• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مرزا قادیانی کے ظلم اور دعوی نبوت ایک تحقیقی جائزہ

شمولیت
اگست 18، 2017
پیغامات
42
ری ایکشن اسکور
2
پوائنٹ
41
عنوان :۔ مرزا قادیانی کے ظلم اور دعوی نبوت ایک تحقیقی جائزہ
تحریر : عبیداللہ لطیف

قادیانی حضرات ! السلام من اتبع علی الہدی ! گذارش یہ ہے کہ مندرجہ ذیل حدیث کو توجہ سے پڑھیں
عَنْ عَامِر قَالَ؛ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بنَ بَشِيْر وَهُوَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَر فَقاَلَ: تَصَدَّقَ أَبِي عَلَيَّ بِصَدَقَةٍ، فَقَالَتْ عُمْرةُ بِنْتُ رَوَاحَة: لَا أَرْضَى حَتَّى تُشْهِدَ عَلَيْهَا رَسُوْلَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، فَأَتَى بَشِيْر رَسُوْل اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: إِنِّي تَصَدَّقْتُ عَلَى ابْنِي بِصَدَقَةٍ، فَقَالَتْ عُمْرَة بِنْت رَوَاحَة: لَا أَرْضَى حَتَّى تُشْهِد عَلَيْهَا رَسُوْل اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ؟ فَقَالَ: أَلَكَ بَنُونٍ غَيْرَه؟ . قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: فَكُلّهُم أَعْطَيْتَ مِثْلَمَا أَعْطَيْتَ؟ . قَالَ: لاَ. قَالَ: هَذَا جَوْرٌ؛ فَلَا تُشْهِدْنِي عَلَيْهِ، اتَّقُوا اللهَ، وَاعْدِلُوا بَيْنَ أَوْلَادِكُمْ؛ كَمَا تُحِبُّونَ أنْ يَبَرُّوْكُمْ .
ترجمہ :_ عامر سے مروی ہے کہتے ہیں کہ میں نے نعمان بن بشیر‌رضی اللہ عنہ سے سنا وہ منبر پر خطاب کر رہے تھے کہ: میرے والد نے مجھ پر صدقہ کیا، عمرہ بنت رواحہ نے کہا: مںی اس وقت تک یہ بات نہیں مانوں گی جب تک تم اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ نہیں بنا لیتے۔ بشیر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: میں نے اپنے بیٹے پر صدقہ کیاہے، عمرہ کہتی ہیں کہ : میں تو اس وقت راضی ہوں گی جب آپ اس پر رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کو گواہ بناؤ گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا اس بیٹے کے علاوہ تمہارے بیٹے ہیں؟ بشیر رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے ہر ایک کو اس جتنا دیا ہے؟ بشیر‌رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ظلم ہے، اس پر مجھے گواہ مت بناؤ، اللہ سے ڈر جاؤ اپنی اولادکے درمیان عدل کرو، جس طرح تمہیں یہ بات پسند ہے کہ وہ سب تم سے اچھا سلوک کریں .
( السلسلة الصحیحہ حدیث نمبر 1915 للشیخ البانی )
قادیانی حضرات ! اب اس حدیث کو پڑھنے کے بعد اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کیا مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی اولاد کے درمیان عدل و انصاف کیا چنانچہ متنبی قادیاں مرزا غلام احمد قادیانی اپنے اک اشتہار میں خود لکھتا ہے کہ
" لہذا میں آج کی تاریخ کہ دوسری مئی 91ء ہے . عوام اور خواص پر بذریعہ اشتہار ہذا ظاہر کرتا ہوں کہ اگر یہ لوگ اس ارادہ سے باز نہ آئے اور وہ تجویز جو اس لڑکی کے ناطہ اور نکاح کرنے کی اپنے ہاتھ سے یہ لوگ کر رہے ہیں اس کو موقوف نہ کر دیا اور جس شخص کو انہوں نے نکاح کے لیے تجویز کیا ہے اس کو رد نہ کیا بلکہ اس شخص کے ساتھ نکاح ہوگیا تو اسی نکاح کے دن سے سلطان احمد عاق اور محروم الارث ہوگا اور اسی روز سے اس کی والدہ پر میری طرف سے طلاق ہے اور اگر اس کا بھائی فضل احمد جس کے گھر میں مرزااحمد بیگ والد لڑکی کی بھانجی ہے اپنی اس بیوی کو اسی دن جو اس کو نکاح کی خبر ہو اور طلاق نہ دیوے تو پھر وہ بھی عاق اور محروم الارث ہو گا اور آئیندہ ان سب کاکوئی حق میرے پر نہیں رہے گا اور اس نکاح کے بعد تمام تعلقات خویشی و قرابت و ہمدردی دور ہو جائے گی ."
( مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 187 طبع جدید)
قادیانی حضرات ! اوپر دی گئی حدیث اور مرزا غلام احمد قادیانی کے اپنے دونوں بیٹوں کے عاق کرنے کے عمل کا جائزہ لیں کیا اپنی اولاد کو کسی بھی وجہ سے اپنی زندگی میں ہی عاق کرنا اور محروم الارث قرار دینے کی مثال کہیں قرآن وحدیث سے ملتی ہے .اگر نہیں ملتی اور یقیناً نہیں ملتی بلکہ حدیث کی رو سے تو یہ ظلم ہے اور آپ کے مرزاصاحب اس ظلم کے مرتکب ہوئے ہیں اور اسی وجہ سے وہ ظالم بھی بنتے ہیں تو قرآن کریم ظالموں کے بارے میں فرماتا ہے کہ

وَ اِذِ ابۡتَلٰۤی اِبۡرٰہٖمَ رَبُّہٗ بِکَلِمٰتٍ فَاَتَمَّہُنَّ ؕ قَالَ اِنِّیۡ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا ؕ قَالَ وَ مِنۡ ذُرِّیَّتِیۡ ؕ قَالَ لَا یَنَالُ عَہۡدِی الظّٰلِمِیۡنَ
﴿سورة البقرہ ۱۲۴﴾
ترجمہ :_ جب ابراہیم ( علیہ السلام ) کو ان کے رب نے کئی کئی باتوں سے آزمایا اور انہوں نے سب کو پورا کر دیا تو اللہ تعالی نے فرمایا کہ میں تمہیں لوگوں کاامام بنادوں گاابراہیم علیہ السلام عرض کرنے لگے (اے اللہ) میری اولاد کو بھی بنانا تو اللہ تعالی نے فرمایا میراوعہ ظالموں کے لیے ن ہی ہے یعنی ظلم کرنے والوں کو امام نہیں بناوں گا

قادیانی حضرات ! ذرا سوچیے جو پروردگار کسی ظالم کوامام بنانے کے لیے تیار نہیں نبی کیونکر بنائے گا اور ہم متنبی قادیاں مرزا غلام احمد قادیانی کو اس کے عمل سے فرمان رسول کی روشنی میں ظالم ثابت کر آئے ہیں اس لیے آپ عقل وخرد سے بیگانہ ہوکر مرزاغلام احمد قادیانی کو نبی ماننے کی بجائے حقیقی اسلام کو پہچانیے اور جہنم کا ایندھن بننے سے اپنے آپ کو بچائیے وما علینا الا البلاغ
 
Top