• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

محدث فورم اور بریلوی فورم

شاہد نذیر

سینئر رکن
شمولیت
فروری 17، 2011
پیغامات
1,960
ری ایکشن اسکور
6,263
پوائنٹ
412
اس میں میرے سوال کا جواب نہیں ہے. اگر آپ اس کو سوال ہی غلط سمجھتے ہیں تو اس وضاحت کا کیا مطلب.

چلیں آپ کی خاطر سوال بدل دیتا ہوں. کیا صحابہ کرام اپنا تعارف اس طرح کرواتے تهے کہ
1. میں مسلمان ہوں
یا اس طرح کہ
2. میں مسلمان ہوں اور میری صفت اہلحدیث ہے...؟

اب بهی یہی امید ہے کہ جواب سادہ ہو اور سیدھا ہو گا. 1 یا 2....
محترم بھائی ہر سوال کا جواب ہاں یا ناں میں ممکن نہیں ہوتا اور یہ بھی ایک ایسا ہی سوال ہے جو آپ پوچھ رہے ہو۔
یہ سوال بنیادی طور پر غلط ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صحابہ کے دور میں مسلمانوں کے بہتر فرقے نہیں تھے اس لئے انہیں اپنے لئے کسی صفاتی نام کی ضرورت نہیں تھی۔
 

ایک گنہگار

مبتدی
شمولیت
اگست 28، 2014
پیغامات
72
ری ایکشن اسکور
26
پوائنٹ
18
محترم بھائی ہر سوال کا جواب ہاں یا ناں میں ممکن نہیں ہوتا اور یہ بھی ایک ایسا ہی سوال ہے جو آپ پوچھ رہے ہو۔
یہ سوال بنیادی طور پر غلط ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صحابہ کے دور میں مسلمانوں کے بہتر فرقے نہیں تھے اس لئے انہیں اپنے لئے کسی صفاتی نام کی ضرورت نہیں تھی۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں مسیلمہ کذاب کے ساتھی اپنے آپ کو مسلمان ہی سمجھتے تهے اور خود کو حق پر سمجھتے تهے. اسی لیے یمامہ کی جنگ بہت خونریز جنگ تهی. کیا اس جنگ میں لشکر اسلام نے اپنے آپ کو اہلحدیث کہا؟
حضرت علی رضی اللہ عنہ صحابی رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم ہی تهے. اور ان کے دور میں ہی خوارج اور ان کی صفوں میں رافضی ظاہر ہو چکے تهے.

اس کے باوجود کیا انہوں نے کبھی یہ فرمایا کہ ہم مسلمان اہلحدیث ہیں...؟

قابل غور
 

شاہد نذیر

سینئر رکن
شمولیت
فروری 17، 2011
پیغامات
1,960
ری ایکشن اسکور
6,263
پوائنٹ
412
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں مسیلمہ کذاب کے ساتھی اپنے آپ کو مسلمان ہی سمجھتے تهے اور خود کو حق پر سمجھتے تهے. اسی لیے یمامہ کی جنگ بہت خونریز جنگ تهی. کیا اس جنگ میں لشکر اسلام نے اپنے آپ کو اہلحدیث کہا؟
مسیلمہ کذاب کے مقابلے میں کسی صفاتی لقب کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ وہ کفار اور مرتد تھے کسی کافر یا مرتد کا خود کو مسلمان کہنا بے معنی ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے قادیانیوں کے خود کو مسلمان کہنے کو ہم کوئی اہمیت نہیں دیتے۔

ححضرت علی رضی اللہ عنہ صحابی رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم ہی تهے. اور ان کے دور میں ہی خوارج اور ان کی صفوں میں رافضی ظاہر ہو چکے تهے.

