• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مرکزی شوریٰ کے اجلاس کی قراردادیں اور پروفیسر ساجد میر کا خطاب

شمولیت
دسمبر 09، 2013
پیغامات
68
ری ایکشن اسکور
15
پوائنٹ
37
مرکزی شوریٰ کے اجلاس کی قراردادیں اور پروفیسر ساجد میر کا خطاب
لاہور (11مئی2014) مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کی مجلس شوری کااجلاس مرکزاہل حدیث106راوی روڈ میں مرکزی امیر سینیٹر پروفیسرساجدمیرکی صدارت میں منعقدہوا۔ اجلاس میں مرکزی ناظم اعلی ڈاکٹر حافظ عبدالکریم سمیت ملک بھر سے 600 ارکان شوری نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسرساجد میرنے کہاکہ منفی سیاست سے جمہوریت کی بساط لپیٹی گئی تو ذمہ دارعمران خاں ہو گے۔نوازشریف حکومت کے اتحادی ضرور ہیں مگر غیر اسلامی اقدامات خصوصاسودی نظام کی حمایت نہیں کرسکتے ۔ نفاذاسلام کی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ مسئلہ کشمیر اور پانی کے تنازعات کے حل کے بغیر بھارت کے ساتھ دوستی کی پینگیں نہ بڑھائی جائیں۔ملک میں جمہوری استحکام اور اس کے تسلسل پر یقین رکھتے ہیں۔ اور منفی سیاست کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔ میڈیا کی آزادی پر یقین رکھتے ہیں۔ تاہم ملکی سلامتی کے اداروں کے وقار کی حفاظت کے بھی خواہاں ہیں۔ اداروں کے مابین الزام تراشیاں بندہونی چاہیں۔فو ج کے غیر سیاسی کردار کے حامی ہیں،فو ج کی دفاعی اور عسکری خدمات کا اعتراف کرتے ہیں۔ لیکن کسی بھی ایسی سرگرمی کی حمایت نہیں کرسکتے کہ جس سے کسی مہم جو کو غیر آئینی راستہ ملنے کا جواز پیدا ہوتا ہو۔ اجلاس میں پاکستان اور امت مسلمہ کے مسائل کے حوالے سے مختلف قراردادیں بھی منظورکی گئیں۔سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہارکرتے ہوئے قراردیاگیاکہ آج کا یہ اجلاس حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کے عز م کا اظہار کرتا ہے۔ سعودی عرب عالم اسلام کی وحدت کا مرکزہے۔ سعودی عرب کے خلاف منفی پراپیگنڈا کرنے والے احسان فراموش ہیں۔ یہ عناصراسلام سے مخلص ہیں اور نہ پاکستان سے، ہم ان کا بھرپور مقابلہ کریں گے۔ اجلاس سمجھتا ہے کہ ماضی میں امریکی ڈالروں کے ذریعے ملک کی سلامتی کے سودا کرنے والے عناصر ہی آج سعودی عرب کے خلاف پراپیگنڈہ کررہے ہیں۔ برادر اسلامی ملک سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کی مدد کی ہے آج اگر انہوں نے پاکستان کو ڈیڑھ ارب ڈالر امداد دی ہے تو یہ نئی بات نہیں ہے۔ ہم ان کے جذبہ خیر سگالی کو سراہتے ہیں۔ مساجد اور ویلفیئر کے ادارے بنانے پر سعودی عرب پر تنقید کرنے والوں کو یہاں عیسائی مشنری ادارے، مغرب نواز این جی اوز اور ان کی اسلام اور پاکستان دشمن سرگرمیاں کیوں دکھائی نہیں دیتیں۔ لہذا آج کا یہ اجلاس سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا بھرپور اظہار کرتا ہے۔ جبکہ جمہوریت کے استحکام اور ہر قسم کی فوجی مہم جوئی کی مذمت اور میڈیا کی آزادی پر یقین کا اظہارکرتے ہوئے قراردیاگیا۔ یہ اجلاس بھارت کی جانب سے مقبوضہ ریاست جموں وکشمیر پر جبری قبضہ برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے، بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو تنہا کرنے، اسے اس کی ایٹمی اور دفاعی صلاحیت سے محروم کرنے کے حوالے سے سازشوں نیز ہندوستان کے اندر عسکری، سیاسی اور میڈیا کی سطح پر پاکستان دشمن ماحول تیار کرنے پر تشویش کااظہار کرتاہے۔ اجلاس محسوس کرتاہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کو پانی سے محروم کرنے کے لیے چھوٹے بڑے ڈیموں کی تعمیر اور اب بالخصوص دریائے کشن گنگا کا رخ موڑنا، نیلم ڈیم کے منصوبے کو سبوتاژ کرنے کے بھی مترادف اور سندھ طاس معاہدے کی بھی صریح خلاف ورزی ہے۔ بھارت پاکستان کو بدنام کرنے اور عدم استحکام کا شکار کرنے کے لیے کوئی بھی مذموم ہتھکنڈا استعمال کرسکتاہے، اجلاس حکومت سے مطالبہ کرتاہے کہ بھارت کے ساتھ یکطرفہ دوستی کے عمل کو ختم کرتے ہوئے بھارت پر واضح کیاجائے کہ مسئلہ کشمیر پر پیش رفت اور پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی حکمت عملی ترک کیے بغیر دوطرفہ تعلقات میں پیش رفت نہیں ہوسکتی۔ شام کی صورتحال پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہاگیاکہ مجلس شوری کا یہ اجلاس شام میں گزشتہ تین سال سے جاری قتل وغارت اور تباہی پر شدید تشویش اور ملک میں بنیادی انسانی حقوق کے حصول کے لیے جاری عوامی تحریک کی مکمل حمایت کا اعلان کرتا ہے۔ 1964ء سے مظلوم شامی عوام کی گردنوں پر مسلط ٹولہ بشار الاسد کی سربراہی میں ظلم کی نئی تاریخ رقم کر رہا ہے۔ پورا ملک کھنڈر بن چکا ہے اور پوری قوم تباہ حال ہے۔ اب تک ڈیڑھ لاکھ سے زائد شہید، کئی ملین زخمی اور 3 ملین سے زائد مہاجر ہوچکے ہیں۔ امریکہ اور مغربی طاقتیں تو اپنی منافقانہ پالیسیوں کے ذریعے بے گناہ شہریوں کے قتل اور شام کی تباہی میں شریک تھے ہی، بدقسمتی سے بعض مسلم ممالک بھی سفاک بشار کے شانہ بشانہ ہیں۔ یہ اجلاس بشار انتظامیہ کے خلاف برسر پیکار تمام جماعتوں، تنظیموں اور گروہوں سے بھی دردمندانہ اپیل کرتا ہے کہ آپس کے اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ملک وقوم کو بچانے کے یک نکاتی ایجنڈے پر اکھٹے ہوجائیں اور دشمن کی سازشوں کا شکار نہ ہوں۔ مرکزی مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس اسلامی جمہوریہ افغانستان سے امریکی اور دیگر غیر ملکی فوجوں کے جلد از جلد اور مکمل انخلاء کا مطالبہ کرتا ہے۔ اجلاس سمجھتا ہے کہ افغانستان سے انخلاء کے بعد بھی وہاں امریکی یا اتحادی افواج کے اڈے باقی رہنے یا تربیتی مشن کے طور افغانستان میں موجودگی کی صورت میں خطے کا امن مسلسل سنگین خطرات سے دوچار رہے گا۔ پاکستان کا امن بھی افغانستان کے امن واستحکام ہی سے منسلک ہے اور وہاں غیر ملکی افواج کی موجودگی افغانستان میں کسی صورت امن نہیں لا سکتی۔ مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس گزشتہ 6سال سے جاری غزہ کے مسلسل محاصرے کی شدید مذمت کرتا ہے۔اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ غزہ کے 16لاکھ محصور انسانوں کو صہیونی ریاست کے جبر وتشدد سے آزادی دلانے اور اسرائیلی محاصرے کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔
نیوز لنک
 
