• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مصیبت میں مومن کا کردار سچے واقعات کی روشنی میں

مقبول احمد سلفی

سینئر رکن
شمولیت
نومبر 30، 2013
پیغامات
1,357
ری ایکشن اسکور
425
پوائنٹ
209
مصیبت میں مومن کا کردار سچے واقعات کی روشنی میں

تحریر : مقبول احمد سلفی
جدہ دعوہ سنٹر ، حی السلامہ، سعودی عرب

دنیا دارالامتحان ہے ، یہاں قدم قدم پر آزمائشیں ہیں ، ان آزمائشوں کے ساتھ ایک مومن کو زندگی گزارنا ہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
الدنيا سجن المؤمن وجنة الكافر(صحیح مسلم:2956)
ترجمہ: دنیا قید خانہ ہے مومن کے لیے اور جنت ہے کافر کے لیے۔
جب زبان رسالت سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ یہ دنیا مومن کے حق میں قیدخانہ یعنی تکلیف کی جگہ ہے تو ایک مومن کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑے گا اور اسے ایسے موقع پر صبر کا دامن تھامنا ہوگا۔ مومن کو پہنچنے والی تکلیف کسی بھی قسم کی ہوسکتی ہے،اللہ کسی مومن کو مال میں آزمائے گا، کسی کو اولاد میں آزمائے گا اور کسی کو جسمانی طور پر آزمائے گا یعنی مومن کا سامنا فقر، بے چینی ، خوف، بیماری، مشغولیت اور ناکامی وغیرہ سے ہوسکتا ہے لیکن مومن ان مصائب ومشکلات سے ہرگز نہیں گھبراتا ہے ، نہ وہ جزع فزع کرتا اور نہ بے صبری کا مظاہرہ کرکے مایوسی اور غلط راہ روی کا شکار ہوجاتا ہے بلکہ صبر کا پہاڑ بن کر بڑی سے بڑی مصیبت کا مقابلہ کرتا ہے ۔
آج آپ کے سامنے ہمت وحوصلہ کی سچی داستانیں اورمصیبت سے چھٹکارا پانے والےباکمال کرداروں کو بیان کرنا چاہتا ہوں جہاں سے مصیبت زدہ لوگوں کو حوصلہ ملے گا اور ان حوصلہ مندوں کی طرح مصائب کو دور کرنے کی کوشش کریں گے ۔ اس سے پہلے کہ آپ کے سامنے مصیبت سے نجات پانے والے سچے کرداروں کو بیان کروں ، پہلے یہ جان لیں کہ مصیبت تقدیر کا حصہ ہے،ہمارے عقیدے میں اچھی بری تقدیر پر ایمان لانا شامل ہے ۔ پریشانی اللہ کی طرف سے آتی ہے اور اس کو وہی دور کرسکتا ہے لہذا مصیبت کے وقت ہم اللہ کی طرف رجوع کریں گے اور اسی سے مدد مانگیں گے ۔ کسی پر پریشانی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ واقعی برا آدمی ہے بلکہ اللہ کسی کو پریشانی میں مبتلا کرکے اس کے ساتھ بہتری کا معاملہ کرتا ہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے:مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُصِبْ مِنْهُ(صحیح البخاری:564)
ترجمہ: اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ خیر و برکت کا ارادہ کرتا ہے اسے مصائب وآلام میں مبتلا کردیتا ہے۔
اس لئے جس کسی مسلمان کے ساتھ آزمائش ہو اس کو خوش ہونا چاہئے کہ اللہ اس کو اونچا اٹھا رہا ہے نیز ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کسی مصیبت زدہ کو دیکھ کر بدگمان ہونا، اس کا مذاق اڑانا اور لوگوں میں اس کی مصیبت کا ذکرکرکے اس کی عزت اچھالناایک اچھے مسلمان کی علامت نہیں ہے ۔ اسی طرح مصیبت کے وقت اول وحلہ میں صبر کرنے کے ساتھ رونے دھونے اور شکوہ شکایت سے پرہیزکرنا چاہئے ۔ ابوبردہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
