• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مدخلیوں کے سرغنہ ربیع المدخلی نے تقلید کی بدعت کو واجب قرار دیا

شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
290
ری ایکشن اسکور
76
پوائنٹ
53
مدخلیوں کے سرغنہ ربیع المدخلی نے تقلید کی بدعت کو واجب قرار دیا

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہ تعالٰی کا فرمان ہے : قُلْ ھَاتُوا بُرْھَانَکُمْ إنْ کُنْتُمْ صَادِقِینِ (البقرۃ۔۱۱۱) آپ کہہ دیجئے کہ اگر تم (اپنے عمل و اعتقاد میں) سچے ہو تو دلیل لاؤ۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: وَلاَ تَقْفُ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ (سورۃ الاسراء ۳۶) پیچھے مت پڑو اس چیز کے جس کا تمہیں کوئی علم نہیں ہے۔

اور فقہ الأکبر میں امام شافعی رحمہ اللہ کا قول منقول ہے کہ : ومعني التقلید قبول قول من لا یدری ما قال من أین قال وذلک لا یکون علما (الفقہ الأکبر ص۷)
تقلید کا معنی یہ ہے کہ اس شخص کا قول قبول کر لینا جس کو یہ معلوم نہیں کہ اس نے کیا کہا اور کہاں سے کہا اور یہ چیز علم نہیں ہے۔

اب مندرجہ بالا آیات کی روشنی میں آپ خود فیصلہ کریں کہ اب بھی تقلید کے ناجائز ہونے میں کوئی شک ہے۔ کیا اللہ تعالیٰ بغیر دلیل کے دین پر عمل کرنے کا حکم دے رہا ہے یا دلیل کے ساتھ؟

تقلید کے بارے میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا ہے کہ لا یقلد احدکم دینہ رجلا ان آمن آمن وإن کفر کفر۔ (ارشاد الفحول ج ۲، ص ۳۵۷، اعلام الموقعین ج۲، ص۱۶۸) تم میں سے کوئی آدمی اپنے دین کے بارے میں کسی آدمی کی تقلید نہ کرے کہ جب وہ کسی بات پر ایمان لاتا ہے تو وہ بھی ایمان لاتا ہے جب وہ کسی بات کا انکار کرتا ہے تو وہ بھی انکار کرتا ہے۔

المعانی کے مصنف علامہ الوسی لکھتے ہیں: ان کان للضلالۃ أب فالتقلید أبوھا (روح المعانی ج۱ ص ۹۷) اگر گمراہی کا کوئی باپ ہے تو تقلید اس کا باپ ہے۔

اسی طرح تقلید کی تردید میں قرآن کریم کی بہت سی آیات، احادیث رسول، آثار صحابہ، اقوال سلف اور فتاویٰ علماء اہل سنۃ موجود ہیں کسی اہل حدیث عالم نے تقلید کو واجب نہیں قرار دیا بلکہ تقلید کا رد ہی کیا ہے لیکن مدخلی فرقے کا سرغنہ ربیع المدخلی تقلید کی اس بدعت کو واجب قرار دیتا ہے ملاحظہ فرمائیں :

FB_IMG_1663494009725.jpg


دیکھیں کس طرح حفاظ زبیر علی زئی کے سوال کرنے پر مدخلی فرقہ کے سرغنہ ربیع المدخلی نے بڑی ڈھیٹائی سے کہا کہ إن التقلید واجب یعنی بیشک تقلید واجب ہے۔ یہ وہی ربیع مدخلی ہے جس کو اہل حدیثوں میں تقیہ کر چھپے مداخلہ ایک بڑا سلفی عالم باور کرانے کی فراق میں لگے رہتے ہیں اور یہ مدخلی عام اہل حدیثوں کو یہ مغالطہ دیتے ہیں کہ دیکھو ہمارے بابے ربیع مدخلی نے تو اخوانیوں کا کتنا رد کیا، قطبیوں کا کتنا رد کیا!

