• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مدلس عن الکذاب راوی کی معنعن روایت علامہ البانی رحمہ اللہ کے نزدیک حسن لغیرہ کے باب میں حجت نہیں۔

سٹیٹس
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
5,000
ری ایکشن اسکور
9,801
پوائنٹ
773
’’حسن لغیرہ‘‘ حجت ہے یا نہیں اس بارے میں مستقل کتابیں لکھی جاچکی ہے شائقین درج ذیل دھاگہ سے ان کتب کو ڈاؤنلوڈ کرسکتے ہیں:
ضعیف + ضعیف = حسن لغیرہ کی حجیت پر ایک بہترین کتاب۔

ذیل میں ہم علامہ البانی رحمہ اللہ کے کلام سے ایک اہم اقتباش پیش کررہے ہیں ، جس میں علامہ البانی رحمہ اللہ نے یہ صراحت کی ہے کہ مدلس عن الکذاب راوی والی روایت (ضعیف+ضعیف=حسن لغیرہ) کے اصول میں ناقابل حجت ہے۔
یعنی مدلس عن الکذاب کی روایات کو ملا جلا کر حسن لغیرہ نہیں بنایا جاسکتا۔


واضح رہے کہ علامہ البانی رحمہ اللہ کا اصول ہے کہ ضعیف روایت دوسری ضعیف روایت سے مل کرحسن لغیرہ بن جاتی ہے ، لیکن اس کے ساتھ ان کی بعض تصریحات سے معلوم ہوتاہے کہ موصوف کے نزدیک مدلس عن الکذابین کی معنعن روایات سخت ضعیف ہوتی ہیں اور حسن لغیرہ کے باب میں قابل قبول نہیں ، چنانچہ بخاری ومسلم کے راوی ابن جریج رحمہ اللہ پر کذاب سے تدلیس کرنے کا الزام ہے اس لئے ان کی معنعن مرویات کے بارے میں علامہ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:


فتبين من كلمات هؤلاء الأئمة أن حديث ابن جريج المعنعن ضعيف، شديد الضعف، لا يستشهد به؛ لقبح تدليسه، حتى روى أحاديث موضوعة، بشهادة الإمام أحمد، وهذا إذا كان حديثه المعنعن مسندًا، فكيف إذا كان مرسلًا، بل معضلًا كهذا الحديث؟!.[جلباب المرأة المسلمة في الكتاب والسنة ص: 46 ]۔
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,771
ری ایکشن اسکور
8,488
پوائنٹ
964
جزاکم اللہ کفایت اللہ بھائی !
ضعیف جمع ضعیف
اور
ضعیف شدید جمع ضعیف شدید یا ضعیف جمع ضعیف شدید
دو الگ الگ مسئلے ہیں ۔
جو لوگ حسن لغیرہ کی حجیت کے قائل ہیں وہ میرے خیال سے پہلی قسم کی احادیث کے بارے میں یہ موقف رکھتے ہیں دوسری قسم کے بارے میں ان کا موقف بھی عدم حجیت کا ہی ہے ۔(کتب مصطلح میں یہ بات تفصیلی موجود ہے )
شیخ البانی کے حوالے سے جو مثال بیان کی گئی ہے اس میں بھی ضعف شدید کا ذکر ہے جیسا کہ شیخ نے صراحت کی ہے ۔
لہذا اس بات کو صرف ضعف شدید کی کسی ایک صورت کے ساتھ خاص نہیں کرنا چاہیے بلکہ ضعف شدید کی منجملہ صورتیں اس میں شامل ہیں ۔ واللہ أعلم
چنانچہ آپ کی درج ذیل عبارت سے یہ مترشح ہو رہا ہےکہ شیخ ا لبانی شاید ضعیف جمع ضعیف والے اصول کی مخالفت یا اس سے کوئی استثنابیان کر رہے ہیں ۔
واضح رہے کہ علامہ البانی رحمہ اللہ کا اصول ہے کہ ضعیف روایت دوسری ضعیف روایت سے مل کرحسن لغیرہ بن جاتی ہے ، لیکن اس کے ساتھ ان کی بعض تصریحات سے معلوم ہوتاہے کہ موصوف کے نزدیک مدلس عن الکذابین کی معنعن روایات سخت ضعیف ہوتی ہیں اور حسن لغیرہ کے باب میں قابل قبول نہیں
حالانکہ جس طرح ان کا ضعیف جمع ضعیف کی حجیت کا اصول ہے اسی طرح دیگر أئمہ کی طرح ضعف شدید جمع ضعف شدید کی عدم حجیت کا بھی اصول ہے ۔ واللہ أعلم
ب
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
5,000
ری ایکشن اسکور
9,801
پوائنٹ
773
خضرحیات بھائی مدلس راوی نے اگرعن سے بیان کیا ہے تو درج ذیل دو باتیں لازمی نہیں:

  1. یہ ضروری نہیں کہ مدلس نے اپنی معنعن روایت میں تدلیس ہی کیا ہے بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ عن سے روایت کرنے کے باوجود بھی اپنے شیخ کو ساقط نہ کیا ہو۔
  2. اوراگرتدلیس بھی کیا ہو تو یہ ضروری نہیں کہ کذاب راوی ہی کوساقط کیا ہو بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ ثقہ راوی کو ساقط کیا ہو اوراگرضعیف ہی کو ساقط کیا ہو تو یہ ضروری نہیں کہ مسقوط سخت ضعیف ہو۔




ہاں اگرکسی روایت سے متعلق معلوم ہوجائے کہ اس میں مدلس نے واقعۃ تدلیس کی ہے اوراس کے ساتھ یہ بھی معلوم ہوجائے کہ اس میں مسقوط راوی سخت ضعیف ہے تو ایسی روایت حسن لغیر ہ کے باب میں حجت نہیں ہوتی ، حافظ ابن حجررحمہ اللہ اسی بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حسن لغیر ہ کی بابت فرماتے ہیں:

ومتى تُوبعَ السيءُ الحفظ بمُعْتَبَرٍ: كأَنْ يكونَ فَوْقَهُ، أو مِثلَهُ، لا دونه، وكذا المختلِط الذي لم يتميز، والمستور، والإسناد المرسل، وكذا المدلَّس إذا لم يُعْرف المحذوف منه صار حديثُهم حسناً، لا لذاته، بل وصْفُهُ بذلك باعتبارِ المجموع، [نزهة النظر في توضيح نخبة الفكر ( ت: الرحيلي -ط: سفير ) ص: 130]

