1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مصنف عبدالرزاق الصنعانی- تحکیم و تخریج کا آغاز

'تحقیق حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از saeedimranx2, ‏مارچ 14، 2017۔

  1. ‏مارچ 14، 2017 #1
    saeedimranx2

    saeedimranx2 رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 07، 2017
    پیغامات:
    136
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    44

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!
    مصنف عبدالرزّاق الصنعانی کے تین عربی نسخے موجود ہیں جن میں مختصر حواشی ہیں مگر باقاعدہ تحکیم و تخریج موجود نہیں ہے۔ اس کتاب کا ایک اردو ترجمہ بھی پاکستان میں شائع ہوچکا ہے جس میں تحکیم وتخریج موجود نہیں ہے۔ الحمد اللہ! راقم نے اس کام کا بیڑا اٹھایا ہے اور مصنف عبدالرزاق میں موجود تمام احادیثِ نبوی اورآثارِ صحابہ کی تحکیم و تخریج پر کام شروع کر دیا ہے۔ آپ احباب سے دعاؤں اور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ آپ احباب کی آراء اور قیمتی مشورے بھی میرے لئے باعثِ رہنمائی ثابت ہوں گے ۔انشاء اللہ۔
    مصنف عبدالرزاق میں سے میں نے صرف احادیثِ نبویﷺ اور آثارِ صحابہ کو موضوعِ تحکیم و تخریج بنایا ہے۔ اگر اقوالِ تابعین کو بھی اس میں شامل کر دیا جائے تو یہ نہایت طویل المعیاد کام ہو جائے گا۔ اس لئے میں نے اقوالِ تابعین کو فی الحال موضوع نہیں بنایا۔ اس لئے یہ کام مختصر بھی رہے گا اور اس کے فوائد بھی ذیادہ ہوں گے۔
    انشاء اللہ میرا ٹارگٹ ہے کہ میں ایک ماہ میں پانچ سو کے لگ بھگ احادیث کی تحکیم و تخریج مکمل کر کے اس کا پی ڈی ایف مختلف محقیقن کو بھی بھجواؤں اور آن لائن بھی شئیر کروں تاکہ اس پر مزید کام ہوسکے اور تنقید ہو سکے۔
    احباب سے مزید گُزارش ہے کہ میں علمِ حدیث و رجال سے دلچسپی رکھنے والا ایک ادنیٰ طالبعلم ہوں۔ اس لئے میری غلطی کو میری غلطی ہی سمجھا جائے اور اس کو تصحیح کرنے کی کوشش کی جائے تاکہ نہ صرف عوام بھی اس سے استفادہ کرسکیں بلکہ میرے علم میں بھی اضافہ ہو۔
    دُعا کا طلبگار۔
    محمد سعید عمران(03361519659)
     
    • پسند پسند x 6
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  2. ‏مارچ 14، 2017 #2
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,366
    موصول شکریہ جات:
    2,657
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    تحدیث نعمت کے لئے یہ بتلانا کہ کسی نے کہاں سے کس سے علم الحدیث سیکھا ہے، اور کس جامع سے کون سی سند حاصل کی ہے، مناسب رہے گا، اس میں حرج کوئی نہیں!
    محمد سعید عمران بھائی! مجھے یہ جاننے میں دلچسپی یوں ہے کہ کسی کی حدیث پر تحکیم کے بارے میں جاننا ضروری ہے کہ یہ تحکیم کسی عالم کی ہے یا غیر عالم کی!
    اور معلوم ہو کہ یہ اہل الحدیث علماء میں سے ہیں، یا ''غیر اہل الحدیث'' علماء میں سے جیسے کہ غامد ی اینڈ کمپنی یا قادری اینڈ کمپنی سے تو نہیں!
    اور جاننا بھی ضروری ہے کہ یہ تحکیم کسی عالم کی ہے یا غیر عالم کی!
     
