• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مصائب کے نزول کے اسباب

شمولیت
اپریل 06، 2015
پیغامات
10
ری ایکشن اسکور
1
پوائنٹ
37
مصائب کے نزول کے اسباب
حافظ خلیل الرحمٰن سنابلی
________________

یوں تو انسانی زندگی روزمرہ کے حساب سے کسی نہ کسی مشکل میں پھنس جاتی ہے اور یہ زندگی یوں بھی مشکلات سے عبارت ہے، پریشانیاں ہماری زندگی کا اٹوٹ حصہ ہیں... لیکن یہ جب یہی پریشانیاں بڑی یا اجتماعی ہو جائیں یا آنے والی مصیبت آسمانی یا زمینی ہو جائے تو ذہن مختلف اندیشوں میں گِھر جاتا ہے اور یہ سوال اٹھنے لگتا ہے کہ آخر ان مصائب کے نزول کے اسباب کیا ہیں؟ آخر مصیبتیں کیوں آتی ہیں؟ آئیے اس سوال کا جواب جاننے کی کوشش کرتے ہیں...

محترم قارئین! اللہ کسی پر ظلم نہیں کرتا اور نہ یہ اس کی ذات کے لائق ہے، وہ کسی کو یونہی مفت میں بلا کسی گناہ کے گرفتارِ مصیبت نہیں کرتا، اللہ نے قرآن میں مختلف مقامات پر ہمیں اس بات سے آگاہ کیا ہے کہ مصائب جو بھی آتے ہیں وہ انسانوں کے اپنے اعمال کا انجام ہے... کبھی تو یہ مصیبت تنہا شخص کے لئے نازل ہو کر اس کا خاتمہ کر دیتی ہے اور کبھی نازل شدہ مصیبت کا ٹارگٹ پوری قوم ہوا کرتی ہے... آئیے اب اسباب پر نظر ڈال لیتے ہیں:

سبب نمبر 1 اللہ اور اس کے رسول کی معصیت: آپ پورا قرآن پڑھ جائیں، جہاں بھی قوموں کی ہلاکت کا تذکرہ کیا گیا ہے وہاں اسباب بھی مذکور ہیں اور ان اسباب میں بنیادی سبب جو اللہ نے بیان کیا وہ اللہ اور اس کے رسولوں کی نافرمانی ہے، قوم نوح سے لے کر قوم موسی و عیسی علیہم السلام تک ساری قوموں پر نازل ہونے والی آفت و مصیبت کا مرکزی سبب اللہ اور رسول کی معصیت ہے... ہم بھی روزانہ نہ جانے کتنی بار ان دونوں کی نافرمانی کرتے ہیں اور پھر مصیبت آ جانے پر واویلا کرنا شروع کر دیتے ہیں...

سبب نمبر 2 ناپ تول میں کمی کرنا: انسان ناپ تول میں کمی کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس نے کوئی گناہ نہیں کیا، شعیب علیک السلام کی قوم اہل مدین میں یہ بیماری موجود تھی، انہیں ان کے اس غلط عمل سے منع کیا گیا لیکن وہ باز نہیں آئے، نتیجتاً اللہ نے زلزلے کے شدید جھٹکوں سے ان کو اور ان کے گھروں کو برباد کر دیا... اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جب کوئی قوم ناپ تول میں کمی کرنا شروع کر دیتی ہے تو ایسی قوم پر قحط سالی، مہنگائی اور حکمرانوں کے جور و ظلم جیسی مصیبتیں اللہ مسلط کر دیتا ہے" (ابن ماجہ، حسن، 3246) اس حدیث کے بعد اب یہ کہنے کی ضرورت نہیں قحط سالی کیوں، مہنگائی کی مار کیوں اور کیوں ہم ظلم و ستم کا شکار ہیں؟

