• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مطالعہ کیسے کیا جائے !!

شمولیت
ستمبر 22، 2020
پیغامات
848
ری ایکشن اسکور
22
پوائنٹ
65
بیان میرے مطالعہ كا – از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى آکسفورڈ

ميں مطالعه كس طرح كرتا ہوں، اور مطالعه سے كيا سيكهتا ہوں؟ يه سوال اتنا آسان نہيں جتنا بظاہر لگتا ہے، لكهنے بيٹها تو تفصيلات امڈ پڑيں، سوچا كه بہتر يه ہے كه تحرير مختصر ہو، اور نوجوان قارئين كے لئے رہنما ہو، اس لئے ان نقاط پر ارتكاز كرنا مناسب سمجها جو زياده كار آمدہوں، اور جنہيں قدرے اختصار سے بيان كيا جا سكے۔
زندگى ايك لوح ساده ہے، شعور ووجدان كى ابتدا ہى سے ہم اس پر نقوش بنانا شروع كرتے ہيں، يہى نقوش ہمارى انفراديت كى تشكيل كرتے ہيں، اس نقش نگارى ميں ہمارے مطالعه كا بہت بڑا حصه ہے، كتابيں ہمارے اندر صحيح وغلط كى تمييز پيدا كرتى ہيں، ہمارے افكار وخيالات كو جنم ديتى ہيں، ہمارے احساسات وجذبات كو تيز كرتى ہيں، اور ہمارے اندر استخراج نتائج اور تجزيه نگارى كا ملكه پيدا كرتى ہيں، اس وقت مطالعه كى اسى اثر اندازى كو پيش كرنا مقصود ہے۔
ميرا تعلق ہندوستان كے صوبۂ اتر پرديش سے ہے، جہاں ضلع جونپور كے گاؤں جمدہاں ميں ميرى پيدائش اور نشو نما ہوئى، والد صاحب حافظ قرآن تهے، فارسى كے علاوه عربى كے ابتدائى درجات كى تعليم حاصل كى تهى، گهر ميں فارسى اور اردو كى كچه كتابيں تهيں جن كا ميں نے مطالعه كيا، ان ميں حكم عطائيه كا اردو ترجمه، بہشتى زيور، تعليم الدين اور حفيظ جالندهرى كى شاہنامۂ اسلام خاص طور سے قابل ذكر ہيں، ان كتابوں كو بار بار پڑهتا، اور گهر والوں كو سناتا بهى۔
گاؤں كى جامع مسجد ميں ايك لائبريرى تهى، جس ميں اردو كتابوں اور مشہور اردو رسائل كا اچها ذخيره تها، ميں نے ان سب كا مطالعه كيا، ان ميں واقدى كى فتوح الشام، فتوح العراق ، فتوح مصر وغيره كے اردو ترجمے بهى تهے جنہيں كئى بار پڑها، يه بات اس وقت نہيں معلوم تهى كه بحيثيت مؤرخ واقدى معتبر نہيں يا ثقاہت سے فروتر ہے، واقدى كى كتابوں ميں اتنا لطف آتا تها كه كبهى كبهى مسجد ميں فجر كے بعد مطالعه شروع كرتا اور ظہر كا وقت ہو جاتا اور ان كتابوں سے طبيعت نه بهرتى، اور جب اتنے طويل گهنٹوں تك مطالعه كرنے كے بعد اٹهتا تو سر ميں چكر آنے لگتا، گويا پڑهنے كا چسكا بچپن ہى سے پڑ گيا، بعد ميں يه دهن اور بڑهى، روشنى كافى ہو يا نا كافى، تنہائى ہو يا لوگوں كا شور وغل، گرمى ہو يا سردى بس پڑهتا چلا جاتا، بيٹهے بيٹهے تهك جاتا تو ليٹ كر پڑهتا۔
اس دوران گاؤں كے قريب كے مدرسه ضياء العلوم مانى كلاں ميں فارسى كى تعليم مكمل كى، نصاب كى اونچى كتابوں ميں گلستاں، بوستاں، اخلاق محسنى، انوار سہيلى، اور جامى كى يوسف زليخا شامل تهيں، فارسى كى درسيات يہيں ختم ہوگئى، بعد ميں ديوان حافظ اور مثنوى مولانا روم وغيره ذاتى مطالعه سے پڑهيں، يوسف زليخا خرافات كا مجموعه اور فحش وعرياں كتاب ہے، گلستاں ميں بهى فحاشى كے نمونے موجود ہيں،حيرت ہوتى ہے كه ان مسلَّم بزرگوں نے ايسى ناشائسته باتوں كو كيسے گوارا كيا۔
