• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مشاجرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں خاموشی اہل سنت کا مذہب ہے

شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
303
ری ایکشن اسکور
82
پوائنٹ
53
مشاجرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں خاموشی اہل سنت کا مذہب ہے

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اپنی معروف کتاب ’’منهاج السنة النبوية في نقض كلام الشيعة القدرية، ۴۴۹،۴۴۸/۴ ‘‘ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مابین ہونے والے قتال کے بارے میں سلف کے موقف کی تفصیل بیان کرتے ہوئے آخر میں لکھتے ہیں :

"ولهذا كان من مذاهب أهل السنة الإمساك عما شجر بين الصحابة فإنه قد ثبتت فضائلهم ووجبت موالاتهم ومحبتهم وما وقع منه ما يكون لهم فيه عذر يخفى على الإنسان ومنه ما تاب صاحبه منه ومنه ما يكن مغفورا فالخوض فيما شجر يوقع في نفوس كثير من الناس بغضا وذما ويكون هو في ذلك مخطئا بل عاصيا فيضر نفسه ومن خاض معه في ذلك كما جرى لأكثر من تكلم في ذلك فإنهم تكلموا بكلام لا يحبه الله ولا رسوله إما من ذم من لا يستحق الذم وإما من مدح أمور لا تستحق المدح ولهذا كان الإمساك طريقة أفاضل السلف."

"یعنی مشاجرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں خاموشی اہل سنت کا مذہب ہے کیونکہ ان کے فضائل ثابت اور ان سے تعلق و محبت واجب ہے، ان سے جن واقعات کا صدور ہوا ہے ان کے بارے میں ان کے نزدیک ایسے عذر ہوں گے جو اکثر لوگوں سے مخفی ہیں، ان میں سے بعض تائب ہو گئے اور بعض مغفور ہیں ۔ ان کے باہمی جھگڑوں میں بحث و نظر کا نتیجہ یہ ہو گا کہ بہت سے لوگوں کے دلوں میں ان کے خلاف بغض و مذمت پیدا ہو جائے گی اور یوں وہ شخص خطاکار بلکہ گنہگار ہو گا اور اپنے ساتھ اس کو بھی نقصان میں مبتلا کرے گا جو اس کے ساتھ اس بارے میں بحث و تکرار کرے گا۔ جیسا کہ اکثر کلام کرنے والوں کے بارے میں مشاہدہ کیا گیا ہے وہ عموماً ایسی باتیں کہتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ناپسند کرتے ہیں جو فی الواقع مستحق ذم نہیں ان کی مذمت کرتے ہیں اور جو قابل مدح نہیں ان کی مدح کرتے ہیں ۔ اسی لئے افاضل سلف کا طریقہ یہی رہا ہے کہ اس بارے میں گفتگو نہ کی جائے۔‘‘


FB_IMG_1667953842900.jpg


امام ابوزرعہ، عبدالله بن عبدالکریم، رازی (200- 264ھ) اور امام ابوحاتم، محمد بن ادریس، رازی (195- 277ھ) رحمها الله اہل سنت کا اجماعی عقیدہ بیان فرماتے ہیں :

أدركنا العلمائ فى جميع الـأمصار حجازا، وعراقا، ومصرا، وشاما، ويمنا، فكان من مذهبهم … والترحم علٰي جميع أصحاب محمد، صلى الله عليه وسلم، والكف عما شجر بينهم

’’ ہم نے حجاز و عراق، مصر و شام اور یمن تمام علاقوں کے علمائے کرام کو دیکھا ہے، ان سب کا مذہب یہ تھاکہ۔۔۔ محمد ﷺ کے تمام صحابہ کے لیے رحمت کی دعا کرنا اور ان کے درمیان ہونے والے اختلافات سے اپنی زبان بند رکھنی چاہیے۔“


[كتاب أصل السنة واعتقاد الدين لابن أبي حاتم، ٦١،٧]

FB_IMG_1667954513242.jpg


امام محمد بن عبدالوہاب نجدی رحمه الله (1115-1206ھ) فرماتے ہیں :

وأجمع أهل السنة على السكوت عما شجر بين الصحابة رضي الله عنهم. ولا يقال فيهم إلا الحسنى. فمن تكلم في معاوية أو غيره من الصحابة فقد خرج عن الإجماع.

’’ اہل سنت کا اس بات پر اجماع ہے کہ صحابہ کرام کے باہمی اختلافات کے بارے میں خاموشی اختیار کی جائے گی۔ ان کے بارے میں صرف اچھی بات کہی جائے گی۔ لہٰذا جس شخص نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ یا کسی اور صحابی کے بارے میں زبان کھولی، وہ اجماعِ اہل سنت کا مخالف ہے۔“


[مختصر سيرة الرسول صلى الله عليه وسلم، ص : ۳۱۷ ]

FB_IMG_1667954580236.jpg


امام محمد بن حبیب الاندرانی رحمہ اللہ امام احمد رحمہ اللہ سے اہل السنۃ والجماعۃ کا عقیدہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

وترحم على جميع أصحاب محمد صغيرهم وكبيرهم وحدث بفضائلهم وأمسك عما شجر بينهم.

کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب صحابہ بڑے ہوں خواہ چھوٹے کے حق میں رحمت کی دعاء کرو، ان کے فضائل بیان کرو اور ان کے درمیان ہونے والے مشاجرات سے اجتناب کرو۔


رواه "محمد بن أبي يعلى الفراء البغدادي الحنبلي أبو الحسين" في "طبقات الحنابلة"، ۲۹۴/۱

FB_IMG_1667953986248.jpg


امام ابو الحسن اشعری (المتوفی: ٣٢٤ ھ) فرماتے ہیں:

’’ونتولى سائر أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، ونكف عما شجر بينهم.’’

’’ ہم تمام صحابہ سے محبت رکھتے ہیں اور ان کے مشاجرات میں زبان بند رکھتے ہیں۔‘‘


[ الإبانة عن أصول الديانة، ص:٢٤٦ ]

FB_IMG_1667954091274.jpg


شيخ عبد القادر جيلانيؒ (۵۶۱ ھ) فرماتے ہیں:

"واتفق أهل السنة على وجوب الكف عما شجر بينهم، والإمساك عن مساوئهم، وإظهار فضائلهم ومحاسنهم، وتسليم أمرهم إلى الله -عز وجل- على ما كان وجرى من اختلاف علي وطلحة والزبير وعائشة ومعاوية -رضي الله عنهم- على ما قدمنا بيانه."

"اہل سنت اس پر متفق ہیں کہ صحابہ کرام کے مشاجرات سے خاموشی اختیار کی جائے اور ان کی کمزوریوں پر خاموش رہنا اور ان کے فضائل ان کی خوبیوں کو بیان کرنا واجب ہے اور حضرت علی، طلحہ، زبیر، عائشہ، معاویہ رضی اللّہ عنہم کے مابین جو اختلاف ہوا اسے اللّہ تعالٰی کے سپرد کردینا چاہئے جیسا کہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں۔"


رواه "عبد القادر الجيلاني" في "الغنية لطالبي طريق الحق عز وجل"، ص: ۱۶۳

FB_IMG_1667954207341.jpg


حافظ شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان الذهبي (رحمه الله) (ت ٧٤٨ هـ) فرماتے ہیں :

«فَسَبِيْلُنَا الكَفُّ وَالاسْتِغْفَارُ لِلصَّحَابَةِ، وَلَا نُحِبُّ مَا شَجَرَ بَيْنَهُم، وَنَعُوْذُ بِاللهِ مِنْهُ»

’’ ہمارا منہج یہ ہے کہ صحابہ کرام کے (اختلافات کے ) بارے میں زبان بند رکھی جائے اور ان کے لیے مغفرت کی دُعا کی جائے، ان کے مابین جو بھی اختلافات ہوئے، ہم ان کا تذکرہ پسند نہیں کرتے، بلکہ ایسے طرز عمل سے الله تعالیٰ کی پناہ میں آتے ہیں۔‘‘


[ سير أعلام النبلاء - ط الرسالة، ۳۹/۳ ]

FB_IMG_1667954861612.jpg


مزید فرماتے ہیں :

«وَكَانَ النَّاسُ فِي الصَّدْرِ الأَوَّلِ بَعْدَ وَقْعَةِ صِفِّيْنَ عَلَى أَقسَامٍ:
أَهْلُ سُنَّةٍ: وَهُم أُوْلُو العِلْمِ، وَهُم مُحِبُّوْنَ لِلصَّحَابَةِ، كَافُّوْنَ عَنِ الخَوضِ فِيْمَا شَجَرَ بَيْنَهُم؛ كسَعْدٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وَمُحَمَّدِ بنِ سَلَمَةَ، وَأُمَمٍ، ثُمَّ شِيْعَةٌ: يَتَوَالَوْنَ، وَيَنَالُوْنَ مِمَّنْ حَارَبُوا عَلِيّاً، وَيَقُوْلُوْنَ: إِنَّهُم مُسْلِمُوْنَ بُغَاةٌ ظَلَمَةٌ، ثُمَّ نَوَاصِبُ: وَهُمُ الَّذِيْنَ حَارَبُوا عَلِيّاً يَوْمَ صِفِّيْنَ، وَيُقِرُّوْنَ بِإِسْلَامِ عَلِيٍّ وَسَابِقِيْه، وَيَقُوْلُوْنَ: خَذَلَ الخَلِيْفَةَ عُثْمَانَ. فَمَا عَلِمتُ فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ شِيْعِيّاً كَفَّرَ مُعَاوِيَةَ وَحِزْبَهُ، وَلَا نَاصِبِيّاً كَفَّرَ عَلِيّاً وَحِزْبَهُ، بَلْ دَخَلُوا فِي سَبٍّ وَبُغْضٍ، ثُمَّ صَارَ اليَوْمَ شِيْعَةُ زَمَانِنَا يُكَفِّرُوْنَ الصَّحَابَةَ، وَيَبْرَؤُوْنَ مِنْهُم جَهلاً وَعُدوَاناً، وَيَتَعَدُّوْنَ إِلَى الصِّدِّيْقِ - قَاتَلَهُمُ اللهُ. وَأَمَّا نَوَاصِبُ وَقْتِنَا فَقَلِيْلٌ، وَمَا عَلِمتُ فِيْهِم مَنْ يُكفِّرُ عَلِيّاً وَلَا صَحَابِيّاً»