    Last edited: ‏مارچ 14، 2017
    • متفق متفق x 2
    • پسند پسند x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  3. ‏مارچ 14، 2017 #3
    saeedimranx2

    saeedimranx2 رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 07، 2017
    پیغامات:
    136
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    44

    اسلام علیکم! جناب میرا تعلق کسی قسم کے مکتبہ فکر سے نہیں ہے۔۔اور نہ ہی میرے پاس کوئی سند موجود ہے۔۔۔صرف اور صرف ذاتی مطالعہ ہے۔۔۔میں صرف اور صرف تحقیق کی بنیاد پر نتیجہ نکالتا ہوں۔۔۔میرا اس علم سے شوق شیخ البانی رحمت اللہ علیہ کے حالات زندگی پڑھ کر بڑھا ۔۔۔۔
     
    • معلوماتی معلوماتی x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏مارچ 15، 2017 #4
    saeedimranx2

    saeedimranx2 رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 07، 2017
    پیغامات:
    136
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    44

    السلام علیکم! الحمداللہ اللہ کے فضل سے کام کی رفتار توقع سے بہتر ہے۔۔دارالتاصیل کے عربی نسخہ کے آخر میں دی گئی راویوں کی لسٹ اور احادیث کے نمبر شمار نہایت مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔۔۔امید ہے کہ ایک ماہ میں انشاء اللہ 1500 کے لگ بھگ احادیث و آثار پر کام مکمل ہو جائے گا۔۔۔ہاں مگر چونکہ لسٹ کے حوالے سے ان احادیث کا تسلسل ایک جیسا نہیں اس لیے ایک سیریز میں تحکیم و تخریج کا کام میں علحدہ سے کر رہا ہوں۔جیسے جیسے آگے بڑھتا جاؤں گا وقت کم صرف ہو گا۔۔۔اللہ سے دعا ہے کہ یہ کام آسان سے آسان ہو سکے۔۔امین۔دعاؤں کا طلبگار۔۔
     
  5. ‏مارچ 15، 2017 #5
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,777
    موصول شکریہ جات:
    8,340
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    و علیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    اللہ تعالی آپ کو توفیق و سداد سے نوازے ۔
     
  6. ‏مارچ 15، 2017 #6
    رضا میاں

    رضا میاں سینئر رکن
    جگہ:
    Virginia, USA
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    1,557
    موصول شکریہ جات:
    3,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    384

    آپ نے جو سکرین شاٹ پیش کیا ہے اس میں صرف تحکیم ہے تخریج نہیں۔ اور یہاں پر آپ نے تخریج بھی لکھا ہے، وہ کیوں؟
     
  7. ‏مارچ 15، 2017 #7
    saeedimranx2

    saeedimranx2 رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 07، 2017
    پیغامات:
    136
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    44

    السلام علیکم! میرے بھائی فی الحال صرف اسناد کی تحقیق جاری ہے۔ جب اتنی احادیث ہو جائیں گی جو کہ ایک جلد کے لئے کافی ہوں گی تو انشاء اللہ تخریج بھی کر دی جائے گی تاکہ ایک جلد کو پی ڈی ایف فارمیٹ میں اپ لوڈ کر دیا جائے ۔۔ اور اس میں سے مسائل سامنے آجائیں، غلطیوں کی نشاندہی بھی ہو جائے۔ تخریج کے بغیر تو مکمل تحکیم بھی ناممکن ہے۔۔ یہ صرف ایک خاکہ اپ لوڈ کیا ہے۔دعاؤں کا منتظر۔۔۔
     
  8. ‏مارچ 15، 2017 #8
    siddique

    siddique مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    170
    موصول شکریہ جات:
    895
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    السلام علیکم
    علمائے کرام اس موضوع کے اوپر روشنی ڈالے۔شیخ کفایت اللہ خضرحیات اور جو فورم پر موجود ہے۔اللہ تعالی بھائی کی نیت کو قبول فرمائے۔اور اجر عظیم عطا فرمائے۔
    لیکن یہ آسان کام نہیں ہے۔عالم اور حفاظ کو چھوڑ دیجئے
    ۔محدث جو علییل حدیث سے واقفیت رکھتا ہے۔یہ انکا فن ہے۔
    میرے بھائی شیخ البانی کے والد خود عالم تھے۔اور شیخ البانی کے پہلی درسگاہ یا پہلے استاذ خود انکے والد تھے۔
    مجھے بھی اس طرح کے کام کرنے کی بہت خواہش تھی۔اور ارادہ بھی رکھتا تھا۔لیکن جب سے شیخ کفایت اللہ کی یزید بن معاویہ رحم اللہ پر تحقیق ۔اور شیخ خبیب کی مقالات اثریہ کی تحقیق پڑھنے کے بعد اس فن کی گہرائی اور اہمیت کا اور اس فن کی بارک بینی کا احساس ہوا۔مثال کے طور پر سند صحیح رہنے کے بعد متن میں نکارت۔حدیث کا کچھ حصہ صحیح اورکچھ ضعیف ہونا وغیرہ وغیرہ۔
    آپ علمائے کرام سے مشورہ کرے۔اور انکی زیر نگرانی کام کو انجام دے۔
     