اس كے بعد ايك دوسرے مدرسه مولانا آزاد تعليمى مركز، اسرہٹه ميں عربى زبان چار درجوں تك پڑهى، صرف ونحو اور عربى كى درسيات ميں كسى حد تك پختگى پيدا كى، سنه 1978 ميں جبكه ميرى عمر پندره سوله سال كى تهى ندوة العلماء لكهنؤ ميں داخله ہوگيا، نئے آفاق كهلے، ذہن كے دريچے وا ہوئے، اور ذوق مطالعه كو تسكين ملى، اس دانش محل كى فضائے عقل پرور نے تنشيط دماغى كا كام كيا، طلبه كى انجمن جمعية الاصلاح نے مختلف درجات كے طلبه كے لئے ان كے معيار كى كتابوں كى فہرست تيار كى تهى، اس سے بڑى مدد ملى، مولانا سيد ابو الحسن على ندوى اور ديگر اساتذه كے مشوره سے بهى مفيد كتابيں پڑهيں، اور بسا اوقات بغير كسى كے مشوره كے بهى مطالعه كرتا، خدا نے جو فطرت وديعت كى ہے اور جس عقل سے نوازا ہے ان پر اعتماد بڑها، اور “خود كوزه وخود كوزه گر وخود گل كوزه ” كى مثال كى پيروى كى۔
ندوه كى طالبعلمى كے دوران عربى اور اردو كتابون كا مطالعه اس كثرت سے كرتا كه كهيل كود پسند نه آتا، تفريحات ميں دل نه لگتا، اور ايسے دن بهى گزرتے كه يه نه معلوم ہوتا كه آفتاب كب نكلا اور كب ڈوبا، اور اگر لكهنؤ شہر ميں كسى ضرورت سے كہيں جانا ہوتا تو كوئى نه كوئى كتاب ہاته ميں ہوتى اور راه چلتے انہيں پڑهتا، ياد پڑتا ہے كه كسى نئى كتاب كو ديكهكر يه حال ہوتا جس طرح ايك بهوكا خوش ذائقه كهانے پر گرتا ہے، اور جب تك لقمۂ تر جلد جلد حلق سے نيچے نہيں اتار ليتا اس كى تسكين نہيں ہوتى،تاليف ذات كے ابتدائى ايام تهے، ايك امنگ تهى اور كچه حاصل كرنے كا جذبه تها،انوكهے خواب ديكهے اور نئے تصورات قائم كئے،تقليد پرستى وروايت پسندى كو خير باد كہا، ہر بات كو دليل كى روشنى ميں پركهنے كا حوصله ہوا، بہت سے خيالات وافكار كى اصلاح كى، علم و صداقت كو مذہب ومسلك كى تنگنايوں ميں محصور كرنے كے گناه سے توبه كى، تكان ومشقت برداشت كرنے كى عادت پڑى، اور كتابوں سے محبت ہوگئى۔
اردو كى اہم كتابوں ميں علامه شبلى نعمانى، پروفيسر محمدحسين آزاد، ڈپٹى نذير احمد، سر سيد احمد خان، خواجه الطاف حسين حالى، مهدى افادى، مولانا سيد سليمان ندوى، مولانا ابو الكلام آزاد، مولانا عبد الماجد دريابادى، نياز فتحپورى، مجنوں گوركهپورى، رشيد احمد صديقى، پطرس بخارى، شوكت تهانوى، وغيره كى تصنيفات، مير تقى مير، مرزا غالب، علامه اقبال، جوش مليح آبادى وغيره كے دواوين كا مطالعه كيا، اور كچه كتابيں متعدد بار پڑهيں، اردو رسالوں ميں صرف دار المصنفين كا ماہنامه “معارف” پسند آيا، اخبار پڑهتا ضرور تها، ليكن اخباروں كا رسيا نه بن سكا۔