’’ واقعہ صفیں کے بعد صدر اوّل کے لوگ تین اقسام میں بٹ گئے تھے ؛ ایک اہل سنت جو تمام صحابہ کرام سے محبت رکھتے تھے اور ان کے باہمی اختلافات میں ٹانگ اڑانے سے باز رہتے تھے، جیسا کہ سیدنا سعد، سیدنا ابن عمر، محمد بن سلمہ اور دیگر بہت سے لوگ۔ دوسرے شیعہ جو اہل بیت سے محبت کا دم بھرتے تھے اور جن لوگوں کی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے لڑائی ہوئی، ان کی گستاخی کرتے ہوئے کہتے تھے کہ وہ باغی اور ظالم مسلمان ہیں۔ تیسرے ناصبی لوگ جو صفیں والے دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے لڑے تھے اور سیدنا ابوبکر و عمر کو مسلمان سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خلیفۃ المسلمین سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو بے یار و مدد گار چھوڑ دیا۔ میرے علم میں اُس دور کا کوئی شیعہ ایسا نہیں جو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے گروہ کو کافر قرار دیتا ہو، نہ اس دور کا کوئی ناصبی ایسا تھا جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کے گروہ پر کفر کا فتویٰ لگاتا ہو، بلکہ وہ صرف مخالفین پر سب و شتم کرتے تھے اور دل میں ان کے لیے بغض رکھتے تھے۔ پھر یہ دور آیا کہ ہمارے زمانے کے شیعہ اپنی جہالت اور ہٹ دھرمی کی بنا پر صحابہ کرام کو کافر کہتے ہوئے ان سے براءت کا اعلان کرنے لگے۔ وہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں بھی ظلم و زیادتی پر مبنی باتیں کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو تباہ و برباد کرے۔ رہے ناصبی تو وہ ہمارے دور میں بہت کم رہ گئے ہیں۔ میرے علم کے مطابق ان میں سے کوئی بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ یا کسی اور صحابی کو کافر قرار نہیں دیتا۔“


[ سير أعلام النبلاء - ط الرسالة، ۳۷٤/۵ ]

FB_IMG_1667955051945.jpg


نیز لکھتے ہیں :

بَلْ سَبِيْلُنَا أَنْ نَستغفِرَ لِلْكُلِّ، وَنُحِبُّهُم، وَنَكَفَّ عَمَّا شَجَرَ بَيْنَهُم

’’ ہمارا منہج یہ ہے کہ ہم تمام صحابہ کرام کے لیے مغفرت کی دُعا کرتے ہیں، سب سے محبت رکھتے ہیں اور ان کے مابین جو اختلافات ہوئے، ان سے زبان بند رکھتے ہیں۔“


[ سير أعلام النبلاء - ط الرسالة، ٣٧٠/٧ ]

FB_IMG_1667955122989.jpg


امام أبو بكر أحمد بن إبراهيم بن إسماعيل بن العباس بن مرداس الإسماعيلي الجرجاني (رحمه الله) (ت ٣٧١هـ) محدثین کرام کا عقیدہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

‌’’والكف ‌عن ‌الوقيعة ‌فيهم، وتأول القبيح عليهم، ويكلونهم فيما جرى بينهم على التأويل إلى الله عزّ وجل‘‘

’’ ائمہ حدیث صحابہ کرام کے باہمی اختلافات کے بارے میں اپنی زبان بند رکھتے ہیں، بری باتیں ان پر نہیں تھوپتے اور اجتہادی طور پر ان کے مابین جو بھی ناخوشگوار واقعات ہوئے، ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑتے ہیں۔“


[ اعتقاد أئمة الحديث، ص : ۷۹، رقم: ۳۸]

FB_IMG_1667955289293.jpg
 
Top