ملون حصہ پرغورکریں حافظ ابن حجررحمہ اللہ مدلس کی معنعن روایت کو حسن لغیرہ میں لینے کے لئے یہ شرط لگارہے ہیں کہ محذوف راوی معلوم نہ ہو، یعنی اگر محذوف راوی کا علم ہوجائے (یعنی وہ سخت ضعیف نکلے)تو وہ روایت حسن لغیرہ کے باب میں مقبول نہ ہوگی اورمحذوف راوی کے بارے میں علم کے لئے درج ذیل دو چیزیں لازم ہیں:

  1. اول: یہ بات معلوم ہو کہ مدلس نے تدلیس کی ہے یعنی راوی کوساقط کیا ہے۔
  2. دوم: جس کو ساقط کیا ہے اس کے حالات بھی معلوم ہوں۔


اب اگرمدلس کی معنعن روایت میں مذکورہ دنوں چیزیں نہیں پائی گئیں تو حافظ ابن حجررحمہ اللہ کے اصول کے مطابق ایسی روایت حسن لغیرہ کے باب میں مقبول ہوگی ۔
اس اصول کی روشنی میں حافظ ابن حجرکے نزدیک ابن جریج کا وہ عنعنہ جس میں تدلیس کا ثبوت نہ ہو یا تدلیس کا ثبوت ہو لیکن محذوف معلوم نہ ہو وہ حسن لغیرہ کے باب میں مقبول ہوگا ۔

لیکن علامہ البانی رحمہ اللہ ایسی روایت کو بھی حسن لغیرہ کے باب میں قبول نہیں کرتے ۔
یعنی مدلسین کی بعض ایسی معنعن روایات جن میں مسقوط روای کا پتہ چلنا تو دور کی بات ، یہ بھی معلوم نہیں کہ یہاں مدلس نے ساقط کیا بھی ہے یا نہیں ، اس قسم کی بھی بعض روایات کو علامہ البانی حسن لغیرہ کے لئے قبول نہیں کرتے، اوپر یہی بتایاگیا ہے، اور یہ موقف حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے موقف سے مختلف ہے ۔


یہی بات اوپر بتائی گئی ہے ، امید ہے کہ فرق واضح ہوگیا ہوگا۔
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,771
ری ایکشن اسکور
8,488
پوائنٹ
964
جزاکم اللہ کفایت بھائی !
مجھے محسوس ہوا کہ اس بات پر ہمارا اتفاق ہے کہ شیخ البانی رحمہ اللہ ضعف شدید جمع ضعف شدید وغیرہ کی حجیت کے قائل نہیں ہیں ۔
اب رہا مسئلہ صرف ضعف غیر شدید جمع ضعف کا کہ اس کو شیخ البانی حسن لغیرہ کے باب میں حجت مانتے ہیں کہ نہیں ؟
آپ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ وہ اس میں بھی (ضعف غیر شدید میں بھی) بعض جگہ حسن لغیرہ کی حجیت کے قائل نہیں ہیں اور بطور مثال کے آپ نے ان جریج کا عنعنہ پیش کیا ہے ۔
آپ کا اس مثال سے استدلال اس وقت مستقیم ہے جب یہ ثابت کردیا جائےکہ ابن جریج کے عنعنہ کو شیخ البانی ضعف غیر شدید سمجھتے ہیں ۔ جو بات میں سمجھا ہوں وہ یہ ہے کہ شیخ البانی نے صرف معنعن روایت ہونے کی وجہ سے اس کو رد نہیں کیا بلکہ ابن جریج چونکہ کذا ب رایوں سے تدلیس کرتا ہے اس لیے اس کی معنعن روایت ضعف شدید ہوگی کیونکہ احتمال ہے کہ محذوف راوی ضعیف جدا یا کذاب وغیرہ ہو ۔
اور آپ نے جو یہ لکھا ہےکہ :

  1. یہ ضروری نہیں کہ مدلس نے اپنی معنعن روایت میں تدلیس ہی کیا ہے بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ عن سے روایت کرنے کے باوجود بھی اپنے شیخ کو ساقط نہ کیا ہو۔
  2. اوراگرتدلیس بھی کیا ہو تو یہ ضروری نہیں کہ کذاب راوی ہی کوساقط کیا ہو بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ ثقہ راوی کو ساقط کیا ہو اوراگرضعیف ہی کو ساقط کیا ہو تو یہ ضروری نہیں کہ مسقوط سخت ضعیف ہو۔

یہ بات آپ کی ٹھیک ہے کہ یہ ضروری نہیں ہے لیکن احتمال تو ہے نا ؟
اور اس احتمال کو ختم کرنا یہ اس سے حجت پکڑنے والے کے ذمہ ہے نہ کہ اس کو رد کرنے والےکے ذمے ۔ اور اگر ان دونو ں باتوں کی نفی ثابت نہ ہوئی تو ضعف باقی رہے گا ۔

ہاں اگرکسی روایت سے متعلق معلوم ہوجائے کہ اس میں مدلس نے واقعۃ تدلیس کی ہے اوراس کے ساتھ یہ بھی معلوم ہوجائے کہ اس میں مسقوط راوی سخت ضعیف ہے تو ایسی روایت حسن لغیر ہ کے باب میں حجت نہیں ہوتی ،
مدلس کے بارے میں یہ قاعدہ ہے کہ والمدلس إذا قال عن لا یحتج بحدیثہ إلا إذا صرح بالسماع کمانقل النووی عن الشافعی فی شرح مقدمۃ صحیح مسلم ۔یہاں سے پتہ چلتا ہے کہ مدلس کی ہر ہر روایت میں تدلیس ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اس کے عنعنہ کو قبول کرنے کے لیے ہر ہر روایت میں تصریح بالسماع کی ضرورت ہے ۔
چونکہ ابن جریج کی تدلیس عن الضعفاء والکذابین ثابت ہے لہذا اب ہر روایت میں یہ ثابت کرنے کی حاجت نہیں ہے ۔ واللہ أعلم


حافظ ابن حجررحمہ اللہ اسی بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حسن لغیر ہ کی بابت فرماتے ہیں:

ومتى تُوبعَ السيءُ الحفظ بمُعْتَبَرٍ: كأَنْ يكونَ فَوْقَهُ، أو مِثلَهُ، لا دونه، وكذا المختلِط الذي لم يتميز، والمستور، والإسناد المرسل، وكذا المدلَّس إذا لم يُعْرف المحذوف منه صار حديثُهم حسناً، لا لذاته، بل وصْفُهُ بذلك باعتبارِ المجموع، [نزهة النظر في توضيح نخبة الفكر ( ت: الرحيلي -ط: سفير ) ص: 130]

ملون حصہ پرغورکریں حافظ ابن حجررحمہ اللہ مدلس کی معنعن روایت کو حسن لغیرہ میں لینے کے لئے یہ شرط لگارہے ہیں کہ محذوف راوی معلوم نہ ہو،
یہاں سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ ابن جریج کے عنعنہ کو ضعف غیر شدید سمجھتے ہیں اور اسکی بنیاد حافظ ابن حجر کا مذکورہ قول ہے ۔
مدلس کی روایت کی دو صورتیں ہیں اس میں محذوف معلوم ہے یا نہیں
پہلی صورت میں راوی دو حال سے خالی نہیں یاتو ثقہ ہوگا یا پھر ضعیف اور پھر ضعیف ہونے کی بھی دو صورتیں ہیں ضعف غیر شدید یا ضعف شدید ۔
یعنی کل تین صورتیں بنتی ہیں
محذوف راوی جس کے حالات معلوم ہوگئے ہیں
ثقہ ہوگا تو روایت صحیح
ضعیف غیر شدید حسن لغیرہ
ضعیف شدید تو روایت مردود ہی رہے گی ۔
اگر محذوف معلوم نہیں ہے تو پھر راوی کے حالت کی معرفت نہ ہونے کی وجہ سے یہ دیکھا جائےگا کہ جو تدلیس کر رہا ہے عام طور پر اس کی تدلیس کی نوعیت کیا ہے ؟ بعض رواۃ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ لا یدلس إلا عن ثقۃ جیسا کہ سفیان بن عیینہ
بعض رواۃ ضعفاء و متروکین اور کذابین سے تدلیس کرنے میں معروف ہوتے ہیں ۔ جیساکہ ابن جریج وغیرہ
تو اب دوسری قسم کے مدلس (عن الکذابین و المتروکین ) کی روایت کو کس طرح ضعف غیر شدید تسلیم کیا جا سکتا ہے کیونکہ احتمال ہے کہ گرنے والا راوی کذاب و متروک وغیرہ ہو ۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے مذکورہ عبارت میں ضعف غیر شدید کی مختلف صورتیں بیان کی ہیں
ان میں سے ایک صورت مدلس روایت کی بھی ہے اور اس کی بھی مختلف صورتیں ہیں ۔ کیونکہ تدلیس کے مختلف مراتب ہیں کچھ ضعف شدید میں شمار ہوتے ہیں کچھ غیر شدید میں ،تو اب اگر ضعف شدید والی صورت کو بھی مذکورہ صورتوں میں داخل کیا جائے گا تو یہ ضعف، جدا کی روایت کو بھی حسن لغیرہ کہنے والی بات ہوگی ۔ واللہ أعلم



یعنی اگر محذوف راوی کا علم ہوجائے (یعنی وہ سخت ضعیف نکلے)تو وہ روایت حسن لغیرہ کے باب میں مقبول نہ ہوگی اورمحذوف راوی کے بارے میں علم کے لئے درج ذیل دو چیزیں لازم ہیں:

  1. اول: یہ بات معلوم ہو کہ مدلس نے تدلیس کی ہے یعنی راوی کوساقط کیا ہے۔
  2. دوم: جس کو ساقط کیا ہے اس کے حالات بھی معلوم ہوں۔
دونوں چیزوں کا نہ پایا جانا دلیل کا محتاج ہے جیسا کہ پہلے عرض کیا ہے ۔
اس اصول کی روشنی میں حافظ ابن حجرکے نزدیک ابن جریج کا وہ عنعنہ جس میں تدلیس کا ثبوت نہ ہو یا تدلیس کا ثبوت ہو لیکن محذوف معلوم نہ ہو وہ حسن لغیرہ کے باب میں مقبول ہوگا ۔
دونوں چیزوں کا نہ پایا جانا دلیل کا محتاج ہے

لیکن علامہ البانی رحمہ اللہ ایسی روایت کو بھی حسن لغیرہ کے باب میں قبول نہیں کرتے ۔
میں نے شیخ کی صنیع کا استقراء تو نہیں کیا کہ کیا وہ ہر طرح کے مدلس کی روایت کو رد کردیتے ہیں یا پھر ایسی تدلیس کو ہی رد کرتے ہیں جو ضعف شدید کا باعث بنتی ہے البتہ پیش کردہ مثال سے یہی سمجھ آرہی ہے کہ وہ ضعف شدید کا سبب بننے والی تدلیس کو رد کرتے ہیں ۔
البتہ اگر آپ کوئی ایسی مثال پیش کردیں جہاں تدلیس ضعف شدید کا سبب نہ بن رہی ہو اور شیخ نے اس کو رد کیا ہو تو پھر آپ کی بات ٹھیک ہوگی کہ شیخ البانی حسن لغیرہ کی بعض صورتوں کو نہیں مانتے ۔


یعنی مدلسین کی بعض ایسی معنعن روایات جن میں مسقوط روای کا پتہ چلنا تو دور کی بات ، یہ بھی معلوم نہیں کہ یہاں مدلس نے ساقط کیا بھی ہے یا نہیں ، اس قسم کی بھی بعض روایات کو علامہ البانی حسن لغیرہ کے لئے قبول نہیں کرتے، اوپر یہی بتایاگیا ہے، اور یہ موقف حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے موقف سے مختلف ہے ۔
یہی بات اوپر بتائی گئی ہے ، امید ہے کہ فرق واضح ہوگیا ہوگا۔
جو مفہوم آپ نے حافظ ابن حجر کے قول کا لیا ہے اس کے مطابق واقعتا شیخ البانی اور حافظ ابن حجر کا اختلاف بنتا ہے ۔
لیکن جو میں سمجھا ہوں (اگرچہ جسارت ہے )اس طرح دونوں کا موقف ایک ہی رہتا ہے ۔
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
5,000
ری ایکشن اسکور
9,801
پوائنٹ
773
بارک اللہ فیک