اس کے باوجود کیا انہوں نے کبھی یہ فرمایا کہ ہم مسلمان اہلحدیث ہیں...؟

قابل غور
خوارج جیسے گمراہ فرقے سے امتیاز کے لئے پہلی مرتبہ صحابہ کرام نے ’’اہل سنت‘‘ کا صفاتی لقب اختیار کیا تھا۔

تنبیہ: یاد رہے کہ اہل سنت اور اہل حدیث ہم معنی اور ایک ہی جماعت کے دو صفاتی نام ہیں۔ جیسا کہ شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اہل سنت والجماعت صرف اور صرف اہل حدیث ہیں۔
 

ماریہ انعام

مشہور رکن
شمولیت
نومبر 12، 2013
پیغامات
498
ری ایکشن اسکور
373
پوائنٹ
164
قرآن وسنت یہ دو ایسی بنیادیں ہیں جس پر خواہ لفظی یا رسمی طور پر سہی ہر دور میں مسلمانوں کا اتفاق رہا ہے ۔۔۔۔ جب ہم مسلمان ایک دوسرے سے متعارف ہوتے ہیں تو کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ تعارف کی بنیاد اختلاف کی بجائے اتحاد ہو ۔۔۔جو ایک قدر ہم سب کے درمیان مشترک ہے اس سے بات کا اگر ہم آغاز کریں تو امید ہے اختتام بھی خوشگوار ہی ہو گا۔۔۔قرآن میں جب مسلمانوں اور اہلِ کتاب کے درمیان موجود یہ قدرِ مشترک بیان کی گئی ہے تو مسلمان تو بالاولی اس بات کے حقدار ہیں کہ اختلاف کی بجائے اتفاق سے آغاز ہو
اللہ تعالی نے اپنے پیارے نبی ﷺ کو حکم دیا
قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَىٰ كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّـهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّـهِ ۚ فَإِن تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ﴿٦٤

آپ کہہ دیجئے کہ اے اہل کتاب! ایسی انصاف والی بات کی طرف آو جو ہم میں تم میں برابر ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں نہ اس کے ساتھ کسی کو شریک بنائیں، نہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر آپس میں ایک دوسرے کو ہی رب بنائیں۔ پس اگر وه منھ پھیر لیں تو تم کہہ دو کہ گواه رہو ہم تو مسلمان ہیں

باقی جہاں اپنے مسلک کا تعارف کرانا ناگزیر ہو اور مصلحت کے خلاف نہ ہو تو ایسا کرنا لازم ہے
 

ایک گنہگار

مبتدی
شمولیت
اگست 28، 2014
پیغامات
72
ری ایکشن اسکور
26
پوائنٹ
18
مسیلمہ کذاب کے مقابلے میں کسی صفاتی لقب کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ وہ کفار اور مرتد تھے کسی کافر یا مرتد کا خود کو مسلمان کہنا بے معنی ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے قادیانیوں کے خود کو مسلمان کہنے کو ہم کوئی اہمیت نہیں دیتے۔


خوارج جیسے گمراہ فرقے سے امتیاز کے لئے پہلی مرتبہ صحابہ کرام نے ’’اہل سنت‘‘ کا صفاتی لقب اختیار کیا تھا۔

تنبیہ: یاد رہے کہ اہل سنت اور اہل حدیث ہم معنی اور ایک ہی جماعت کے دو صفاتی نام ہیں۔ جیسا کہ شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اہل سنت والجماعت صرف اور صرف اہل حدیث ہیں۔
خیر قادیانیوں کے خود کو مسلمان کہنے کو ہم بہت اہمیت دیتے ہیں، اسی لیے انہیں ہمارے آئین میں اقلیت قرار دلوانے کے لیے بڑی پرزور جدوجہد کی گئی تهی. اس کے ساتھ یہ بهی ایک دلچسپ امر ہے کہ ختم نبوت کانفرنس بہاولپور 2013 میں میں نے پہلی دفعہ دیوبندی، اہلحدیث اور بریلوی کو متحد دیکها. وہاں صرف ایک ہی فرق تها مسلمان یا کافر... کوئی تیسرا امر زیر بحث نہیں تها. حیرت ہے کہ وہاں باقی سب کے ساتھ اہلحدیث کیسے ایک ہوگئے اور اپنے آپ کو ایک علیحدہ جماعت بهی ظاہر نہیں کیا.

