• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مسند حمیدی یونیکوڈ (اردو ترجمہ)

مظاہر امیر

مشہور رکن
شمولیت
جولائی 15، 2016
پیغامات
1,361
ری ایکشن اسکور
399
پوائنٹ
190
أَحَادِيثُ أَبِي رَافِعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
559- سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ حکم نہیں دیا تھا کہ میں پڑاؤ کروں ۔ یعنی وادی ابطح میں پڑاؤ کروں تاہم میں نے وہاں خیمہ لگا لیا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں پڑاؤ کیا ۔
( إسناده صحيح وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم : 1313 ، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم : 2986 ، وأبو داود فى «سننه» برقم : 2009 ، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم : 9845 ، وأحمد فى «مسنده» برقم : 24399 ، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم : 13503 ، والطبراني فى الكبير برقم : 916)

560- سفیان کہتے ہیں : عمرو بن دینار نے یہ روایت صالح بن کیسان کے حوالے سے نقل کی ہے ، جب صالح ہمارے ہاں تشریف لائے ، تو انہوں نے ہم سے کہا: تم ان کے پاس جاؤ اور ان سے اس حدیث کے بارے میں دریافت کرو ۔
(وانظر التعليق السابق)


561- عبید اللہ بن ابورافع اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ”میں تم سے کسی ایک شخص کو ہرگز ایسی حالت میں نہ پاؤں کہ وہ اپنے تکیے کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھا ہوا ہو ، اس کے پاس ہمارے احکام میں سے کوئی حکم آئے جو حکم ہم نے دیا تھا یا جس چیز سے ہم نے منع کیا تھا ، تو وہ یہ کہے : مجھے نہیں معلوم ، ہمیں اللہ کی کتاب میں یہ نہیں ملا ، ورنہ ہم اس کی پیروی کرلیتے ۔ “
حمیدی رحمہ اللہ کہتے ہیں : سفیان نے یہ بات بیان کی ہے ابن منکدر کی روایات کو میں نے زیادہ اچھے طریقے سے یاد رکھا ہوا ہے ، میں نے سب سے پہلے یہ روایت ان سے سنی تھی اور میں نے یہ روایت یاد بھی رکھی ہے ۔
(إسناده صحيح وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم : 13 ، والحاكم فى «مستدركه» برقم : 368 ، 369 ، وأبو داود فى «سننه» برقم : 4605 ، والترمذي فى «جامعه» برقم : 2663 ، وابن ماجه فى «سننه» برقم : 13 ، وأحمد فى «مسنده» برقم : 24384 ، 24400)

562- عمرو بن شرید بیان کرتے ہیں : سیدنا مسور بن مخزمہ رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور بولے : تم میرے ساتھ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے پاس چلو ، میں ان کے ساتھ گیا ، ان کا ایک ہاتھ میرے کندھے پر تھا ۔ سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور انہوں نے سیدنا مسور بن مخزمہ رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ انہیں یعنی سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو یہ نہیں کہتے کہ وہ اپنے محلے میں موجود میرا گھر خرید لیں ، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بولے : نہیں ! اللہ کی قسم ! میں چار سو دینار سے زیادہ ادائیگی نہیں کروں گا ، اور وہ ادائیگی بھی قسطوں میں ہوگی (یہاں لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) راوی کہتے ہیں : تو سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اللہ کی قسم ! میں تو پانچ سو دینار نقد میں منع کرچکا ہوں ، اگر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا ہوتا : ”پڑوسی اپنی قریبی جگہ کا زیادہ حقدار ہوتا ہے ۔ “ تو یہ میں آپ کو فروخت نہ کرتا ۔
(إسناده إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2258 6977 6978 6980 6981 وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5180 5181 5183 والنسائي فى «المجتبيٰ» برقم: 4716 4717 والنسائي فى «الكبريٰ» برقم: 6256 وأبو داود فى «سننه» برقم: 3516، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2495، 2496، 2498، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 11693)
 