آپ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ وہ اس میں بھی (ضعف غیر شدید میں بھی) بعض جگہ حسن لغیرہ کی حجیت کے قائل نہیں ہیں اور بطور مثال کے آپ نے ان جریج کا عنعنہ پیش کیا ہے ۔
ہم یہ ہرگز ثابت نہیں کرنا چاہتے کہ علامہ البانی (ضعف غیر شدید میں بھی) بعض جگہ حسن لغیرہ کی حجیت کے قائل نہیں ہیں ، بلکہ ہم یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ حافظ ابن حجروغیرہ جسے ضعف خفیف مانتے ہیں اورحسن لغیرہ کے باب میں مقبول قراردیتے ہیں بعض حالات میں علامہ البانی اسے ضعیف شدید مانتے ہیں اورحسن لغیرہ کے باب میں قبول نہیں کرتے ۔

میں نےمثال میں ابن جریج کا عنعنہ پیش کیا ہے ، ابن جریج کا عنعنہ اگر محذوف معلوم نہ ہو توحافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے موقف کی روشنی میں یہ حسن لغیرہ کے باب میں مقبول ہے، کیونکہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے اصول کی روشنی میں یہ ضعف خفیف ہے کیونکہ محذوف معلوم نہیِں۔
جبکہ علامہ البانی رحمہ اللہ ابن جریج کے عنعنہ کو حسن لغیرہ میں قبول نہیں کرتے کیونکہ وہ اسے ضعیف شدید مانتے ہیں ۔

یعنی اصل مسئلہ ابن جریج کے عنعنہ کو ضعیف خفیف اورضعیف شدید ماننے کا ہے۔

ہمارا کہنا یہ ہے کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے اصول کی روشنی میں یہ ضعیف خفیف ہے کیونکہ محذوف معلوم نہیں ہے۔

اورعلامہ البانی رحمہ کی نظر میں یہ ضعف شدید ہے ، جبکہ انہیں بھی محذوف کا پتہ نہیں بلکہ محذوف تو درکنار سرے سے تدلیس ہی کا ثبوت نہیں ہے۔

یہ دونوں موقف ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہے ۔


علامہ البانی کا موقف حافظ ابن حجر کے موقف کے موافق اس صورت میں ہوگا جہاں ابن جریج کے عنعنہ میں محذوف راوی کی معرفت ہوجائے ، یعنی جہاں یہ ثابت کردیا جائے کہ:

  1. ابن جریج نے اپنے عنعنہ میں تدلیس کی ہے ۔
  2. اورمحذوف سخت ضعیف راوی ہے۔


اورثبوت کی ذمہ داری اسی پر ہوگی جو معرفت کا دعوی کرے جو غیر معروف کی بات کرے وہ کیونکر ثبوت دے گا۔

ایک اہم بات یہ بھی پیش نظررہے کہ مدلس عن سے روایت کرے اور کسی طریق میں تحدیث وسماع کی صراحت نہ اورنہ کوئی متابع ہو تو اس کا یہ لازمی مطلب نہیں کہ مدلس نے یہاں ضرور تدلیس کی ہے بلکہ یہاں احتمال ہے کہ تدلیس کی ہوگی اورنہیں بھی کی ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔۔اسی احتمال کی بناپر اس کا عنعنہ رد ہوتا ہے نہ کہ اس بنیاد پر اس صورت میں اس کا عنعنہ تدلیس کومستلزم ہے ۔اب محذوف کی معرفت کے لئے یہ پہلا مرحلہ طے کرنا لازم ہوگا یعنی جب یہ طے ہوجائے کہ اس عنعنہ میں تدلیس ہوئی ہے یعنی کوئی راوی حذف ہوا ہے تب دوسرا مرحلہ آئے گا کے محذوف راوی ہے کون ؟؟؟

یاد رہے کہ ہم ابن جریج کے عنعنہ کو متاخرین کی اصطلاح کے مطابق ضعف شدید صرف اس صورت میں مانیں گے جب :

  1. اس عنعنہ میں تدلیس راوی کا حذف کیا جانا ثابت ہوجائے۔
  2. اورمحذوف راوی کی معرفت بھی ہوجائے کہ وہ سخت ضعیف ہے۔


