• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مدرسہ دار الحدیث رحمانیہ دہلی کی طرف سے دی جانے والی سند اور ایک اشتہار

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,537
پوائنٹ
791
سبحان اللہ۔۔۔۔ما شاء اللہ
یہ صرف ایک اشتہار نہیں ،بلکہ اہل حدیث کی تاریخ کا ایک اہم صفحہ ہے ؛
اس ایک اشتہار میں۔۔۔چار بڑے نام ۔۔علامہ ابراہیم میرؒ ۔۔۔علامہ احمد اللہؒ ۔۔اور ’’ محمدیات ‘‘ کے نامور مصنف علامہ ’‘ محمد جونا گڑھی ‘‘ جن کی تحریریں پڑھ کر بلاشبہ ہزاروں افراد شرک و بدعت اور تقلید جامد کے اندھیروں سے باہر آئے ؛
اور آخری نام ۔۔جناب عبد الغفار حسن ۔۔جو بلند پایہ عالم تھے ؛
رحمہم اللہ تعالی
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,537
پوائنٹ
791
علامہ عبد الغفار حسن رحمہ اللہ

اس نایاب ، قیمتی ،تاریخی اشتہار میں ۔۔علامہ عبد الغفار حسن رحمہ اللہ کا اسم گرامی بھی موجود ہے ؛
اس لئے انکے مختصر حالات پیش خدمت ہیں :

مولانا عبد الغفار حسن رحمانی عمر پوری (رحمہ اللہ )علامہ، مسند، محدث ، شيخ ، استاذالاساتذۃ، خانوادہ عمر پور، مظفر نگر یو پی سے تعلق رکھنے والے معروف محدث تھے ۔آپ ہندوستان ، پاکستان اور سعودی عرب کی معروف جامعات سے منسلک رہے ۔ آپ کے تلامذہ میں دنیا بھر کے معروف علمائے دین شامل ہیں ، اسی لیے آپ کو بجا طور پر استاذالاساتذہ کہا جاتا ہے۔
عبدالغفار حسن بن عبدالستار حسن بن عبدالجبار عمر پوری بن منشی بدر الدین بن محمد واصل ۔ مورث اعلی کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ شیخ حبان نامی ایک شخص جن کا تعلق مصر سے تھا ہندوستان آ کر آباد ہوگئے ، ان کا اپنا شجرہ نسب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تک پہنچتا ہے۔ آباو اجداد مظفر نگر یوپی کے ایک مضافاتی قصبے عمر پور میں آباد تھے اور اسی نسبت سے عمر پوری کہلائے۔
آپ کے پردادا عبدالجبار ہفت روزہ ضیاء السنة کلکتہ کے ایڈیٹر تھے، جسے اُن کے اپنے برادرِ خورد ضیاء الرحمن بحیثیت پبلشر نکالا کرتے تھے۔ اُس دور میں سنت کا دفاع کرنے اور قرآن وحدیث کی دعوت کوعام کرنے میں جن رسائل و جرائد نے بھرپور کام کیا، اُن میں یہ پرچہ سرفہرست تھا۔خاص طور پر مرزا غلام احمد قادیانی کی ضلالات اور عبداللہ چکڑالوی کی ہفوات کی خوب خبر لیتا تھا۔(ڈاکٹر صہیب حسن کا مضمون :تذکرہ اباجان از ڈاکٹر صہیب حسن لندن محدث ج۳۹ ش ۵)


ولادت
مولانا عبد الغفار حسن كى ولادت باسعادت بروز سوموار 15 شعبان 1331ہجرى ، 20 جولائى 1913ء روہتك مشرقى پنجاب ميں ہوئی ۔