شمولیت
جولائی 05، 2014
پیغامات
47
ری ایکشن اسکور
14
پوائنٹ
27
مرکزی شوریٰ کے اجلاس کی قراردادیں اور پروفیسر ساجد میر کا خطاب
لاہور (11مئی2014) مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کی مجلس شوری کااجلاس مرکزاہل حدیث106راوی روڈ میں مرکزی امیر سینیٹر پروفیسرساجدمیرکی صدارت میں منعقدہوا۔ اجلاس میں مرکزی ناظم اعلی ڈاکٹر حافظ عبدالکریم سمیت ملک بھر سے 600 ارکان شوری نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسرساجد میرنے کہاکہ منفی سیاست سے جمہوریت کی بساط لپیٹی گئی تو ذمہ دارعمران خاں ہو گے۔نوازشریف حکومت کے اتحادی ضرور ہیں مگر غیر اسلامی اقدامات خصوصاسودی نظام کی حمایت نہیں کرسکتے ۔ نفاذاسلام کی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ مسئلہ کشمیر اور پانی کے تنازعات کے حل کے بغیر بھارت کے ساتھ دوستی کی پینگیں نہ بڑھائی جائیں۔ملک میں جمہوری استحکام اور اس کے تسلسل پر یقین رکھتے ہیں۔ اور منفی سیاست کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔ میڈیا کی آزادی پر یقین رکھتے ہیں۔ تاہم ملکی سلامتی کے اداروں کے وقار کی حفاظت کے بھی خواہاں ہیں۔ اداروں کے مابین الزام تراشیاں بندہونی چاہیں۔فو ج کے غیر سیاسی کردار کے حامی ہیں،فو ج کی دفاعی اور عسکری خدمات کا اعتراف کرتے ہیں۔ لیکن کسی بھی ایسی سرگرمی کی حمایت نہیں کرسکتے کہ جس سے کسی مہم جو کو غیر آئینی راستہ ملنے کا جواز پیدا ہوتا ہو۔ اجلاس میں پاکستان اور امت مسلمہ کے مسائل کے حوالے سے مختلف قراردادیں بھی منظورکی گئیں۔سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہارکرتے ہوئے قراردیاگیاکہ آج کا یہ اجلاس حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کے عز م کا اظہار کرتا ہے۔ سعودی عرب عالم اسلام کی وحدت کا مرکزہے۔ سعودی عرب کے خلاف منفی پراپیگنڈا کرنے والے احسان فراموش ہیں۔ یہ عناصراسلام سے مخلص ہیں اور نہ پاکستان سے، ہم ان کا بھرپور مقابلہ کریں گے۔ اجلاس سمجھتا ہے کہ ماضی میں امریکی ڈالروں کے ذریعے ملک کی سلامتی کے سودا کرنے والے عناصر ہی آج سعودی عرب کے خلاف پراپیگنڈہ کررہے ہیں۔ برادر اسلامی ملک سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کی مدد کی ہے آج اگر انہوں نے پاکستان کو ڈیڑھ ارب ڈالر امداد دی ہے تو یہ نئی بات نہیں ہے۔ ہم ان کے جذبہ خیر سگالی کو سراہتے ہیں۔ مساجد اور ویلفیئر کے ادارے بنانے پر سعودی عرب پر تنقید کرنے والوں کو یہاں عیسائی مشنری ادارے، مغرب نواز این جی اوز اور ان کی اسلام اور پاکستان دشمن سرگرمیاں کیوں دکھائی نہیں دیتیں۔ لہذا آج کا یہ اجلاس سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا بھرپور اظہار کرتا ہے۔ جبکہ جمہوریت کے استحکام اور ہر قسم کی فوجی مہم جوئی کی مذمت اور میڈیا کی آزادی پر یقین کا اظہارکرتے ہوئے قراردیاگیا۔ یہ اجلاس بھارت کی جانب سے مقبوضہ ریاست جموں وکشمیر پر جبری قبضہ برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے، بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو تنہا کرنے، اسے اس کی ایٹمی اور دفاعی صلاحیت سے محروم کرنے کے حوالے سے سازشوں نیز ہندوستان کے اندر عسکری، سیاسی اور میڈیا کی سطح پر پاکستان دشمن ماحول تیار کرنے پر تشویش کااظہار کرتاہے۔ اجلاس محسوس کرتاہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کو پانی سے محروم کرنے کے لیے چھوٹے بڑے ڈیموں کی تعمیر اور اب بالخصوص دریائے کشن گنگا کا رخ موڑنا، نیلم ڈیم کے منصوبے کو سبوتاژ کرنے کے بھی مترادف اور سندھ طاس معاہدے کی بھی صریح خلاف ورزی ہے۔ بھارت پاکستان کو بدنام کرنے اور عدم استحکام کا شکار کرنے کے لیے کوئی بھی مذموم ہتھکنڈا استعمال کرسکتاہے، اجلاس حکومت سے مطالبہ کرتاہے کہ بھارت کے ساتھ یکطرفہ دوستی کے عمل کو ختم کرتے ہوئے بھارت پر واضح کیاجائے کہ مسئلہ کشمیر پر پیش رفت اور پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی حکمت عملی ترک کیے بغیر دوطرفہ تعلقات میں پیش رفت نہیں ہوسکتی۔ شام کی صورتحال پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہاگیاکہ مجلس شوری کا یہ اجلاس شام میں گزشتہ تین سال سے جاری قتل وغارت اور تباہی پر شدید تشویش اور ملک میں بنیادی انسانی حقوق کے حصول کے لیے جاری عوامی تحریک کی مکمل حمایت کا اعلان کرتا ہے۔ 1964ء سے مظلوم شامی عوام کی گردنوں پر مسلط ٹولہ بشار الاسد کی سربراہی میں ظلم کی نئی تاریخ رقم کر رہا ہے۔ پورا ملک کھنڈر بن چکا ہے اور پوری قوم تباہ حال ہے۔ اب تک ڈیڑھ لاکھ سے زائد شہید، کئی ملین زخمی اور 3 ملین سے زائد مہاجر ہوچکے ہیں۔ امریکہ اور مغربی طاقتیں تو اپنی منافقانہ پالیسیوں کے ذریعے بے گناہ شہریوں کے قتل اور شام کی تباہی میں شریک تھے ہی، بدقسمتی سے بعض مسلم ممالک بھی سفاک بشار کے شانہ بشانہ ہیں۔ یہ اجلاس بشار انتظامیہ کے خلاف برسر پیکار تمام جماعتوں، تنظیموں اور گروہوں سے بھی دردمندانہ اپیل کرتا ہے کہ آپس کے اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ملک وقوم کو بچانے کے یک نکاتی ایجنڈے پر اکھٹے ہوجائیں اور دشمن کی سازشوں کا شکار نہ ہوں۔ مرکزی مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس اسلامی جمہوریہ افغانستان سے امریکی اور دیگر غیر ملکی فوجوں کے جلد از جلد اور مکمل انخلاء کا مطالبہ کرتا ہے۔ اجلاس سمجھتا ہے کہ افغانستان سے انخلاء کے بعد بھی وہاں امریکی یا اتحادی افواج کے اڈے باقی رہنے یا تربیتی مشن کے طور افغانستان میں موجودگی کی صورت میں خطے کا امن مسلسل سنگین خطرات سے دوچار رہے گا۔ پاکستان کا امن بھی افغانستان کے امن واستحکام ہی سے منسلک ہے اور وہاں غیر ملکی افواج کی موجودگی افغانستان میں کسی صورت امن نہیں لا سکتی۔ مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس گزشتہ 6سال سے جاری غزہ کے مسلسل محاصرے کی شدید مذمت کرتا ہے۔اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ غزہ کے 16لاکھ محصور انسانوں کو صہیونی ریاست کے جبر وتشدد سے آزادی دلانے اور اسرائیلی محاصرے کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔
نیوز لنک
جماعت کو چاہیئے کی کہ فقط شوری کے اجلاس کے فیصلوں پر انحصار نہ کرے بلکہ اسے عملی شکل دینے کے لئے لائحہ عمل بنا ئے اور اسے ایک تحریک کی شکل دے۔
اللہ ہمارا حامی و نا صر ہو
۔
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,859
ری ایکشن اسکور
41,093
پوائنٹ
1,155
۔نوازشریف حکومت کے اتحادی ضرور ہیں مگر غیر اسلامی اقدامات خصوصاسودی نظام کی حمایت نہیں کرسکتے
یہ کیسا اتحاد ہے کہ غیر اسلامی اقدامات کے ہوتے ہوئے بھی آپ ان کے اتحادی ہیں، سود اور زنا کے اڈے سرکاری سرپرستی میں قائم ہیں اور آپ یہ جانتے ہوئے بھی ان کے اتحادی ہیں، تو ضرور آپ کو کوئی دنیا فائدہ لاحق ہے۔
نفاذاسلام کی جدوجہد جاری رکھیں گے
کوئی ایک جدوجہد کی کاروائی ہمیں بھی بتا دیں تاکہ ہمیں تسلی ہو۔
ملک میں جمہوری استحکام اور اس کے تسلسل پر یقین رکھتے ہیں
اللہ اکبر، کس جمہوری استحکام کے تسلسل پر آپ یقین رکھ رہے ہیں وہ جمہوریت جو اللہ کے دین کے ساتھ بغاوت ہے۔ وہ جمہوری نظام جس سے سود، زنا اور شراب کے اڈے حکومت کی سرپرستی میں قائم ہیں۔
وہ جمہوری نظام جس سے آئے دن عورتوں کے جسموں کا کاروبار زور و شور سے بڑھتا جا رہا ہے۔
وہ جمہوری نظام جو اہل کفر کے قوانین کے مطابق چل رہا ہے۔
وہ جمہوری نظام جس میں کفر و شرک کے اڈے (مزارات) سرکاری سرپرستی میں چل رہے ہیں۔
میر صاحب! اللہ کا خوف کریں۔
میڈیا کی آزادی پر یقین رکھتے ہیں
اور کتنا میڈیا کو آزاد کروائیں گے آپ، اب تو قرآنی تعلیمات پر تنقید اور ملحدانہ افکار و نظریات پھیلانے تک کی نوبت تو آ چکی ہے۔ میڈیا کو لگام دلوانے کی بات کرنے کی بجائے آپ ان کی آزادی پر یقین رکھ رہے ہیں۔
فو ج کی دفاعی اور عسکری خدمات کا اعتراف کرتے ہیں
جناب، ذرا عوام سے پوچھیں وہ بھی "عسکری خدمات" کا اعتراف کرتے ہیں یا نہیں، ڈرون عوام پر برسیں، آئے دن لوگوں کو اٹھا لیا جائے، ببانگ دہل امریکی لوگ پاکستانی شہریوں کا قتل کر دیں، اور آپ صرف عسکری خدمات کا اعتراف کرتے رہیں۔
۔ اجلاس سمجھتا ہے کہ ماضی میں امریکی ڈالروں کے ذریعے ملک کی سلامتی کے سودا کرنے والے عناصر ہی آج سعودی عرب کے خلاف پراپیگنڈہ کررہے ہیں
صرف سعودیہ عرب کے خلاف ہی نہیں بلکہ اسلام اور اسلام پسندوں کے خلاف بھی پروپیگنڈہ ہو رہا ہے، اور یہ کرنے والے کوئی اور نہیں وہی ہیں جن کے اتحادی ہونے کا اعتراف آپ اس اجلاس میں کر رہے ہیں، نا یقین آئے تو یہ لیں اشارہ
"امریکی اور پاکستانی عوام مل کر بنا رہے ہیں ایک روشن پاکستان"
 