مظاہر امیر

مشہور رکن
شمولیت
جولائی 15، 2016
پیغامات
1,361
ری ایکشن اسکور
399
پوائنٹ
190
أَحَادِيثُ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
563- سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مجھے عطا کردیا، میں نے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وہ عطا کردیا، میں نے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وہ عطا کردیا، میں نے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وہ عطا کردیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ مال سر سبز اور میٹھا ہے، جو شخص دل کی خوشی کے ساتھ اسے حاصل کرتا ہے اس کے لئے اس میں برکت رکھی جاتی ہے اور جو شخص لالچ کے ساتھ اسے حاصل کرتا ہے، اس کے لئے اس میں برکت نہیں رکھی جاتی ہے اور اس کی مثال اس طرح ہوتی ہے، جو شخص کھانے کے باوجود سیر نہیں ہوتا اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔“
(إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1427، 1472، 2750، 3143، 6441، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1034، 1035، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3220، 3402، 3406، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 2142، 6099، 6102، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2530، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 2322، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2463، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1690، 1693، 2792، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 7846، وأحمد فى «مسنده» 6 / 3230، برقم: 15551)

564- سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں نے زمانۂ جاہلیت میں چالیس غلام آزاد کئے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”تم نے پہلے جو نیکیاں کی تھیں اسی وجہ سے تم نے اسلام قبول کیا ہے۔“
(إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1436، 2220، 2538، 5992، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 123، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 329، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 6100، 6101، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 18361، 21632، 21633، وأحمد فى «مسنده» 6 / 3230، برقم: 15552)
 

مظاہر امیر

مشہور رکن
شمولیت
جولائی 15، 2016
پیغامات
1,361
ری ایکشن اسکور
399
پوائنٹ
190
أَحَادِيثُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعَمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
565- محمد بن جبیر اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ”میرے کچھ نام ہیں ، میں محمد ہوں ، میں أحمد ہوں ، میں ماحی (منانے والا) ہوں ۔ میرے ذریعہ کفر کو مٹایا گیا ۔ میں حاشر ہوں ، لوگوں کو میرے قدموں میں جمع کیا جائے گا ۔ میں عاقب ہوں ، و عاقب (بعد میں آنے والا) جس کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا ۔“
( إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم : 3532 ، 4896 ، ومسلم فى «صحيحه» 2354 ، ومالك فى «الموطأ» برقم : 3676 / 844 ، وابن حبان فى «صحيحه» برقم : 6313 ، والحاكم فى «مستدركه» برقم : 4208 ، 7813 ، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم : 11526 ، والترمذي فى «جامعه» برقم : 2840 ، والدارمي فى «مسنده» برقم : 2817 ، وأحمد فى «مسنده» 7 / 3689 ، برقم : 17006)

566- محمد بن جبیر بنن معطم اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب ی نماز میں سورۂ طور کی تلاوت کرتے ہوئے سنا ہے ۔
سفیان نے یہ بات بیان کی ہے ، محدثین نے اس روایت میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ یہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت سنا تھا ، جب میں مشرک تھا ، اور مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میرا دل اڑ جاائے گا (یعنی میرے رونگھٹے کھڑے ہوگئے ) تاہم زہری نے یہ الفاظ ہمارے سامنے بیان نہیں کیے ۔
( إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم : 765 ، 3050 ، 3139 ، 4023 ، 4854 ، ومسلم فى «صحيحه» برقم : 463 ، ومالك فى «الموطأ» برقم : 257 / 72 ، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم : 514 ، وابن حبان فى «صحيحه» برقم : 1833 ، برقم : 1834 ، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم : 986 ، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم : 1061 ، 11465 ، وأبو داود فى «سننه» برقم : 811 ، والدارمي فى «مسنده» برقم : 1332 ، وابن ماجه فى «سننه» برقم : 832 ، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم : 3115 ، 3116 ، 4104 ، 4402 ، 12961 ، وأحمد فى «مسنده» 7 / 3689 ، برقم : 17007)

