• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مدخلی فرقہ کی تقلیدی گمراہیاں

شمولیت
اگست 16، 2017
پیغامات
112
ری ایکشن اسکور
11
پوائنٹ
55
مدخلی فرقہ کی تقلیدی گمراہیاں

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

آپ نے اکثر دیکھا ہو گا کہ مدخلی مقلدین سلفیت کا لیبل لگا کر اپنے آپ کو سلفیوں میں داخل کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں اور اپنے سوا سب کو گمراہ، حزبی، اخوانی، خوارج وغیرہ کہتے نظر آتے ہیں جبکہ حیرت کی بات یہ ہے کہ مدخلیوں کا سلفیت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے ان کے عقائد و نظریات سلفی منہج کے خلاف اور ارجائیت پر مشتمل ہوتے ہیں-

لیکن کچھ اہل حدیث حضرات بالخصوص سعودی فین بائز مداخلہ کا جهوٹا دفاع کرتے نظر آتے ہیں اور فتنہ مدخلیت کی حقیقت عوام کو بتانے پر یہ واویلا کرتے ہیں کہ یہ خیر کی تقسیم نہیں مدخلی بهی سلفی ہے وغیرہ ہلانکہ مداخلہ قطبی اور اخوانی مشرکین کا رد کر کے مشہور ہوا ایک طاغوت پوجاری، مرجئی، اکابر پرست، تقلیدی فرقہ ہےجو حقیقی سلفی اہل السنہ والجماعت اہل حدیثوں کو لامذہب، منہج لیس، حزبی وغیرہ کے الزامات لگاتے نظر آتے ہیں مدخلیوں کی گمراہیوں میں سے ایک بڑی گمراہی ان کا اکابر پرست و تقلیدی ہونا ہے-

اللہ تعای کا فرمان ہے : اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا إِلَٰهًا وَاحِدًا لَّا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ سُبْحَانَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ "ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور درویشوں کو رب بنایا ہے اور مریم کے بیٹے مسیح کو حالانکہ انہیں صرف ایک اکیلے اللہ ہی کی عبادت کا حکم دیا گیا تھا جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ پاک ہے ان کے شریک مقرر کرنے سے۔" [سورہ توبہ، آیت:
٣١]

شیخ عبد الرحمن ابن ناصر السعدی فرماتے ہیں : ‏{‏اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ‏}‏ وهم علماؤهم ‏{‏وَرُهْبَانَهُمْ‏}‏ أي‏:‏ العُبَّاد المتجردين للعبادة‏ ‏{‏أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ‏}‏ يُحِلُّون لهم ما حرم اللّه فيحلونه، ويحرمون لهم ما أحل اللّه فيحرمونه، ويشرعون لهم من الشرائع والأقوال المنافية لدين الرسل فيتبعونهم عليها"(اتخذوآ احبارھم) ”انہوں نے ٹھہرا لیا اپنے احبار کو“ (احبار) سے مراد ان کے ”علماء“ ہیں۔ (ورھبانھم) ”اور اپنے رہبان کو“ اور (رھبان) سے مراد ”وہ عبادت گزار لوگ ہیں جنہوں نے عبادت کے لئے گوشہ نشینی اختیار کی ہے۔“ (ارباباً من دون اللہ) ”رب اللہ کے سوا“ وہ ان کے لئے ان امور کو حلال کرتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے اور یہ ان کو حلال سمجھ لیتے ہیں اور ان امور کو حرام کرتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حلال ٹھہرایا ہے اور یہ (ان کی تقلید میں) ان امور کو حرام قرار دے لیتے ہیں۔ یہ احبار اور رہبان ان کے لئے ایسی شریعت اور اقوال مشروع کرتے ہیں جو انبیاء و رسل کے دین کے منافی ہیں اور یہ ان کی تقلید کرتے ہیں۔" [تفسیر السعدی، ص :
١٠٣٣]

اور قرآن کی گزشتہ آیت تقلید کے گمراہی و شرک ہونے پر واضح دلالت کرتی ہے لیکن مداخلہ اس کی مخالفت کرتے ہوئے تقلید نہ کرنے کو باطل و شر قرار دیتے ہیں-

ربیع بن ہادی مدخلی نے کہا ہے:

المقولة المبطلة التي ظاهرها الحق، وباطنها الباطل والشر: لا أقلد!!، تجده جاهلا لا یفهم شیئا في دین الله، وهوا أشد الناس حاجة إلی تقلید العلماء"یہ باطل مقولہ زبان زد عام ہے جس کا ظاہر حق معلوم ہوتا ہے لیکن باطن میں باطل وشر ہے، اور وہ یہ ہے کہ: ’’میں کسی کی تقلید نہيں کرتا‘‘!!۔ آپ اسے پائیں گے کہ نرا جاہل ہے اللہ کے دین میں سے کچھ سمجھتا نہيں، حالانکہ اسے تمام لوگوں سے بڑھ کر علماء کرام کی تقلید کی حاجت ہے"
[مرحبا ًیا طالب العلم، ص: ٦١]

مدخلیوں کی یہ سب جزباتی باتیں ہے جو قرآن حدیث و منہج سلف کے بالکل خلاف ہے کیوں کہ اسلاف نے تو اگر عالم ہدایت پر بهی ہو تو بهی اس کی تقلید کرنے سے منع فرمایا ہے چنانچہ سیدنا معاذ بن جبل رضی الله عنہ کا فرمان ہے : أما العالم فإن الهتد فلا تقلدوه دینکم "اگر عالم ہدایت پر بهی ہو تو اپنے دین میں اس کی تقلید نہ کرو-" [جامع بیان العلم و فضلہ لابن عبد البر
٢/٢٢٢ ح ٩٥٥ و سند حسن]

سیدنا عبد الله بن مسعود رضی الله عنہ نے فرمایا : لا تقلدو ا دینکم الرجال "اپنے دین میں لوگوں کی تقلید نہ کروں-" [السنن الکبری للبیهقی
٢/١٠ و سند حسن]

امام محمد بن عبد الوھاب رحمہ اللہ کا فرمان ہے:


أن دينهم مبني على أصول أعظمها التقليد، فهو القاعدة الكبرى لجميع الكفار أولهم وآخرهم، كما قال تعالى: وَكَذَلِكَ مَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ فِي قَرْيَةٍ مِّن نَّذِيرٍ إِلَّا قَالَ مُتْرَفُوهَا إِنَّا وَجَدْنَا آبَاءنَا عَلَى أُمَّةٍ وَإِنَّا عَلَى آثَارِهِم مُّقْتَدُونَ [الزخرف:۲۳]. وقال تعالى: وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنزَلَ اللَّهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ آبَاءنَا أَوَلَوْ كَانَ الشَّيْطَانُ يَدْعُوهُمْ إِلَى عَذَابِ السَّعِيرِ [لقمان:۲۱]. فأتاهم بقوله: قُلْ إِنَّمَا أَعِظُكُم بِوَاحِدَةٍ أَن تَقُومُوا لِلَّهِ مَثْنَى وَفُرَادَى ثُمَّ تَتَفَكَّرُوا مَا بِصَاحِبِكُم مِّن جِنَّةٍ [سبأ:۴
٦]، وقوله: اتَّبِعُواْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ وَلاَ تَتَّبِعُواْ مِن دُونِهِ أَوْلِيَاء قَلِيلاً مَّا تَذَكَّرُونَ [الأعراف:۳]


مشرکین نے اپنے مذہب کے کئی ایک اصول بنا رکھے تھے جن میں سرِ فہرست تقلید تھی۔ مشرکینِ عالم کا سب سے بڑا اور اہم قاعدہ اپنے پیش رَوصلحاء کی تقلید کرنا تھا۔ ان کے اس عقیدہ بد کی قرآن کریم یوں وضاحت کرتا ہے:


وَكَذَلِكَ مَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِي قَرْيَةٍ مِنْ نَذِيرٍ إِلَّا قَالَ مُتْرَفُوهَا إِنَّا وَجَدْنَا آبَاءَنَا عَلَى أُمَّةٍ وَإِنَّا عَلَى آثَارِهِمْ مُقْتَدُونَ
اور اسی طرح ہم نے تجھ سے پہلے کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا نہیں بھیجا مگر اس کے خوش حال لوگوں نے کہا کہ بے شک ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک راستے پر پایا اور بے شک ہم انھی کے قدموں کے نشانوں کے پیچھے چلنے والے ہیں۔ [سورۃ الزخرف: آیت:۲۳]

وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنْزَلَ اللَّهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا أَوَلَوْ كَانَ الشَّيْطَانُ يَدْعُوهُمْ إِلَى عَذَابِ السَّعِيرِ
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کرو جو اللہ نے نازل کیا ہے تو کہتے ہیں بلکہ ہم اس کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا، اور کیا اگرچہ شیطان انھیں بھڑکتی آگ کے عذاب کی طرف بلاتا رہا ہو؟ [سورۃ لقمان، آیت:۲۱]

