• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

انٹرویو محترم انس نضر صاحب ( منتظم اعلی )

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,517
پوائنٹ
604
منتظمِ اعلی انس نضر بھائی کا انٹرویو
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
اُمید کرتے ہیں کہ آپ سب خیریت سے ہوں گے اللہ تعالی سے دُعا ہے کہ وہ آپ کو اور آپ کی فیملی کو اپنے حفظ وامان میں رکھے اور آپ کی ہر جائز خواہش کو پورا کرے آمین اور آپ سب کی زندگی میں آنے والے ہر دُکھ و پریشانی کو خوشیوں میں بدل دے آمین۔
اللہ تعالی نے ہر ایک کو بے شمار صلاحیتوں اور خوبیوں سے نوازا ہے۔مگر ہم میں کچھ ایسے مسلمان ہیں ، جو اللہ تعالی کی دی گئی ان صلاحیتوں کو نہ صرف مثبت اور تعمیری کام میں لگاتے ہیں ، بلکہ دیگر لوگوں میںبھی دینی و اصلاحی تحریک کی جستجو پیدا کرتے ہیں۔ایسا ہی ایک نام محترم فاضل ڈاکٹر حافظ انس نضر مدنی صاحب کا ہے۔جنھوںنے دن رات کی تگ ودو سے ایک ایسے پلیٹ فارم کو قائم کیا ، جہاں سے خالص اسلامی تعلیمات کی نشرواشاعت ممکن ہو۔بہت ہی شفیق مزاج ، نڈر، اور تفکراتی سوچ رکھتے ہیں۔۔ان کی شخصیت کے مزید پہلوؤں کو جاننے کے لیے آج ہم ان کا انٹرویو پیش کر رہیں ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ انھیں دین اسلام میں مزید ترقی کی منازل نصیب ہوں۔آمین
سوالات کو سلسلہ شروع کرنے سے پہلے محدث فورم کے اعدادوشمار کا جائزہ لیتے ہیں ۔
محدث فورم کے اعدادو شمار
پیغامات: 1,66,747
موضوعات کی تعداد: 20,355
ممبران: 2454
1۔آپ کا مکمل نام ، اور آپ کی رہائش؟
2۔آپ کی تعلیمی قابلیت کیا ہے ، ؟ آپ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے فارغ التحصیل ،عالم وفاضل ہیں، وہاں قیام کیسا گزرا اور دین اسلام کے لیے کیا جانے والا یہ سفر کیسا رہا؟ایک مختصر نقشہ کشی کیجیئے۔
3۔آپ کا پیشہ کیا ہے؟
4۔عمرکتنی ہے ؟
5۔شادی ہوئی ؟ اولاد ہے ؟ ان کے نام کیا ہیں ؟ ان کو کیا بنانا چاہتے ہیں ؟
6۔مزاجا کیسی طبیعت کے مالک ہیں؟ آپ اجتماعیت پسند ہیں یا انفرادیت پسند؟
7۔انٹرنیٹ کی دنیا سے کب متعارف ہوئے ؟ اور اس پر دینی کام کرنے کا رجحان کیسے پیدا ہوا ؟
8۔ ایسا کون سا کام ہےجس کو سرانجام دیکر آپ کو قلبی مسرت ہوتی ہے؟
9۔فرصت اور پریشان کن لمحات کن امور پر صرف کرتے ہیں؟ آپ کے روز مرہ کے مشاغل کیا ہیں؟
10آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟
11۔وہ کون سی ایسی خواہش یا خواب ہے جو اب تک پورا نہ ہو سکا؟
12۔کس چیز سے خوف زدہ ہو جاتے ہیں؟
13۔مستقبل میں ایسا کیا کرنا چاہتے ہیں ، جو ابھی تک نہیں کیا؟
14۔ کسی کے ساتھ پہلی مُلاقات میں آپ سامنے والے میں کیا ملاحظہ کرتے ہیں ؟
15. اِس پُرفتن دور میں دُنیا کے مجموعی حالات کو دیکھ کر آپ کیا سوچتے ہیں؟
16۔محدث لائبریری اور فورم ، یہ سفر کیسے مکمل کیا ؟؟ آغاز میں کیسی مشکلات سامنے آئیں؟
17محدث فورم کے وہ کون سے رکن ہیں ، جن کی تحاریر سے آپ متاثر ہوئے اور آپ کو ان رکن سے دینی فائدہ حاصل ہوا؟
18مسقبل میں کیا کچھ کرنے کا عزم رکھتے ہیں ہمیں بھی اس سے آگاہ کیجئے ہوسکتا ہے آپ کو محدث فورم سے کوئی ہمنوا مل جائے ؟
19۔ہدایت اللہ کی طرف سے آتی ہے، مگر اللہ تعالی ایسے اسباب بنا دیتے ہیں ، جو ہدایت کا باعث بن جاتے ہیں ، آپ کی زندگی میں ان اسباب کا کیا کردار رہا؟؟