حصول تعليم:
مولانا عبد الغفار حسن رحمہ اللہ نے دينى تعليم اپنے زمانے كى مشہور درس گاہ دارالحديث رحمانيہ دہلى ( غير منقسم ہندوستان) سے حاصل كى ،اور 1352 ہجری ميں سند فراغت حاصل كى ۔1354 ہجرى ميں جامعہ لکھنؤ ہند سے فاضل ادب عربى كا امتحان پاس كيا ۔1359 ہجری ميں جامعہ پنجاب سے مولوى فاضل ( عربى ) كا امتحان ميں كامياب ہوئے ۔اس كے ساتھ ساتھ انہوں نے اس وقت كے علماء کے رواج كے مطابق طب اسلامى كى تعليم بھی حاصل كى تاكہ علم دين كو پیشہ كے طور پر اپنانے سے بچا جا سكے ۔آپ نے فاضل طب یونانی کی سند الہ آباد بورڈ سے حاصل کی۔جبکہ الہ آباد بورڈ ہی سے عالم کی سند حاصل کی۔
تدريسى خدمات:
مدرسہ رحمانيہ بنارس 1355 هحرى سے 1361 ہجری
مدرسہ كوثر العلوم مالير کوٹلہ (مشرقى پنجاب ، ہندوستان) 1361_ 1367هجرى
مختلف اداروں اور علاقوں ميں تدريس 1367_ 1384هجرى
جامعہ اسلاميہ مدينہ منورہ ، سعودى عرب ،1384_ 1401 هجری
جامعہ تعليمات اسلاميہ فيصل آباد ، 1402_ 1406 ہجرى
عہدے اور مناصب[ترمیم]
جامعہ تعليمات اسلاميہ فيصل آباد كے ناظم تعلیمات رہے ۔
نو برس تك اسلامى نظرياتى كونسل پاكستان كے ركن رہے ۔

اساتذہ کرام
مولانا أحمداللہ دہلوی ( علم حديث)
مولانا محمد سورتی (علم حديث اور عربی ادب )
مولانا سكندر على ہزاروی ( علم منطق و فلسفہ )
مولانا محمد شریف اللہ پشاوری ( علم اصول فقہ اور مبادی منطق )
الشيخ عبيداللہ الرحمانى المباركفورى صاحب مرعاة المفاتيح ( الحديث و الفقه و أصوله)
مولانا نذیر احمد املوی رحمانی ( علم فقہ و اصول فقہ )
شيخ عبدالغفور ولايت پوری أعظمى
مولانا عبدالرحمن نگرنہسوی بہاری
شيخ عبدالله ندوى بنگالی
الشيخ عبدالغفور بستى بسكوروى
الشيخ خير محمد الجالندهرى
الشيخ شريـف الله سواتى
الشيخ كبير الدين البنغالى
الشيخ محمد شريف
الشيخ محمد سليمان
الشيخ شمس الحق بنگالی
الشيخ المقرىء أبرار الحق
الشيخ خليفة عبد القادر
الشيخ فضل الرحمن الباقى
مولانا عبدالغفار حسن رحمہ اللہ كى سند حديث
مولانا عبد الغفار حسن رحمہ اللہ كى سند حديث ان كے شيخ احمد اللہ الدہلوی سے متصلا نبي كريم صلى اللہ عليہ وسلم تك پہنچتی ہے اور ان كے اور رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم كے درميان 23 شيوخ ہیں ۔وہ اپنے ذہین اور لائق تلامذہ كو يہ سند عطا فرمايا كرتے تھے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وفات :
جمعرات 3/3/ 1428هجرى بمطابق 22/3/2007 ء كو ہوئی ۔ آپ كو اگلے روز ، بروز جمعہ 4/3/1428هجرى بمطابق 23/3/2007 ء كو اسلام آباد كے قبرستان ميں دفن كيا گیا ۔مولانا کے جنازے میں اہل علم اور عوام كى ايك بڑی تعداد نے دور دراز سے آ كر شركت كى۔
 
شمولیت
اپریل 24، 2014
پیغامات
158
ری ایکشن اسکور
44
پوائنٹ
77
مذکورہ سند بھی شیخ رحمہ اللہ ہی کی ہے..مولانا عبد الغفار حسن حیات وخدمات سے ماخوذ ہے..
مولانا مرحوم کی ایک بات جو تمام علمائے کرام کے لیے لائق تقلید ہے کہ آپ نے اپنی اولاد کی کس نہج پر تربیت کی کہ ہر اولاد آفتاب وماہتاب بن کر چمکی....رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ......وجزاکم اللہ خیرا
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,773
ری ایکشن اسکور
8,454
پوائنٹ
964
ما شاء الله، چھپ چکی ہے کیا؟
جی ، چند دن پہلے علماء کا ایک اجتماع ہوا تھا ، سب کو حافظ شاہد محمود صاحب کی طرف سے تحفے میں دی گئی ، آزاد بھائی کی پیش کردہ تصویر غالبا اسی نسخہ کی ہے ۔
 
Top