• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مسلم ممالک کا زوال: لمحۂ فکریہ

شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,403
ری ایکشن اسکور
26,340
پوائنٹ
995
مسلم ممالک کا زوال: لمحۂ فکریہ


بشریٰ ارشد​

اکیسیویں صدی میں جب کہ دنیا کے تقریبا سبھی ممالک تیزی کے ساتھ ترقی کر رہے ہیں، مسلم ممالک مسلسل بحران کا شکار ہیں اور پستی وزوال کی طرف بڑھتے جا رہے ہیں ۔ حالانکہ ایک وقت تھا جب پوری دنیا پر ان کی فوقیت مسلم تھی۔ تعلیمی و سائنسی، اقتصادی و معاشی ، تہذیبی و تمدنی ہر اعتبار سے مسلمان سبھی قوموں سے آگے تھے۔ قوت وطاقت میں انکا کوئی ہمسر نہ تھا ۔ عروج و ترقی میں ان کا کوئی ثانی نہ تھا ۔ طب و فلسفہ ، سائنس و فلکیات ، نجوم و ہیئت تمام اقسام علوم میں وہ ماہر اور دنیا والے ان کے تابع تھے ۔ ان کی بنائی ہوئی تعلیم گاہیں اور یونیورسیٹیاں سبھی قوموں کے لئے مرجع کی حیثیت رکھتی تھیں ۔ ان کی لائبریریاں اور کتب خانے علم و فن کا سب سے عظیم مخزن شمار کی جاتی تھیں ۔ان کی بنائی ہوئی تاریخی عمارتیں ایسی بے نظیر تھیں کہ دنیا کے ہر گوشے سے لوگ انہیں دیکھنے آیا کرتے تھے۔ ان کی تہذیبی و تمدنی اقدار دنیا والوں کے لئے مثال تھیں ۔ قوت و شوکت کا یہ عالم تھا کہ دنیا کی دیگر تمام قومیں ان کے آگے سر جھکاتی تھیں ۔
اور ایسا کیوں نہ ہوتا آخر وہ اللہ رب العالمین کے سب سے پسندیدہ دین دین اسلام کے حامل تھے۔ ان کے پاس مذہب اسلام کی شکل میں ایک ایسا آفاقی نظام موجود تھا جس میں عروج و ترقی اور کامیابی و کامرانی کے سارے راز مضمر ہیں ۔ انہوں نے اسلامی تعلیمات کو سینے سے لگائے رکھا ۔ زندگی کے ہر میدان میں انہوں نے اسلام کی تعلیمات کو اپنے نگاہوں کے سامنے رکھا ، اسی لئے وہ ہر جگہ کامیاب و سرخرو تھے۔
لیکن وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ مسلمان اپنے دین سے دور ہوتے گئے ۔ دولت وثروت کی فراوانی نے ان کے اندر عیش پرستی کو فروغ دیا ۔ وہ اسلام کی احکامات و تعلیمات کو پس پشت ڈال کر دنیا کی لذتوں اور خوش سامانیوں میں مصروف ہوتے گئے نتیجہ یہ ہوا کہ علم و فن سے ان کا ناطہ ٹوٹ گیا ۔ ان کے علمی ذخائر پر غیروں نے قبضہ کر لیا اور ان کی عظیم الشان لائبریریوں اور کتب خانوں کو نذر آتش کر دیا گیا ۔ ان ہی کے علمی ورثہ کو بروئے کار لا کردوسری قومیں نہ صرف ان سے آگے بڑھ گئیں بلکہ انہوں نے مسلمانوں کو پسماندگی سے دوچار کرنے کے لئے مختلف منصوبے اور لائحہ عمل تیا ر کئے ۔خاص طور سے یہودی قوم جو ازل سے مسلمانوں کی دشمن رہی ہے ، نے مسلمانوں کو پسماندگی وذلت کے عمیق غا ر میں دھکیلنے کے لئے با قاعدہ پلاننگ کے تحت ان کو علم وفن سے دور کرنے کا سامان پیدا کیا ۔ ان کے بیچ افتراق و انتشار کا بیج بو دیا ۔مسلمان ان کی سازشوں کا شکا ر ہوئے اور آپسی افتراق و انتشار اور جزئی اختلافات میں پڑ کر اپنا اصل مقصد بھولتے گئے ۔ ذات پات اور مسلک و ملت کے تفرقوںمیں پڑ کر ایک دوسرے کے دشمن بن گئے ۔ اب ان کے ہاتھوںمیں نہ علم و فن کا چراغ رہا نہ اتحاد و اتفاق کی طاقت ۔