وجع ابو موسى وجعا شديدا فغشي عليه وراسه في حجر امراة من اهله فلم يستطع ان يرد عليها شيئا , فلما افاق قال: انا بريء ممن برئ منه رسول الله صلى الله عليه وسلم إن رسول الله صلى الله عليه وسلم برئ من: الصالقة , والحالقة , والشاقة۔(صحیح البخاری:1296)
ترجمہ:ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیمار پڑے ‘ ایسے کہ ان پر غشی طاری تھی اور ان کا سر ان کی ایک بیوی ام عبداللہ بنت ابی رومہ کی گود میں تھا (وہ ایک زور کی چیخ مار کر رونے لگی) ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ اس وقت کچھ بول نہ سکے لیکن جب ان کو ہوش ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ میں بھی اس کام سے بیزار ہوں جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیزاری کا اظہار فرمایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (کسی غم کے وقت) چلا کر رونے والی ‘ سر منڈوانے والی اور گریبان چاک کرنے والی عورتوں سے اپنی بیزاری کا اظہار فرمایا تھا۔
اس واقعہ سے عبرت حاصل کریں کہ ایک صحابی انتہائی تکلیف میں صبر و ضبط سے کام لے رہے ہیں اور بیوی کو ایسے عالم میں خود ہی فرمان رسول سنا رہے ہیں تاکہ وہ بھی شوہرکی طرح حکم رسول پر عمل کرے۔
مصیبت و پریشانی آنے کی دو وجوہات ہیں ۔ ایک وجہ انسان کی خود کی غلطی ہے جس کی پاداش میں اللہ بطور سزا مصیبت بھیجتا ہے اور دوسری وجہ آزمائش ہے یعنی اللہ تعالی بندوں کے مقام ومرتبہ بلند کرنے اور متعدد انعام واکرام کے طور پر انسان پر مصیبت نازل کرتا ہے ۔
اللہ تعالی کا فرمان ہے :وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ (الشوری:30)
ترجمہ: تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے کرتوت کا بدلہ ہے ، اور وہ تو بہت سی باتوں سے درگزر فرما دیتا ہے ۔
اور اللہ تعالی کا فرمان ہے:
وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ (البقرة:155)
ترجمہ: اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور کریں گے ، دشمن کے ڈر سے ، بھوک پیاس سے ، مال و جان اور پھلوں کی کمی سے اور ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجئے ۔
مصیبت چاہے برے اعمال کے نتیجے میں ہو یا بطور آزمائش ہو، انسان اس حال میں صبر کرتا ہے اور اللہ کی طرف رجوع کرکے اس سے نجات کا سوال کرتا ہے تو اس کے لئے خیر ہی خیر ہے کیونکہ مومن کو لاحق ہونے والی کسی بھی پریشانی پر صبر کرنے کا بدلہ ، گناہوں کی مغفرت، درجات کی بلندی اور بلاحساب اجر حتی کہ صبر کا سب سے بڑا بدلہ جنت کا حصول ہے ۔ جب مومن تکلیف پر صبر کے فوائد کو سامنے رکھے گا تو تکلیف پر صبر بھی ہوجائےگا اور تکلیف ہیچ نظر آئے گی ۔

اب چلتے ہیں اصل موضوع کی طرف اور جانتے ہیں کہ مصیبت سے نجات کا راستہ کیا ہے ، مصیبت میں ایک مومن کا کردار کیا ہونا چاہئے اور اس سلسلے میں قرآن وسنت پر مبنی سچے واقعات ہماری کیا رہنمائی کرتے ہیں ۔

(1) دعا کے ذریعہ مصیبت سے نجات:
جب کسی مومن کو کسی بھی قسم کا رنج وغم لاحق ہو، وہ اسی وقت اپنی زبان سے کہے "انا للہ واناالیہ راجعون" اور نیک اعمال کا واسطہ دے کر دعا کے ذریعہ اللہ تعالی سے مدد طلب کرے جیساکہ ہم سورہ فاتحہ میں اقرار کرتے ہیں ، ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد طلب کرتے ہیں ۔ یاد رہے مصیبت کے وقت اللہ ہی کو پکاریں ، اسی طرح پکارنے میں نجات ہے ۔ چنانچہ اس بارے میں ایک سچا واقعہ پیش کرتا ہوں جس میں ہم سب کے لئے بڑی عبرت ہے ۔
عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ پچھلی امت کے تین آدمی کہیں سفر پر تھے، رات کے وقت پناہ لینے کے لئے ایک غار میں داخل ہوگئے (صحیح مسلم میں مذکور ہےبارش سے بچنے کے لئے )، اچانک ایک چٹان لڑھک کر غار کا منہ بند کردیتی ہے اور سب پریشانی میں مبتلا ہوجاتے ہیں ۔ وہ سب بیک زبان کہتے ہیں ۔
فقالو:إنه لا ينجيكم من هذه الصخرة إلا ان تدعوا الله بصالح اعمالكم( سب نے کہا کہ اب اس غار سے تمہیں کوئی چیز نکالنے والی نہیں، سوا اس کے کہ تم سب، اپنے سب سے زیادہ اچھے عمل کو یاد کر کے اللہ تعالیٰ سے دعا کرو(
چنانچہ ان میں سے پہلے نے دعا کی کہ اے اللہ ! میرے ماں باپ بوڑھے تھے، سب سے پہلے ان کو دودھ پلاتا پھر گھروالوں اور خادم کو پلاتا ، ایک دن لوٹنے میں تاخیر ہوگئی او ر دودھ دوہ کر آیا تو والدین سوچکے تھے،میں پیالہ لے کر رات بھر ان کے سرہانے کھڑا رہا ،جب صبح وہ بیدار ہوتے ہیں تو پہلے ان کو پلایا پھر سب کو پلایا، اگر یہ کام تیری رضا کے لئے کیا تو چٹان کی مصیبت سے ہمیں نجات دیدے چنانچہ چٹان کچھ کھسک گئی مگر وہ سب نہیں نکل سکتے تھے ۔
پھر دوسرے نے دعا کی کہ اے اللہ ! میرے چچا کی ایک لڑکی تھی جو مجھے محبوب تھی، میں نے بہت کوشش کیا مگر اس نے برائی نہیں کی ، اسی زمانے میں قحط سالی ہوتی ہے تو وہ میرے پاس قرض لینے آتی ہے ، میں اس شرط پر ایک سوبیس دینار قرض دیتا ہوں کہ وہ میرے ساتھ برا کام کرے گی ۔ (ایک دینا رکا وزن 4،25گرام ہوتا ہےاور ایک سو بیس دینار کا وزن 510 گرام ہوتاہے جس کی موجودہ قیمت ہندوستانی روپئے میں 25 لاکھ سے بھی زائد ہے ۔) برائی کے وقت لڑکی اللہ کا خوف دلاتی ہے تو میں اس عمل سے رک جاتا ہوں ، اگر میں نے یہ عمل تیری رضا کے لئے کیا ہے تو چٹان کی مصیبت سے نجات دیدے چنانچہ اللہ تعالی چٹان کھسکا دیتا ہے مگر ابھی بھی وہ سب نہیں نکل سکتے تھے ۔
اب تیسرے نے دعا كى کہ اے اللہ ! میں نے مزدوری پر کچھ لوگوں کو رکھا ، سب اپنی اپنی مزدوری لے کر چکے گئے، ایک بغیرمزدوری لئے چلا گیا، اس کا پیسہ کاروبار میں لگادیا ، پھر کچھ دنوں بعد مزدوری لینے واپس آیا تو میں نے اس سے کہا کہ یہ جو اونٹ، گائے، بکری اور غلام دیکھتے ہو، سب تیرے ہیں ۔ اور وہ سارا مال لے کر چلا گیا چنانچہ اللہ تعالی نے چٹان مکمل کھسکا دیا اور وہ سب مصیبت سے نگل گئے ۔ (صحیح بخاری:2272۔حدیث کا مفہوم(
اس واقعہ سے معلوم ہوگیا کہ مصیبت میں صرف اللہ کی طرف رجوع کرنا ہے، اسی سے نجات کے لئے مدد مانگنا ہے ، وہی نجات دینے والا ہے جس طرح ان تین لوگوں کو نجات دیا ۔

(2) صبر کے ذریعہ مصیبت سے نجات: مصیبت کے وقت ایک مومن کا دوسرا کردار یہ ہوتا ہےکہ وہ صبر کرتا ہے اور ہرقسم کی بے صبری ، جزع فزع اور شکوہ سے رکا رہتا ہے ۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ اے ایمان والو! تم نماز اور صبر کے ذریعہ مدد طلب کرو۔ جب ہم مصیبت میں صبر سے کام لیتے ہیں جیساکہ ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کا واقعہ گزرا ہےتو اللہ کی مدد نازل ہوتی اور نجات کا راستہ کھل جاتا ہے ۔ چنانچہ اس پہلو سے متعلق ایک سچا واقعہ بیان کرتا ہوں ۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”‏‏‏‏اللہ تعالیٰ کے نبی ایوب علیہ السلام اٹھارہ برس بیمار رہے۔ قریب و بعید کے تمام رشتہ دار بےرخی کر گئے، البتہ ان کے دو بھائی صبح و شام ان کے پاس آتے جاتے تھے۔ ایک دن ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: آیا تو جانتا ہے، اللہ کی قسم! (‏‏‏‏میرا خیال یہ ہے کہ) ایوب نے کوئی ایسا گناہ کیا ہے، جو جہانوں میں سے کسی فرد نے نہیں کیا؟ اس کے ساتھی نے کہا: وہ کون سا؟ اس نے کہا: (‏‏‏‏دیکھو) اٹھارہ سال ہو چکے ہیں، اللہ تعالیٰ نے اس پر رحم نہیں کیا کہ اس کی بیماری دور کر دے۔ جب وہ بوقت شام ایوب کے پاس آئے تو ایک نے بے صبری میں وہ بات ذکر کر دی۔ ایوب علیہ السلام نے (‏‏‏‏ان کا الزام سن کر) کہا: جو کچھ تم کہہ رہے ہو، اس قسم کی کوئی بات میرے علم میں تو نہیں ہے، ہاں اتنا ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ دو آدمیوں کے پاس سے میرا گزر ہوتا تھا، وہ آپس میں جھگڑ رہے ہوتے تھے، وہ مجھے اللہ تعالیٰ ّ کا واسطہ دے دیتے اور میں اپنے گھر واپس چلا جاتا تھا اور اس وجہ سے ان دونوں کی طرف سے کفارہ ادا کر دیتا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ انہوں نے مجھے ناحق انداز میں اللہ تعالیٰ کا واسطہ نہ دیا ہو۔ ایوب علیہ السلام قضائے حاجت کے لیے باہر جاتے تھے، جب وہ قضائے حاجت کر لیتے تو ان کی بیوی ان کو ہاتھ سے پکڑ کر سہارا دیتی تھی، حتیٰ کہ وہ اپنی جگہ پر پہنچ جاتے تھے۔ ایک دن وہ لیٹ ہو گئے اور (‏‏‏‏ ان کی بیوی ان کے انتظار میں رہی) اور اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی: ”‏‏‏‏اپنا پاؤں مارو، یہ نہانے کا ٹھنڈا اور پینے کا پانی ہے۔“ (‏‏‏‏سورۂ ص: ۴۲) ا‏‏‏‏دھر ان کی بیوی کو خیال آ رہا تھا کہ وہ دیر کر رہے ہیں۔ جب وہ واپس پلٹے تو اللہ تعالیٰ ان کی تمام بیماریاں دور کر چکے تھے اور وہ بہت حسین لگ رہے تھے۔ جب ان کی بیوی نے ان کو دیکھا تو (‏‏‏‏نہ پہچان سکی اور ان سے) پوچھا: اللہ تعالیٰ تجھ میں برکت پیدا کرے، کیا تو نے اللہ کے نبی، جو بیمار ہیں، کو دیکھا ہے؟ اللہ تعالیٰ اس بات پر گواہ ہیں کہ جب وہ نبی صحتمند تھے تو تجھ سے سب سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے۔ انہوں نے کہا: میں وہی (‏‏‏‏ایوب) ہوں (‏‏‏‏اب اللہ تعالیٰ نے مجھے شفا دے دی ہے)۔ ایوب علیہ السلام کے دو کھلیان تھے، ایک گندم کا تھا اور ایک جو کا تھا۔ اﷲ تعالیٰ نے دو بدلیاں بھیجیں، ایک بدلی گندم والے کھلیان پر آ کر سونا برسنے لگی اور دوسری جو والے کھلیان پر آ کر چاندی برسنے لگی، (‏‏‏‏اس طرح اللہ تعالیٰ نے صحت بھی دے دی اور مال کثیر بھی عطا کر دیا)۔(سلسلہ صحیحہ:3872(
ایوب علیہ السلام کے متعلق اللہ نے گواہی دی ہے : "انا وجدناہ صابرا "یعنی ہم نے ایوب کو صبر کرنے والا پایا تو صبر کا انعام انہیں یہ ملا کہ جو مال ہلاک ہوگئےتھے ، اس کا کئی گنا عطا فرمایا اوربیماری سے نجات دے کر صحت مند بھی بنا دیا ۔ ہمیں بھی مصیبت میں صبر کرکے اللہ سے مدد طلب کرنی چاہئے ۔

(3) نماز کے ذریعہ مصیبت سے نجات: اللہ تعالی کا فرمان ہے:يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ ۚ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ (البقرۃ:153)
ترجمہ:اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعہ مدد چاہو، اللہ تعالی صبر والوں کا ساتھ دیتا ہے۔
پریشانی کے وقت پیارے رسول کا اسوہ دیکھیں ۔
عن حذيفةَ قالَ كانَ النَّبيُّ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ إذا حزبَهُ أمرٌ صلَّى(صحيح أبي داود:1319)
ترجمہ: حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی کام مشکل اور غم میں ڈال دیتا تو آپ نماز پڑھاکرتے یعنی فوراً نماز میں لگ جاتے۔
اسی طرح یہاں پر نماز کے ذریعہ مصیبت سے نجات ملنے والا سچا واقعہ بھی ملاحظہ فرمائیں ۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ابراہیم علیہ السلام نے سارہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ (نمرود کے ملک سے) ہجرت کی تو ایک ایسے شہر میں پہنچے جہاں ایک بادشاہ رہتا تھا یا (یہ فرمایا کہ) ایک ظالم بادشاہ رہتا تھا۔ اس سے ابراہیم علیہ السلام کے متعلق کسی نے کہہ دیا کہ وہ ایک نہایت ہی خوبصورت عورت لے کر یہاں آئے ہیں۔ بادشاہ نے آپ علیہ السلام سے پچھوا بھیجا کہ ابراہیم! یہ عورت جو تمہارے ساتھ ہے تمہاری کیا ہوتی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ میری بہن ہے۔ پھر جب ابراہیم علیہ السلام سارہ رضی اللہ عنہا کے یہاں آئے تو ان سے کہا کہ میری بات نہ جھٹلانا، میں تمہیں اپنی بہن کہہ آیا ہوں۔ اللہ کی قسم! آج روئے زمین پر میرے اور تمہارے سوا کوئی مومن نہیں ہے۔ چنانچہ آپ علیہ السلام نے سارہ رضی اللہ عنہا کو بادشاہ کے یہاں بھیجا، یا بادشاہ سارہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا۔ اس وقت سارہ رضی اللہ عنہا وضو کر کے نماز پڑھنے کھڑی ہو گئی تھیں۔ انہوں نے اللہ کے حضور میں یہ دعا کی کہ ”اے اللہ! اگر میں تجھ پر اور تیرے رسول (ابراہیم علیہ السلام) پر ایمان رکھتی ہوں اور اگر میں نے اپنے شوہر کے سوا اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی ہے، تو تو مجھ پر ایک کافر کو مسلط نہ کر۔“ اتنے میں بادشاہ تھرایا اور اس کا پاؤں زمین میں دھنس گیا۔ اعرج نے کہا کہ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، کہ سارہ رضی اللہ عنہا نے اللہ کے حضور میں دعا کی کہ اے اللہ! اگر یہ مر گیا تو لوگ کہیں گے کہ اسی نے مارا ہے۔ چنانچہ وہ پھر چھوٹ گیا اور سارہ رضی اللہ عنہا کی طرف بڑھا۔ سارہ رضی اللہ عنہا وضو کر کے پھر نماز پڑھنے لگی تھیں اور یہ دعا کرتی جاتی تھیں ”اے اللہ! اگر میں تجھ پر اور تیرے رسول پر ایمان رکھتی ہوں اور اپنے شوہر (ابراہیم علیہ السلام) کے سوا اور ہر موقع پر میں نے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی ہے تو تو مجھ پر اس کافر کو مسلط نہ کر۔“ چنانچہ وہ پھر تھرایا، کانپا اور اس کے پاؤں زمین میں دھنس گئے۔ عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ ابوسلمہ نے بیان کیا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ سارہ رضی اللہ عنہا نے پھر وہی دعا کی کہ ”اے اللہ! اگر یہ مر گیا تو لوگ کہیں گے کہ اسی نے مارا ہے۔“ اب دوسری مرتبہ یا تیسری مرتبہ بھی وہ بادشاہ چھوڑ دیا گیا۔ آخر وہ کہنے لگا کہ تم لوگوں نے میرے یہاں ایک شیطان بھیج دیا۔ اسے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس لے جاؤ اور انہیں آجر (ہاجرہ) کو بھی دے دو۔ پھر سارہ ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں اور ان سے کہا کہ دیکھتے نہیں اللہ نے کافر کو کس طرح ذلیل کیا اور ساتھ میں ایک لڑکی بھی دلوا دی۔(صحیح البخاری:2217)