سبب نمبر 3 نیکی کا حکم نہ دینا اور برائی سے نہ روکنا: جب پوری قوم برائی میں ملوث ہو جائے، کوئی نیکی کا حکم دینے والا اور برائی کو برائی جانتے ہوئے بھی اس سے روکنے والا نہ ہو تو بھی مصائب کا نزول ہوتا ہے، اللہ نے قرآن میں بنی اسرائیل کے متعلق بیان کیا:" ہم نے ان کو نجات دی جو برائی سے روکتے تھے اور ان کو برے عذاب میں مبتلا کر دیا جنہوں نے ظلم کیا اس لئے کہ وہ نا فرمان تھے" (الأعراف:165)...اور دوسرے مقام پر اللہ نے فرمایا کہ :" اصحاب السبت" کو اس لئے مصائب میں مبتلا کیا گیا کیونکہ وہ برائی سے روکتے نہ تھے" (المائدۃ:79)... ویسے بھی "خیر امت" کا وصف ہے کہ وہ بھلائی کا حکم دیتی ہے اور برائی سے روکتی ہے، ہم اپنی ذمہ داری نبھائیں تو مصیبت ہمارے قریب نہیں آئے گی...

سبب نمبر 4 زبان کا صحیح استعمال نہ کرنا:*زبان بظاہر ایک چھوٹا سا انسانی عضو ہے لیکن یہ ایسی چیز ہے کہ جس کا درست استعمال بندے کو اللہ کا مقرب بنا دیتا اور غلط استعمال اللہ سے دور کر دیتا ہے، ترمذی کی ایک روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :" جب انسان صبح کرتا ہے تو تمام اعضاء انسانی تعظیما زبان کے سامنے جھک جاتے ہیں اور اس سے عرض کرتے ہیں کہ تو ہمارے سلسلے میں اللہ سے ڈر، ہم تیرے ساتھ ہیں، اگر تو سیدھی رہی تو ہم بھی سیدھے رہیں گے اور اگر تو ٹیڑھی ہو گئی تو ہم بھی ٹیڑھے ہو جائیں گے" (حسن 2407) لہذا انسان کو اپنی زبان کنٹرول میں رکھنی چاہیئے کیونکہ بسا اوقات یہی چھوٹی چیز بہت بھاری مالی و جسمانی نقصان کا باعث بن جاتی ہے.....

سبب نمبر 5 زکوۃ ادا نہ کرنا: زکوۃ اسلام کا ایک اہم رکن ہے جو ہر صاحب نصاب پر فرض ہے، لیکن اگر کوئی زکوۃ ادا نہیں کرتا ہے یا پورے مال کی زکوۃ نہیں نکالتا ہے تو اسے عذاب الہی کا منتظر رہنا چاہیئے، ابن ماجہ کی روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" جب لوگ زکوۃ کا مال روک لیتے ہیں (ادا نہیں کرتے ہیں) تو آسمانوں والا ان پر سے بارش کے قطرات کو روک لیتا ہے اور اگر جانور نہ ہوتے تو بارش ہی نہ ہوتی" (حسن 3246) آج ملک کے مختلف علاقوں میں بارش کے نہ ہونے کا ایک سبب زکوۃ ادا نہ کرنا ہے اور یہ ایسی مصیبت ہے جس کے چپیٹ میں پوری قوم ہے...

سبب نمبر 6 آپسی اختلاف کا شکار ہو جانا:*اختلاف کیسا بھی ہو بہرحال زحمت ہے، اختلاف کسی بھی اعتبار سے رحمت کا سبب نہیں بن سکتا، آج خصوصاً مسلمانوں پر اغیار کی جانب سے جو مصائب آ رہے ہیں یا مسلمان جن پریشانیوں کا شکار ہے اس کا ایک بنیادی سبب آپسی اختلاف ہے، اللہ نے قرآن میں جا بجا اختلاف سے بچنے اور اختلاف کے خطرناک عواقب کا تذکرہ کیا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مسلمانوں کو آپسی انتشار سے بچتے ہوئے متحد ہو کر رہنے کی تلقین کی ہے...

سبب نمبر 7 جہاد سے اعراض: ماضی میں مسلمانوں کی کامیابی اور فتح و سر بلندی کا ایک سبب جہاد سے محبت تھا مگر جب رفتہ رفتہ مسلمانوں نے جہاد سے اعراض کرنا شروع کیا، سستی و کاہلی کا شکار ہو گئے، اللہ کے راستے میں قربان ہو جانے کا جذبہ انہوں نے ختم کر لیا تو ذلت و رسوائی ان کا مقدر بن گئی، ہر چہار جانب سے انہیں مصائب نے جکڑ لیا اور دنیا میں ان کا عروج ماضی کی داستان بن گیا...

