• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مرد بھی بکتے ہیں جہیز کے لیے

شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,403
ری ایکشن اسکور
26,341
پوائنٹ
995

مرد بھی بکتے ہیں جہیز کے لیے

مصنف : علیم خان فلکی (جدہ ، سعودی عرب)

دور رواں نفسہ نفسی کا دور ہے ہمارے معاشرے میں لاتعداد مسائل نے لوگوں کی زندگیوں کو اجیرن بنا رکھا ہے ان مسائل میں ایک اہم اور بڑا مسئلہ جہیز بھی ہے جو موجودہ دور میں وبا کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ عام طور پر سلیقہ مند ،پڑھی لکھی، خوب رو اور خوب سیرت لڑکیاں بھی قیمتی جہیز نہ ہونے کے باعث آنکھوں میں دلہن بننے کے خواب بسائے ساری زندگی اپنے ماں باپ کے گھر گزار دیتی ہیں اور پھر ایک خاص عمر کے بعد تو یہ سہانا خواب بھی دیکھنا چھوڑ دیتی ہیں اور اپنی تقدیر سے سمجھوتہ کرکے بقایا زندگی اک جبر مسلسل کی طرح کاٹنے پر مجبور ہو جاتی ہیں
دلہن بننا ہر لڑکی کا خواب ہی نہیں اسکا حق بھی ہے لیکن افسوس اسے اس حق سے محض غربت کے باعث محروم کر دیا جاتا ہے سرمایہ داروں کے اس دور میں‌ لڑکیوں کو بھی سرمایہ سمجھا جاتا ہے اور اس سرمایہ کاری کے بدلے انکے گھر والے خصوصا مائیں بہنیں اور زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کےلئے سرگرداں رہتی ہیں۔
وہ لڑکی کا رشتہ لینے جاتی ہیں یا یوں کہیں اپنے بیٹے ،بھائی کا کاروبار کرنے نکلتی ہیں لڑکی سے زیادہ اس کی امارات دیکھتی ہیں، لڑکی والوں کے ہاں جا کر انکا ذہنی کیلکولیٹر بڑی تیزی سے حساب کتاب مکمل کر لیتا ہے اور وہاں‌ سے کچھ ملنے یا نہ ملنے کے بارے میں وہ پوری طرح سے آگاہ ہوجاتی ہیں
گاڑی، کوٹھی اور دیگر قیمتی سازوسامان تو ان کی فہرست میں‌ لازمی مضامین کی طرح شامل ہوتے ہیں
ان کے بعد کہیں جا کر لڑکی کی باقی خوبیوں (جن میں اسکا خوش شکل ہونا بھی شامل ہے) کو پرکھا جاتا ہے چنانچہ جس خوش قسمت لڑکی کے پاس دینے کو قیمتی اور‌ڈھیر سارا جہیز ہو نیز خوبصورت بھی ہو وہ تو بیاہی جاتی ہے اور جن بدقسمت لڑکیوں کے پاس یہ سب کچھ موجود نہیں ہوتا وہ سوائے اپنی تقدیر سے گلہ کرنے کے اور کچھ نہیں کر سکتی۔
ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جو دیکھنے میں انتہائی با اخلاق و مذہبی ہیں اور اٹھتے بیٹھتے آیات قرآنی اور ‌احادیث نبویﷺ بیان کرتے نہیں تھکتے لیکن معاملہ اپنے بیٹے کی شادی کا ہو تو ساری آیتیں ،حدیثیں بھلا کر اس کے دام وصول کرنے لگتے ہیں ۔
●●●● کوئی تو ملے جو کہے ہاں میں خود دار نہیں ●●●●