اس جگہ اس بات پر بھی غور کیجئے کہ گھر میں کیسی بیوی لانی چاہئے ؟ بیوی ایسی ہو جو دیندار ہو، جو اللہ کی عبادت کرنے والی اور دین قائم کرنے والی ہو، یہی وجہ ہے کہ نیک بیوی کو دنیا کی سب سے قیمتی شی قرار دیا گیا ہے ۔ گھر میں جب بددین بیوی لاتے ہیں تو مصیبت اسی وقت سے گھر میں ڈیرہ ڈالنے لگتی ہے ۔ بہرکیف! سارہ نے نماز پڑھ کر اللہ سے دعا کی تو اللہ تعالی نے مصیبت سے نجات دیدی ، اس طرح ہم بھی نماز پڑھ کر اللہ سے نجات طلب کریں گے تو یقینا وہ ہماری مدد فرمائے گا۔

(4)مصیبت کے وقت توکل و تقوی اختیارکرنا: مصیبت جب تقدیر کا حصہ ہے اور اللہ کی طرف سے ہے اوروہی دور کرنے والا ہے تو پوری طرح اسی پر اعتماد کیا جائے گا اور اسی سے نجات کی امیدلگانی پڑے گی ۔ چنانچہ جب اللہ پربھروسہ کرلیا جاتا ہے تو وہ اپنے بندوں کے لئے کافی ہوجاتا ہے اور جو اس کا تقوی اختیار کرتا ہے تو نجات کا راستہ پیدا کرتا ہے ۔ اللہ کا فرمان ہے: وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا(الطلاق:2)
ترجمہ: جو اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لئے چھٹکارے کی شکل نکال دیتا ہے۔
سورہ مریم میں مریم علیہا السلام کا واقعہ ہمیں حوصلہ دیتا ہے جب انہیں اللہ کے حکم سے حمل ٹھہرگیا تو لوگوں کی اذیت سے ڈرنے لگیں، پھر تنہائی اختیار فرمائیں یہاں تک کہ بچہ پیدا ہواتو شدت تکلیف میں بے آب ودانہ تھیں ۔ اللہ نے وہاں فرشتہ بھیج کرمددکی، نیچے پینے کے لئے چشمہ جاری کیا اور سوکھے درخت میں خوراک کا انتظام کیا جس کو ہلانے سے کھجور نیچے گرجایا کرتی ۔ جب بچہ لے کر قوم کے پاس گئیں تو عیسی علیہ السلام کو بولنے کی قوت دی جنہوں نے بول کر قوم کو بتایا کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ اس طرح مصیبت سے اللہ نے حفاظت فرمائی ۔ اسی طرح سورہ قصص میں ام موسی علیہا السلام کا واقعہ ہے جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو فرعون سے خطرہ تھا ، اللہ نے ام موسی کو الہام کیا کہ بچہ کو دریا میں ڈال دے اور غم نہ کر ، یہی بچہ ہم تمہارے پاس لوٹادیں گے چنانچہ ماں نے اللہ کے بھروسہ بچہ کو ایک تابوت میں رکھ کر سمندر کے حوالہ کردیا جو بچہ پھر واپس ماں کے پاس صحیح سلامت آیا ۔

(5)توبہ کے ذریعہ مصیبت سے نجات : چونکہ مصائب کی ایک وجہ گناہوں کا ارتکاب ہے اس لئے جب بندہ شرمندگی کااظہار کرکے اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے اور توبہ واستغفار کرتا ہے تو اللہ بندوں کو بخش دیتا ہے اور مصیبت ٹال دیتا ہے ۔ استغفار ایک طرح کا امان ہے بندوں کے لئے ۔ جب تک بندہ استغفار کرتا ہے اللہ کی طرف سے امن میں رہتا ہے اور عذاب الہی ٹال دیا جاتا ہے ۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ابوجہل نے کہا تھا کہ اے اللہ! اگر یہ کلام تیری طرف سے واقعی حق ہے تو ہم پر آسمانوں سے پتھر برسا دے یا پھر کوئی اور ہی عذاب درد ناک لے آ!