ربّ کریم ترکِ تقلید پر ان کو یوں متنبہ فرماتا ہے:
قُلْ إِنَّمَا أَعِظُكُمْ بِوَاحِدَةٍ أَنْ تَقُومُوا لِلَّهِ مَثْنَى وَفُرَادَى ثُمَّ تَتَفَكَّرُوا مَا بِصَاحِبِكُمْ مِنْ جِنَّةٍ إِنْ هُوَ إِلَّا نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ
کہہ دے میں تو تمھیں ایک ہی بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ اللہ کے لیے دو دو اور ایک ایک کر کے کھڑے ہو جائو، پھر خوب غور کرو کہ تمھارے ساتھی میں جنون کی کون سی چیز ہے۔ وہ تو ایک شدید عذاب سے پہلے محض تمھیں ڈرانے والا ہی ہے۔ [سورۃ سبأ، آیت:۴٦]

اتَّبِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ قَلِيلًا مَا تَذَكَّرُونَ

تم لوگ اس کی پیروی کرو جو تمہارے رب کی طرف سے آئی ہے اور اللہ کو چھوڑ کر من گھڑت سرپرستوں کی پیروی مت کرو تم لوگ بہت ہی کم نصیحت پکڑتے ہو۔ [سورۃ الأعراف، آیت:۳]

[ﻣﺴﺎﺋﻞ ﺍﻟﺠﺎﻫﻠﻴﺔ ﺍﻟﺘﻲ ﺧﺎﻟﻒ ﻓﻴﻬﺎ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﺃﻫﻞ ﺍﻟﺠﺎﻫﻠﻴﺔ، ص:۱۳-۱۴]

تقلید کو نہ اللہ نے واجب کیا ہے نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حکم دیا بلکہ قرآن و حدیث میں تقلید سے منع کیا گیا ہے اور اسے مشرکین کا طریقہ قرار دیا ہے۔ اور مدخلی مرجئہ اسے مسلمانوں کے لئے واجب کرتے ہیں یعنی مدخلی مشرکین کے اس عمل کو واجب کرتے ہیں جس سے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے روکا ہے اور سلف نے بھی جس کی تردید کی ہے۔

حافظ زبیر علی زئی فرماتے ہیں:

"میں نے شیخ ربیع سے ان کے مکتبے (گهر) میں یہ کہتے ہوئے سنا:
"إن التقلید واجب" بے شک تقلید واجب ہے-
میں نے حیرت زدہ ہوکر پوچها: آپ کیا کہہ رہے ہیں؟
شیخ ربیع المدخلی نے دوبارہ کہا:
"إن التقلید واجب"
یہ سن کر میں نے (کچھ کہا اور) اپنا سامان (بیگ) اٹهایا اور عوالی کو خیرباد کہہ کر حرم (بیت اللہ) چلا آیا-"

[تحقیقی اصلاحی اورعلمی مقالات، جلد ٢، ص : ٥٠٠]

ربیع مدخلی کا تقلید کو واجب قرار دینا قرآن حدیث و منہج سلف کی صریح مخالفت ہے مدخلی سلفیت کے لبادے میں چپے ہوئے اکابر پرست متعصب گروہ ہے مدخلیوں نے قطبی اور اخوانی مشرکین کا تھوڑا بہت رد کر کے لوگوں میں جگہ بنائی اور عوام بھی مدخلیوں کی اس فریب کاری کا شکار ہو گئے اور مدخلیوں کو سلفی سمجھنا شروع کر دیا مدخلی رافضیوں کی طرح تقیہ کرنے والے منافقین ہوتے ہیں جن کا اصل مقصد سلفیوں کو بدنام کرنا اور سلفی منہج والوں کو لامذہب، خوارج اور حزبی وغیرہ کے الزامات لگا کر عوام کو سلفی منہج سے دور کرنا ہے۔ لوگ مدخلی مولویوں کی پیروکار بنے رہے اور سلفی منہج کے قریب نہ جا سکے اسلئے وہ اپنی عوام پر تقلید کو واجب کرتے ہیں تاکہ مدخلی عوام اکابر پرست بنی رہے۔