اس پرمستزاد مغرب کی جانب سے اسلام اور مسلمانوں پر ہونے والے مسلسل صہیونی حملے ، کبھی اسلامی تعلیمات پر تشکیک و تنقید ، کبھی اسلام اور دہشت گردی کے ما بین ربط و تعلق پیدا کرنے کی نا روا کوششیں ، تو کبھی مسلم ممالک اور مسلم معاشروں میں مغربی تہذیب کے تسلط کے ناپاک منصوبے۔ غرض کہ یہودیوں نے ہر طرح سے مسلمانوں کو دبا نے او ر حاشیہ پر لے جانے کی کوششیں کی ۔ اور مسلمان جو پہلے ہی اپنے دین سے ناطہ توڑے ، اللہ اور اس کے رسولﷺ کے احکامات و فرامین سے منہ موڑے بیٹھے تھے۔ بری طرح ان کے جال میں پھنس گئے ۔نتیجۃً آج مسلم قوم اور مسلم ممالک پسماندگی و تخلف کا شکار ہیں ۔ اور اکیسیو یں صدی کے اس دور میں عالمی نقشہ پر مسلم ممالک کی کوئی وقعت وحیثیت نہیں ہے۔ عالمی پلیٹ فارم ہونا تو دور کی بات یہ مسلم ممالک آپس میں ایک دوسرے کے خلاف ہی برسر پیکار نظر آتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ دوسری قومیں اور طاقتیں آسانی سے ان کو اپنا نشانہ بنا رہی ہیں۔ اور انہیں آپس میں لڑا کر اپنا الو سیدھا کر رہی ہیں ۔ آج عالمی طاقت نہ ہونے کی وجہ سے بہت سارے مسلم ممالک اسرائیل اور امریکہ کے جارحانہ عملی اقدامات اور ظلم و تشدد کی ناروا صعوبات کے باوجود ان کے خلاف آواز اٹھانے سے قاصر ہیں۔ جس کی واضح مثال فلسطین ہے ۔ جہاں دہائیوں سے اسرائیلی طاقتوں نے نا جائز تسلط قائم کر رکھا ہے ۔ وہاں کے مسلم باشندوں پر ظلم و تشدد کے ایسے ایسے پہاڑ توڑے جاتے ہیں کہ سن کر انسانیت شرما جائے ۔ حتیٰ کہ ان کی ناپاک نگاہوں سے مسجد اقصیٰ بھی محفوظ نہیں ہے۔ آئے دن مسجد اقصیٰ میں بحالت نماز نمازیوں کو شہید کیا جاتا ہے اور مسجد اقصیٰ کو منہدم کرنے کے پلان بنائے جاتے ہیں ۔ اور مسلم ممالک کے حکمراں اور صاحب اقتدار حضرات یہ سب دیکھتے ہوئے خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں ۔ اور ان کی یہ لاچاری ظاہر سی بات ہے ، ان کی عالمی طاقت اور یونیورسل پلیٹ فارم نہ ہونے کی وجہ سے ہے ۔
 
