہ کتاب (قران) ایک ایسے ماحول اور وقت میں یہ باتیں بیان کررہی ہو جب اس کا تصورکرنا بھی ممکن نا ہو-

یہ ہے وہ چیلنج جو قرآن مجید نے آج سے چودہ سو سال پہلے دیا تھا جسے قبول کرنے کی سعی نامراد ماضی میں بھی کی گئی اور آج بھی کفار نے یہی سعی لاحاصل کی ہے اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے لیکن قیامت تک خائب و خاسر ہوں گے جو آیات قران کے جواب میں بعض مسیحی مشنریز یا عرب مرتدین و مدعیان نبوت کی طرف سے تصنیف ہوئیں انہیں کوئی پڑھنے والا تو کیا کوئي جاننے والا بھی نہیں ہے اورجواب تصنیف کی جارہی ہیں چند سال بعد ان کا حشر بھی يہی ہوگا ۔ بقول شاعر

نا ہوا پر نا ہوا میر کا سا انداز نصیب
ذوق یاروں نے بہت زور غزل میں مارا

قران نے صاف کہہ دیا ہے
ترجمہ ، باطل نہ سامنے سے اس پر آ سکتا ہے نہ پیچھے سے، یہ ایک حکیم و حمید کی نازل کردہ چیز ہے۔ (سورۃ حم السجدہ ۔ آیات 42 )

----------------------------------

ترتيب وتزئين :- سالم فريادى
--------------------------------
مراجع ومصادر
1- فضائل قران مجيد از اقبال كيلانى
2- تعليمات قران مجيد از اقبال كيلانى
3- علامت قيامت كا بيان از اقبال كيلانى
 

شاکر

تکنیکی ناظم
رکن انتظامیہ
شمولیت
جنوری 08، 2011
پیغامات
6,595
ری ایکشن اسکور
21,402
پوائنٹ
891
قران کا چیلنج ٭ اینڈرسن شا کی ایک تحریر کاجواب


مرتب: مرزا احمد وسیم بیگ


پہلے اینڈرسن شا کی تحریر ملاحظہ ہو:

سچ تو یہ ہے کہ چیلنج کا یہ آئیڈیا کچھ عجیب سا ہے، اللہ کو زیب نہیں دیتا کہ وہ اپنے تقدس اور مقام سے گرتے ہوئے انسانوں سے کسی بھی میدان میں مقابلے کا محاذ کھولے، خاص کر جبکہ چیلنج کا تعلق خالصتاً ایک بشری معاملے سے ہے، زبان خالصتاً انسانی صنعت ہے خدائی نہیں، زبانوں کی تشکیل انسانی معاشرے کرتے ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ اور بلا توقف ترقی کرتی رہتی ہیں اور تبدیل ہوتی رہتی ہیں، کیا ہم میں سے کسی کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ کسی چار سالہ بچے کے سامنے کھڑے ہوکر اسے کسی چیز کا چیلنج کرے؟ بہرحال آئیے دیکھتے ہیں کہ اس صورت میں چیلنج کا کیا مطلب ہے؟ کیا واقعی کوئی شخص کسی چیز جیسی کوئی دوسری چیز لاسکتا ہے جب تک کہ وہ بالکل ویسی نہ ہو؟ مِثل اور مماثلت کیا ہے؟ اگر میں کسی سے یہ مطالبہ کروں کہ وہ اس جیسی کوئی عبارت لاکر دکھائے:
❞القاعدون علی الجمر❝
تو اس کے جیسی عبارت بھی اسی کے جیسی ہی ہوگی:
❞القاعدون علی الجمر❝
اگر کوئی یہ عبارت لے آئے:
❞القاعدون علی الحصی❝
یا:
❞القاعدون علی الصخر❝

تو یہ اس کی جیسی یا مثل نہیں ہے بلکہ یہ الگ عبارتیں ہیں جن کا میری اصل عبارت سے کوئی تعلق نہیں ہے، البتہ ان دونوں عبارتوں کو ہمسری کے باب میں لیا جاسکتا ہے، جیسے قرآن کہتا ہے کہ:
❞لیس کمثلہ شیء❝ (الشوری 11)اس کے جیسی کوئی چیز نہیں۔