عربى زبان وادب كى كتابوں ميں كامل كيلانى، نجيب كيلانى، احمد امين، طه حسين، لطفى منفلوطى، مصطفى سباعى، على طنطاوى، اور تاريخ ادب عربى كى كتابيں پڑهيں، مصر كے اخبارات ورسائل، كويت سے شائع ہونے والے مجلات “المجتمع” اور “العربي” كا بطور خاص مطالعه كرتا، طه حسين كے فكرى انحرافات كے باوجود اس كى تحريروں كا عاشق ہوگيا، اور اس كے اسلوب كى لذت سے اب تك كام ودہن آشنا ہيں۔
علمى وفكرى كتابوں ميں امام ابن حزم كى محلى، ابن تيميه كے مختلف رسائل، مقدمه في اصول التفسير، الرد على المنطقيين، علامه ابن القيم كى اعلام الموقعين، شاه ولى الله دہلوى كى حجة الله البالغه اور ديگر تصنيفات، مولانا ابو الاعلى مودودى، مولانا ابو الحسن على ندوى، حسن البنا شہيد، سيد قطب شہيد، شيخ عبد الفتاح ابو غده، اور علامه يوسف القرضاوى كى كتابيں زياده تر زير مطالعه رہيں، مولانا مودودى اور يوسف قرضاوى كى معيارى تحرير اور زود نويسى پر استعجاب ہوتا، ايسا لگتا كه وه ہندوستانى ماؤں كى طرح ہيں كه ايك گود ميں اور ايك پيٹ ميں۔
سنه 1991 ميں انگلينڈ آگيا،پہلى بار زندگى ميں قريب سے غير مسلم تعليميافته طبقه اور مستشرقين سے رابطه قائم كرنے كے مواقع ميسر آئے، دين حنيف كے معترضين اور اسلامى علوم كے مراجع پر طعن كرنے والوں سے واقفيت كا براه راست تجربه ہوا، آكسفورڈ كى علمى فضا ميں سانس لى، سيميناروں ميں شركت كى، اپنے علمى ورثه كو ايك نئے سياق ميں سمجهنے اور ايك نئى تہذيب سے تقابل كرنے كے مرحله سے گزرا، اور جديد فلسفه ومنطق، تاريخ اسلام، ہندوستانى كى علمى وثقافتى تاريخ، اور رجال وعلل كى كتابوں پر خصوصى توجه دى، يہاں واضح طور پر امام بخارى اور امام مسلم كى عظمت كے پہلو روشن ہوئے، يونانى منطق وفلسفه پر ابن تيميه كى ضرب كارى كى اہميت كا اندازه ہوا، ابن جوزى كى صيد الخاطر، اور امام ذہبى كى سير اعلام النبلاء سے غير معمولى حد تك متاثر ہوا، اور يه دونوں كتابيں اب تك ميرى بہترين كتابوں ميں سے ہيں۔
آكسفورڈ آنے كے بعدعلامه حميد الدين فراہى كى تصنيفات: مقدمه في تفسير نظام القرآن، دلائل النظام، أساليب القرآن، مفردات القرآن، جمہرة البلاغة، الرأي الصحيح فيمن هو الذبيح، إمعان في أقسام القرآن، اور تفسيرى رسائل كو بغور اور بار پڑها، ان كے نظريۂ نظام القرآن كو سمجها، ان كى تحريروں سے قرآن ميں تدبر كا شوق پيدا ہوا، اور كتاب الہى كى مرجعيت اور مركزيت كا مفہوم واضح ہوا، مصحف شريف كے حواشى پر ثبت كرده مولانا فراہى كى تعليقات سے بہت فائده ہوا، ان ميں بعض جملے اختصار كے باوجود ايسے جامع ومانع نظر آئے جيسے چنے كى دال پر قل هو الله لكهى ہو۔