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وأما أن يقول قائل: إنه يجب على العامة تقليد فلان أو فلان فهذا لا يقوله مسلم "اور اگر کوئی کہنے والا کہے کہ عوام پر فلاں یا فلاں کی تقلید واجب ہے، تو ایسی بات کوئی مسلم نہیں کہتا۔
"
[مجموع فتاویٰ ابن تیمیہ ۲۴۹/۲۲]

کچھ مدخلی یہ مغالطہ دیتے ہیں ہم قرآن حدیث کے خلاف تو تقلید نہیں کرتے بلکہ ہر کوئی اہل علم نہیں ہوتا اسلئے عامی پر مجبوری کی بناء پر اہل علم کی تقلید کو واجب سمجھتے ہیں! مدخلیوں کا تقلید کو واجب کرنے کا یہ مغالطہ بھی باطل ہے۔ ایسے باطل اعتراضات کا رد کرتے ہوئے

شیخ ابو محمد امین اللہ الپشاوری حفظہ اللہ فرماتے ہیں:


"تقلید کی اس قسم کو کچھ لوگ یہ کہہ کر جائز قرار دیتے ہیں کہ ہم تو قرآن و حدیث کا مقابلہ نہیں کرتے بلکہ قرآن و حدیث کو قابل قدر نگاہوں سے دیکهتے ہیں محض مجبوری کی بناء پر کسی ایک امام کی تقلید کرتے ہیں- لیکن تقلید کی یہ قسم بهی چند وجوہات کی بنا پر غلط ہے کیونکہ : (
١)- تقلید بدعت ہے اس لئے کہ خیر القرون میں اس کا نام ونشان تک نہیں تها جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے
: {کل بدعة ضلالة وکل ضلالة فی النار} (مشکوة ص:١ /٣٠)
دین میں ہر نیا کام بدعت ہے ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں پہنچا دیتی ہے- نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس صحیح مرفوع حدیث کے آنے کے باوجود تقلید کو ممدوح اور مذموم کے اعتبار سے منقسم کرنا تو ایسا ہے جیسے بدعت کی دو قسمیں سیئہ اور حسنہ قرار دی جائے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق ہر بدعت گمراہی ہے-"

[حقیقتہ التقلید و اقسام المقلدین، ص: ١١]

مدخلیوں کی جانب سے یہ مغالطہ بھی دیا جاتا ہے کہ ہر کوئی قرآن حدیث سے مسائل نہیں نکال سکتا لہٰذا عامی پر تقلید کرنا واجب ہے یہ مغالطہ بھی باطل ہے کیوں کہ عامی اگر کسی عالم سے مسئلہ پوچتا ہے تو ساتھ میں وہ عالم دلیل بھی دیتا ہے اور ایک عامی شخص کا کسی عالم سے مسئلہ پوچھنے کے لئے یہ ضروری نہیں کہ وہ اس کا مقلد بنے اور اس کے اوپر تقلید کرنا ہی واجب ہو۔

شیخ ابو محمد امین اللہ الپشاوری حفظہ اللہ فرماتے ہیں:

"ہما رے نزدیک ان فرضی اور موہوم مسائل کی کوئی حقیقت نہیں ایسا کونسا مسئلہ ہے جو قرآن اور حدیث میں نہیں ہے اور لوگ اس کی ضرورت محسوس کرتے ہیں؟ مقلدین کے اس طرزِ عمل سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ قرآن و حدیث ناقص سمجھتے ہیں۔ اسی طرح جس عالم سے یہ مسئلہ پوچھا جائے گا وہ اس مسئلہ کو قرآن و حدیث سے حل کرے گا یا اپنی رائے کے مطابق؟۔
اگر آپ کہتے ہیں کہ قرآن و حدیث کے مطابق حل کرے گا تو پھر تو قرآن و حدیث مکمل ہوئے اور آپ کی رائے باطل قرار پائی۔ لیکن اگر یہ عالم اس کا حل اپنی رائے سے نکالے گا تو دین کے معاملے میں کسی عالم کی رائے حجت نہیں۔"


[حقیقتہ التقلید و اقسام المقلدین، ص: ١۲]

اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں سلفی منہج پر قائم رکھے اور مدخلی مرجئہ جو سلفیت کو اس وقت سب سے زیادہ نقصان پہنچا رہے ہیں اور سلفی منہج والوں کو خوارج ، لامذہب کے جھوٹے الزامات لگا رہے ہیں ان مدخلی زندیق کے فتنہ اور فریب کاریوں سے محفوظ رکھے اور مدخلیوں کے باطل عقائد و نظریات کی تردید کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
 
Top