حقیقت تو یہ ہے کہ کسی بھی چیز کے جیسی کوئی چیز کبھی نہیں ہوتی، ہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ مراد اس کے جیسی بلاغت ہے مگر یہاں مذہبی جذباتیت یہ تعین کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی کہ کیا نیا متن اصل متن کے ہمسر ہے یا نہیں، یہی وجہ ہے کہ مسلمان ایسے کلام کا مذاق اڑاتا ہے:
❞والزارعات زرعا، والحاصدات حصداً❝ (مسلم بن حبیب سے منسوب)
مگر اس کا مذاق نہیں اڑاتا:
❞والعادیات ضبحاً، فالموریات قدحاً❝ (العادیات 1 اور 2)
آخر ان دونوں میں نوعیتی اور بلاغی فرق کیا ہے؟ حقیقت تو یہ ہے کہ دونوں میں قطعی کوئی فرق نہیں ہے، فرق صرف تقدس کا ہے، مسلمان دوسرے کو اللہ کا کلام سمجھتا ہے لہذا وہ بلیغ ہے چاہے وہ نا بھی ہو اور پہلا چونکہ اس کی نظر میں انسانی کلام ہے لہذا وہ لازماً مضحکہ خیز ہے چاہے وہ نا بھی ہو۔۔ مگر سچ تو یہ ہے کہ دونوں ہی انتہائی سادہ اور نا پختہ کلام ہیں، فرق صرف اتنا ہے کہ دوسرے کو تقدس حاصل ہے جبکہ پہلے کو وہ تقدس حاصل نہیں ہے<<

اس پر پہلے مرتب کا جواب ملاحظہ ہو:

تحریر کی ابتدا میں جو غچہ قارئین کو دینے کی کوشش کی گئی ہے وہ دو لفظ میں یہ ہے کہ خدا مخلوق کو چیلنج کرے؟! نا ممکن۔۔

تو جناب بات ایسی نہیں جیسی بنا کر پیش کی جارہی ہے۔۔ اگر خدا خود زمین پر اتر آیا ہوتا، اور براہ راست ان سے مخاطب ہوتا پھر فرماتا کہ ہمت ہو تو میرے جیسا کلام بنا لاؤ، تب تو یقینا ویسی ہی بات ہوتی۔
لیکن درحقیقت بات ویسی نہیں، یہاں خدا کا فرستادہ خدا کی طرف سے ایک کلام پیش کررہا ہے، اور مخاطبین اسے خدا کا فرستادہ اور اس کے پیش کردہ کلام کو خدا کا کلام تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہیں۔۔ لہذا ان سے کہا جارہا ہے کہ اگر یہ خدا کا کلام نہیں، بلکہ تمہارے جیسے بشر کا کلام ہے، تو پھر تم بھی تو اس جیسے بشر ہو، تمہاری زبان بھی تو عربی ہے، تمہیں اپنی عربی پر ناز بھی ہے، تو کیوں نہ تم ایک سورت اس جیسی بنا لاؤ!!!

اب دیکھیں کہ کیا واقعی کوئی اس چیلنج کو پورا کرسکا؟ کوئی ایک چھوٹی سے چھوٹی سورت لائی جاسکی، ایسی فصاحت وبلاغت اور ایسے اسلوب بیان کے ساتھ؟؟ (جو یقینا غیر معمولی اور عجیب وغریب ہے!! کچھ جھٹلایا جائے ،یہ نہیں جھٹلایا جاسکتا کہ کفار بھی اسے سحر اور جادو سے تعبیر کرنے پر مجبور ہوئے۔۔۔ اگر یہ عجیب وغریب اور غیر معمولی نہ ہوتا تو ایسا کبھی نہ کہتے، کہتے کہ یہ تو ایک لغو سا عام سا، غیر فصیح وبلیغ کلام ہے)

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں کہ قران کا مقابلہ کرنے کی جو مثال پیش کی گئی، وہ اس قدر لغو ہے کہ اس سے چیلنج ٹوٹ جانے کا دعوی کوئی عقل سے ڈھیلا ہی کرسکتا ہے۔۔۔

اول تو یہی کہ اس میں قسمیں کھا کر چھوڑ دیا گیا ہے، قسم کس بات پر کھائی گئی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ کسی بات پر نہیں، تو یہ اولین لغویت جو اس میں پائی گئی،
دوسری جانب نہ اس میں کچھ عجیب وغریب ہے، نہ چونکانے والی چیز ہے،
اور جو ہے وہ معنی خیز نہیں مضحکہ خیز ہے، یعنی الزارعات، ارے بھائی آخر کھیتی کرنے والیاں کیوں؟ کرنے والے کیوں نہیں؟؟ کیا اس کا کوئی مطلب؟؟
اسی طرح آگے تلک۔۔!
پھر کھیتی کرنے اور کھیتی کاٹنے، پھر اناج پیس کر روٹی بنانے والیوں میں ایسی کونسی عظمت کی بات ہے کہ ان کی قسم رب ذوالجلال کی جانب سے کھائی جائے؟

غرض ہر طرف سے اسے لغویت نے گھیرا ہوا ہے۔۔

اب ذرا العادیات کی طرف آئیں۔۔ اول تو انصاف سے بتائیں، جس قسم کا صوتی آہنگ اور زور والعادیات ضبحا فالموریات قدحا۔۔ میں پایا جارہا ہے، اس کا اتہ پتہ والزارعات زرعا میں ہے؟؟ ( اعجاز کے کوئی ایک دو پہلو نہیں ہیں، مجموعی حیثیت سے دیکھا اور فیصلہ کیا جائےگا) خیر آگے چلیں۔
گھوڑے کے لئے اور بھی لفظ تھے لغت میں فرس، حصان۔۔۔ والحصانات ضبحا نہ کہہ کر والعادیات کا لفظ، اپنے آپ میں بھی ایجاز واعجاز، نیز فصاحت وبلاغت کی معراج ہے۔۔۔!!
عادیات عادیہ کی جمع ہے، جس کے معنی جنگ کے لئے تیار جماعت، دوسری طرف اس کے مادے عدا یعدو کا معنی دوڑنا چنانچہ تعاد القوم کا مطلب ہوتا ہے، دوڑ کا مقابلہ کرنا۔۔۔ غرض ایک چونکانے والا لفظ، آگے کے لفظ ضبحا سے اتصال ہوتے ہی ایک حسین امتزاج بنا جس سے نہ صرف گھوڑے کے مفہوم کی تعیین ہوگئی بلکہ لفظ میں موجود یہ دونوں معنی ایک حسین پیرائے میں سمو دیے گئے، ترجمہ تو ہم صرف اتنا کرسکتے ہیں، قسم ہے دوڑنے والے (گھوڑوں) کی جو دوڑتے وقت ہانپتے ہیں، مگر عربی سے واقف شخص اس میں جنگ کے لئے نکلنے والے کا مفہوم بھی سمجھ گیا (اور گھوڑوں کا بھی جن کے لئے لفظ یہاں موجود نہیں)۔۔ پھر آگے اسی کی مزید تفصیل۔۔
اب اس قسم کا مقصد کیا؟؟ تو خلاصہ یہ ہے کہ گھوڑوں کے ذکر سے یہاں جنگ وقتال کے لئے استعمال ہونے والی قوت ہے (ممکن ہے آپ کو بظاہر دو مفسروں میں اختلاف نظر آئے، مگر جب گہرائی میں جائیں گے تو مقصود میں کوئی فرق واقع نہیں ہوگا۔۔) تو یہ ایک عظیم قوت ہے، مگر اس کا غلط استعمال آدمی اس لئے کرتا ہے، کہ وہ ناشکرا ہے، اور مال کے لالچ(موجودہ دور میں وسائل کے حصول) اور لوٹ مار کے لئے اس کا استعمال کرتا ہے، (جب کہ اس کو اچھے کاموں، فتنہ وفساد مٹانے اور ظلم وستم کے خاتمے کے لئے استعمال کیا جائے تو یہ ایک عظیم قوت ہے)۔۔

