محدث میڈیا
رکن
- شمولیت
- مارچ 02، 2023
- پیغامات
- 1,032
- ری ایکشن اسکور
- 34
- پوائنٹ
- 96
ایک وتر پڑھنا جائز ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں:
أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يُوتِرُ مِنْهَا بِوَاحِدَةٍ فَإِذَا فَرَغَ مِنْهَا اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ (صحیح مسلم، صلاۃ المسافرین وقصرها: 736)
’’رسول اللہ ﷺ رات کو گیارہ رکعت پڑھتے تھے، ان میں سے ایک کے ذریعے وتر ادا فرماتے، جب آپﷺ اس (ایک رکعت) سے فارغ ہو جاتے تو آپﷺ اپنے دائیں پہلو کے بل لیٹ جاتے یہاں تک کہ آپﷺ کے پاس مؤذن آ جاتا تو آپﷺ دو (نسبتاً) ہلکی رکعتیں پڑھتے۔‘‘
لیکن انسان کو چاہیے کہ وہ اسے معمول نہ بنا لے، تین ، پانچ یا اس سے زیادہ وتر پڑھناخیر اور ثواب کا باعث ہے، وہ خود کو اس عظیم خیر سے محروم نہ کرے۔
والله أعلم بالصواب.
سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں:
أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يُوتِرُ مِنْهَا بِوَاحِدَةٍ فَإِذَا فَرَغَ مِنْهَا اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ (صحیح مسلم، صلاۃ المسافرین وقصرها: 736)
’’رسول اللہ ﷺ رات کو گیارہ رکعت پڑھتے تھے، ان میں سے ایک کے ذریعے وتر ادا فرماتے، جب آپﷺ اس (ایک رکعت) سے فارغ ہو جاتے تو آپﷺ اپنے دائیں پہلو کے بل لیٹ جاتے یہاں تک کہ آپﷺ کے پاس مؤذن آ جاتا تو آپﷺ دو (نسبتاً) ہلکی رکعتیں پڑھتے۔‘‘
لیکن انسان کو چاہیے کہ وہ اسے معمول نہ بنا لے، تین ، پانچ یا اس سے زیادہ وتر پڑھناخیر اور ثواب کا باعث ہے، وہ خود کو اس عظیم خیر سے محروم نہ کرے۔
والله أعلم بالصواب.