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,403
ری ایکشن اسکور
26,340
پوائنٹ
995
معاشی اعتبار سے دیکھیں تو اس معاملے میں مسلم ممالک دیگر ممالک سے پیچھے نظر آتے ہیں ۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے کہ معاشی طور پر مستحکم ہونے کے لئے انکے پاس استعداد و صلاحیت نہیں ہے ۔بلکہ اللہ تعالیٰ کا مسلم ممالک پر ایک بہت بڑا احسان یہ بھی ہے کہ اس نے انہیں مختلف معدنی وزرعی وسائل سے نوازا ہے ۔ چنانچہ پوری دنیا میں سب سے زیادہ پٹرول خلیجی عربی ممالک میں پایاجاتا ہے ۔ ربڑ ملیشیا میں ، فاسفیٹ مراکش میں ، روئی مصر میں ، کھجور عراق میں ، ٹین ملیشیا میں ، اور کولمبائٹ (دھات) نائیجیریا میں نکلتی ہے ۔ چاول کی پیداوار میں مصر دنیا کا تیسرا بڑا ، پورانیم کی پیداوار میں نائیجیریا پانچواں بڑا ، سیسہ کی پیداوار میں مراکش آٹھواں بڑا ملک ہے ۔ اسی طرح پوری دنیا کی ۱۲ فی صد قدرتی گیس قطر میں پائی جاتی ہے ۔ا ور ۸۴ فی صد سے زائد پٹرول مسلم ممالک سے نکلتا ہے ۔قدرت کی جانب سے ملے ان وسائل و ذخائر کا استعمال کر کے مسلم ممالک نہ صرف معاشی میدان میں دوسرے ممالک سے آگے بڑھ سکتے ہیں ۔بلکہ عالمی سطح پر اپنی ایک الگ معاشی پہچان بنا سکتے ہیں ۔ لیکن اس کے برعکس یہ مسلم ممالک عالمی سطح پر اپنی معاشی پہچان بنانا تو دور کی بات ان قدرتی اثاثوں کا استعمال کر کے خود کفیل تک نہیں ہوپا رہے ہیں ۔ حتیٰ کہ ان کو دفاع کے لئے ہتھیار اور اسلحے بھی کئی گنا رقم خرچ کر کے دوسرے ملکوں سے خریدنے پڑتے ہیں ۔ ان حالات میں نہایت ضروری ہے کہ مسلم ممالک آپس میں متحد ہو کر عالمی سطح پر اپنا الگ معاشی پلیٹ فارم بنانے کے متعلق سوچیں ۔ اور دراصل معاشی طور پر مستحکم ہو کر ہی مسلم ممالک ترقی کے میدان میں آگے بڑھ سکتے ہیں۔مسلم ممالک جتنی جلدی اپنے آپ کو سنبھال لیں اور اپنی غلطیوں کی تلافی کرنے میں لگ جائیں ، اتنا ہی بہتر ہے ۔ اپنے آپ کو فعال اور خود کفیل بنانے میں جتنی تاخیرکریں گے ، یہ تاخیر اسی قدر ان کے لئے تباہ کن ہوگی ۔


سیاسی اعتبار سے آج تقریباً ہر مسلم ملک عدم استحکام کا شکار ہے ۔ بدامنی ، بغاوت اور خانہ جنگیوں کے واقعات نے مسلم ممالک میں اضطراب کی ایک لہر دوڑا دی ہے ۔ مصر ، تیونس، لبنان، شام ، پاکستان ، بنگلہ دیش وغیرہ مسلم ممالک میں عوامی بغاوتوں اور انقلابوں نے غیر متوقع حالات پیدا کر دئے ہیں ۔ جب ہم مسلم ممالک کے سیاسی بحران کی وجوہات تلاشتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اللہ اور اسکے رسول کے احکامات وفرامین سے دوری اور سیاست وحکومت سے متعلق اسلامی ہدایات سے بے رخی ہی وہ اہم وجہیں ہیں جن کی وجہ سے مسلم ممالک میں نا انصافی ، جور و ظلم، استبداد واستعماراور حق تلفی اور بد عنوانیوں کی کیفیت پیدا ہوئی ، عوام کا بھروسہ حکومت اور رہروان حکومت سے اٹھ گیا اور وہ ان کے خلاف مسلح بغاوت پر آمادہ ہوئے ۔چنانچہ مسلم ممالک کے حکمرانوں اور رہبروںلئے نہایت ضروری ہے کہ وہ اان عوامی بغاوتوں سے سبق حاصل کرتے ہوئے ظلم و تشدد اور ناانصافی و بدعنوانی سے باز آئیں اور اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر مضبوط سیاسی ڈھانچہ تیار کریں اور ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ وہ آپس میں متحد ہو کر عالمی سطح پر اپنی سیاسی شناخت بنانے کی کوشش کریں ۔


میڈیا اور ذرائع ابلاغ جو موجودہ دور کی سب سے بڑی طاقت ہے، اس معاملے میں بھی مسلم ممالک کافی پیچھے ہیں ۔ آج میڈیا کے میدان کے پیچھے ہونے کی وجہ سے ہی دوسری قومیں مسلم ممالک کو چاروں طرف سے نشانہ بنارہی ہے ۔ دہشت گردی و تشدد پسندی ، قدامت پسندی و دقیانوسیت کے جھوٹے پروپیگنڈوں سے اسلام کی شناخت مسخ کی جا رہی ہے ۔ آئے دن ہمارے رسول اکرم ﷺکی ذات اقدس پہ کیچڑ اچھالنے کی ناروا کوششیں کی جاتی ہیں ۔ آج اگر ہمارے پاس میڈیاکی طاقت ہوتی تو دوسری قومیں ہمیں اتنی آسانی سے نشانہ نہ بنا پاتیں۔آج یہود ی قوم اپنی کم تعداد کے باوجود میڈیا اور اقتصاد کی طاقت کے بل بوتے پرپوری دنیا پر حکومت کر رہی ہے ۔ان حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم ممالک عالمی پیمانے پر اپنا مضبوط میڈیا نیٹ ورک بنائیں۔


تہذیب و تمدن کے نقطئہ نظر سے دیکھیں تو اس معاملے میں بھی مسلم ممالک دوسری قوموں سے مغلوب اور غیروں کی تہذیب کی مقلد نظر آتی ہے ۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ عالمی نقشہ پر ہم کسی ایک ایسے مسلم ملک کی نشاندہی کرنے سے قاصر ہیں ، جہاں اسلامی تہذیب و تمدن مکمل طور پر رائج ہو۔بلکہ یہ اپنی تہذیب و تمدن کو پس پشت ڈالنے کا ہی نتیجہ ہے کہ آج مسلم ممالک ہر میدان میںپچھڑے ہوئے ہیں ۔۔ علمی و فکری اعتبار سے بھی مسلم ممالک پسماندگی کا شکار ہیں۔ مسلم قوم کے بچوں میں خواندگی کی شرح تشویشناک حد تک کم ہے ۔ کسی زمانہ میں دنیا کو سائنس کی کرشمائی طاقت سے روشناس کرنے والی مسلم قوم آج سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں سب سے پیچھے ہے۔


غرض کہ مسلم ممالک ہر میدان میں تخلف وپسماندگی کا شکار ہیں ۔ آج کے اس سنگین دور میں تخلف و پسماندگی کے عمیق غار سے نکلنے اور عالمی نقشہ پر اپنی مضبوط پہچان بنانے کے لئے نہایت ضروری ہے کہ مسلم ممالک اپنی ترقی و عروج کے لئے چو طرفہ اور منصوبہ بندکوششیں کریں ۔ معاشی ، اقتصادی ، سیاسی ،فکری، علمی، تہذیبی ، تمدنی ہر اعتبار سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے ۔ذرائع ابلاغ اور میڈیا میں مضبوط ہونے اور اس میدان میں وسیع پیمانے پر کوشش کرنے کی ضرورت ہے ۔ لیکن ان سب سے پہلے نہایت ضروری ہے کہ مسلم ممالک کے حکمرانوں اور اصحا ب اقتدار کے بیچ اتحاد واتفاق پیدا ہو۔ دراصل اتحاد واتفاق ہی وہ طاقت ہے جس کے بل بوتے پر مسلم ممالک عروج وترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں ۔ ایک ساتھ مل کرغور و فکر کرنے،منصوبے بنانے اوران کے مطابق عمل کرنے سے ہی مسائل کا حل ممکن ہے۔ ہرایک کو اپنی ذاتی مفادات اور سکون و آرام تج کر آگے بڑھنا ہوگا۔ذاتی رنجشوں اورعلاقائی وسرحدی اختلافات سے اوپر اٹھ کر ایک دوسرے کے ہاتھ سے ہاتھ ملا کر چلنا ہوگا ۔ تب کہیں جا کر مسلم ممالک کے لئے ترقی کے میدان میں آگے بڑھنا اور عالمی سطح پر اپنی علیحدہ طاقت بنانا ممکن ہو سکے گا۔
 
Top