شمولیت
جولائی 05، 2014
پیغامات
47
ری ایکشن اسکور
14
پوائنٹ
27
یہ کیسا اتحاد ہے کہ غیر اسلامی اقدامات کے ہوتے ہوئے بھی آپ ان کے اتحادی ہیں، سود اور زنا کے اڈے سرکاری سرپرستی میں قائم ہیں اور آپ یہ جانتے ہوئے بھی ان کے اتحادی ہیں، تو ضرور آپ کو کوئی دنیا فائدہ لاحق ہے۔

کوئی ایک جدوجہد کی کاروائی ہمیں بھی بتا دیں تاکہ ہمیں تسلی ہو۔

اللہ اکبر، کس جمہوری استحکام کے تسلسل پر آپ یقین رکھ رہے ہیں وہ جمہوریت جو اللہ کے دین کے ساتھ بغاوت ہے۔ وہ جمہوری نظام جس سے سود، زنا اور شراب کے اڈے حکومت کی سرپرستی میں قائم ہیں۔
وہ جمہوری نظام جس سے آئے دن عورتوں کے جسموں کا کاروبار زور و شور سے بڑھتا جا رہا ہے۔
وہ جمہوری نظام جو اہل کفر کے قوانین کے مطابق چل رہا ہے۔
وہ جمہوری نظام جس میں کفر و شرک کے اڈے (مزارات) سرکاری سرپرستی میں چل رہے ہیں۔
میر صاحب! اللہ کا خوف کریں۔


اور کتنا میڈیا کو آزاد کروائیں گے آپ، اب تو قرآنی تعلیمات پر تنقید اور ملحدانہ افکار و نظریات پھیلانے تک کی نوبت تو آ چکی ہے۔ میڈیا کو لگام دلوانے کی بات کرنے کی بجائے آپ ان کی آزادی پر یقین رکھ رہے ہیں۔

جناب، ذرا عوام سے پوچھیں وہ بھی "عسکری خدمات" کا اعتراف کرتے ہیں یا نہیں، ڈرون عوام پر برسیں، آئے دن لوگوں کو اٹھا لیا جائے، ببانگ دہل امریکی لوگ پاکستانی شہریوں کا قتل کر دیں، اور آپ صرف عسکری خدمات کا اعتراف کرتے رہیں۔

صرف سعودیہ عرب کے خلاف ہی نہیں بلکہ اسلام اور اسلام پسندوں کے خلاف بھی پروپیگنڈہ ہو رہا ہے، اور یہ کرنے والے کوئی اور نہیں وہی ہیں جن کے اتحادی ہونے کا اعتراف آپ اس اجلاس میں کر رہے ہیں، نا یقین آئے تو یہ لیں اشارہ
"امریکی اور پاکستانی عوام مل کر بنا رہے ہیں ایک روشن پاکستان"
محض جذبات ہی کا سہارا نہیں لیا جاتا ۔ حالات کو بھی ساتھ ساتھ دیکھا جاتا ہے ۔ کیا ملک میں ایسے حالات پیدا کیے جائیں کہ ملک کو صومالیہ بنا دیا جائے اور خانہ جنگی کا بازار گرم کر دیا جائے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بہت سی اصلاحات کی ضرورت ہے مگر اس پہلے جماعت کے ہاتھ مظبوط کرنے ہوں گئے اگر اسی طرح علیحدہ علیحدہ جماعتوں میں منقسم ہوئے تو اجتماعی حثیت ہماری اس ملک میں نہیں رہے گی جیسا کہ بہت حد تک ہم کھو چکے ہیں۔
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,859
ری ایکشن اسکور
41,093
پوائنٹ
1,155
پچھلے 66 سالوں سے صرف ہاتھ ہی مضبوط ہو رہے ہیں، نجانے ابھی اور کتنا وقت لگے گا۔
 
شمولیت
جولائی 05، 2014
پیغامات
47
ری ایکشن اسکور
14
پوائنٹ
27
پچھلے 66 سالوں سے صرف ہاتھ ہی مضبوط ہو رہے ہیں، نجانے ابھی اور کتنا وقت لگے گا۔
کہا ہا تھ مظبوط ہوئے ہیں اہلحدیث جتنے اس وقت منتشر ہیں پچھلے ۶۶ سالوں میں اتنے قطعا نہیں تھے ہمارے علماء کو آج کل امارتوں کا شوق چڑھا ہوا ہے اور جس قوم میں بھی یہ شوق آیا تاریخ گواہ ہے کہ اس جماعت کی تبا ہی واجب ٹھہری ہے ۔
ہماری حالت تو یہ ہے کہ اہلحديث اکثریتی حلقوں میں ہم اپنی نا چاقی سے شرم سے دو چار ہوتے ہیں
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,859
ری ایکشن اسکور
41,093
پوائنٹ
1,155
کہا ہا تھ مظبوط ہوئے ہیں اہلحدیث جتنے اس وقت منتشر ہیں پچھلے ۶۶ سالوں میں اتنے قطعا نہیں تھے ہمارے علماء کو آج کل امارتوں کا شوق چڑھا ہوا ہے اور جس قوم میں بھی یہ شوق آیا تاریخ گواہ ہے کہ اس جماعت کی تبا ہی واجب ٹھہری ہے ۔
ہماری حالت تو یہ ہے کہ اہلحديث اکثریتی حلقوں میں ہم اپنی نا چاقی سے شرم سے دو چار ہوتے ہیں
100٪ متفق برادر
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,859
ری ایکشن اسکور
41,093
پوائنٹ
1,155
میں نے کبھی اس بات پر توجہ نہیں دی کہ دیگر لوگ کیا کر رہے ہیں میں صرف یہ دیکھتا ہوں کہ اہل حدیث کیا کر رہے ہیں، ایک طرف ان کا منہج اور دوسری طرف ان کے کرتوت دیکھ کر شرمساری ہوتی ہے

جیسے مرکزی جمیعت اہل حدیث کے نوجوانوں کا حامد میر جیسے شخص پر حملے کے خلاف احتجاج کرنا۔۔۔ انا للہ وانا الیہ رجعون
 
شمولیت
جولائی 05، 2014
پیغامات
47
ری ایکشن اسکور
14
پوائنٹ
27
جیسے مرکزی جمیعت اہل حدیث کے نوجوانوں کا حامد میر جیسے شخص پر حملے کے خلاف احتجاج کرنا۔۔۔ انا للہ وانا الیہ رجعون[/QUOTE]

حامد میر یا چاہئے کوئی بھی ہو شرعا کسی کو ایسے شوٹ نہیں کیا جا سکتا ۔ مگر میں خود یہ سمجھتا ہوں کہ ایسے متنازع شخصیت پر خاموشی اختیا ر کرنی چاہئے تھی۔ ہمیں قطعا ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہیے جس کا دفاع مشکل ہو اور لوگوں کو انگلیاں اٹھانے کا موقع ملے
 

شاہد نذیر

سینئر رکن
شمولیت
فروری 17، 2011
پیغامات
2,067
ری ایکشن اسکور
6,267
پوائنٹ
437
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

حکومتوں میں شامل ہوکر چپ چاپ، چھپتے چھپاتے اور ڈرتے ڈرتے کام کرنا بے کار ہے۔ ایسی جگہوں پر موجود ہونے اور اس موجودگی کا حق ادا کرنے کے لئے شیر جیسا حوصلہ چاہیے جو علامہ احسان الہٰی ظہیر شہید (ان شاء اللہ) میں موجود تھا۔ آج کل کسی ایک اہل حدیث عالم یا قیادت میں وہ حوصلہ مجھے دور دور تک نظر نہیں آتا۔ حکومت میں شامل قیادتیں چاہے وہ اہل حدیث کی ہی کیوں نہ ہوں جماعت سے زیادہ اپنے مفادات یا مجموعی اہل حدیث سے ہٹ کر صرف اپنی خاص جماعتوں کے مفادات ہی کا تحفظ کرتی ہیں۔ اس کی ایک مثال کراچی میں بھی کئی مرتبہ دیکھنے کو ملی کہ جب کبھی کراچی میں کسی اہل حدیث کی مسجد پر حملہ ہوتا ہے تو جماعت الدعوۃ مضبوط پوزیشن میں ہونے کے باوجود کوئی مدد نہیں کرتی بلکہ عام اہل حدیث ہی اپنی سی کوشش کرتے ہیں یا بعض اوقات جماعت الدعوۃ اس شرط پر مدد کی حامی بھرتی ہے کہ مسجد کا انتظام ان کے حوالے کردیا جائے۔ ظاہر ہے یہ شرط مسجد کی انتظامیہ کے لئے ناقابل قبول ہوتی ہے اور نتیجہ میں مساجد یا تو سیل ہوجاتی ہیں یا شہید کردی جاتی ہیں یا پھر ان پر دیوبندیوں یا بریلویوں کا قبضہ ہوجاتا ہے۔