20۔زندگی کے اتنے ادوار گزار لینے کا بعد زندگی سے کیا سیکھا؟؟
21۔دین اسلام کی ترقی و بلندی کے لیے ، مسلمانوں میں کس چیز کی ضرورت محسوس کرتے ہیں؟؟
22۔نوجوان طبقے کے لیے وہ چند ضروری باتیں کون سی ہوں گی ، جن سے وہ راہ راست اختیار کر سکیں؟؟
23۔دین اسلام کے بیش بہا موضوعات میں سے وہ کون سا ایسا موضوع ہے ، جس کی محفل آپ کو بہت بھاتی ہے؟؟
24۔ہر انسان زندگی کے کسی نہ کسی شعبہ میں مہارت اور قابلیت رکھتا ہے ، اس حوالے سے اپنی صلاحیتوں کی تلاش کیسے ہوئی ؟ نیز اس مہارت اور قابلیت کا تذکرہ بھی کیجیئے۔
25۔دین اسلام پر عمل کرتے ہوئے معاشرے کی کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟ اور ان رکاوٹوں کا سدباب کس طرح کیا؟
26۔پاکستانی سیاست میں بطور عالم دین شمولیت کا ارادہ رکھتے ہیں؟؟
27۔دین کے معاملے پر کس شخصیت پر رشک آتا ہے؟
28۔امور خانہ داری میں کیا کردار ادا کرتے ہیں؟
29۔کھانے میں کیا پسند کرتے ہیں؟؟اور اگر خود کھانا بنانا پڑے تو؟؟؟
30۔کیا آپ فورم پر کسی کو نظامت کا اہل سمجھتے ہیں؟جو قائم مقام ناظم کی جگہ لیں سکیں؟ ہلکا پھلکا سوال سمجھا جائے۔
31۔آپ کا تعلق ماشاء اللہ دین دار گھرانے سے ہیں ، اس حوالے سے اپنے اسلاف کے کچھ احوال سے آگاہ کریں۔
32۔ ایسے افعال ، جن کو سرانجام دینے کے لیے لمبی زندگی کی دعا مانگتے ہوں؟
33۔ بطورِمنتظم اعلی آپ محدث فورم کے اراکین کے لیے کوئی پیغام دینا چاہیں گے؟
( تمام اراکین سے بصد احترام گزارش ہے کہ جب تک اوپر پیش کیے گئے سوال مکمل نہ ہوجائیں مزید کوئی سوال جواب یا تأثرات کا اظہار ( سوائے ریٹنگ کے ) نہ کریں ۔ تاکہ انٹرویو میں ایک تسلسل برقرار رہے ۔
اگر کسی رکن سے اس سلسلے میں تسامح ہوا تو ان کے پیغامات حذف کردیے جائیں گے ۔ منجانب : انٹرویو پینل )
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,349
پوائنٹ
800
منتظمِ اعلی انس نضر بھائی کا انٹرویو
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
اُمید کرتے ہیں کہ آپ سب خیریت سے ہوں گے اللہ تعالی سے دُعا ہے کہ وہ آپ کو اور آپ کی فیملی کو اپنے حفظ وامان میں رکھے اور آپ کی ہر جائز خواہش کو پورا کرے آمین اور آپ سب کی زندگی میں آنے والے ہر دُکھ و پریشانی کو خوشیوں میں بدل دے آمین۔
اللہ تعالی نے ہر ایک کو بے شمار صلاحیتوں اور خوبیوں سے نوازا ہے۔مگر ہم میں کچھ ایسے مسلمان ہیں ، جو اللہ تعالی کی دی گئی ان صلاحیتوں کو نہ صرف مثبت اور تعمیری کام میں لگاتے ہیں ، بلکہ دیگر لوگوں میں بھی دینی و اصلاحی تحریک کی جستجو پیدا کرتے ہیں۔ایسا ہی ایک نام محترم فاضل ڈاکٹر حافظ انس نضر مدنی صاحب کا ہے۔جنھوں نے دن رات کی تگ ودو سے ایک ایسے پلیٹ فارم کو قائم کیا ، جہاں سے خالص اسلامی تعلیمات کی نشرواشاعت ممکن ہو۔بہت ہی شفیق مزاج ، نڈر، اور تفکراتی سوچ رکھتے ہیں۔۔ان کی شخصیت کے مزید پہلوؤں کو جاننے کے لیے آج ہم ان کا انٹرویو پیش کر رہیں ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ انھیں دین اسلام میں مزید ترقی کی منازل نصیب ہوں۔آمین
سوالات کو سلسلہ شروع کرنے سے پہلے محدث فورم کے اعدادوشمار کا جائزہ لیتے ہیں ۔
محدث فورم کے اعدادو شمار
پیغامات: 1,66,747
موضوعات کی تعداد: 20,355
ممبران: 2454
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

جزاکم اللہ خیرا! بہت اچھی کاوش ہے، آپ لوگوں کی۔ جس سے اُمید ہے محدث فورم پر کم آنے والے حضرات کو مہمیز ملے گی اور وہ پہلے کی فورم پر فعال ہوجائیں گے۔

جو کچھ آپ نے میرے بارے میں لکھا ہے، یہ آپ کا میرے متعلق حسنِ ظن ہے، ورنہ میں ابو محمد اندلسی قحطانی (صاحب نونیۂ قحطانی) کے بقول کہتا ہوں:

و الله لو علِموا قبيح سريرتي = لأبى السلامَ عليّ من يلقاني
و لأعرضوا عني و ملّوا صُحبتي = و لبؤتُ بعدَ كرامةٍ بهوانِ
لكنْ سترتَ معايبي و مثالبي = و حَلمتَ عن سقطي و عن طغياني
فلك المحامدُ و المدائحُ كلها = بخواطري و جوارحي و لساني

ترجمہ: ’’اللہ کی قسم! اگر لوگوں کو (جو مجھے دیندار سمجھ کر عزت کرتے ہیں) میری پوشیدہ برائیوں کا علم ہو جائے تو مجھ سے ملنے والا سلام کرنے کا بھی روادار نہ رہے گا۔
لوگ مجھے اعراض کرنا شروع کر دیں گے اور میرے ساتھ بیٹھنے سے اکتاہت محسوس کریں گے۔ اور میں عزت واحترام کے بعد ذلت کی طرف لوٹ جاؤں گا۔
لیکن (اے میرے رب!) آپ نے میرے گناہوں پر پردہ ڈالا، میری کوتاہیوں اور سرکشیوں سے درگزر فرمایا۔
تو ہر قسم کی حمد اور مدح آپ کیلئے، میرے دل وجان سے، تمام اعضا سے اور میری زبان سے۔‘‘

اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ اللہ مجھے آپ لوگوں کے حُسن ظن کے مطابق بنا دیں اور ہم سب کو اعلیٰ جنتوں میں دیدارِ الٰہی اور نبی کریمﷺ کی رفاقت نصیب ہو۔
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,349
پوائنٹ
800
1۔آپ کا مکمل نام ، اور آپ کی رہائش؟
میرا نام انس نضر ہے۔ والدہ محترمہ کو ’انس‘ کو والد صاحب کو ’نضر‘ پسند تھا۔ ان کی کنیت میری پیدائش سے پہلے ہی ’ابو النضر‘ تھی۔ بہرحال میرا نام سیدنا انس بن مالکؓ کے چچا سیدنا انس بن نضر رضی اللہ عنہما وارضاہما کی شخصیت پر ’انس نضر‘ رکھا گیا۔ اللہ تعالیٰ ان کی حیاتِ مبارکہ کو ہم سب کیلئے مشعل راہِ بنا دیں!

والد صاحب کا نام حافظ عبد الرحمٰن مدنی ہے۔ مدینہ یونیورسٹی کے اوّلین فضلاء میں سے ہونے کے باوصف مدنی کا لاحقہ لگاتے ہیں۔ علامہ احسان الٰہی ظہیر، مولانا حافظ ثناء اللہ مدنی حفظہ اللہ، حافظ عبدالسلام کیلانی والد صاحب کے مدینہ یونیورسٹی کے ساتھیوں میں سے ہیں۔ والد صاحب کا تعلّق برصغیر کے معروف روپڑی خاندان سے ہے۔ ہمارے خاندان کے معروف بزرگ محدّث العصر حافظ عبداللہ محدث روپڑی ’صاحب فتاویٰ اہلحدیث‘ ہیں جو والد صاحب کے تایا ہیں۔ حافظ عبد القادر روپڑی، حافظ اسمٰعیل روپڑی (جو میرے پھوپھا بھی ہیں) والد صاحب کے فرسٹ کزن ہیں۔ گورنمنٹ کالج کے ریٹائرڈ پروفیسر ثناء اللہ خان (معروف واعظ)، ابو تقی حفیظ الرحمٰن لکھوی (جامعہ ابن تیمیہ والے) حفظہما اللہ بھی میرے پھوپھا ہیں۔

والدہ محترمہ کا تعلّق معروف کیلانی خاندان سے ہے۔ صاحبِ تفسیر تیسیر القرآن اور دیگر بہت سی قیمتی کتابوں کے مصنف مولانا عبد الرحمٰن کیلانی میرے سگے نانا، محمد اقبال کیلانی حفظہ اللہ (تفہیم السنۃ سیریز والے) اور مولانا عبد المالک مجاہد (دار السلام والے) میری والدہ کے کزن ہیں۔

والد صاحب کی مناسبت اور بذاتِ خود مدینہ یونیورسٹی میں پڑھنے کی سعادت کی بنا پر کبھی نام کے آخر میں مدنی بھی لگا لیتا ہوں۔

رہائش: ماڈل ٹاؤن، لاہور (جے بلاک) میں ہے۔
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,349
پوائنٹ
800
2۔آپ کی تعلیمی قابلیت کیا ہے ، ؟ آپ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے فارغ التحصیل ،عالم وفاضل ہیں، وہاں قیام کیسا گزرا اور دین اسلام کے لیے کیا جانے والا یہ سفر کیسا رہا؟ایک مختصر نقشہ کشی کیجیئے۔
میری شخصیت کے بارے میں، میرے متعلّقین کا کہنا ہے (بلکہ بیگم صاحبہ کو بڑی شکایت ہے) کہ میں کم گو ہوں۔ اگر کہیں دو تین ہفتے کا ٹور کرکے آؤں تو بتانے کو میرے پاس زیادہ باتیں نہیں ہوتیں، بہرحال کوشش کرتا ہوں کہ آپ کے سوالوں کا مکمل جواب دے سکوں۔

میں اسلامی یونیورسٹی، مدینہ نبویہ کے کلیہ الشریعہ (جس میں فقہ، اُصول فقہ، قانون وقضاء اور وراثت کی سپیشلائزیشن ہوتی ہے) سے بدرجۂ امتیاز (CGPA: 4.67/5.00) فاضل ہوں۔ تفسیر میں پنجاب یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ہے۔ علاوہ ازیں حفظ، تجوید، قراءاتِ سبعہ وعشرہ (صغریٰ وکبریٰ)، وفاق (عالمیہ)، ایم اے اسلامیات، بی کام وغیرہ کیا ہوا ہے۔ وللہ الحمد اولاً وآخراً

عالم نہیں ہوں، علماء کا خادم ایک طالب علم ہوں۔

حقیقت تو یہ ہے کہ جب میرا اسلامی یونیورسٹی مدینہ میں داخلہ ہوا تو نہ جانے کیوں (شاید کم عمری کی بنا پر کہ اس وقت میری عمر 18، 19 سال تھی) مجھے وہاں پڑھنے کا بہت زیادہ شوق نہیں تھا، جیسے سب لوگوں کو ہوتا ہے۔ گھر سے كبھی دور نہیں رہا تھا، وہاں جانا مشکل لگ رہا تھا۔ وہ تو وہاں جانے کے بعد احساس ہوا کہ یہ اللہ کی کتنی بڑی نعمت ہے۔ مدینہ الرسول میں رہنا اور وہ بھی تعلیم وتعلّم کیلئے اور مسجد نبوی کا قرب (تقریباً روزانہ عصر تک عشاء کا وقت وہیں گزرتا تھا) کتنی بڑی سعادت ہے، اور اس کا انسان کی شخصیت پر کتنا مثبت اَثر پڑتا ہے۔ والمدينة خير لهم لو كانوا يعلمون

میری کوشش یہ تھی کہ میں جتنی جلد ہوسکے، تعلیم مکمل کرکے واپس آؤں۔ کلیہ (بی ایس آنرز) کو کہتے ہیں، جس کا دورانیہ وہاں چار سال ہوتا ہے۔ جن لوگوں کا مدینہ یونیورسٹی میں داخلہ ہوتا ہے اگر انہیں عربی سمجھنے بولنے میں دشواری ہو تو ان کیلئے اس پہلے عربی سیکھنے کا کورس ہوتا ہے، جس پر ایک یا دو سال (اپنی مرضی کے مطابق) لگتے ہیں۔ غیر عربی طلبہ - جن کا وہاں داخلہ ہوتا ہے - کی عموماً کوشش ہوتی ہے کہ انہیں عربی آتی ہو یا نہیں، وہ یہ کورس کریں۔ لیکن میں نے وقت بچانے کیلئے یہ کورس نہیں کیا، حالانکہ انٹرویو کرنے والے نے یہی مشورہ دیا تھا کہ آپ کو یہ کورس کرنا چاہئے۔ واپس آنے کے بعد احساس ہوا کہ یہ کورس کم از کم ایک سال ضرور کر لینا چاہئے تھا کہ اس کا عربی بول چال پر کافی اثر پڑتا ہے۔

شروع کا ایک سال کافی مشکل لگا تھا، پڑھائی کے بعد وقت کاٹے نہیں کٹتا تھا اور گھر کی یاد بہت زیادہ آتی تھی۔ تب لوگ زیادہ انٹرنیٹ اور ای میل وغیرہ زیادہ استعمال نہیں کرتے تھے۔ ہمیں یونیورسٹی ہاسٹل وغیرہ میں فون کی سہولت بھی میسر نہیں تھی۔ ہم گھر رابطے کیلئے پی سی او جایا کرتے تھے، اس وقت سعودیہ سے پاکستان ایک منٹ کی کال تقریباً 9، 10 ریال کی ہوتی تھی۔ اور پہلے سال میرا زیادہ خرچ اسی پر ہوتا تھا۔ ہم ما شاء اللہ دس بہن بھائی ہیں، جب سب سے تسلی سے بات نہ ہوتی تو پھر خط لکھ لیا کرتا، جس کی گھر والے بہت تعریف کرتے کہ تمہاری لکھنے کی صلاحیت تو اب سامنے آئی ہے۔

پڑھائی چونکہ عربی میڈیم تھی، میں نے عربی کورس بھی نہ کیا تھا (اگرچہ پاکستان میں گرائمر وغیرہ اچھی پڑھی ہوئی تھی) لہٰذا شروع میں استاد کی بات مشکل سے سمجھ آتی تھی۔ لیکن چار چھ مہینوں کے بعد یہ مسئلہ حل ہوگیا، لیکن بولنے کا مسئلہ آخر تک برقرار رہا، جس کی وجہ سے کلاس میں اساتذہ سے بحث ومباحثہ یا سوال وجواب کم ہی کرتا تھا۔ البتہ عربی سننے سمجھنے اور امتحانات میں لکھنے میں کسی قسم کا مسئلہ نہیں تھا، لہٰذا 90 فیصد سے زائد نمبر حاصل کرکے ہر سال 1000 ریال کا انعام بھی حاصل کرتا تھا۔ عرب خاص کر سعودی لڑکوں کی عربی گرائمر ہمیشہ کمزور ہوتی ہے۔ میری گرائمر شروع سے کافی اچھی تھی۔ نحو صرف کے پیریڈ میں اساتذہ ہمیشہ انہیں میری مثال پیش کرتے تھے۔

مدینہ یونیورسٹی کی اہم بات یہ ہے کہ ہر سبجیکٹ کو پڑھانے کیلئے اسی کا متخصص، اپنے موضوع کا ماہر پی ایچ ڈی ڈاکٹر استاد ہوتا ہے لہٰذا لیکچر کے بعد عموماً تشنگی باقی نہیں رہتی۔ طلبہ میں خود درسی کتب کے علاوہ دیگر کتب کی سٹڈی کا رجحان پیدا کرنے کیلئے ہمارے دور میں ہر سال ایک اپنے تخصص کے مضامین میں 100 نمبر کا تھیسس لکھنا ہوتا تھا۔ (میں نے دوسرے سال فقہ، تیسرے سال قضا اور چوتھے سال اصول فقہ کے حوالے سے تھیسس تیار کیے تھے) جس کیلئے لائبریری جانا پڑتا تھا، یونیورسٹی کی طرف سے ہر طالب علم کو ہر سال کتابوں کیلئے 1000 ریال دئیے جاتے تھے۔ یونیورسٹی کے ہر کلیہ میں متعلقہ کتابوں کی لائبریری کے علاوہ یونیورسٹی کی مرکزی بہت بڑی لائبریری تھی۔ علاوہ ازیں مسجد نبوی کی لائبریری بہت ت ت بڑی ہے جس سے کافی استفادہ کیا۔
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,349
پوائنٹ
800
3۔آپ کا پیشہ کیا ہے؟
تعلیم وتعلّم ہی میری مصروفیت، دلچسپی اور پیشہ ہے۔
مدینہ یونیورسٹی سے واپسی سن 2002ء کے بعد سے مسلسل تا حال جامعہ رحمانیہ میں مختلف مضامین کی تدریس کر رہا ہوں۔ سن 2002ء سے ہی شام کو جاب پیشہ اور تاجر وڈاکٹر حضرات وغیرہ کیلئے مکمل ترجمہ قرآن کا شارٹ کورس شروع کیا ہوا ہے جو ہفتہ میں پانچ دن (سوائے ہفتہ، اتوار) ہوتا ہے۔ الحمد للہ ثم الحمد للہ چار مرتبہ ترجمہ قرآن کریم تفسیر کے ساتھ مکمل کیا ہے۔ اب ستمبر 2013ء سے پانچواں بیج جاری ہے۔ پی ایچ ڈی مکمل کرنے بعد مختلف یونیورسٹیز میں بھی تدریس کا موقع ملا ہے۔ آج کل جامعہ رحمانیہ - جو ما شاء اللہ لاہور اسلامک یونیورسٹی کی شکل میں ڈھل چکا ہے، اور یہاں ایم فل اسلامک سٹڈیز کی کلاسز بھی شروع ہوگئی ہیں - میں ایم فل کلاس کو عربی زبان وادب اور تفسیر پڑھا رہا ہوں۔

4۔عمرکتنی ہے ؟
میری پیدائش 16 دسمبر 1978ء کی ہے، مارچ 93ء میں میٹرک کے پیپرز کے وقت عمر کم تھی تو ایک سال زیادہ لکھوانی پڑی لہٰذا میٹرک کی سند اور شناختی کارڈ وغیرہ میں تاریخ پیدائش 16 دسمبر 1977ء لکھوائی گئی ہے۔
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,349
پوائنٹ
800
5۔شادی ہوئی ؟ اولاد ہے ؟ ان کے نام کیا ہیں ؟ ان کو کیا بنانا چاہتے ہیں ؟
جی الحمد للہ! میری شادی میری خالہ کی طرف ہوئی ہے۔ بیگم نے بھی ما شاء اللہ حفظِ قرآن کے ساتھ ساتھ درسِ نظامی مکمل پڑھا ہے، پنجاب یونیورسٹی سے اسلامیات اور ماس کمیونیکیشن میں ماسٹرز بھی کیا ہوا ہے۔

الحمد للہ! چار بچے ہیں: دو بیٹیاں اور دو بیٹے۔ بڑی بیٹی: ہنیہ، پھر مالک بن انس، پھر حنہ اور پھر چھوٹا محمّد شافعی

بچوں کو مکمل دینی تعلیم اور معاشرے میں مؤثر ہونے اور روزگار کیلئے ضروری عصری تعلیم دلانے کی خواہش ہے، اللہ تعالیٰ انہیں عالم باعمل اور والدین کیلئے صدقہ جاریہ بنائیں۔ اسی لئے بیٹوں کے نام کبار ائمہ کے نام پر رکھے ہیں۔ شدید خواہش ہے کہ بچوں کو حفظِ قرآن کے ساتھ ساتھ احادیث مبارکہ بھی حفظ کراؤں۔ بیگم کی خواہش ہے بیٹیوں کو دینی تعلیم کے علاوہ ذوق کے مطابق میڈیکل یا ہوم اکنامکس کی تعلیم دلائی جائے۔

ہنیہ 7 سال کی ہے اور ما شاء اللہ اڑھائی پارے حفظ اور کلاس ٹو مکمل کر چکی ہے۔ اب تذبذب میں ہیں کہ حفظ کے ساتھ سکول کی تعلیم جاری رکھی جائے یا موقوف کرا دی جائے۔ مالک اور حنہ ابھی نورانی قاعدے پر ہیں۔ سکول بھی جاتے ہیں۔
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,349
پوائنٹ
800
6۔مزاجا کیسی طبیعت کے مالک ہیں؟ آپ اجتماعیت پسند ہیں یا انفرادیت پسند؟
میرا خیال ہے کہ اپنے مزاج کے بارے میں کوئی شخص صحیح نہیں بتا سکتا۔ دوسرے بہتر بتا سکتے ہیں۔ لہٰذا فورم پر موجود بیگم اور دیگر جاننے والوں سے ہی کہوں گا کہ وہ ہی اس بارے میں رائے دیں لیکن انٹرویو مکمل ہونے کے بعد!

میں انفرادیت پسند تو نہیں البتہ جیسے پہلے ذکر کیا ہے کہ مجلس میں کم بولتا ہوں الا یہ کہ کوئی محفل ہی تعارف وغیرہ کیلئے قائم کی گئی ہو (ابتسامہ)
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,349
پوائنٹ
800
7۔انٹرنیٹ کی دنیا سے کب متعارف ہوئے ؟ اور اس پر دینی کام کرنے کا رجحان کیسے پیدا ہوا ؟
کمپیوٹر سے تو رابطہ 94 - 1993 میں ہوگیا تھا۔ محدث میگزین 1970ء سے جاری ہے۔ پہلے اس کی کتابت ہوتی تھی۔ 93، 94 میں کمپیوٹر (تیس بتیس ہزار کا) خریدا گیا اور اردو ٹائپنگ کیلئے اتنی ہی قیمت کا پروگرام ’سقراط‘ خریدا گیا۔ اس سے پہلے کچھ شمارے ’شاہکار‘ پر بھی کیے گئے۔ پھر سقراط کے بعد محدث ’ہمالہ‘ پروگرام پر منتقل ہوگیا۔ یہ سب ’ڈاس‘ پر چلتے تھے۔ پھر پہلے تو ہمالہ ہی ویڈوز پر آیا اور پھر باقاعدہ ویڈوز کیلئے ان پیج آگیا تو یہ کام کافی آسان ہوگیا کیونکہ ڈاس کے تمام پروگرامز میں ٹائپنگ ایڈیٹر الگ ہوتا تھا، ساری کمانڈر کاپی، پیسٹ، بولڈ، اٹیلک اور دیگر ٹیگز وغیرہ لکھ کر دی جاتی تھیں۔ اور اصل پریوو کی آپشن الگ سے ہوتی تھی۔ میں نے بھی اسی وقت سے ہی کمپیوٹر سیکھ لیا۔ محدث اور دیگر کافی اردو، عربی کتابوں کی ٹائپنگ بھی کی اور ادارے کے کافی لوگوں کو کمپیوٹر بھی سیکھایا۔ اس وقت کمپیوٹر 386 ایس ایکس اور ڈی ایکس اور وینڈوز3.11، اور ورڈ 6 ہوا کرتا تھا۔

انٹرنیٹ سے تعارف شائد - حتمی یاد نہیں - سعودیہ جانے سے پہلے 1998 کے آس پاس ہوا تھا، اس وقت زیادہ تر ڈیٹا تصاویر کی بجائے ورڈز کی صورت ہوا کرتا تھا۔ بہرحال انٹرنیٹ کا پراپر استعمال ای میل، فیس بک وغیرہ شائد سعودیہ سے واپسی کے کافی عرصہ بعد 05 - 2004 کے لگ بھگ شروع کیا۔

جامعہ میں تدریس اور قرآن کلاس پہلے سے ہی جاری تھی۔ جب فیس بک وغیرہ پر اکاؤنٹ بنایا تو ذہن میں آیا کہ اس پر بھی دعوتی کام کیا جائے۔ انہی دنوں توہین رسالت کے خاکوں کا منحوس معاملہ سامنے آیا۔ جب یہ خاکے فیس بک وغیرہ پر آئے تو دیگر لوگوں کی طرح جذبات میں آکر فیس بک اکاؤنٹ ختم کر دیا۔ پھر ذہن میں آیا، اسی ذریعے کو دعوتِ دین کیلئے کیوں نہ استعمال کیا جائے۔ اس سوچ کے ساتھ دوبارہ فیس بک کو جوائن کیا اور اپنے بھانجے مغیرہ لقمان کو ساتھ ملا کر اس پر ایک گروپ ’اسلامک برادرز‘ کے نام سے تشکیل دیا۔ ہم زیادہ قرآنی آیات اور صحیح احادیث مبارکہ اردو اور انگلش ترجمہ کے ساتھ دیتے تھے۔ اس پر ایک ڈیڑھ سال میں دو اڑھائی ہزار یوزرز ہوگئے تھے، سوال وجواب اور دیگر دعوتی سلسلے چلتے رہے۔ یہ کام اردو سے زیادہ انگلش میں چلتا رہا۔ پھر محسوس کیا کہ فیس بک پر دعوتی کام کافی مشکل ہے۔ زیادہ تر لوگ اسے دیگر مشاغل دوستیوں اور گپ شپ کیلئے استعمال کرتے ہیں اور جو لوگ دینی بیک گراؤنڈ رکھتے ہیں ان کی گفتگو سراسر فرقہ وارانہ اور بڑی حد تک نازیبا ہوتی ہے الِاّ ما شاء اللہ! علاوہ ازیں پرانی (بہت محنت سے لکھی گئی) پوسٹس کو تلاش کرنا کافی مشکل بلکہ تقریباً نا ممکن کام ہے۔ اسی دوران ہمارے ہی ایک طالبعلم حافظ اختر علی ارشد، جو جامعہ سے فراغت کے بعد اسلامک ریسرچ کونسل میں سی ڈیز، اسلامک سافٹ وئیرز اور ریسرچ وغیرہ کا کام کرتے تھے، کا شاکر اعوان بھائی سے رابطہ ہوچکا تھا۔ اس وقت اسلامک ریسرچ کونسل کی نگرانی چھوٹے بھائی ڈاکٹر حافظ حمزہ مدنی کے پاس تھی۔ انہی کی زیر نگرانی ان دونوں بھائیوں نے شائد 08 - 2007 میں کتاب وسنت لائبریری کا کام شروع کیا۔ (شاکر بھائی اصلاح کر دیں۔)

اس سے پہلے میرے سعودی عرب میں قیام کے دوران بڑے بھائی ڈاکٹر حافظ حسن مدنی (مجلہ محدث کے ایڈیٹر) محدث کی ایک سائٹ کا اجراء سن 2001ء میں کر چکے تھے۔ اور یہ وہ دور تھا جب اردو سائٹس خال خال ہی نظر آتی تھیں۔ اس سائٹ میں بھی بہت حد تک حافظ اختر علی کا کردار شامل تھا۔

سن 2009ء میں اللہ ہمیں ایک بڑی کامیابی اس طرح دی کہ میں نے اس سال ترجمہ قرآن کلاس کا چوتھا بیج شروع کیا، جو چار سال جاری رہا۔ اس میں آنے والے ایک صاحب عتیق احمد خواجہ نے عقیدے وغیرہ کی اصلاح کے بعد شوکت خانم ہاسپٹل کے نزدیک مین روڈ کا قائم اپنا چلتا ہوا حفظ کا ادارہ (البیت العتیق) جو بارہ کنال پر مشتمل ہے، ہم سے متاثر ہو کر ہمارے حوالے کر دیا۔ حمزہ بھائی کو وہاں کا ذمہ دار بنایا گیا۔

اس طرح میرے پاس اسلامک ریسرچ کونسل کی ذمہ داری آگئی۔ حمزہ بھائی کتاب وسنت ڈاٹ کام کی نگرانی تو کرتے اور کسی حد تک دلچسپی لیتے تھے لیکن انہیں انٹرنیٹ وغیرہ کا کوئی شغف نہیں تھا۔ اپنا ای میل ایڈریس وغیرہ بھی انہوں نے حال ہی میں بنایا ہے۔ مجھے چونکہ ان چیزوں سے کافی دلچسپی تھی، اور میں فیس بک پر دعوتی کام بھی کر رہا تھا اور میرا ایک دینی حلقہ بھی تھا۔ تو ریسرچ کونسل کے ساتھ ساتھ کتاب وسنت ڈاٹ کام کی نگرانی میرے پاس آگئی۔ تو میں نے فیس بک والا گروپ (اسلامک برادرز) اپنے بھانجے حافظ مغیرہ لقمان اور گروپ کے ایک متحرک رکن محمد علی کے حوالے کیا اور خود کتاب وسنت ڈاٹ کام کی ذمہ داری سنبھالنے کے ساتھ دیگر ویب سائٹس کی تشکیل کیلئے اختر علی اور شاکر بھائی سے مشورے شروع کیے۔ اسی دوران اختر بھائی کو بعض ذاتی مسائل کی بنا پر لاہور چھوڑ کر قصور رہائش اختیار کرنا پڑی تو ان کی جگہ ہمارے ادارے کے فاضل طالب علم کلیم حیدر نے لے لی۔ یوں کتاب وسنت ڈاٹ کام کے بعد 2011ء میں پہلے محدث فورم، پھر محدث فتویٰ اور پھر محدث میگزین کی ابتدا ہوئی۔ (محدث میگزین در اصل اسی سائٹ کی اپ گریڈیشن تھی جسے حسن بھائی نے سن 2001ء میں شروع کیا تھا۔)

کتاب وسنت ڈاٹ کام پر کام کرتے ہوئے ہمیشہ میرا اور شاکر بھائی کا مشورہ ہوتا کہ جتنی جلد ممکن ہو سکے آن لائن یونیکوڈ لائبریری کا سلسلہ شروع کیا جائے تاکہ اپ لوڈ ہونے والی ہر کتاب کا ایک ایک لفظ گوگل سرچ میں آسکے اور گوگل پر اردو میں دینی مواد سرچ کرنے والا قادیانی، شیعہ اور بریلوی سائٹس کی بجائے ہماری سائٹ پر آئے۔ اسی کی تمہید کیلئے ٹائپنگ اپلیکیشن کا اجرا کیا گیا۔ اب ہمارا اگلا پروگرام یونیکوڈ کتب لائبریری اور حدیث سائٹ کا ہے۔ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ جلد از جلد ان کاموں کو پایۂ تکمیل تک پہنچائیں۔
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,349
پوائنٹ
800
8۔ ایسا کون سا کام ہےجس کو سرانجام دیکر آپ کو قلبی مسرت ہوتی ہے؟
قرآن کلاس کے بعد اتنا سکون ملتا ہے کہ لفظوں میں اظہار نہیں ہوسکتا۔ ألا بذكر الله تطمئن القلوب
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,349
پوائنٹ
800
9۔فرصت اور پریشان کن لمحات کن امور پر صرف کرتے ہیں؟ آپ کے روز مرہ کے مشاغل کیا ہیں؟
فرصت کے لمحات فیملی کے ساتھ گزارنے کی کوشش کرتا ہوں۔ یہ الگ بات ہے کہ میری خواہش گھر میں رہنے کی ہوتی ہے جبکہ گھر والوں کا دل آؤٹنگ کا ہوتا ہے جسے بادل نخواستہ پورا کرنا پڑتا ہے۔

پریشانی میں ہر شے سے دل اچاٹ سا ہوجاتا ہے۔ اپنے آپ کو زبانی ذکر کی طرف مائل کرنے کی کوشش کرتا ہوں جس میں بڑی حد تک ناکامی ہوتی ہے۔

صبح سات سے نو تک جامعہ رحمانیہ میں کلاس، نو سے پانچ بجے تک اسلامک ریسرچ کونسل (اس کے تحت لاہور کی عربی کتب کی سب سے لائبریری) کی ذمہ داری۔ اسی دوران ویب سائٹس وغیرہ کے معاملات دیکھتا ہوں۔ مغرب سے عشاء قرآن کلاس (ہفتہ اتوار کے علاوہ)

خطبہ جمعۃ المبارک، جامعہ میں ایم فل کی کلاس اور گاہے بگاہے لیکچرز اس کے ما سوا

10آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟
میرے سگنیچرز پڑھ لیجئے۔ والد صاحب سے بہت باتیں سیکھی ہیں۔ ان کی ایک بات دل سے نہیں نکلتی۔ انہوں نے کہا تھا: بیٹا! اللہ سے دُعا کیا کرو کہ اللہ مجھ سے دین کا کوئی کام لے لے۔ سب سے زیادہ جو دعا میری زبان پر ہوتی ہے:
اللهم انصر من نصر دين محمد صلى الله عليه وسلم واجعلنا منهم واخذل من خذل دين محمد صلى الله عليه وسلم ولا تجعلنا منهم

11۔وہ کون سی ایسی خواہش یا خواب ہے جو اب تک پورا نہ ہو سکا؟
حدیث سائٹ بنانے کی خواہش۔ اس خواب کو دیکھتے ہوئے چار پانچ سال سے زائد عرصہ ہوگیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں یہ سعادت نصیب کریں کہ سب سے پہلے صحاح ستہ اور پھر دیگر کتب حدیث کے مختلف اردو تراجم، مختلف حکم، موضوعات وغیرہ پر مبنی سائٹ ہم بنا سکیں جس سے لاکھوں کروڑوں لوگ استفادہ کریں!
 
Top