• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مجموع فتاوی شیخ الاسلام امام ابنِ تیمیہؒ

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,500
پوائنٹ
791
مطب یہ ہے کہ امام ابن تیمیہ کے فتاوی کا جو مجموعہ ہے جو تقربنً ۳۸ جلدوں میں ہے اس کی محدث لاہبریری میں شامل ہونے کی کوئئ امید ہے
اگر " مجموع فتاویٰ ابن تیمیہ " عربی (جو 37 جلدوں میں ہے ) کی بات کر رہے ہیں ،تو وہ کئی سائیٹوں پر موجود ہے ،
https://archive.org/details/mjftitdrwf
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور اگر آپ اس کے اردو ترجمہ کی بات کرتے ہیں تو وہ ہمارے علم میں نہیں ۔۔
ــــــــــــــــــــــــــ
اور محترم بھائی جناب [SIZE=6]@محمد نعیم یونس[/SIZE] صاحب سے گذارش ہے کہ فتاوی ابن تیمیہؒ کے متعلق ان دو پوسٹوں کو ایک نئے تھریڈ میں منتقل کردیں ،جزاکم اللہ تعالی خیراً


 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,500
پوائنٹ
791
فتاوی امام ابن تیمیہؒ کے ترجمہ و اشاعت سے متعلق مزید کچھ باتیں درج ذیل تھریڈ میں پڑھیں ؛
فتاوی ابن تیمیہؒ
 
شمولیت
مئی 30، 2017
پیغامات
93
ری ایکشن اسکور
15
پوائنٹ
52
السلام علیکم محترم اسحاق سلفی



ابن تیمیہ،رح کا اس پر کہنا ہے

مجموع الفتاوى ج: 5 ص: 396
(وأما رسالة أحمد بن حنبل الى مسدد بن مسرهد فهى مشهورة عند أهل الحديث والسنة وأصحاب أحمد وغيرهم تلقوها بالقبول وقد ذكرها أبو عبدالله بن بطة فى كتاب الإبانة واعتمد عليها غير واحد كالقاضى أبى يعلى وكتبها بخطه) انتهى

امام احمد کا خط جو مسدد کو لکھا گیا ہے وہ اصحاب احمد اور اہل حدیث میں مشہور ہے اور اس کو درجہ قبولیت حاصل ہے اور اس کا ذکر امام ابن بطہ نے کتاب الابانہ میں کیا ہے اور اسی پر قاضی ابو یعلی وغیرہ نے اعتماد کیا ہے

اس فتویٰ کی حقیقت کیا ہے

اور کیا امام احمد بن حمبل رح فرشتوں کو پکارنے کے قائل تھے ایک تھریڈ دیکھا یہاں شیخ کفایت اللّه صاحب کا جس میں اس حدیث کو ضعیف کہا گیا ہے جس حدیث سے امام احمد بن حمبل کا یہ عقیدہ بتایا جاتا ہے

جو ابن عبّاس رض سے مروی ہے
 
Top