“ تو اس پر آیت «وما كان الله ليعذبهم وأنت فيهم وما كان الله معذبهم وهم يستغفرون * وما لهم أن لا يعذبهم الله وهم يصدون عن المسجد الحرام‏» ”حالانکہ اللہ ایسا نہیں کرے گا کہ انہیں عذاب دے، اس حال میں کہ آپ ان میں موجود ہوں اور نہ اللہ ان پر عذاب لائے گا اس حال میں کہ وہ استغفار کر رہے ہوں۔ ان لوگوں کے لیے کیا وجہ کہ اللہ ان پر عذاب (ہی سرے سے) نہ لائے درآں حالیکہ وہ مسجد الحرام سے روکتے ہیں۔“ آخر آیت تک۔(صحیح البخاری: 4648)
اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ابوجہل نے جب عذاب کا مطالبہ کیا تواللہ نے محمد ﷺ کے وجود کی وجہ سے عذاب نہیں بھیجا گویا آپ ﷺ کا دنیا میں وجود ایک امان تھا لیکن آپ تو چلے گئےاور ایک امان دنیا سے اٹھ گیا پھر بھی ایک دوسرا امان باقی ہے جو اللہ کے عذاب سے ہمیں بچا سکتا ہے وہ ہے استغفار ۔ لہذا اللہ سے کثرت کے ساتھ استغفار کرتے رہیں ۔

(6)شرعی اذکار کے ذریعہ مصیبت سے نجات : روز مرہ کی جو عام دعائیں اور اذکار جیسے کھانے پینے، بیت الخلاء جانے نکلنے اور گھر میں داخل ہونے نکلنے کے اذکار ۔ ان کو پڑھنے سے بھی ہمیں حفاظت ملتی ہے بلکہ کثرت درود کا التزام کرنا چاہئے جو کہ مصیبت دورکرنے کا اہم ذریعہ ہے بلکہ ذکر الہی قلبی سکون وراحت کا سامان ہے۔ ان اذکار کے علاوہ میں آپ کو سنت رسول کی روشنی میں آٹھ ان مواقع کی طرف رہنمائی کرتا ہوں جن میں اذکار کا حکم ہوا ہے ۔ میں پورے وثوق کے ساتھ یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ اگر ایک مسلمان ان آٹھ مواقع پر مسنون اذکار کا اہتمام کرے تو مصیبت کبھی نہیں آئے گی، بلکہ آنے والی مصیبت ٹل جائے گی اور اگر مصیبت آئی ہوئی ہے تو وہ دور ہوجائے گی ۔ ساتھ ہی یہ بھی بھروسہ دلاتا ہوں کہ اس کے بعد آپ جنات کے شر سے محفوظ رہیں گے ، آپ کو کسی پیشہ ور عامل اور تجارتی راقی کے پاس جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی ، اگر کچھ سحر کا مسئلہ بھی ہو تو ان اذکار کی برکت سے سارے مسائل ختم ہوجائیں گے ۔ وہ آٹھ مقامات کیا ہیں؟
نبی نے صبح وشام کے اذکار سکھائے ہیں ، آپ ہمیشہ فجرکی نماز کے بعد اور عصرکی نماز کے بعد یہ اذکار کرتے رہیں۔نبی ﷺ نے فرض نماز کے بعد اذکار کی تعلیم دی ہے، آپ پانچ نمازوں کا اہتمام کریں اور ہرفرض نماز کے بعد ان اذکار کا اہتمام کریں اور نبی ﷺ نے سونے کے وقت اذکار سکھائے ہیں ، ہمیشہ سونے سے پہلے اذکار پڑھ کر سویا کریں ۔ یہ آٹھ مواقع ہیں دو صبح وشام ، پانچ اوقات نماز کے بعد اور ایک سونے کے وقت ۔ اس طرح سحر سے بھی آپ کی حفاظت ہوگی ، پریشانی سے نجات ملے گی اور اللہ کے حفظ وامان میں بھی رہیں گے ۔
اگر کوئی سحر زدہ یا مریض ہوتو اس پرشرعی دم کرسکتے ہیں ۔
عن عائشة رضي الله عنها، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم:كان إذا اشتكى يقرا على نفسه بالمعوذات وينفث، فلما اشتد وجعه كنت اقرا عليه وامسح بيده رجاء بركتها(صحيح البخاري:5016)