اب آپ سے سوال ہے کہ آپ ابن جریج کےعنعنہ کو مطلق ضعیف شدید مانتے ہیں یا کچھ قیود ہیں؟؟؟
اگر ابن جریج کے عنعنہ کی پوزیش واضح ہوجائے تو ساری بات سمجھ میں آجائے گی ، اس لئے یہ بات صاف کرلیں کہ ابن جریج کا عنعنہ مطلق ضعف شدید ہے ؟؟
اگرہاں تو کیا علامہ البانی رحمہ اللہ کا بھی یہی موقف آپ نے سمجھا ہے کہ علامہ البانی ابن جریج کے عنعنہ کو مطلق ضعف شدید مانتے ہیں ؟؟؟
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
5,000
ری ایکشن اسکور
9,801
پوائنٹ
773
  1. یہ ضروری نہیں کہ مدلس نے اپنی معنعن روایت میں تدلیس ہی کیا ہے بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ عن سے روایت کرنے کے باوجود بھی اپنے شیخ کو ساقط نہ کیا ہو۔
  2. اوراگرتدلیس بھی کیا ہو تو یہ ضروری نہیں کہ کذاب راوی ہی کوساقط کیا ہو بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ ثقہ راوی کو ساقط کیا ہو اوراگرضعیف ہی کو ساقط کیا ہو تو یہ ضروری نہیں کہ مسقوط سخت ضعیف ہو۔
یہ بات آپ کی ٹھیک ہے کہ یہ ضروری نہیں ہے لیکن احتمال تو ہے نا ؟
اور اس احتمال کو ختم کرنا یہ اس سے حجت پکڑنے والے کے ذمہ ہے نہ کہ اس کو رد کرنے والےکے ذمے ۔ اور اگر ان دونو ں باتوں کی نفی ثابت نہ ہوئی تو ضعف باقی رہے گا ۔
بھائی اگرآپ احتمال کو مان رہے تو عرض ہے کہ احتمال ہی کی وجہ سے تو ضعف خفیف مانتے ہیں یعنی ضعیف شدید متحقق نہیں ہے اسی لئے تو ضعف خفیف مانتے ہیں ۔
یہی حال تو مرسل ، منقطع ، اورمجہول الحال اورمجہول العین والی روایا ت کا بھی ہوتا ہے تو کیا یہ سب آپ کی نظر میں ضعیف شدید ہیں ؟؟؟
کیونکہ یہاں بھی تو ضعف شدید کا احتمال ہے یعنی ممکن ہے کہ مرسل نے سخت ضعیف کو ساقط کیا ہو ، منقطع میں سخت ضعیف غائب ہو ، مجہول راوی سخت ضعیف ہو ۔
تو کیا اس احتمال کی وجہ سے آپ یہاں بھی مطالبہ کریں کہ حسن لغیرہ میں ان سے حجت پکڑنے وا لا ضعف خفیف ثابت کرے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
5,000
ری ایکشن اسکور
9,801
پوائنٹ
773
مدلس کے بارے میں یہ قاعدہ ہے کہ والمدلس إذا قال عن لا یحتج بحدیثہ إلا إذا صرح بالسماع کمانقل النووی عن الشافعی فی شرح مقدمۃ صحیح مسلم ۔یہاں سے پتہ چلتا ہے کہ مدلس کی ہر ہر روایت میں تدلیس ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اس کے عنعنہ کو قبول کرنے کے لیے ہر ہر روایت میں تصریح بالسماع کی ضرورت ہے ۔
بھائی ہم نے کب کہا مدلس کے عنعنہ کو ضعیف ماننے کے لئے تدلیس ثابت کرنے کے ضرورت ہے ؟؟؟؟؟؟
بھائی ضعیف ثابت کرنے کے لئے تدلیس ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے لیکن ضعیف شدید ثابت کرنے کے لئے تدلیس ثابت کرنی ضروری ہے ، کیونکہ دریں صورت محذوف کی معرفت ہونی چاہئے کما قال الحافظ اورمحذوف کی معرفت کے لئے اس پہلے مرحلہ سے گذرنا ضروری ہے۔


چونکہ ابن جریج کی تدلیس عن الضعفاء والکذابین ثابت ہے لہذا اب ہر روایت میں یہ ثابت کرنے کی حاجت نہیں ہے ۔ واللہ أعلم
لیکن ابن جریج کے ہرعنعنہ میں تدلیس لازمی ہو یہ ثابت نہیں ۔
لہٰذا ابن جریج کے جس عنعنہ میں ضعیف شدید مانا جارہا ہے اس میں دو باتیں ثابت کی جائیں :

اول: تدلیس کی گئی یعنی راوی کو حذف کیا گیا۔
دوم: محذوف راوی سخت ضعیف ہے ۔


کیونکہ ان دونوں کے بغیر محذوف کی معرفت نہیں ہوسکتی ہے ، اورمحذوف کی معرفت کے بعد ہی مدلس کے عنعنہ کو حسن لغیرہ سے خارج کرسکتے ہیں جیساکہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے کہا ایک بار پھر دیکھیں:
ومتى تُوبعَ السيءُ الحفظ بمُعْتَبَرٍ: كأَنْ يكونَ فَوْقَهُ، أو مِثلَهُ، لا دونه، وكذا المختلِط الذي لم يتميز، والمستور، والإسناد المرسل، وكذا المدلَّس إذا لم يُعْرف المحذوف منه صار حديثُهم حسناً، لا لذاته، بل وصْفُهُ بذلك باعتبارِ المجموع، [نزهة النظر في توضيح نخبة الفكر ( ت: الرحيلي -ط: سفير ) ص: 130]

وجزاک اللہ خیرا
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,771
ری ایکشن اسکور
8,488
پوائنٹ
964
جزاکم اللہ خیرا کفایت اللہ بھائی !
تأخیر کے لیے معذرت ۔
آپ نے لکھا ہے کہ
یعنی اصل مسئلہ ابن جریج کے عنعنہ کو ضعیف خفیف اورضعیف شدید ماننے کا ہے۔
أقول :شیخ البانی جلباب المرأۃ المسلمۃ ص(45۔46) میں فرماتے ہیں :
الأول: أن الشرط مفقود هنا، فإن من شيوخ المرسلين "قتادة وابن جريج"، عطاء ابن أبي رباح كما هو مذكور في ترجمتهما، فيحتمل حينئذ أن يعود الحديث إلى طريق واحدة مرسلة فلا يصح في هذه الحالة أن يدعم أحدهما بالآخر لما سبق.
الآخر: أن حديث ابن جريج معضل، وليس هو بمرسل، فحينئذ لا يصلح شاهدًا للمرسل الأول أصلًا؛ لأن ابن جريج إنما يروي عن التابعين، فجائز أن يكون شيخه في هذا المرسل تابعيًّا ثقة أخذ الحديث عن شيوخ المرسل الأول، فلم يتحقق الشرط المذكور، بل من الجائز أن يكون شيخه غير ثقة، فحينئذ لا يستشهد بحديثه أصلًا لضعفه وإرساله. وهذا الذي جوزناه هو الأرجح عندي فيما جلالة قدره كان مدلسًا، كما اعترف بذلك الأستاذ المودودي في تعقيبه، ولكنه مر عليه مرًّا سريعًا، ولم يقف عنده لا قليلًا ولا كثيرًا فلم يبين نوع تدليسه، وإنما أفاض في نقل كلمات الأئمة في توثيقه، الأمر الذي لا فائدة كثيرة منه هنا، بل قد يتوهم منه من لا علم عنده أن مرسله حجة! وذكر من مصادره فيما نقله من التوثيق "ميزان الاعتدال"، وقد جاء فيه:
"قال عبد الله بن أحمد بن حنبل: قال أبي: بعض هذه الأحاديث التي كان يرسلها ابن جريج أحاديث موضوعة، كان ابن جريج لا يبالي من أين يأخذ؛ يعني قوله: أخبرتُ، وحدثتُ عن فلان"!.وفي "تهذيب التهذيب":
"وقال الأثرم عن أحمد: إذا قال ابن جريج: قال فلان، وقال فلان، وأخبرت؛ جاء بمناكير، وإذا قال: أخبرني، و: سمعت؛ فحسبك به".
وقال جعفر بن عبد الواحد عن يحيى بن سعيد:
"كان ابن جريج صدوقًا، فإذا قال: حدثني؛ فهو سماع، وإذا قال: أخبرني فهو قراءة، وإذا قال: "قال"، فهو شبه الريح".
وقال الدارقطني:
"تجنب تدليس ابن جريج فإنه قبيح التدليس، لا يدلس إلا فيما سمعه من مجروح، مثل إبراهيم بن أبي يحيى، وموسى بن عبيدة، وغيرهما".فتبين من كلمات هؤلاء الأئمة أن حديث ابن جريج المعنعن ضعيف، شديد الضعف، لا يستشهد به؛ لقبح تدليسه، حتى روى أحاديث موضوعة، بشهادة الإمام أحمد، وهذا إذا كان حديثه المعنعن مسندًا، فكيف إذا كان مرسلًا، بل معضلًا كهذا الحديث؟!.
فقد اتضح كالشمس أن تقوية الأستاذ المودودي لحديث قتادة المرسل بحديث ابن جريج المعضل لا وجه له البتة على ما تقتضيه قواعد علم الحديث وأقوال العارفين برجاله .