ذرا ایک مفسر کا لکھا ہوا اس سورت کا خلاصہ ملاحظہ فرمائیں اور اس سے خود فیصلہ فرمالیں کہ یہ سورت کیسے عظیم الشان مطالب پر مبنی ہے۔۔۔:
"اس کا مقصود لوگوں کو یہ سمجھانا ہے کہ انسان آخرت کا منکر یا اس سے غافل ہو کر کیسی اخلاقی پستی میں گر جاتا ہے، اور ساتھ ساتھ لوگوں کو اس بات سے خبردار بھی کرنا ہے کہ آحرت میں صرف ان کے ظاہری افعال ہی کی نہیں بلکہ ان کے دلوں میں چھپے ہوئے اسرار تک کی جانچ پڑتال ہوگی۔ اس مقصد کے لیے عرب میں پھیلی ہوئي اس عام بدامنی کو دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے جس سے سارا ملک تنگ آیا ہوا تھا۔ ہر طرف کشت و خون برپا تھا۔ لوٹ مار کا بازار گرم تھا۔ قبیلوں پر قبیلے چھاپے مار رہے تھے اور کوئی شخص بھی رات چین سے نہیں گزار سکتا تھا کیونکہ ہر وقت یہ کھٹکا لگا رہتا تھا کہ کب کوئی دشمن صبح سویرے اس کی بستی پر ٹوٹ پڑے۔ یہ ایک ایسی حالت تھی جسے عرب کے سارے ہی لوگ جانتے تھے اور اس کی قباحت کو محسوس کرتے تھے۔ اگرچہ لٹنے والا اس پر ماتم کرتا تھا اور لوٹنے والا اس پر خوش ہوتا تھا، لیکن جب کسی وقت لوٹنے والے کی شامت آ جاتی تھی تو وہ بھی یہ محسوس کر لیتا تھا کہ یہ کیسی بری حالت ہے جس میں ہم لوگ مبتلا ہیں۔ اس صورتحال کی طرف اشارہ کر کے یہ بتایا گیا ہے کہ موت کے بعد دوسری زندگی اور اس میں خدا کے حضور جواب دہی سے ناواقف ہو کر انسان اپنے رب کا ناشکرا ہو گیا ہے، وہ خدا کی دی ہوئی قوتوں کو ظلم و ستم اور غارت گری کے لیے استعمال کر رہا ہے، وہ مال و دولت کی محبت میں اندھا ہو کر ہر طریقے سے اسے حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے، خواہ وہ کیسا ہی ناپاک اور گھناؤنا طریقہ ہو، اور اس کی حالت خود اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ وہ اپنے رب کی عطا کی ہوئی قوتوں کا غلط استعمال کر کے ناشکری کر رہا ہے۔ اس کی یہ روش ہر گز نہ ہوتی اگر وہ اس وقت کو جانتا ہوتا جب قبروں سے زندہ ہو کر اٹھنا ہوگا، اور جب وہ ارادے اور وہ اغراض و مقاصد تک دلوں سے نکال کر سامنے رکھ دی جائیں گے جن کی تحریک سے اس نے دنیا میں طرح طرح کے کام کیے تھے۔ اس وقت انسانوں کے رب کو خوب معلوم ہوگا کہ کون کیا کر کے آیا ہے اور کس کے ساتھ کیا برتاؤ کیا جانا چاہیے۔"

دیکھئے کتنے حسین پیرائے میں قسم بھی کھالی گئی، (جو آگے کے مقصود میں زور پیدا کرے)، ان قوتوں کی عظمت بھی بیان کردی گئی، اور مخاطبین کے ذہن کو ان کے حال اور واقع کی طرف مبذول بھی کردیا گیا۔۔ اور پھر نہایت عظیم الشان مطالب بھی بیان کردیے گئے۔۔۔:

اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے۔

قسم ہے اُن ﴿گھوڑوں﴾ کی جو پھُنکارے مارتے ہوئے دَوڑتے ہیں، پھر ﴿اپنی ٹاپوں سے﴾ چِنگاریاں جھاڑتے ہیں، پھر صبح سویرے چھاپہ مارتے ہیں، پھر اس موقع پر گَردوغبار اُڑاتے ہیں، پھر اِسی حالت میں کسی مجمع کے اندر جا گھُستے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے ربّ کا بڑا ناشکرا ہے، اور وہ خود اِس پر گواہ ہے، اور وہ مال و دولت کی محبت میں بُری طرح مُبتلا ہے۔ تو کیا وہ اُس وقت کو نہیں جانتا جب قبروں میں جو کچھ﴿ مدفون﴾ ہے اُسے نکال لیا جائے گا، اور سینوں میں جو کچھ ﴿ مخفی﴾ہے اُسے بر آمد کر کے اس کی جانچ پڑتال کی جائے گی؟یقیناً اُن کا ربّ اُس روز اُن سے خوب باخبر ہوگا۔

یہ ایک مثال ہے جو اس لئے سامنے لائی گئی کہ تحریر میں اسے پیش کیاگیا ہے، ورنہ تو پورے قران کی ایک ایک آیت اعجاز کا، حکمتوں کا، نور کا، ہدایت کا سرچشمہ ہے!!


مزید قاری حنیف ڈار صاحب کے جواب کو ملا لیں تو بات پوری ہوجاتی ہے :

قرآنِ حکیم کا چیلینج !
قرآن نے کسی سے کبھی بھی آیت بنا کر لانے کو نہیں کہا ،، لوگ کسی پاگل کے دو چار جملے کوٹ کر کے کہتے ھیں کہ جناب ،،یہ دیکھیں ،، یہ بھی عربی ھے اور کلام بھی ھے ،لہذا قرآن کا چیلنج پورا ھو گیا ھے ! مثلاً والزارعات زرعا، والحاصدات حصداً❝ (مسلم بن حبیب سے منسوب)
گویا '❞والعادیات ضبحاً، فالموریات قدحاً❝ (العادیات 1 اور 2) کی کاپی کی گئ ھے ،،مگر یہ تو آیات کی نقل کی گئ ھے ،،سورت تو بنا کر نہیں لائی گئ،، چینلنج تو یہ ھے کہ " فأتوا بسورۃٍ من مثلہ " نہ کہ آیتٍ من مثلہ ؟ آیتیں مکے والے بھی بنا سکتے تھے ،عرب تھے اور ان کے قبیلے کی زبان اور اصطلحات استعمال ھو رھی تھیں ،،
ساری مشکل سورت بنا کر لانا تھا ،،کیونکہ سورت کی شرائط پوری کرنا مشکل تھا ،، پہلی شرط کہ اس کا کوئی مخاطب ھو ،، دوسری شرط یہ کہ اس کا کوئی موضوع ھو ،تیسری شرط یہ کہ اس کا ابتدائیہ ھو ، مضمون ھو اور اختتامیہ ھو ،، پھر دیکھا جائے کہ اللہ نے سورت میں اپنے موضوع اور مخاطب سے انصاف کیا ھے یا نقل بنانے والے نے ؟
چیلنج یہ ھے ! جو کبھی پورا نہ ھو سکے گا !!(یہاں قاری صاحب کی تحریر ختم ہوئی)


تو جناب آپ نے دیکھا کہ کسی قسم کے رد عمل کا شکار یا کسی سازش کے تحت اسلام کی مخالفت میں "مبتلا" اینڈرسن شا نے کس طرح تلبیسات کا سہارا لے کر اپنے بے بنیاد موقف کو ثابت کرنے کی کوشش کی۔۔ اب ذرا ایک غیر جانب دار کا تبصرہ بھی ملاحظہ فرمالیں:
پروفیسر جانسن لکهتے ہیں:

قرآن اگر شاعری نہیں ہے، اور یہ کہنا مشکل یے کہ وه شاعری ہے یا نہیں ہے،تب بهی وه شاعری سے زیاده ہے- وه تاریخ نہیں ہے اور نہ وه سوانح عمری ہے- وه انجیل کے پہاڑی کے وعظ کی طرح مجموعہ امثال نہیں ہے-وه مابعد الطیعاتی مکالمہ نہیں ہے جیسا کہ بدها کے سوتر میں پایا جاتا ہے- وه موعظت بهی نہیں ہے جیسا کہ افلاطون کے یہاں عاقل اور نادان کی مجلسوں میں پایا جاتا ہے-وه ایک پیغمبر کی پکار ہے-وه آخری حد تک سامی اور عربی ہے،اس کے باوجود اس میں ایسی معنویت ہے جو انتہائی آفاقی ہے اور وه اتنا مطابق وقت ہے کہ ہر زمانہ کی آوازیں اس کو ماننے پر مجبور ہیں،خواه وه اس کو چاہیں یا نہ چاہیں-اس کی آواز کی بازگشت محلوں اور صحراوں میں، شہروں اور بادشاہتوں میں سنائی دیتی ہے-پہلے وه اپنے منتخب دلوں میں عالمی فتح کی آگ سلگاتا ہے-اس کے بعد وه ایک ایسی تعمیری طاقت بن جاتا ہے جیسے کہ یونان اور ایشیا کی تمام تخلیقی روشنی مسیحی یورپ کی گہری تاریکیوں میں داخل هو جائے،اس وقت جب کہ مسیحیت صرف رات کی ملکہ کی حیثیت رکهتی تهی-

