• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مراسیل قتادۃ بن دعامۃ

رضا میاں

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 11، 2011
پیغامات
1,557
ری ایکشن اسکور
3,574
پوائنٹ
384
اسلام علیکم،
حدیث اور علوم الحدیث کے سیکشن کا مطالعہ کرتے ہوئے نظر آیا کہ یہ سیکشن بیچارا ابھی تک خالی پڑا ہے اور کسی نے ایک بھی موضوع اس میں نہیں لکھا تو سوچا کیوں نہ اس کا افتتاح کیا جائے، ابتسامہ۔

ویسے تو امام قتادۃ رحمہ اللہ مشہور مدلس ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ کثرت سے ارسال بھی کرتے تھے۔ جیسا کہ حافظ صلاح الدین العلائی فرماتے ہیں:

أحد المشهورين بالتدليس وهو أيضا يكثر من الإرسال
"وہ مشہور مدلسین میں سے تھے اور ساتھ ہی وہ ارسال بھی باکثرت کرتے تھے"
(جامع التحصیل: 1/254)​
مراسیلِ قتادۃ

اس تھریڈ میں ان راویوں کی لسٹ دی جائے گی جن سے امام قتادۃ کی روایت مرسل ہے۔

1- بشر بْن المحتفز البصري
امام بخاری فرماتے ہیں: "لم يدرك بشر بن المحتفز" یعنی انہوں نے بشر بن المحتفر کو نہیں پایا۔ (تاریخ الکبیر: ج 2، ت 1752)

2- حبيب بْن سالم الانصاري مولي النعمان بن بشير
امام یحیی بن معین فرماتے ہیں: "قد روى قتادة عن حبيب بْن سالم ولا أحسبه لقيه" یعنی قتادہ نے حبیب بن سالم سے روایت کیا ہے لیکن میران نہیں خیال کہ وہ انہیں ملے تھے۔ (تاریخ ابن معین، روایۃ الدوری: ج 2 ت 3583)

3- حميد بْن عَبْد الرحمن بْن عوف
امام یحیی بن سعید القطان نے فرمایا: "قال شعبة أو غيره: قتادة لم يسمع من حميد بن عبد الرحمن" شعبہ یا ان کے علاوہ کسی نے فرمایا: قتادہ نے حمید بن عبدالرحمن سے نہیں سنا۔ (المراسیل لابن ابی حاتم: 170)

4- زهدم بن مضرب الأزدى الجرمى ، أبو مسلم البصرى
امام بخاری نے کہا: "لا أعرف لقتادة سماعا من زهدم الجرمي" قتادہ کا زہدم الجرمی سے سماع کا مجھے علم نہیں۔ (ترتیب علل الترمذی الکبیر: ص 75)

5- سُلَيْمان بْن قيس اليشكري
امام یحیی بن معین نے فرمایا: "لم يسمع قتادة: من إبراهيم النخعي، ولا سُلَيْمان" نہ ہی قتادہ نے ابراہیم النخعی سے سنا اور نہ سلیمان سے۔ (تاریخ ابن معین، روایۃ الدوری: 2/484)
اور امام بخاری نے فرمایا: "لم يسمع من سُلَيْمان اليشكري" انہوں نے سلیمان الیشکری سے نہیں سنا۔ (ترتیب علل الترمذی الکبیر: ص 54)

6- سُلَيْمان بْن يسار
حرب بن اسماعیل نے امام احمد بن حنبل سے نقل کرتے ہوئے کہا: "أن قَتَادَة لم يسمع من سُلَيْمان بن يسار، بينهما أبو الخليل" قتادہ نے سلیمان بن یسار سے نہیں سنا، ان دونوں کے درمیان ابو الخلیل کا واسطہ ہے۔ (المراسیل: 171)
اور اسحاق بن منصور الکوسج نے امام یحیی بن معین سے پوچھا کہ کیا قتادہ نے سلیمان بن یسار سے سنا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: "لا" یعنی نہیں سنا۔ (المراسیل: 172)

7- سنان بْن سلمة بْن الْمُحَبِّق
ابن الجنید نے کہا کہ میں نے یحیی بن معین کو بتایا کہ یحیی بن سعید کا دعوی ہے کہ قتادہ نے سنان بن سلمۃ سے فلاں حدیث نہیں سنی، تو امام یحیی بن معین نے جوابا کہا: "ومن يشك في هذا، ان قتادة لم يسمع منه ولم يلقه" اس پر شک کون کرتا ہے، یقینا قتادہ نے ان سے نہیں سنا اور نہ ان سے ملاقات کی۔ (سوالات ابن الجنید: ص 20)

8- عامر بن شراحيل الشعبي
امام یعقوب بن سفیان الفسوی فرماتے ہیں: "لم يسمع قتادة من سَعِيد بن جبير، ولا من الشعبي" قتادہ نے نہ سعید بن جبیر سے سنا اور نہ ہی الشعبی سے۔ (المعرفۃ والتاریخ: 2/124)
امام یحیی بن معین نے فرمایا: "ذهب (يعني قتادة) إلى الشعبي يطلبه، لم يجده" قتادہ شعبی کی تلاش میں نکلے مگر انہیں پا نہ سکے۔ (تاریخ ابن معین روایۃ الدوری: 2/484)

9- عَبْد اللَّهِ بْن بريدة رضی اللہ عنہ
امام بخاری فرماتے ہیں: "لا يعرف سماع قتادة من أَبي بريدة" قتادہ کا ابو بریدۃ سے سماع معروف نہیں ہے۔ (التاریخ الکبیر للبخاری: ج 4 ت 1797)
اور امام ابو حاتم الرازی نے فرمایا: "لم يلق قتادة من أصحاب النَّبِيّ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلم إلا أنسا، وعبد الله بن سرجس" قتادہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی کو نہیں پایا سوائے انس اور عبد اللہ بن سرجس کے۔ (المراسیل: 175)
امام احمد بن حنبل نے فرمایا: "ما أعلم قتادة روى عن أحد من أصحاب النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إلا عن أنس رضي الله عنه. قيل: فابن سرجس؟ فكأنه لم يره سمع" قتادہ کا، سوائے انس کے، کسی صحابی سے سماع میرے علم میں نہیں۔ ان سے ابن سرجس کے بارے میں پوچھا گیا گویا کہ ان کے نزدیک قتادہ نے ان سے بھی نہیں سنا۔ (المراسیل: 168)

10- مجاهد بن جبر المكي
امام یحیی بن معین نے فرمایا: "لم يلق سَعِيد بن جبير، ولا مجاهدا ولا سُلَيْمان بن يسار" قتادہ نے سعید بن جبیر، مجاہد، اور سلیمان بن یسار میں سے کسی کو نہیں پایا۔ (سوالات ابن الجنید: ص 26)
امام یعقوب بن سفیان الفسوی نے فرمایا: "لم يسمع قتادة من مجاهد شيئا" قتادہ نے مجاہد سے کچھ بھی نہیں سنا۔ (المعرفہ والتاریخ: 2/124)
امام احمد بن حنبل نے فرمایا: "أن قَتَادَة لم يسمع من مجاهد بينهما أبو الخليل" قتادہ نے مجاہد سے نہیں سنا، ان کے درمیان ابو الخلیل کا واسطہ ہے۔ (المراسیل: 171)

11- مسلم بن يسار البصري
اسحاق بن منصور الکوسج نے امام یحیی بن معین سے پوچھا کہ قتادہ نے مسلم بن یسار سے سنا ہے یا نہیں، تو انہوں نے جواب دیا: "لا" نہیں۔ (172)

12- يَحْيَى بْن يَعْمَُر البصري
امام احمد بن حنبل نے فرمایا: "لم يسمع قتادة من يحيى بن يعمر شيئا" قتادہ نے یحیی بن یعمر سے کچھ نہیں سنا۔ (المعرفہ والتاریخ: 2/141)