مذکورہ عبارت سے شیخ البانی رحمہ اللہ کے حدیث کو ضعیف شدید الضعف کہنے کی دو وجوہ سمجھ میں آتی ہیں :
1۔ حدیث میں صرف تدلیس یا ارسال کا مسئلہ نہیں بلکہ حدیث معضل ہے ۔ اور معضل میں ضعف خفیف نہیں بلکہ شدید ہوتا ہے ۔
2۔ دوسری بات ابن جریج کا قبیح التدلیس ہونا ہے ۔ گویا کہ وہ ابن جریج کے عنعنہ کو بھی ضعف شدید قرار دیتے ہیں ۔ اور اس سلسلے میں انہوں نے اپنی تائید کیلے امام احمد اور دار قطنی کا قول نقل کیا ہے ۔
بالفرض یہ مان بھی لیا جائے کہ البانی رحمہ اللہ ابن جریج کے عنعنہ کو ضعف شدید شمار کرنے میں غلطی پر ہیں پھر بھی پہلی وجہ برقرار رہتی ہے کہ حدیث معضل بھی ہے ۔
لہذا یہ کہنا کہ شیخ البانی نے حدیث کو صرف ابن جریج کے عنعنہ کی وجہ سے ہی رد کیا ہے ، درست محسوس نہیں ہوتا ۔
آپ لکھتے ہیں :
ہمارا کہنا یہ ہے کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے اصول کی روشنی میں یہ ضعیف خفیف ہے کیونکہ محذوف معلوم نہیں ہے۔
ان حجر نے اس اطلاق کی کہیں بھی صراحت نہیں کی( فیما أعلم ) بلکہ اس میں کچھ تفصیل ہے کہ تدلیس ضعف شدید ہوتی ہے یا ضعف خفیف ؟
تدلیس بعض دفعہ ضعف شدید ہوتی ہے اور بعض دفعہ ضعف غیر شدید ، اس بات کی وضاحت تدلیس کے اسباب دیکھنے سے ہوتی ہے تدلیس کے درج ذیل اسباب علماء کرام نے بیان کیے ہیں :
1۔ مدلس واسطے کم کرکے اپنی سند کو عالی ظاہر کرنا چاہتا ہے ۔
2۔ بعض دفعہ مروی عنہ راوی سے عمر یا مرتبے میں کم ہوتا ہے اس وجہ سے وہ اس کا ذکر پسند نہیں کرتا ۔
3۔ بعض دفعہ مروی عنہ ضعیف ( ضعیف جدا حتی کہ کذاب وغیرہ بھی اس میں شامل ہے ) ہوتا ہے اس وجہ سے اس کو حذف کردیا جاتا ہے ۔
4۔ بعض دفعہ راوی نے کسی شیخ سے بہت ساری روایات بلاواسطہ سنی ہوتی ہیں لیکن کچھ روایات اس سے رہ جاتی ہیں جو وہ شیخ کے کسی اور شاگرد سے سنتا ہے لیکن وہ اس واسطہ کو حذف کرکے سیدھا شیخ کانام ہی ذکر کردیتا ہے ۔
اب جو تیسری صورت ہے اس میں اگر محذوف راوی خفیف الضعف ہوا تو پھر تو اس کے صالح للاحتجاج ہونے میں کوئی حرج نہیں ۔ لیکن اگر وہ راوی شدید الضعف مثلا متروک ، متہم بالکذب یا کذاب ہوا تو ظاہر ہے ایسی صورت میں اس کی روایت شواہد کے باب میں بھی قبول نہیں کی جائے گی ۔
اور یہ تو اس وقت ہے جب محذوف راوی معلوم ہو جائے لیکن اگر معلوم نہ ہو تو پھر دونوں احتمال موجود ہیں ، اس صورت میں کسی ایک احتمال کو ترجیح دینے کے لیے مدلس راوی کو دیکھا جائے گا کہ وہ کس طرح کے رواۃ سے تدلیس کرتا ہے ظاہر ہے جو کذاب اور متروکین سے تدلیس کرنے میں مشہور ہے اس کے بارے میں شدید الضعف والا احتمال ہی راجح قرار ہوگا ۔
چنانچہ دکتور مرتضی زین أحمد لکھتے ہیں : (مناہج المحدثین فی تقویۃ الأحادیث الحسنۃ والضعفیۃ ص 279 )
((أما إذا كان الدافع للتدليس الإعراض عن التصريح براو ضعيف لا تقبل روايته إذا صرح به فهذا شر أنواع التدليس وهو خيانة ممن تعمده فإن كان إعراضه عن رواة شديدي الضعف كأن يدلس عن الكذابين أو المتهمين أو الوضاعين أو المتروكين ففي تقوية ما عنعنه نظر لشدة الضعف ، وإن كا تدليسه عن رواة ضعفهم يسير أو مجهولين فتقوية حديث هؤلاء لا تبعد عن قواعد المحدثين وأعمالهم ))
اسی طرح آپ نے جو محذوف کے معلوم ہونے کے حوالے سے کہا ہے یہاں دو باتیں ملحوظ خاطر رہنی چاہییں :
أولا : اگر کسی راوی کی تدلیس ثابت ہے تو پھر اس کی کسی روایت کو جس میں تصریح بالسماع (اس کے مختلف طریقے ہیں جن میں سے ایک یہ کہ راوی خود صراحت کردے )کی صراحت نہیں ملتی اس کو رد کرنے کیلیے اس روایت میں تدلیس ثابت کرنا ضروری نہیں ہے ۔ یہ بالکل اسی طرح جس طرح اس کو اتصال پر محمول کرنے والا عدم تدلیس ثابت کرنا اپنی ذمہ داری نہیں سمجھتا ۔ حالانکہ حق بات یہی ہے کہ جس کا مدلس ہونا ثابت ہے اس کے عنعنہ کا اصل حکم انقطاع ہے الا کہ کوئی دلیل ثابت کردے کہ یہ روایت متصل ہے ۔
ثانیا :اسی طرح یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ آپ کسی ایسے راوی کو جو ضعف خفیف اور ضعف شدید دونوں طرح کے راویوں سے تدلیس کرتا ہو کہ اس کی تدلیس کردہ روایت میں یہ ثابت کیا جائے کہ اس نے یہاں جس راوی کو گرایا ہے وہ واقعتا ہی شدید الضعف تھا ، کیونکہ اگر اس طرح ہے تو پھر جو شخص اس کو خفیف الضعف پر محمول کر رہا ہے وہ بھی تو اس کو ثابت کرنے کا ذمہ دار ہے جب دونوں ثابت نہیں ہوئے یعنی دونوں احتمال ہیں تو پھر اس بات کو لیا جائے گا جس میں زیادہ احتیاط ہے اور وہ کہ اس کی روایت کو شدید ضعف پر محمول کیا جائے ۔ ( البتہ بعض صورتیں ایسی ہو سکتی ہیں جن میں ضعف غیر شدید پر محمول کرنا راجح ہو سکتا ہے اور اس کا فیصلہ دیگر قرائن سے کیا جائیگا ۔ )
یہ بھی اس وقت ہے جب اس میں دونوں احتمال برابر ہوں جبکہ کچھ رواۃ ایسے بھی ہیں جو غالبا متروکین و کذابین سے تدلیس کرتے ہیں ۔ ایسی صورت میں محذوف راوی کو شدید الضعف پر محمول کرنا بالکل واضح ہے ۔