جماعت الدعوۃ ایک جہادی تنظیم ہے جو سیاست میں آنے کی وجہ سے دوسری سیاسی تنظیموں کی طرح گندی ہوچکی ہے۔ جیسے ایک ٹی وی انٹرویو میں جب حافظ سعید صاحب سے اینکر نے پوچھا: کیا آپ کشمیر میں جہاد کررہے ہیں؟ تو ان کا صاف جواب تھا کہ نہیں! ہم کشمیر میں جہاد نہیں کررہے صرف جدوجہد کررہے ہیں۔
اگرچہ میں سمجھتا ہوں کہ حافظ صاحب کا مطلب یہی تھا کہ ہم کشمیر میں جہاد کررہے ہیں کیونکہ جہاد بھی جدوجہد کا نام ہے۔ لیکن انکا جواب بزدلانہ اور کافی حد تک منافقانہ تھا اور یہ اسی جمہوریت کے کرشمے ہیں کہ نہ تو آدمی دو ٹوک انداز میں اپنا موقف بیان کرسکتا ہے اور نہ سچ بول سکتا ہے۔ پھر فائدہ کیا ایسی جمہوریت کا؟

دنیا جانتی ہے کہ متحدہ ایک دہشت گرد تنظیم ہے اور اکثر انکے بیانات، دھرنے اور احتجاجات جھوٹے اور دکھاوے کے ہوتے ہیں۔ پچھلے دنوں جب الطاف حسین صاحب کو لندن میں گرفتار کیا گیا اور متحدہ نے کراچی میں احتجاج کا ڈھونگ رچایا تو یہ ہمیں یہ دیکھ کر بہت زیادہ افسوس ہوا کہ ان قاتلوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے جماعت الدعوۃ بھی باقاعدہ طور پر انکے دھرنے میں شریک ہوئی۔ انا اللہ وانا الیہ راجعون!

اللہ گواہ ہے کہ مجھے تو حافظ سعید صاحب کو دیکھ کر کبھی نہیں لگتا کہ یہ مجاہد کا چہرہ ہے نہ بات میں دم، نہ کام میں دم، نہ انداز مجاہدوں والے۔ بس سعید صاحب ایک سیاستدان ہی نظر آتے ہیں۔ویسے حافظ سعید صاحب نے خود کتنی مرتبہ جہاد کیا ہے؟ مجھے نہیں معلوم کہ کراچی کے علاوہ دیگر جگہوں پر جماعت الدعوۃ کی دعوتی سرگرمیاں کیا ہیں لیکن کراچی میں تو انکا سارا زور چندے پر نظر آتا ہے۔ یہ بریلویوں سے بھی چندے وصول کرتے ہیں اور ان چندوں کی نمک خواری کی وجہ سے توحید بھی کھل کر بیان نہیں کرتے اور نہ شرک کی مذمت کرتے ہیں۔

الحاصل: جمہوریت وہ گندا گٹر ہے جس میں گرنے والے کے ہاتھ میں نجاست کے علاوہ کچھ نہیں آتا۔ اب ایسی جمہوری سیاست میں چاہے عالم شامل ہو یا عامی جلد یا بدیر وہ بھی اسی گندی سیاست کا حصہ بن جاتا ہے۔
 
Last edited:
Top