سبب نمبر 8 دنیا سے حد درجہ محبت: یہ دنیا فانی ہے اور سراسر دھوکے کا سامان ہے، قرآن نے بے شمار مقامات پر دنیا کی حقیقت کو اجاگر کیا ہے اور مسلمانوں کو یہ بتلایا گیا ہے کہ دنیا کی محبت کو اپنے دلوں میں جگہ نہ دیں، ساتھ ہی یہ بات بھی مذکور ہے کہ جب کوئی قوم اللہ کو بھول کر دنیا میں مست ہو جاتی ہے، دنیا کی لذتوں میں پڑ کر اپنی اہمیت اور مقام کو فراموش کر دیتی ہے تو اللہ ایسی قوم کو کسی مصیبت میں مبتلا کر کے ہلاک و برباد کر دیتا ہے...

سبب نمبر 9 نعمتوں کی نا شکری: اللہ نے حضرت انسان کو ان گنت نعمتوں سے نوازا ہے، انسان کا فرض تو یہ ہے کہ وہ ان نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا کرے تاکہ اس کا رب خوش ہو کر اسے مزید عطا کرے، مگر جب انسان شکر کے بجائے نا شکری کرنی شروع کر دیتا ہے تو اللہ ایسے انسان کو بھوک کے عذاب میں گرفتار کر لیتا ہے پھر وہ بندہ رب کی موجود نعمتوں سے بھی محروم کر دیا جاتا ہے جیسا کہ اللہ نے سورۃ النحل آیت نمبر 112 میں اسی کی جانب اشارہ کیا ہے...

محترم قارئین! یہ کچھ اسباب اور ان کے علاوہ بھی کچھ اسباب ہو سکتے ہیں جن کی بنا پر انسانوں پر مصیبتیں نازل کی جاتی ہیں، ہمیں چاہیئے کہ ہم ان اسباب سے دور رہیں اور ہر حال میں اللہ کا حقیقی اور محبوب بندہ بننے کی کوشش کریں تاکہ ہمارا رب ہم سے ہمیشہ خوش رہے اور خوش ہو کر ہمیں اپنی رحمت سے جنت میں داخل کر دے....
 

عمر اثری

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 29، 2015
پیغامات
4,401
ری ایکشن اسکور
1,091
پوائنٹ
412
جزاکم اللہ خیرا یا شیخ. بارک اللہ فی علمک
 
شمولیت
فروری 03، 2018
پیغامات
1
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
2
شکرا لکم...بارک اللہ فیکم
السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ،
اللہ سبحانہ و تعالیٰ آپ کی کوشش قبول فرمائے،
مشکلات کے نزول کے بعض اسباب یہ بھی قابل ملاحظہ ہیں
اللہ کا محبوب بندہ ہونا

ان اللہ اذا احب قوما ابتلاہم (ترمذی)

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْعَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْأَبِيهِ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ النَّاسِ أَشَدُّ بَلاءً ؟ قَالَ : " الأَنْبِيَاءُ ، ثُمَّ الصَّالِحُونَ ، ثُمَّ الأَمْثَلُ فَالأَمْثَلُ مِنَ النَّاسِ ؛ يُبْتَلَى الرَّجُلُ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ ، فَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ صَلابَةٌ زِيدَ فِي بَلائِهِ ، وَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ رِقَّةٌ ؛ خَفَّفْتُ عَنْهُ ، وَلا يَزَالُ الْبَلاءُ فِي الْعَبْدِ حَتَّى يَمْشِيَ فِي الأَرْضِ لَيْسَ عَلَيْهِ خَطِيئَةٌ "

وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ . الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ . أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ

اصلاح کے لیے

ولنذیقنھم من العذاب الادنی دون العذاب الاکبر لعلھم یر جعون

 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,433
پوائنٹ
791
اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ﴿155﴾ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ﴿156﴾ أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ﴿157﴾سورۃ البقرۃ
اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور کریں گے، دشمن کے ڈر سے، بھوک پیاس سے، مال وجان اور پھلوں کی کمی سے اور ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجیئے۔ (155) جنہیں، جب کبھی کوئی مصیبت آتی ہے تو کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم تو خود اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ (156) ان پر ان کے رب کی نوازشیں اور رحمتیں ہیں اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔ (157)
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,433
پوائنٹ
791
عن انس، قال:‏‏‏‏ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ " إذا اراد الله بعبده الخير عجل له العقوبة في الدنيا، ‏‏‏‏‏‏وإذا اراد الله بعبده الشر امسك عنه بذنبه حتى يوافي به يوم القيامة ".
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے کے ساتھ خیر اور بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اسے دنیا ہی میں جلد سزا دے دیتا ہے ۱؎، اور جب اپنے کسی بندے کے ساتھ شر (برائی) کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے گناہوں کی سزا کو روکے رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ قیامت کے دن اسے پوری پوری سزا دیتا ہے“۔
(سنن الترمذی) (حسن صحیح)
وبهذا الإسناد، ‏‏‏‏‏‏عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:‏‏‏‏ " إن عظم الجزاء مع عظم البلاء، ‏‏‏‏‏‏وإن الله إذا احب قوما ابتلاهم فمن رضي فله الرضا، ‏‏‏‏‏‏ومن سخط فله السخط "،‏‏‏‏ قال ابو عيسى:‏‏‏‏ هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه.
اور گذشتہ اسناد سے ہی سیدنا انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بڑا ثواب بڑی بلا (آزمائش) کے ساتھ ہے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ جب کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو اسے آزماتا ہے پس جو اللہ کی تقدیر پر راضی ہو اس کے لیے اللہ کی رضا ہے اور جو اللہ کی تقدیر سے ناراض ہو تو اللہ بھی اس سے ناراض ہو جاتا ہے“۔
(سنن الترمذی )

عن مصعب بن سعد، عن ابيه، قال:‏‏‏‏ قلت:‏‏‏‏ يا رسول الله،‏‏‏‏ اي الناس اشد بلاء؟ قال:‏‏‏‏ " الانبياء، ‏‏‏‏‏‏ثم الامثل، ‏‏‏‏‏‏فالامثل، ‏‏‏‏‏‏فيبتلى الرجل على حسب دينه، ‏‏‏‏‏‏فإن كان دينه صلبا اشتد بلاؤه، ‏‏‏‏‏‏وإن كان في دينه رقة ابتلي على حسب دينه، ‏‏‏‏‏‏فما يبرح البلاء بالعبد حتى يتركه يمشي على الارض ما عليه خطيئة "،‏‏‏‏ قال ابو عيسى:‏‏‏‏ هذا حديث حسن صحيح، ‏‏‏‏‏‏وفي الباب عن ابي هريرة،‏‏‏‏ واخت حذيفة بن اليمان،‏‏‏‏ ان النبي صلى الله عليه وسلم سئل اي الناس اشد بلاء؟ قال:‏‏‏‏ الانبياء ثم الامثل فالامثل. (سنن الترمذی 2398)
سیدناسعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! سب سے زیادہ مصیبت کس پر آتی ہے؟ آپ نے فرمایا: ”انبیاء و رسل پر، پھر جو ان کے بعد مرتبہ میں ہیں، پھر جو ان کے بعد ہیں، بندے کی آزمائش اس کے دین کے مطابق ہوتی ہے، اگر بندہ اپنے دین میں سخت ہے تو اس کی مصیبت بھی سخت ہوتی ہے اور اگر وہ اپنے دین میں نرم ہوتا ہے تو اس کے دین کے مطابق مصیبت بھی ہوتی ہے، پھر مصیبت بندے کے ساتھ ہمیشہ رہتی ہے، یہاں تک کہ بندہ روئے زمین پر اس حال میں چلتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا“۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اس باب میں ابوہریرہ اور حذیفہ بن یمان کی بہن فاطمہ رضی الله عنہم سے بھی روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ مصیبتیں کس پر زیادہ آتی ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انبیاء و رسل پر پھر جو ان کے بعد مرتبہ میں ہیں پھر جو ان کے بعد میں ہوں“
ـــــــــــــــــــــــــــ

تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الفتن ۲۳ (۴۰۲۳) (تحفة الأشراف: ۳۹۳۴)، وسنن الدارمی/الرقاق ۶۷ (۲۸۲۵)، و مسند احمد (۱/۱۷۲، ۱۷۴، ۱۸۰، ۱۸۵) (حسن صحیح)
 
Top