567- محمد بن جبیر اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ”قطعۂ رحمی کرنے والا جنت داخل نہیں ہوگا ۔“
سفیان کہتے ہیں : اس سے مراد قطعۂ رحمی کرنے والا ہے ۔
( إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم : 5984 ، ومسلم فى «صحيحه» برقم : 2556 ، وابن حبان فى «صحيحه» برقم : 454 ، وأبو داود فى «سننه» برقم : 1696 ، والترمذي فى «جامعه» برقم : 1909 ، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم : 13342 ، وأحمد فى «مسنده» 7 / 3689 ، برقم : 17004 ، 7 / 3696 ، برقم : 17036 ، 7 / 3697 ، برقم : 17045 ، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم : 7391 ، 7392 ، 7394)

568- محمد بن جبیر اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ”اگر معطم بن عدی زندہ ہوتا اور پھر وہ ان قیدیوں کے بارے یں مجھ سے بات چیت کرتا ، تو میں انہیں چھوڑ دیتا ۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد بدر کے قیدی تھے ۔
(امام حمیدی رحمہ اللہ کہتے ہیں : ) جب سفیان اس نوعیت کی حدیث بیان کرتے تھے اور اس میں حدیث کے الفاظ بھی ذکر کرتے تھے ، تو وہ ان شاء اللہ ضرور کہا: کرتے تھے ، وہ اسے ترک نہیں کرتے تھے ۔ لیکن اگر وہ ا روایت کے الفاظ بیان نہیں کرتے تھے ، تو بعض اوقات ان شاء اللہ کہہ دیتے تھے اور بعض اوقات ان شاء اللہ نہیں کہتے تھے ۔
(إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 4024، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2689، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 12960، برقم: 18107، وأحمد فى «مسنده» 7 / 3689، برقم: 17005، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 7416، والبزار فى «مسنده» برقم: 3404، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 9400)

569- سیدنا محمد بن جبیر رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: عرفہ کے دن میرا اونٹ گم ہوگیا، میں اس کی تلاش میں عرفہ آیا، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے ساتھ عرفہ میں وقوف کئے ہوئے ہیں، میں نے سوچا ان کا تعلق حمس (یعنی قریش) کے ساتھ ہے، یہ یہاں کیا کررہے ہیں؟
سفیان کہتے ہیں: احمس اس شخص کو کہا جاتا ہے، جو دینی اعتبار سے سخت ہو, قریش کا نام حمس رکھا گیا تھا، کیونکہ شیطان نے انہیں ایک غلط فہمی کا شکار کردیا تھا۔ اس نے انہیں یہ کہا کہ اگر تم لوگ اپنے حرم سے باہر کی جگہ کی تعظیم کروگے ، تو لوگ تمہارے حرم کی حدود کو کم تر محسوس کرنا شروع کردیں گے۔ اس لئے وہ لوگ حرم کی حدود سے باہر نہیں جاتے تھے۔
( إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1664، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1220، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2823، 3057، 3059، 3060، 3061، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3849، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 1710، 1778، 1779، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3013، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 3995، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1920، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 9547، 9548، وأحمد فى «مسنده» 7 / 3689، برقم: 17009)

570- مجاہد بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ عرفہ میں ہی وقوف کیا ہے۔
(انفرد به المصنف من هذا الطريق إسناده صحيح إلى مجاهد)

571- سیدنا جبیر بنن معطم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے بنو عبدالمطلب (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں) اے بنو عبد مناف! اگر تم اس معاملے کے نگران ہو، تو کسی شخص کو اس گھر کا طواف کرنے یا نماز کرنے سے منع نہ کرنا، خواہ رات یا دن کا کوئی بھی وقت ہو۔“
( إسناده صحيح وأخرجه ابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1280، 2747، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1552، 1553، 1554، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 1649، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 584، 2924، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 1574، 3932، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1894، والترمذي فى «جامعه» برقم: 868، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1967، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1254، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 4484، 4485، 9424، 9527، وأحمد فى «مسنده» 7 / 3689، برقم: 17008، 7 / 3692، برقم: 17015، 7 / 3694، برقم: 17025، 7 / 3697، برقم: 17042، 7 / 3698، برقم: 17047، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 7396، 7415، والبزار فى «مسنده» برقم: 3450، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 9004، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 13410، 37596)
 
Top