مطالعه كے مراحل ميں ترقى كرنے كے ساته اس يقين ميں اضافه ہوتا گيا كه علم جغرافيائى، لسانى، نسلى اور مذہبى ومسلكى حد بنديوں سے ماوراء ہے، اس پر دنيوى واخروى يا قديم وجديد كى تقسيمات كا ٹهپه لگانا نادانى وجہالت ہے، علم كى منزل حقيقت تك رسائى ہے، اور حقائق خدا كے تخليق كرده ہيں، ان كى كوئى مصنوعى درجه بندى نہيں، يہيں سے عالم محقق ومجتہد كى قدر نگاہوں ميں بڑه گئى، خواه اس عالم كا تعلق مشرق سے ہو يا مغرب سے، اور خواه اس كا مسلك ومشرب كچه بهى ہو، امام ابن حزم، امام ابن تيميه اور مولانا فراہى سے عقيدت بڑهى، كيونكه ان كے يہاں جو افكار باكره مع دلائل وبراہين باہره ملے اس كى مثال كسى كے يہاں نظر نہيں آئى۔
عربى، اردو ، فارسى اور انگريزى كى جن كتابوں كا مطالعه كيا ان كى فہرست طويل ہے، اور ان كا تعلق علوم وفنون كى مختلف شاخوں سے ہے، ان ميں تين قسم كى كتابيں ايسى ہيں جن كے مطالعه سے صداقت كى يافت اورعلمى كاموں كى انجام دہى ميں خاص مدد ملى، اور بحث و تحقيق كى صلاحيت ميں نكهار پيدا ہوا، سر دست ان كى تفصيل پر اكتفا كرتا ہوں:
1- ادبى وتنقيدى كتابوں كے مطالعه سے الفاظ واساليب كے تنوع كى خوبيوں سے واقفيت ہوئى، سخن سنجى اور نكته آفرينى كا ہنر معلوم ہوا، بلبل كى زبان ، گل كے بيان اور مظاہر فطرت كى سرگوشى سے آشنائى ہوئى، زبان وبيان كى باريكياں ذہن نشيں ہوئيں ،حسن كى مشاطه گرى سيكهى، اور كمال وجمال كى قدر دانى ميں فياضى كى اہميت كا اندازه ہوا، ، جب بهى كوئى كتاب پڑهتا تو الفاظ واسلوب پر غور كرتا ، مختلف مصنفين كے طرز نگارش كى خوبيوں اور خاميوں پر توجه كرتا ، مطالعه كے دوران ذہن اس فكر ميں رہتا كه مؤلف كومعانى كى ادائيگى پر كتنى قدرت ہے؟ زبان مناسب ہے كه نہيں؟ الفاظ كا انتخاب كس درجه كا ہے؟ اس تربيت كا يه فائده ہوا كه اپنى تحريروں ميں بهى صاف ستهرى زبان اور متوازن اسلوب اختيار كرنے كى كوشش كى، اور صحافيانه اور واعظانه طريقۂ بيان سے حتى الامكان احتياط برتى۔
2- جديد وقديم فلسفه ومنطق كى كتابوں كے مطالعه سے انسانى عقلوں كے حدود كا علم ہوا، استدلال كى قوت وكمزورى معلوم ہوئى، بات كو مرتب انداز سے پيش كرنے كا سليقه ہوا، يه ديكهكر سخت رنج ہوا كه سنجيده علمى موضوعات پر بهى ہمارے اہل قلم مطلوبه مواد كى فراہمى كے بغير لكهتے ہيں، انداز مناظرانه يا خطيبانه ہوتا ہے، باتيں غير مرتب ہوتى ہيں، ان تفصيلات اور غير ضرورى امور كى بهرمار ہوتى ہے جن كا موضوع سے كوئى تعلق نہيں ، اور جب خود لكهتا ہوں تو اپنے مراجع كے افكار وخيالات منطق وفلسفيانه اصولوں پر پركهنے كى كوشش كرتا ہون، كسى ايسى بات كو قبول كرنے سے ابا ہوتا ہے جس كى كوئى علمى دليل نه ہو ، كوشش كرتا ہوں كه ہر تحرير ميں مدعا اور دليل كے مابين منطقى ربط ہو، اور اظہار رائے سے زياده تشكيل رائے پر وقت صرف كرتا ہوں۔
3- تاريخى كتابوں كے مطالعه سے اندازه ہوا كه واقعات ومشاہدات كے بياں كرنے ميں كس طرح عام طور سے لوگ مبالغه، جهوٹ، بلكه افترا پردازى سے كام ليتے ہيں،حديث كى كتابيں بهى اسى زمره ميں آتى ہيں، محدثين كا طريقۂ كار تحقيق ونقد كے اعلى معيار پر ہے، مگر بعد كى صديوں ميں اس سے استفاده كى كوشش نہيں كى گئى، اور سيرت وسوانح، تاريخ اور مواعظ كى كتابيں رطب ويابس سے پر ہوگئيں، اس لئے اس طرح كے مواد كو ايك مؤرخ كى حيثيت سے جانچنے كى كوشش كرتا ہوں، مستند حواله جات پيش كرنے كى جانب توجه ہوئى، اور غير مستند حوالوں سے احتراز كرنے كى عادت ہوئى۔

ان مصنفيں سے خود كو ہم آہنگ نہيں پاتا جو عقل وفكر كو پابند سلاسل كرنے كى جد وجہد كرتے ہيں، جو اپنے ذوق ومشرب كى بنياد پر كتابوں كو پسند كرتے ہيں يا ان سے نفرت كرتے ہيں، جو رسم ورواج يا خرافات كے دائره ميں بند ہيں، جن كى تحريروں ميں سنجيدگى افراط كى حد سے متجاوز ہوكر چيستاں بن جاتى ہے يا افسرده كن ہو جاتى ہے، اور جو صرف چبائے ہوئے نوالوں كو دہراتے رہتے ہيں، كيا كيا جائے كه اس وقت ايسے ہى لوگون كى بہتات ہے جو” تيلى كے بيل” كى طرح ہيں، اور جو ابالى كهچڑى خود كهاتے ہيں اور دوسروں كو بهى كهلانے پر مصر ہيں۔
اسى طرح ان مصنفين سے سخت كوفت ہوتى ہے جو ہر رائے وفكر كو ٹهوس حقائق سمجهتے ہيں، اور ان ميں كسى تبديلى يا اصلاح كے متحمل نہيں، يه لوگ انسانى فكر كے ارتقاء كے دشمن ہيں، انہيں يه اندازه نہيں كه سيبويه كى الكتاب سے پہلے عربى نحو نشو نما كے كن مراحل سے گزرى ہے، امام بخارى ومسلم سے پہلے فن حديث كن عظيم انقلابات كا رہين منت ہے، امام بخارى ومسلم كى دونوں كتابيں صرف دو مختصر كتابيں نہيں بلكه اس عہد تك تاريخ، سيرت، مغازى اور حديث ميں جو ارتقاء ہوا ہے، اور ان موضوعات پر جو سيكڑوں گرانقدر تصنيفات وجود ميں آئيں ان سب كى نمائنده ہيں، اوران دونوں كتابوں كے سمجهنے كے لئے ان مختلف موضوعات كے معتد به لٹريچر سے واقف ہونا ضرورى ہے، صحيحين كى شرحوں ميں ان تمام مراجع سے استفاده كى بالكل كوشش نہيں ہوئى، حافظ ابن حجر عسقلانى نے فتح البارى ميں حديث وسيرت وغيره كى كتابوں كى طرف كسى حد تك رجوع كيا ہے، اسى لئے ان كى شرح عام شرحوں سے ممتاز ہے۔
افسوس كه عام مسلمانوں ميں مطالعه سے بے نيازى وبيزارى ہے، آج كل علمى اداروں ميں بهى سياسيات كا اس قدر غلبه ہے كه علم وادب سے اعتنا كو طفلانه مشغله سمجها جاتا ہے،اور جو سياست باز نہيں وه سياست كى لونڈى يعنى صحافت كے دام ميں گرفتار ہيں، اور ملك كا ملك اس عام بد تميزى ميں مبتلا ہے، آج دنيا كو كس قدر ضرورت ہے غير سياسى انسانوں كى، ان فرزانوں كى جن كا اوڑهنا بچهونا علم ہو۔
اس كا مطلب يه نہيں كه انسان اپنے ماحول اور زمانه سے رشته منقطع كرلے، ايك خلاق مصنف خلاء ميں نہيں رہتا، نه كسى ميوزيم ميں سانس ليتا ہے، بلكه وه اپنے معاشره اور اپنے زمانه سے مربوط ہوتا ہے، اس كے ماحول كے انقلابات اس كے افكار وخيالات ميں منعكس ہوتے ہيں۔ عہد حاضر كى سياست وصحافت كا نه علم سے تعلق ہے اور نه حالات وماحول سے، يه بالعموم جہالت، نفاق، تدليس اور تضليل پر قائم ہے.
 
Top