ہمارا ان مدخلیوں سے سوال ہے کہ محض کسی گمراہ فرقے کا رد دینا کسی کے حق ہونے کی دلیل ہے؟ مثلا اگر کوئی قادیانی کسی رافضی کا رد کرے تو اس رد کرنے سے وہ قادیانی حق پر ہو جائے گا یا مسلمان ہو جائے گا؟ نہیں بالکل بھی نہیں۔ تو پھر کوئی مدخلی مولوی اگر اخوان المشرکین کا رد کر دے تو یہ اس مدخلی کے حق ہونے یا اس مدخلی کے سلفی ہونے کی دلیل کیسے ہوئی؟

ربیع المدخلی تقلید کو واجب قرار دے رہا ہے اور یہ مداخلہ زنادقہ یہ ڈھکوسلے کر رہے ہیں کہ ان کا بابا ربیع مدخلی بہت بڑا سلفی عالم ہے! لیکن ان مدخلیوں کا دجل و فریب کسی سلفی کے آگے نہیں چلنے والا، ہمارے سلف شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ کوئی مسلمان تقلید کو واجب نہیں کہہ سکتا۔

چنانچہ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا فرمان ہے :
"وأما أن يقول قائل: إنه يجب على العامة تقليد فلان أو فلان فهذا لا يقوله مسلم" یعنی کوئی کہے کہ عوام پر فلاں یا فلاں کی تقلید واجب ہے تو ایسا کہنے والا مسلمان نہیں ہو سکتا۔ (مجموع الفتاویٰ، ج ۲، ص : ۱۵۱)

FB_IMG_1663521048451.jpg


برصغیر پاک و ہند میں جو مدخلی زنادقہ چھپ کر اہل حدیثوں میں داخل ہوئے ہیں ابن سبا یہودی کی طرح اور یہ مدخلی بالکل ابن سبا یہودی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنے پروپیگنڈے کو پھیلانے میں لگے ہیں اور اہل حدیث عوام میں بھی مدخلیت/زندیقیت کے جراثیم پھیلا رہے ہیں۔

مدخلی منافقین اکثر یہ دھوکہ دیتے نظر ائیں گے کہ ربیع المدخلی تو بدعت کا بہت سختی سے رد کرتا ہے! لیکن یہ صرف مدخلیوں کی منافقت ہے اور کچھ نہیں۔ ہم ان مدخلیوں سے کہنا چاہیں گے کہ تم عوام کو یہ مغالطہ دے رہے ہو کہ تمہارا بابا ربیع مدخلی بدعت کا رد سختی سے رد کرتا ہے لیکن تمہارے بابے نے تو چوتھی صدی ہجری میں پیدا ہوئی بدعت کو واجب قرار دیا ہوا ہے! جبکہ ہمارے سلف نے تقلید کو بدعت قرار دیا ہے ملاحظہ ہو

امام ابن القیم الجوزیہ رحمہ اللہ تقلید کے بارے میں فرماتے ہیں:
"وَإِنَّمَا حَدَثَتْ هَذِهِ الْبِدْعَةُ فِي الْقَرْنِ الرَّابِعِ الْمَذْمُومِ عَلَى لِسَانِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" اور یہ بدعت تو چوتھی صدی(ہجری) میں پیدا ہوئی ، جس کی مذمت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی (مبارک) زبان سے بیان فرمائی ہے۔ (إعلام الموقعين عن رب العالمين ج ١ ، ص : ٤٣١)

FB_IMG_1663522677274.jpg


آخر میں اللہ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام سلفیوں کو ان مدخلیوں کے مکر و فریب سے محفوظ رکھے اور ان مدخلیوں کے باطل عقائد و نظریات کا قرآن، حدیث اور منہج سلف کی روشنی میں رد کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں صحیح سلفی منہج پر ثابت قدم رکھے۔ آمین
 
Top