• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

معراج جسمانی تھی یا خواب تھا؟

وجاہت

رکن
شمولیت
مئی 03، 2016
پیغامات
421
ری ایکشن اسکور
43
پوائنٹ
45
اس ٹاپک پر @شاکر بھائی نے


بہت خوبصورت دلائل دیے ہیں

اسی پر مزید بات کرتے ہیں-

معراج کا کوئی چشم دید شاہد نہیں یہ رسول الله کو جسمانی ہوئی ان کو عین الیقین کرانے کے لئے اور ایمان والے ایمان لائے اس کا ذکر سوره النجم میں بھی ہے

اس واقعہ پر کئی آراء اور روایات ہیں جن میں سے کچھ مباحث کا یہاں تذکرہ کرتے ہیں

معراج جسمانی تھی یا خواب تھا؟

رسول الله صلی الله علیہ وسلم آسمان پر گئے وہاں سے واپس آئے اور اسکی خبر مشرکین کو دی انہوں نے انکار کیا کہ ایسا ممکن نہیں اس پر سوره الاسراء یا بنی اسرائیل نازل ہوئی اس کی آیت ہے کہ مشرک کہتے ہیں کہ

وَقَالُوا لَنْ نُؤْمِنَ لَكَ حَتَّى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْأَرْضِ يَنْبُوعًا (90) أَوْ تَكُونَ لَكَ جَنَّةٌ مِنْ نَخِيلٍ وَعِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْأَنْهَارَ خِلَالَهَا تَفْجِيرًا (91) أَوْ تُسْقِطَ السَّمَاءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَيْنَا كِسَفًا أَوْ تَأْتِيَ بِاللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ قَبِيلًا (92)
أَوْ يَكُونَ لَكَ بَيْتٌ مِنْ زُخْرُفٍ أَوْ تَرْقَى فِي السَّمَاءِ وَلَنْ نُؤْمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتَّى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتَابًا نَقْرَؤُهُ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَسُولًا (93)


ہم ایمان نہیں لائیں گے جب تک تم زمین پھاڑ کر نہریں نہ بنا دو، انگور و کھجور کے باغ نہ لگا دو ، آسمان کا ٹکڑا نہ گرا دو یا الله اور کے فرشتے آ جائیں یا تمہارا گھر سونے کا ہو جائے یا تم آسمان پر چڑھ جاؤ اور وہاں سے کتاب لاؤ جو ہم پڑھیں! کہو: سبحان الله! کیا میں ایک انسانی رسول کے علاوہ کچھ ہوں؟

بعض لوگوں نے معراج کا انکار کیا اور دلیل میں انہی آیات کو پیش کیا

آسمان پر چڑھنے کا مطلب ہے کہ یہ عمل مشرکین کے سامنے ہونا چاہیے کہ وہ دیکھ لیں جیسا شق قمر میں ہوا لیکن انہوں نے اس کو جادو کہا – اگر وہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو آسمان پر جاتا دیکھ لیتے تو کیا ایمان لے اتے؟ وہ اس کو بھی جادو کہتے- خواب کے لئے لفظ حَلَم ہے اسی سے احتلام نکلا ہے جو سوتے میں ہوتا ہے – رویا کا مطلب دیکھنا ہے صرف الرویا کا مطلب منظر ہے جو نیند اور جاگنے میں دونوں پر استمعال ہوتا ہے

کتاب معجم الصواب اللغوي دليل المثقف العربي از الدكتور أحمد مختار عمر بمساعدة فريق عمل کے مطابق

أن العرب قد استعملت الرؤيا في اليقظة كثيرًا على سبيل المجاز



بے شک عرب الرویا کو مجازا جاگنے (کی حالت) کے لئے بہت استمعال کرتے ہیں


سوره بني إسرائيل میں ہے

{وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلاَّ فِتْنَةً لِلنَّاسِ}

[الإسراء: 60]

اور ہم نے جو الرویا (منظر) تمھارے لئے کیا جو تم کو دکھایا وہ صرف لوگوں کی آزمائش کے لئے تھا


صحیح ابن حبان میں ابن عباس رضی الله عنہ کا قول ہے کہ

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ الطَّائِيُّ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ بن عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلَّا فِتْنَةً لِلنَّاسِ} قَالَ هِيَ رُؤْيَا عَيْنٍ أُرِيَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ



یہ منظر کشی یہ آنکھ سے دیکھنے پر ہے جو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے معراج کی رات دیکھا


بعض لوگوں نے کہا معراج ایک خواب تھا مثلا محمد بن اسحاق کہتے تھے کہ معراج ایک خواب ہے تفسیر طبری میں ہے

حَدَّثَنَا ابْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ: ثنا سَلَمَةُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ: ثني بَعْضُ آلِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ عَائِشَةَ، كَانَتْ تَقُولُ: مَا فُقِدَ جَسَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَكِنَّ اللَّهَ أَسْرَى بِرُوحِهِ


محمد نے کہا کہ اس کو بعض ال ابی بکر نے بتایا کہ عائشہ کہتیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا جسد نہیں کھویا تھا بلکہ روح کو معراج ہوئی