ترجمہ:عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار پڑتے تو معوذات کی سورتیں پڑھ کر اسے اپنے اوپر دم کرتے پھر جب (مرض الموت میں) آپ کی تکلیف بڑھ گئی تو میں ان سورتوں کو پڑھ کر آپ پر دم کیا کرتی تھی اور برکت کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ آپ کے جسم مبارک پر بھی پھیر لیتی تھی۔
شرعی دم میں تین سورتیں پڑھنا کافی ہیں جیسے رسول اللہ ﷺ کا عمل تھا، سورہ اخلاص ، سورہ فلق اور سورہ ناس پڑھ کوئی اپنے اوپر دم کرے یا کوئی دوسرا ان سورتوں کو پڑھ کر مریض کے جسم پر پھونک دے ۔ مریض کی طرف سے صدقہ کرنا بھی فائدہ مند ہے یعنی اگر کوئی بیمار ہو تو اس نیت سے کہ اللہ اس کی بیماری کو دور کردے فقراء میں صدقہ کرسکتا ہے ۔

(7)مصیبت سے نجات کے لئے حکمت وتدبیراپنانا: اللہ تعالی کا ارشاد ہے : وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ (النجم :39)
ترجمہ:اور یہ کہ ہر انسان کے لئے صرف وہی ہے جس کی کوشش خود اس نے کوشش کی ۔
اسلام اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ اپنی پریشانی اور مسائل کو دور کرنے کے لئے دنیاوی جائز اسباب اپنا سکتا ہے اور اپنانا چاہئے مثلا جسم میں تکلیف ہو تو طبیب سے علاج کرائے ، فقر و فاقہ ہو تو نوکری تلاش کرے، جائز طریقے سے روزی کمائے ، گھر یا اولاد نہ ہو تواس کے لئے جائز کوشش کرے اور اپنے مسائل حل کرے ۔ جب بدر کے میدان میں رسول اللہ کے سامنے ایک بہت بڑی مشکل نظر آرہی تھی تو آپ ﷺ نے اللہ سے دعا کی : اللَّهُمَّ أَنْجِزْ لي ما وَعَدْتَنِي، اللَّهُمَّ آتِ ما وَعَدْتَنِي، اللَّهُمَّ إنْ تُهْلِكْ هذِه العِصَابَةَ مِن أَهْلِ الإسْلَامِ لا تُعْبَدْ في الأرْضِ(صحيح مسلم:1763)
ترجمہ:یااللہ! پورا کر جو تو نے وعدہ کیا مجھ سے، یااللہ! دے مجھ کو جو وعدہ کیا تو نے مجھ سے، یااللہ! اگر تو تباہ کر دے گا اس جماعت کو تو پھر نہ پوجا جائے گا تو زمین میں۔
آپ نے یہاں صرف دعا نہیں کی ہے بلکہ دعا کے ساتھ دشمنوں سے جنگ بھی کی، اس کے لئے حکمت و تدبیر اپنائی اور بھرپور جتن کیا تو دعا اور کوشش دونوں نے کام کیا اور مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی ۔
آخر میں ایک آخری اہم بات کہنا چاہتا ہوں کہ بغیر ایمان اور عمل صالح کے انسان کبھی کامیاب نہیں ہوگا اور اس کو کہیں سکون میسر نہیں ہوگا ، اچھی زندگی کے لئے ایمان(جن باتوں پر اللہ نے ایمان لانے کا حکم دیا ہے) اور عمل صالح(تمام ظاہری وباطنی بھلائی کے افعال جواللہ یا بندوں کے حقوق سے وابستہ ہوں) کی راہ پر چلے تو اللہ اسے بہترین زندگی اور بہترین اجر عطا فرماتا ہے ۔اللہ تعالی فرماتا ہے:
مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُمْ بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (النحل:97)
ترجمہ:جو شخص نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت، لیکن باایمان ہو تو ہم یقیناً نہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے اور ان کے نیک اعمال کا بہتر بدلہ بھی انھیں ضرور ضرور دیں گے۔
یہاں بہتر زندگی سے مراد دنیا کی بہتر زندگی ہے جو اس مومن مرد یا عورت کو نصیب ہوتی ہے جب وہ ایمان اور عمل صالح کے راستے پر قائم رہے ۔

اللہ تعالی سے دعا کرتے ہیں کہ ہمارے اعمال میں اخلاص پیدا فرمادے اور مصائب پر صبر کرنے اور امتحان میں کھرا اترنے کی توفیق دے ۔ آمین
 
Top