تو سلف کی خلاف ورزی تو اہلحدیث میں بهی پائی گئی نہ. خود کو اہلحدیث نہیں اہل سنت کہلوائیں. آخر سلف کا منتخب کردہ لفظ آپ کے منتخب کردہ لفظ سے کہیں بہتر ہے... مترادف استعمال نہ کریں. پوری پیروی کریں.

أور ویسے انہوں نے اپنے بارے میں اہل سنت استعمال کیا تها، اس کا کوئی مستند حوالہ بهی ارسال فرما کر شکریہ کا موقع عطا فرمائیں.
 

شاہد نذیر

سینئر رکن
شمولیت
فروری 17، 2011
پیغامات
1,960
ری ایکشن اسکور
6,263
پوائنٹ
412
تو سلف کی خلاف ورزی تو اہلحدیث میں بهی پائی گئی نہ. خود کو اہلحدیث نہیں اہل سنت کہلوائیں. آخر سلف کا منتخب کردہ لفظ آپ کے منتخب کردہ لفظ سے کہیں بہتر ہے... مترادف استعمال نہ کریں. پوری پیروی کریں.
صحابہ کے بالمقابل صرف خوارج تھے اسی لئے ان سے امتیاز کے لئے ’’اہل سنت‘‘ کا نام منتخب کیا گیا اور آگے چل کر اسی اہل سنت گروہ کا ایک حصہ الگ ہوا جنہوں نے رائے کو اپنا دین بنالیا تو ان سے امتیاز کے لئے ’’اہل سنت‘‘ کو اپنا صفاتی نام ’’اہل حدیث‘‘ رکھنا پڑا کیونکہ اہل الرائے بھی خود کو اہل سنت کہتے تھے اور انکے مخالفین جو صحیح دین پر تھے وہ بھی خود کو اہل سنت ہی کہلاواتے تھے اس لئے ایک نئے صفاتی نام کی ضرورت پڑی۔

ہمیں اہل سنت کے نام سے انکار نہیں بلکہ اہل سنت کے ساتھ اثری، محمدی، سلفی، طائفہ منصورہ بھی اہل حدیث جماعت کے مختلف نام ہیں جن میں سب سے بہتر ’’اہل حدیث‘‘ کا نام ہے کیونکہ مسلمانوں کے گمراہ فرقوں میں سے کوئی فرقہ ایسا نہیں جو خود کو ’’اہل حدیث‘‘ کے نام سے موسوم کرتا ہو۔ اہل حدیث اور اہل سنت دونوں ہی سلف صالحین کے منتخب کردہ نام ہیں لہٰذا دونوں میں سے کسی بھی نام کو بوقت ضرورت استعمال کیا جاسکتا ہے اور اسے سلف صالحین کی پیروی ہی کہا جائے گا خلاف ورزی نہیں۔

أور ویسے انہوں نے اپنے بارے میں اہل سنت استعمال کیا تها، اس کا کوئی مستند حوالہ بهی ارسال فرما کر شکریہ کا موقع عطا فرمائیں.
دوران مطالعہ یہ بات نظروں سے گزری تھی اب حوالہ یاد نہیں۔ لیکن بات بالکل درست ہے جیسے ہی اسکا حوالہ ملے گا میں شئیر کرونگا۔ ان شاء اللہ
 

ایک گنہگار

مبتدی
شمولیت
اگست 28، 2014
پیغامات
72
ری ایکشن اسکور
26
پوائنٹ
18
صحابہ کے بالمقابل صرف خوارج تھے اسی لئے ان سے امتیاز کے لئے ’’اہل سنت‘‘ کا نام منتخب کیا گیا اور آگے چل کر اسی اہل سنت گروہ کا ایک حصہ الگ ہوا جنہوں نے رائے کو اپنا دین بنالیا تو ان سے امتیاز کے لئے ’’اہل سنت‘‘ کو اپنا صفاتی نام ’’اہل حدیث‘‘ رکھنا پڑا کیونکہ اہل الرائے بھی خود کو اہل سنت کہتے تھے اور انکے مخالفین جو صحیح دین پر تھے وہ بھی خود کو اہل سنت ہی کہلاواتے تھے اس لئے ایک نئے صفاتی نام کی ضرورت پڑی۔

ہمیں اہل سنت کے نام سے انکار نہیں بلکہ اہل سنت کے ساتھ اثری، محمدی، سلفی، طائفہ منصورہ بھی اہل حدیث جماعت کے مختلف نام ہیں جن میں سب سے بہتر ’’اہل حدیث‘‘ کا نام ہے کیونکہ مسلمانوں کے گمراہ فرقوں میں سے کوئی فرقہ ایسا نہیں جو خود کو ’’اہل حدیث‘‘ کے نام سے موسوم کرتا ہو۔ اہل حدیث اور اہل سنت دونوں ہی سلف صالحین کے منتخب کردہ نام ہیں لہٰذا دونوں میں سے کسی بھی نام کو بوقت ضرورت استعمال کیا جاسکتا ہے اور اسے سلف صالحین کی پیروی ہی کہا جائے گا خلاف ورزی نہیں۔


دوران مطالعہ یہ بات نظروں سے گزری تھی اب حوالہ یاد نہیں۔ لیکن بات بالکل درست ہے جیسے ہی اسکا حوالہ ملے گا میں شئیر کرونگا۔ ان شاء اللہ
بہرحال آپ جو بهی کہیں... یہ سلف صالحین کی پوری طرح پیروی نہیں ہے. کل کو اگر کسی گمراہ فرقے نے اپنا نام اہلحدیث رکھ لیا تو ہم کہاں جائیں گے ...!!!
کیا ابهی سے کوئی نیا نام سوچ لیا جائے ؟
شاید پهر ہمیں نام رکھنا ہو گا "اصلی اہلحدیث"
 

عمر اثری

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 29، 2015
پیغامات
4,408
ری ایکشن اسکور
1,104
پوائنٹ
412
کل کو اگر کسی گمراہ فرقے نے اپنا نام اہلحدیث رکھ لیا تو ہم کہاں جائیں گے ...!!!
کیا ابهی سے کوئی نیا نام سوچ لیا جائے ؟
شاید پهر ہمیں نام رکھنا ہو گا "اصلی اہلحدیث"
اصل پہچان منہج سے ہوتی ہے. کوئ لاکھ اپنے آپکو اہلحدیث کہے لیکن اسکا مسلک ومنہج اسکے خلاف ہو تو وہ اہل حدیث کیونکر ہو سکتا ہے.
 

Musa khan

مبتدی
شمولیت
اکتوبر 04، 2016
پیغامات
1
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
18
جناب دیوبند کی بارے میں کچھ معلومات فراہم کر دیں
 

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,767
ری ایکشن اسکور
5,406
پوائنٹ
562
جناب دیوبند کی بارے میں کچھ معلومات فراہم کر دیں
  1. دیوبند بھارت کے ایک قصبہ کا نام ہے
  2. اس قصبہ کی وجہ شہرت یہاں کا معروف ”دینی مدرسہ“ ہے۔
  3. اس مدرسہ سے فارغ التحصیل اور یہاں کے ”اکابر و اصاغر“ اور ان کے فالوورز کے عقائد ونظریات و اعمال پر مبنی برصغیر پاک و ہند میں ایک مسلک یا فرقہ کی تشکیل ہوئی جو ”دیوبندی“ کہلاتی ہے۔ یہ غالباً ”بریلوی“ مسلک کے بعد برصغیر کا دوسرا بڑا مسلک ہے۔ دیوبندی اور بریلوی دونوں ہی خود کو ”حنفی فقہ“ کے ماننے والے کہلواتے ہیں۔ گو کہ دونوں کے عقائد و اعمال ایک دوسرے سے بہت بہت مختلف ہیں۔
واللہ اعلم بالصواب
 
Top