ابن اسحاق اس قول کو ثابت سجھتے تھے لہذا کہتے

حدثنا ابن حميد، قال: ثنا سلمة، قال ابن إسحاق: فلم ينكر ذلك من قولها الحسن أن هذه الآية نزلت (وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلا فِتْنَةً لِلنَّاسِ) ولقول الله في الخبر عن إبراهيم، إذ قال لابنه (يَا بُنَيَّ إِنِّي أَرَى فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَاذَا تَرَى) ثم مضى على ذلك، فعرفت أن الوحي يأتي بالأنبياء من الله أيقاظا ونياما، وكان رسول صلى الله عليه وسلم يقول: “تَنَامُ عَيْني وَقَلْبي يَقْظانُ” فالله أعلم أيّ ذلك كان قد جاءه وعاين فيه من أمر الله ما عاين على أيّ حالاته كان نائما أو يقظانا كلّ ذلك حقّ وصدق.


ابن اسحاق نے کہا : عائشہ رضی الله عنہا کے اس قول کا انکار نہیں کیا … انبیاء پر الوحی نیند اور جاگنے دونوں میں اتی ہے اور رسول الله کہتے میری آنکھ سوتی ہے دل جاگتا ہے


کتاب السيرة النبوية على ضوء القرآن والسنة از محمد بن محمد بن سويلم أبو شُهبة (المتوفى: 1403هـ) کے مطابق

وذهب بعض أهل العلم إلى أنهما كانا بروحه- عليه الصلاة والسلام- ونسب القول به إلى السيدة عائشة- رضي الله عنها- وسيدنا معاوية- رضي الله عنه- ورووا في هذا عن السيدة عائشة أنها قالت: «ما فقدت «1» جسد رسول الله صلّى الله عليه وسلّم، ولكن أسري بروحه» وهو حديث غير ثابت، وهّنه القاضي عياض في «الشفا» «2» سندا ومتنا، وحكم عليه الحافظ ابن دحية بالوضع


اور بعض اہل علم اس طرف گئے ہیں کہ معراج روح سے ہوئی اور اس قول کی نسبت عائشہ اور معاویہ رضی الله عنہم سے کی جاتی ہے رضی الله عنہم اور عائشہ رضی الله عنہا سے روایت کیا جاتا ہے کہ انہوں نے کہا رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا جسد کہیں نہیں کھویا تھا بلکہ معراج روح کو ہوئی اور یہ حدیث ثابت نہیں ہے اس کو قاضی عیاض نے کمزور کیا ہے الشفا میں سندا اور متنا اور اس پر ابن دحیہ نے گھڑنے کا حکم لگایا ہے

اگر یہ روایت گھڑی ہوئی ہے تو اس کا بار محمد بن اسحاق پر ہے کہ نہیں؟

ابن اسحٰق باوجود اس کے کہ اس میں انہوں نے نام تک نہیں لیا جس سے سنا اس قول کا دفاع کرتے تھے -

اسی طرح کا ایک قول معاویہ رضی الله عنہ سے منسوب ہے لیکن وہ منقطع ہے کیونکہ اس کا قائل يعقوب بن عتبة بن المغيرة بن الأخنس المتوفی ١٢٨ ھ ہے جس کی ملاقات معاوية المتوفی ٦٠ ھ سے نہیں بلکہ کسی بھی صحابی سے نہیں

اس کا ذکر الشیخ محمد صالح المنجدنے بھی اپنے فتویٰ میں


کیا-

@اشماریہ بھائی کیا کہیں گے آپ محمد بن اسحاق کے بارے میں-
 
شمولیت
ستمبر 21، 2015
پیغامات
2,648
ری ایکشن اسکور
741
پوائنٹ
290
شاکر بهائی کے دلائل خوبصورت تو نہیں لگے لیکن قوی اور ابہام سے پاک ضرور لگے ۔ تشفی بخش بهی لگے ۔
جزاہ اللہ خیرا
ویسے "خوبصورت" دلائل نہیں هوتے بلکہ پیش کرنیکا انداز خوبصورت کہا جاسکتا ۔ سادہ سا ۔ دل پذیر ۔۔۔ یعنی مغالطہ میں ڈال دینے والا نہیں۔
 

وجاہت

رکن
شمولیت
مئی 03، 2016
پیغامات
421
ری ایکشن اسکور
43
پوائنٹ
45
ویسے "خوبصورت" دلائل نہیں هوتے بلکہ پیش کرنیکا انداز خوبصورت کہا جاسکتا
پلیز بھائی @ابوعمر بھائی کو بھی بتا دیں- وہ بھی یہاں یہ لفظ استعمال کر رہے ہیں -

ماشاء اللہ، بہت خوبصورت دلائل اور اندازِ بیاں بھی
اللہ ہم سب کو دین سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین

محدث میگزین پر بھی یہاں یہ الفاظ استعمال ہو رہے ہیں - پلیز ان کی بھی اصلاح کر دیں -

آج سے کم و بیش نصف صدی قبل دینی جماعتوں نے ایسے ہی پُرکشش اور خوبصورت دلائل کی بنا پر سیاست کے میدانِ خارزار میں قدم رکھا

امید ہے کہ آپ سب کی اصلاح کر دیں گے کہ

ویسے "خوبصورت" دلائل نہیں هوتے -


 
Top