(جاری ہے )
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
5,000
ری ایکشن اسکور
9,801
پوائنٹ
773
خضر حیات بھائی !
آپ کی بات جاری ہے اس لئے صرف ایک گذارش پر اکتفاء کرتاہوں ، دیگرباتیں بعد میں ۔
گذاش یہ ہے کہ موضوع کا تعلق علامہ البانی رحمہ اللہ کے اس موقف سے ہے جو حافظ ابن حجرکے موقف کے خلاف ہے ، اس لئے گفتگو صرف اسی پہلو پر ہو ، باقی رہا یہ مسئلہ کہ آپ کا موقف کیا ہے یا ہمارا موقف کیا ہے یا صحیح موقف کیا ہونا چاہئے تو ان سب پر بحث کرنے کے لئے میں نے مذکورہ دھاگہ نہیں لگایاہے کیونکہ ان پر اہل علم کی طرف سے اچھی خاصی بحث ہوچکی ہے۔
نیز حجاب المراۃ سے جو روایت آپ نے پیش کی ہے اس پربحث بھی ہمارے موضوع سے خارج ہے ، کیونکہ موضوع یہ نہیں ہے کہ وہ روایت شدید ضعیف ہے یا نہیں بلکہ موضوع یہ ہے کہ ابن جریج کاعنعنہ شدید ضعیف ہے یا نہیں ، یاد رہے کہ علامہ البانی نے صراحت کے ساتھ اسے ضعف شدید کہا ہے اس لئے سند میں موجود دیگرضعف سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔
یہ گذارش اس لئے کہ موضوع خواہ مخواۃ طویل نہ ہوجائے کیونکہ فی الحال میرے پاس زیادہ وقت نہیں اورآپ تو شاید مجھ سے زیادہ مصروف ہوں۔
ویسے حسن لغیرہ سے متعلق ہمارا موقف وہی ہے جو ذہبی عصر علامہ معلمی رحمہ اللہ کا ہے لیکن یہ الگ موضوع ہے ، اس لئے اس موضوع پر بات نہ ہو ۔
بارک اللہ فیک۔
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,771
ری ایکشن اسکور
8,488
پوائنٹ
964
کفایت اللہ بھائی لکھتے ہیں :
اب آپ سے سوال ہے کہ آپ ابن جریج کےعنعنہ کو مطلق ضعیف شدید مانتے ہیں یا کچھ قیود ہیں؟؟؟
اگر ابن جریج کے عنعنہ کی پوزیش واضح ہوجائے تو ساری بات سمجھ میں آجائے گی ، اس لئے یہ بات صاف کرلیں کہ ابن جریج کا عنعنہ مطلق ضعف شدید ہے ؟؟
اگرہاں تو کیا علامہ البانی رحمہ اللہ کا بھی یہی موقف آپ نے سمجھا ہے کہ علامہ البانی ابن جریج کے عنعنہ کو مطلق ضعف شدید مانتے ہیں ؟؟؟
جہاں تک علامہ البانی رحمہ اللہ کے موقف کا تعلق ہے وہ تو خود ان کی اپنی عبارت سے واضح ہے کہ وہ اس کو ضعف شدید سمجھتے ہیں چنانچہ امام احمد اور دارقطنی کا قول نقل کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اس طرح کے اقوال سے شدۃ ضعف واضح کرنا چاہتے ہیں ۔ (لیکن چونکہ اس حدیث میں ایک اور علت بھی ہے اس لیے حتمی طور پر یہ کہنا مشکل ہے۔) البتہ اس طرح کی کوئی حدیث میں نے نہیں دیکھی جس میں علت صرف ابن جریج کا عنعنہ ہو اور شیخ نے اس کو متابعات میں بھی رد کردیا ہو اگر اس طرح کی روایت مل جائے تو امام البانی کا موقف بالکل واضح ہو جائے گا ۔