13- نفيع أبي رافع الصائغ المدني
امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں کہ امام شعبۃ بن الحجاج نے فرمایا: "لَمْ يسمع قَتَادَة من أَبِي رافع شيئا. قال أحمد أدخل بينه وبين أبي رافع حلاسا والحسن" قتادہ نے ابو رافع سے کچھ نہیں سنا۔ امام احمد نے فرمایا کہ ان کے درمیان حلاس اور حسن کا واسطہ ہے۔ (العلل ومعرفۃ الرجال: 1/188)

14- أبي سَعِيد الخُدْرِيّ رضی اللہ عنہ
امام ابو حاتم الرازی نے فرمایا: "لم يلق قتادة من أصحاب النَّبِيّ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلم إلا أنسا، وعبد الله بن سرجس" قتادہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی کو نہیں پایا سوائے انس اور عبد اللہ بن سرجس کے۔ (الجرح والتعدیل: ج 7 ت 756) امام ابن ابی حاتم فرماتے ہیں کہ انہوں نے ابو الطفیل کا ذکر اس لیے نہیں کیا کیونکہ وہ عہد نبی میں چھوٹے بچے تھے۔

15- أبي قلابة الجرمي
امام یحیی بن معین فرماتے ہیں: "لم يسمع من أبي قلابة، إنما حدث عن صحيفة أبي قلابة" قتادہ نے ابو قلابہ سے نہیں سنا، وہ تو صرف ابو قلابہ کے صحیفہ سے روایت کرتے تھے۔ (تاریخ ابن معین روایۃ الدوری: 2/484)
اور امام یعقوب بن سفیان الفسوی فرماتے ہیں: "لم يسمع قتادة من ابي قلابة شيئا" قتادہ نے ابو قلابہ سے کچھ نہیں سنا۔ (المعرفہ والتاریخ: 2/124) اور یہی قول امام احمد بن حنبل کا بھی ہے (المعرفہ والتاریخ: 2/141)

16- معاذة بنت عبد الله العدوية
امام یحیی بن معین فرماتے ہیں: "قتادة لم يصح عن معاذة." یعنی قتادہ کا معاذہ سے سماع صحیح نہیں۔ (المراسیل: 174)

17- ابو العالية رفيع بن مهران الرياحي البصري
امام شعبہ بن الحجاج نے فرمایا: "لم يسمع قتادة من أبي العالية إلا ثلاثة أشياء. قلت ليحيى عدها، قال قول على رضي الله عنه القضاه ثلاثة، وحديث: لا صلاه بعد العصر، وحديث يونس بن متى." یعنی قتادہ نے ابو العالیہ سے سوائے تین حدیثوں کے کچھ نہیں سنا، اور وہ ہیں: حدیث علی قاضی تین قسم کے ہیں، عصر کے بعد کوئی نماز نہیں، اور یونس بن متی کی حدیث - کہ مجھے یونس بن متی بہتر نہ کہو۔ (المعرفۃ والتاریخ: 2/148، اور مقدمۃ الجرح والتعدیل: 127)

18- طاوس بن كيسان
حافظ ابن حجر نے البزار سے بلاسند نقل کیا کہ انہوں نے فرمایا: قتادہ نے نہ طاوس سے سنا اور نہ زہری سے۔ (تہذیب التہذیب: ج 8 ص 335-336)

اسی طرح کے بلاسند اقوال ابو ثمامۃ الثقفی اور ابو عبد اللہ الجدلی کے متعلق بھی مروی ہیں، واللہ اعلم۔ (ایضا)
 

شاکر

تکنیکی ناظم
رکن انتظامیہ
شمولیت
جنوری 08، 2011
پیغامات
6,595
ری ایکشن اسکور
21,402
پوائنٹ
891
جزاکم اللہ خیرا رضا بھائی۔۔۔
مزید مضامین بھی ضرور شامل کیجئے پلیز۔
 
Top