آج تک بے شمار لوگوں سے اس موضوع پر گفتگو ہوئی ۔ کوئی ایسا نہ ملا جس نے یہ کہا ہو کہ ”ہاں ہم نے جہیز کا مطالبہ یا فرمائش کی تھی“ ۔ جتنے ملے سب شرفاء ملے ۔ ہر ایک نے یہی کہا بلکہ فرمایا کہ ”الحمدلله ہم نے ایک پیسہ بھی نہیں لیا ، ہمارے ہاں اس چیز کو سخت معیوب سمجھا جاتا ہے “ ۔
جب دور دور تک کوئی ایسا شخص نہیں جس نے جہیز مانگا ہو تو پھر کیا وجہ ہے کہ معاشرہ کا ہر باپ اور ہر بھائی اپنی بیٹی یا بہن کی شادی کے لیے پریشان ہے ؟
جب وہ اور اُن کا سارا گھرانہ ان تمام ہندوانہ رسموں کو نا پسند کرتا ہے تو پھر یہ سب کیونکر ہوا ؟ پوچھئے تو انتہائی شرافت اور فخر سے فرماتے ہیں :
”ہم نے تو صاف صاف کہہ دیا تھا کہ ہمیں سوائے لڑکی کے اور کچھ نہیں چاہئے ۔ جو بھی دینا ہے وہ اپنی بیٹی کو دے دیجئے ۔۔۔وہ بھی خوشی سے“۔
دراصل یہی وہ اصل کھیل ہے جسے لوگ شرافت و خوداری کا لبادہ اوڑھ کر تہذیب ، رواج یا سسٹم کے نام پر کھیلتے ہیں ۔
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,865
ری ایکشن اسکور
41,088
پوائنٹ
1,155
جہیز کا مطالبہ واقعی غلط بات ہے لیکن انسان اپنی خوشی سے بہن یا بیٹی کو ضروریات زندگی کی اشیاء خرید کر دے تو اس بات کی ممانعت میں ابھی تک کتاب و سنت کی رو سے کوئی دلیل سامنے نہیں آئی۔کسی کی ذاتی رائے حجت نہیں بلکہ قرآن و سنت سے دلیل حجت ہے۔
 
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,403
ری ایکشن اسکور
26,341
پوائنٹ
995
جہیز کا مطالبہ واقعی غلط بات ہے لیکن انسان اپنی خوشی سے بہن یا بیٹی کو ضروریات زندگی کی اشیاء خرید کر دے تو اس بات کی ممانعت میں ابھی تک کتاب و سنت کی رو سے کوئی دلیل سامنے نہیں آئی۔کسی کی ذاتی رائے حجت نہیں بلکہ قرآن و سنت سے دلیل حجت ہے۔
مصلحت کا یہی تقاضا ہے کہ خوشی کےلیے بھی اس موقع پر کچھ نہیں دینا چاہیے۔اگر آپ بیٹی کی خوشی کو مدنظر رکھنا چاہتے ہیں تو اس کےلیے شادی سے کئی ماہ قبل یا بعد بھی اسی خوشی کے سر پہ ہاتھ پھیرا جاسکتا ہے۔
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,865
ری ایکشن اسکور
41,088
پوائنٹ
1,155
مصلحت کا یہی تقاضا ہے کہ خوشی کےلیے بھی اس موقع پر کچھ نہیں دینا چاہیے۔اگر آپ بیٹی کی خوشی کو مدنظر رکھنا چاہتے ہیں تو اس کےلیے شادی سے کئی ماہ قبل یا بعد بھی اسی خوشی کے سر پہ ہاتھ پھیرا جاسکتا ہے۔
اور اگر لڑکی کے پاس ضرورت زندگی کا سامان نہ ہو تو پھر وہ گزر بسر کیسے کرے؟شادی کے کئی ماہ قبل اگر لڑکی کے لیے فریج لے کر رکھ لیا جائے تو لڑکے والے یہ دیکھ کر خوش نہیں ہوں گے کہ اسے ابھی سے سامان ملنا شروع ہو گیا ہے؟
اور اگر کئی ماہ بعد دیا جائے تو سامان تو دے دیا گیا نہ،تو پھر کیا وجہ ہے کہ شروع سے ہی نہ دے دیا جائے؟
 
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,403
ری ایکشن اسکور
26,341
پوائنٹ
995
اور اگر لڑکی کے پاس ضرورت زندگی کا سامان نہ ہو تو پھر وہ گزر بسر کیسے کرے؟
اگر کسی کو اپنی بیٹی کی اتنی فکر ہو تو پھر ایسے گھر میں اسے اپنی بیٹی کی شادی ہی نہیں کرا نی چاہیے۔جہاں ضرورت زندگی کا سامان ہی نہ ہو۔ ورنہ خوشی، محبت، پیار اور ضرورت زندگی کا نام لے کر ایسے غریبوں کی بیٹیوں کےلیے مشکلات کھڑی کردینا سمجھ سے بالا تر بات ہے جو ایک یا دو وقت کا کھانا بھی اپنی فیملی کےلیے بڑی مشکل سے پورا کرتے ہیں۔ عجیب فلسفہ ہے ضرورت زندگی سامان میں لوگوں نے خوبصورت مکانات ،فریج، ٹی وی، وی سی آر، ہر طرح کا الیکٹرانک سامان، تین تین چار چار صوفہ سیٹ، درجن درج کرسیاں، ایسا سامان جن کو سال میں ایک بار بھی استعمال کرنے کا موقع نہیں ملتا۔ ان کو بھی ضروریات زندگی کا نام دےرکھاہے۔۔ آج کونسا ایسا گھرانہ ہے جہاں ضروریات زندگی کا سامان موجود نہیں ؟
اس لیے میرے بھائی مصلحت کا تقاضا یہی ہے کہ اس رسم کو بالکل ختم ہی کردینا چاہیے اور اس موقع پر بیٹی کو کچھ بھی ایسی چیز نہیں دینی چاہیے جو عوام الناس کو اس شک ولالچ میں مبتلا کردے کہ اگر ہمارے بیٹے کا نکاح کسی امیر دارانی سے ہوگیا تو وہ جہیز کو خوشی ومحبت کا نام دے کر اپنی بیٹی کو بہت کچھ دیں گے۔
اس لیے ماقبل پوسٹ میں اشارہ بھی کیا کہ اگر خوشی ومحبت جتانی بھی ہے تو ایسے طریقے اختیار کیے جائیں جس سے خاص طور پر غریبوں کےلیے کوئی مشکلات کھڑی نہ ہوں
شادی کے کئی ماہ قبل اگر لڑکی کے لیے فریج لے کر رکھ لیا جائے تو لڑکے والے یہ دیکھ کر خوش نہیں ہوں گے کہ اسے ابھی سے سامان ملنا شروع ہو گیا ہے؟
اوپر آپ نے ضروریات زندگی کا نام لیا اور پھر فریج کو بھی ضروریات زندگی میں شامل کردیا۔میرے بھائی پہلی بات فریج ضروریات زندگی میں شامل نہیں۔ضروریات زندگی میں ایسی چیز آتی ہیں جن کے بغیر آدمی کی زندگی ہی عذاب بن جائے۔(مثلاً کھانا پکانا وکھانا کھانے کا ضروری سامان، سونے بیٹھنے کےلیے جگہ کا نہ ہونا وغیرہ) اس طرح کی چیزوں کو سہولیات زندگی کا نام تو دیا جاسکتا ہے لیکن ضروریات زندگی کانام نہیں۔
اور دوسرا یہ کہ آپ کی ہی بات کہ محبت اور خوشی کے عوض میں میں نے کہا تھا کہ یوں کرلیا جائے تو خیر کا پہلو زیادہ ہے۔ اگر لڑکے والے لڑکی کے والدین کی طرف سے محبت اور خوشی میں دیے جانے والے سامان کے بارے میں یہ سوچ رکھ بیٹھیں تو پھر لڑکی کے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی بیٹی کو ایک ٹکہ تک بھی نہ دیں۔
اور اگر کئی ماہ بعد دیا جائے تو سامان تو دے دیا گیا نہ،تو پھر کیا وجہ ہے کہ شروع سے ہی نہ دے دیا جائے؟
یہی تو بات ہے عزیز بھائی کہ معاشرہ کی نظروں میں یہ بات بالکل آنی ہی نہیں چاہیے کہ فلاں نے اپنی بیٹی کو یہ کچھ دیا ہے۔ ورنہ لوگ جو دیکھیں گے وہی سمجھیں گے۔ اچھا آپ مجھے بتائیں کہ کسی سلفی العقیدہ آدمی کا کسی دربار کے پاس جا کر جانور وغیرہ اللہ تعالی کےلیے ذبح کرنا درست عمل ہے؟
نہیں !
کیونکہ اگر وہ ایسا کرے گا چاہے اس کی نیت خالص اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل کرنے کی ہے لیکن دیکھنے والے کیا سوچیں گے ؟ اس لیے ہر وہ کام جو بذات خود درست اور اسلامی تعلیمات کے مطابق ہو لیکن عوام الناس پر اس کا اثر غلط طور پھیلنے کا خدشہ ہو تو اس کام سے بھی اجتناب کرنا چاہیے۔۔واللہ اعلم
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,865
ری ایکشن اسکور
41,088
پوائنٹ
1,155
اگر کسی کو اپنی بیٹی کی اتنی فکر ہو تو پھر ایسے گھر میں اسے اپنی بیٹی کی شادی ہی نہیں کرا نی چاہیے۔جہاں ضرورت زندگی کا سامان ہی نہ ہو۔ ورنہ خوشی، محبت، پیار اور ضرورت زندگی کا نام لے کر ایسے غریبوں کی بیٹیوں کےلیے مشکلات کھڑی کردینا سمجھ سے بالا تر بات ہے جو ایک یا دو وقت کا کھانا بھی اپنی فیملی کےلیے بڑی مشکل سے پورا کرتے ہیں۔ عجیب فلسفہ ہے ضرورت زندگی سامان میں لوگوں نے خوبصورت مکانات ،فریج، ٹی وی، وی سی آر، ہر طرح کا الیکٹرانک سامان، تین تین چار چار صوفہ سیٹ، درجن درج کرسیاں، ایسا سامان جن کو سال میں ایک بار بھی استعمال کرنے کا موقع نہیں ملتا۔ ان کو بھی ضروریات زندگی کا نام دےرکھاہے۔۔ آج کونسا ایسا گھرانہ ہے جہاں ضروریات زندگی کا سامان موجود نہیں ؟
اس لیے میرے بھائی مصلحت کا تقاضا یہی ہے کہ اس رسم کو بالکل ختم ہی کردینا چاہیے اور اس موقع پر بیٹی کو کچھ بھی ایسی چیز نہیں دینی چاہیے جو عوام الناس کو اس شک ولالچ میں مبتلا کردے کہ اگر ہمارے بیٹے کا نکاح کسی امیر دارانی سے ہوگیا تو وہ جہیز کو خوشی ومحبت کا نام دے کر اپنی بیٹی کو بہت کچھ دیں گے۔
اس لیے ماقبل پوسٹ میں اشارہ بھی کیا کہ اگر خوشی ومحبت جتانی بھی ہے تو ایسے طریقے اختیار کیے جائیں جس سے خاص طور پر غریبوں کےلیے کوئی مشکلات کھڑی نہ ہوں

اوپر آپ نے ضروریات زندگی کا نام لیا اور پھر فریج کو بھی ضروریات زندگی میں شامل کردیا۔میرے بھائی پہلی بات فریج ضروریات زندگی میں شامل نہیں۔ضروریات زندگی میں ایسی چیز آتی ہیں جن کے بغیر آدمی کی زندگی ہی عذاب بن جائے۔(مثلاً کھانا پکانا وکھانا کھانے کا ضروری سامان، سونے بیٹھنے کےلیے جگہ کا نہ ہونا وغیرہ) اس طرح کی چیزوں کو سہولیات زندگی کا نام تو دیا جاسکتا ہے لیکن ضروریات زندگی کانام نہیں۔
اور دوسرا یہ کہ آپ کی ہی بات کہ محبت اور خوشی کے عوض میں میں نے کہا تھا کہ یوں کرلیا جائے تو خیر کا پہلو زیادہ ہے۔ اگر لڑکے والے لڑکی کے والدین کی طرف سے محبت اور خوشی میں دیے جانے والے سامان کے بارے میں یہ سوچ رکھ بیٹھیں تو پھر لڑکی کے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی بیٹی کو ایک ٹکہ تک بھی نہ دیں۔

یہی تو بات ہے عزیز بھائی کہ معاشرہ کی نظروں میں یہ بات بالکل آنی ہی نہیں چاہیے کہ فلاں نے اپنی بیٹی کو یہ کچھ دیا ہے۔ ورنہ لوگ جو دیکھیں گے وہی سمجھیں گے۔ اچھا آپ مجھے بتائیں کہ کسی سلفی العقیدہ آدمی کا کسی دربار کے پاس جا کر جانور وغیرہ اللہ تعالی کےلیے ذبح کرنا درست عمل ہے؟
نہیں !
کیونکہ اگر وہ ایسا کرے گا چاہے اس کی نیت خالص اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل کرنے کی ہے لیکن دیکھنے والے کیا سوچیں گے ؟ اس لیے ہر وہ کام جو بذات خود درست اور اسلامی تعلیمات کے مطابق ہو لیکن عوام الناس پر اس کا اثر غلط طور پھیلنے کا خدشہ ہو تو اس کام سے بھی اجتناب کرنا چاہیے۔۔واللہ اعلم
جزاک اللہ خیرا
 
Top