ہم یہ ہرگز ثابت نہیں کرنا چاہتے کہ علامہ البانی (ضعف غیر شدید میں بھی) بعض جگہ حسن لغیرہ کی حجیت کے قائل نہیں ہیں ، بلکہ ہم یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ حافظ ابن حجروغیرہ جسے ضعف خفیف مانتے ہیں اورحسن لغیرہ کے باب میں مقبول قراردیتے ہیں بعض حالات میں علامہ البانی اسے ضعیف شدید مانتے ہیں اورحسن لغیرہ کے باب میں قبول نہیں کرتے ۔
میں نےمثال میں ابن جریج کا عنعنہ پیش کیا ہے ، ابن جریج کا عنعنہ اگر محذوف معلوم نہ ہو توحافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے موقف کی روشنی میں یہ حسن لغیرہ کے باب میں مقبول ہے، کیونکہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے اصول کی روشنی میں یہ ضعف خفیف ہے کیونکہ محذوف معلوم نہیِں۔
جبکہ علامہ البانی رحمہ اللہ ابن جریج کے عنعنہ کو حسن لغیرہ میں قبول نہیں کرتے کیونکہ وہ اسے ضعیف شدید مانتے ہیں ۔
یعنی اصل مسئلہ ابن جریج کے عنعنہ کو ضعیف خفیف اورضعیف شدید ماننے کا ہے۔
ہمارا کہنا یہ ہے کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے اصول کی روشنی میں یہ ضعیف خفیف ہے کیونکہ محذوف معلوم نہیں ہے۔
اورعلامہ البانی رحمہ کی نظر میں یہ ضعف شدید ہے ، جبکہ انہیں بھی محذوف کا پتہ نہیں بلکہ محذوف تو درکنار سرے سے تدلیس ہی کا ثبوت نہیں ہے۔
یہ دونوں موقف ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہے ۔
ویسے کفایت اللہ بھائی اصل وجہ اختلاف ابن جریج کا عنعنہ بھی نہیں ہے بلکہ اصل وجہ اختلاف یہ ہے کہ روایت میں مدلس کا عنعنہ وجہ ضعف ہے لیکن یہ ضعف کبھی شدید ہوتا ہے اور کبھی خفیف ۔ کب شدید ہوتا ہے اور کب خفیف ہوتا ہے اس کا تعین کرنے میں اختلاف ہے ۔ آپ کے نزدیک جب محذوف راوی معلوم نہ ہو تو ضعف خفیف ہی رہے گا ۔ چاہے تدلیس کرنےوالا جیسا مرضی ہو ۔ اس کی دلیل آپ ابن حجر کا قول پیش کرتے ہیں ۔ میں نے حسب استطاعت نزہۃ النظر وغیرہ کی شروحات دیکھی ہیں کسی نے بھی ابن حجر کے اس کلام پر کوئی رد یا توضیح وغیرہ نہیں کی ۔ دوسری طرف جو بات ابن حجر نے کہی ہے اس کو ذکر کرنےمیں بھی وہ اکیلے ہی محسوس ہوتے ہیں یعنی متقدمین میں سے کسی نے یہ بات نہیں کہی ہے کہ جب حدیث مدلس میں محذوف معلوم نہ ہو تو وہ ضعف خفیف ہی ہوتا ہے ۔
لیکن مدلسین کے حالات اور ان کی روایات وغیرہ اور خاص کر تدلیس کے اسباب دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مطلقا قاعدہ نہیں بنایا جا سکتا۔ اور وجہ اس کی بالکل واضح ہے کہ جب متہم بالکذب یا کذاب و متروک راوی کی روایت متابعات میں (بھی) مردود ہے تو جب کوئی شخص اسی روایت کی سند سے اس مذکورہ راوی کو حذف کرکے پیش کردے تو کس طرح مقبول ہو جائے گی ۔
چنانچہ معاصرین میں سے چند حوالے ایسے ملتے ہیں جنہوں نے اس خطرے کی نشاندہی کی ہے ان میں سے ایک حوالہ میں آپ کو پیش کرچکا ہوں باقی اب ضرورت ہے کہ اسی بات کو متقدمین علماء سے تلاش کیا جائے ۔
ہمارے حدیث کے استاذ ہیں دکتور عبد اللہ بن عید الجربوعی حفظہ اللہ ان سے آج میں نے یہی سوال کیا کہ ایسے رواۃ جو متروکین و کذابین سے تدلیس یا ارسال کرنے میں معروف ہیں ان کی روایت میں ضعف شدید ہو گا یا خفیف ہوگا ؟
تو کہنے لگے کہ تدلیس یا ارسال ضعف یسیر میں شمار ہوتے ہیں ۔ میں نے عرض کی کہ لیکن اگر تدلیس یا ارسال کرنے والا متروک و کذاب راویوں کو حذف کرتا ہو تو تردد کا شکار ہوگئے اور پھر کہنے لگے کہ اس کو بس ضعف کہا جائے گا شدید یا خفیف کی بحث نہیں لائی جائے گی ۔ میں نے ان کو شیخ البانی کا جلباب المرأۃ والا حوالہ دیا اور ساتھ دارقطنی کا قول تجنب تدلیس ابن جریج ..... تو پھر کہنے لگے جزاک اللہ خیرا ہذہ فائدۃ ... جس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں ۔
علامہ معلمی یمانی رحمہ اللہ نے بھی ( الأنوار الکاشفہ ) میں اس حوالے سے تدلیس کی دو قسمیں کی ہیں اور دوسری قسم کے رواۃ کے انہون نے جو اوصاف بیان کیے ہیں وہ قریب قریب یہی ہیں کہ ان کی روایات کو مردود سمجھا جائے گا چاہے وہ تصریح بالسماع ہی کیوں نہ کردیں ۔ ( البتہ ابن جریج کو انہوں نے پہلی قسم میں شمار کیا ہے )

اتنی لمبی بات کرنے کا مقصد یہ تھا کہ بحث کا اصل نکتہ یہ ہونا چاہیےکہ تدلیس(عنعنۃ) میں کب ضعف شدید اور کب ضعف خفیف ہوتا ہے ؟
اگر آپ اتفاق کرتے ہیں تو پھر اس حوالے سے اپنے موقف سےآگاہ کریں ۔ چاہے اسی دھاگے میں یا کوئی اور نیا دھاگہ بنا لیتے ہیں ۔
 
سٹیٹس
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
Top