نیز قران کے بارے میں یہ تحریر بھی ضرور ملاحظہ فرمائیں جس کا لنک دیا جارہا ہے:
http://lib.bazmeurdu.net/حیرت-انگیز-قرآن-۔۔۔-پروفیسر-گیری-ملر-تر/

مزید فیصل بنگش کی جانب سے ایک ضمنی اعتراض ملاحظہ ہو:قرآن ایک غیر واضح کلام ہے جس سے اپ اپنی مرضی کا مطلب نکال لیتے ہیں ...

اس پر قاری حنیف ڈار صاحب کاجواب ملاحظہ ہو:

دوسرا اعتراض یہ کیا جاتا ھے کہ یہ کیسا قرآن ھے کہ اس کی آیات کا جو چاھو مطلب نکال لو ،، فلاں مفسر نے تو یہ مطلب بیان کیا اور سو سال بعد والے مفسر نے یہ بیان کر دیا اور 1200 سال بعد والے نے یہ بیان کر دیا !
اصل میں عقل نہ ھو تو موجاں ای موجاں والا معاملہ ھے ، ورنہ یہی تو قرآن کا اعجاز ھے کہ یہ تہہ در تہہ اور ذو معنی بات کرتا ھے ،، جس زمانے میں جس مطلب کی ضرورت ھو گی وہ ضرورت قرآن سے ھی پوری کی جائے گی قیامت تک ،، مگر لطف یہ ھے کہ لغت سے باھر جانے کی ضرورت نہیں پڑتی ،، یہ عیب نہیں اللہ کے کلام کی خوبی ھے !
شعراء میں جس شاعر کا کلام کثیر المعنی ھوتا ھے وہ شاعر ملک الشعراء کہلاتا ھے اور اس کا کلام کلام الملوک کہلاتا ھے ،مثلا ً غالب کا شعر ھے کہ " ویرانی سی ویرانی ھے ، دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا ،،یہ ذومعنی شعر ھے ،،یہ بھی ھو سکتا ھے کہ دشت کی مذمت کی جا رھی ھو ،کہ دشت میں ویرانی کا عالم دیکھ کر گھر یاد آیا ،، اور خود گھر کی بھی مذمت ھو سکتی ھے کہ ،، اس دشت کی ویرانی کو دیکھ کر گھر کی ویرانی کا اندازہ ھوا ھے کہ میرے گھر میں تو دشت سے بھی زیادہ ویرانی تھی ،، یوں یہ شعر معرکۃ الآراء شعر گنا جاتا ھے !!
اسی طرح سودا کا ایک شعر ھے !
سودا تیرا جو حال ھے ،ایسا تو نہیں وہ !
کیا جانئے تو نے اسے کس حال میں دیکھا !
اب یہ ذومعنی شعر ھے ، کہ سودا جس طرح تو اس کے پیچھے پاگل ھو گیا ھے اتنا خوبصورت بھی نہیں ھے وہ ! اب پتہ نہیں تو نے اسے کس حال میں دیکھ لیا ھے کہ تجھے مغالطہ لگ گیا ھے ،یعنی وہ کس حال میں تھا کہ تو نے دیکھ لیا ،،، یا تو کس حال میں تھا جب اس کو دیکھ لیا یعنی شاید تو نے پی ھوئی تھی ! یہ دونوں مطلب 100% فٹ بیٹھتے ھیں ،، اس شعر کو بھی معرکۃ الآراء اشعار میں گنا جاتا ھے !
اس طرح اللہ کے کلام کے بارے میں نبئ کریمﷺ نے ارشاد فرمایا ھے کہ اس کے عجائب قیامت تک ختم نہیں ھونگے ،، علماء اس کبھی سیر نہیں ھونگے ،یعنی آئیڈیاز اسی قرآن میں سے اخذا کیئے جاتے رھیں گے اور قیامت تک کی ضرورتوں کو اس کے مفاہیم کفایت کرتے رھیں گے !!
اعتراض کرنے والے اعتراض کرتے رھیں گے !(یہاں قاری صاحب کی تحریر ختم ہوئی)اب مرتب کا جواب بھی ملاحظہ ہو:

قران کو نہ پڑھنے والا ناواقف شخص ہی ایسی بات کہہ سکتا ہے کہ قران ایک غیر واضح کلام ہے۔۔

کسی کلام کی فصاحت وبلاغت کا فیصلہ اس زبان کے ماہرین کرتے ہیں، اور کفار مکہ نے بھی کبھی قران پر یہ اعتراض نہ کیا۔۔

رہا یہ مسئلہ کہ کسی فصیح بلیغ کلام کو اگر کوئی سمجھ نہیں پاتا تو کیا اس میں کلام کا قصور ہے؟؟ تو لازمی طور پر ایسا نہیں ہے، کبھی ایسا بھی ہوسکتا ہے، کبھی اس میں سمجھنے والے کے علم وفہم کا قصور ہوتا ہے، اور قران پڑھنے والا ہر شخص جانتا ہےکہ قران کا معاملہ یہی موخرالذکر والا ہے۔۔۔

رہی یہ بات کہ ہر شخص اپنی مرضی کا مطلب نکال سکتا ہے، تو کسی بھی کلام میں ہم یہ دیکھتے ہیں، کہ کبھی ایک ہی بات کے دو معنی ہوتے ہیں، اور دونوں ہی سیاق وسباق میں سیٹ ہونے والے ہوتے ہیں، اور مقصود ومدعا پر ان میں سے کوئی اختیار کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔

کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کلام ایک معنی کا متحمل ہی نہیں ہوتا، لیکن اس کو سمجھنے والا یا تو اپنی کوتاہ فہمی کے سبب یا پھر کسی عناد، تعصب یا کسی ذاتی مفاد کی خاطر اور ذاتی رائے کو ثابت کرنے کی غرض سےاس کو زبردستی کوئی مفہوم پہناتا ہے، تو اس میں کلام کی کوئی کمی نہیں ہوتی، کمی سمجھنے والے کی ہوتی ہے۔۔
 

شاکر

تکنیکی ناظم
رکن انتظامیہ
شمولیت
جنوری 08، 2011
پیغامات
6,595
ری ایکشن اسکور
21,402
پوائنٹ
891
طلحہ بھائی، ازراہ کرم انجانے میں ملحدین کا لٹریچر پھیلانے میں معاون نہ بنیں۔
آپ نے جو ویڈیو پیش کی ہے۔ اس میں فقط پھکڑ پن ہی ہے۔ قرآن ہی کی آیات میں اعراب اور ایک آدھ لفظ بدل کر اسے مخالف مفہوم کا حامل بنا دیا گیا ہے۔
 

ابن قدامہ

مشہور رکن
شمولیت
جنوری 25، 2014
پیغامات
1,772
ری ایکشن اسکور
426
پوائنٹ
198
طلحہ بھائی، ازراہ کرم انجانے میں ملحدین کا لٹریچر پھیلانے میں معاون نہ بنیں۔
آپ نے جو ویڈیو پیش کی ہے۔ اس میں فقط پھکڑ پن ہی ہے۔ قرآن ہی کی آیات میں اعراب اور ایک آدھ لفظ بدل کر اسے مخالف مفہوم کا حامل بنا دیا گیا ہے۔
ویسے میرےآج کل ملحدوں سے مناظرے ہورہے ہیں۔میر ے خیال عام آدمی کے اس سے گمرا ہ ہونے کا خدشہ ہے اس لیے ویڈو
لگاکر نیچے اس کا رد لکھ دینا چا ہیے ۔تاکہ لوگ کواسی ویڈوز کی حقیقت کا علم ہو جاے
 
Last edited:

ام اویس

رکن
شمولیت
جون 29، 2016
پیغامات
163
ری ایکشن اسکور
8
پوائنٹ
48
اس قران کو سننے کے بعد ان لوگوں کی آنکھوں سے بھی آنسو بہ پڑتے ہیں جو اس پر ایمان و یقین نہیں رکھتے (نساء 83)
حوالہ غلط ہے۔ المائدہ :83
 
Top