    • پسند پسند x 2
    • متفق متفق x 2
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  9. ‏مارچ 15، 2017 #9
    saeedimranx2

    saeedimranx2 رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 07، 2017
    پیغامات:
    136
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    44

    السلام علیکم! بھائی یہ کام میں بطور دعوٰی کے نہیں بلکہ بطور ایک طالبعلم کے کر رہا ہوں اور اس میں لازمی بات ہے غلطیاں بھی نکلیں گی۔بالکل ضروری بات ہے کہ اس کام کو محدثینِ عظام بھی دیکھیں اور اس کو بہتر سے بہتر بنائیں۔ یہ میرا شوق ہے اور چونکہ ایک دینی کام ہے اس لئے اس کو شئیر کرنا ضروری ہے۔ جہاں تک باریکیوں کی بات ہے تو وہ بھی ساتھ ساتھ سیکھنے کا موقع مل رہا ہے ۔
    آپ نے البانی صاحب کا ذکر کیا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک عظیم مرتبہ عطا کیا ۔ بلاشبہ ان کے والد صاحب عالم تھے لیکن وہ البانی صاحب کے اس موقف کے خلاف تھے کہ وہ محققِ حدیث بنیں۔ اس وجہ سے البانی صاحب کو ان سے دور بھی ہونا پڑا۔ اور البانی صاحب نے جو کچھ بھی مقام پایا۔ ذاتی محنت لگن اور ان کی نیت کی سچائی کا صلہ اللہ تعالیٰ نے انہیں دیا۔
    ہمارے دور کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ درس و تدریس کا کام ذیادہ اور تحقیق کا کام کم سے کم ہوتا جارہا ہے۔ تحقیقِ حدیث پر کام کرنے والوں کی تعداد کم سے کم ہے۔ موجودہ دور میں حدیث و تحقیقِ حدیث کے حوالے سے متقدمین کا جتنا مواد موجود ہے، شاید ماضی میں اتنا مواد موجود نہیں تھا۔ اس فن کے حوالے سے بنیادی کتب اب آسانی سے مل جاتی ہیں۔ شرط یہ ہے کہ اس فن کا شوقین غیر جانبدار ہو کر، ہر حوالے کا مطالعہ کرے اور ایک ایک لفظ پر توجہ دے کر تحقیق کرے۔
    جب اللہ کے نبیﷺ کی حدیث سے محبت ہو گی تو اللہ ضرور مدد کرے گا۔ انشاء اللہ۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  10. ‏مارچ 15، 2017 #10
    رضا میاں

    رضا میاں سینئر رکن
    جگہ:
    Virginia, USA
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    1,557
    موصول شکریہ جات:
    3,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    384

    ویسے تحکیم اسی کی مقبول ہوتی ہے جسے اس فن میں اتھارٹی کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہو، ورنہ پڑھنے والے کسی غیر معلوم شخص کی تحکیم پر یقین ہرگز نہیں کریں گے جب تک ان کو ان کے کسی جاننے والے کا نام نہ دیا جائے۔ ہاں البتہ اگر آپ اپنے لئے یہ کام کرنا چاہیں یا اپنے جاننے والوں کے لئے جنہیں آپ پر اس معاملے میں اعتماد ہے تو پھر بات الگ ہے۔ کیونکہ یہاں بات علم ہونے یا نہ ہونے کی نہیں ہے، یقینا آپ میں بے شمار علم ہو گا، ان شاء اللہ، لیکن کیا فائدہ ہو گا اگر لوگ اس پر اعتماد ہی نہ کریں یا اہل علم اس فن میں آپ کی گارنٹی نہ لیتے ہوں؟
    واللہ اعلم۔
     
    • متفق متفق x 3
    • پسند پسند x 2
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں