• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

معمولی نیکی کو بھی حقیر نہ جانو

ماریہ انعام

مشہور رکن
شمولیت
نومبر 12، 2013
پیغامات
498
ری ایکشن اسکور
373
پوائنٹ
164
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

کتاب الادب کے دوسرے باب ‘ باب البر والصلۃ کی دسویں حدیث کچھ یوں ہے
وعن ابی ذر رضی اللہ عنہ قال :
قال رسول اللہ ﷺ لا تحقرن من المعروف شیئا ‘ ولو ان تلقاک اخاک بوجہ طلق ( مسلم)


ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
بھلائی میں سے کسی چیز کو ہرگز حقیر مت سمجھو خواہ ( اتنا ہی ہو ) کہ تو اپنے بھائی کو کھلے چہرے کے ساتھ ملے (مسلم)
 

ماریہ انعام

مشہور رکن
شمولیت
نومبر 12، 2013
پیغامات
498
ری ایکشن اسکور
373
پوائنٹ
164
نیکی کا کوئی بھی کام معمولی نہیں ہوتا ۔۔۔اللہ تعالی فرماتے ہیں

وما تفعلوا من خیر فان اللہ بہ علیم
اور تم جو بھی بھلائی کرو اللہ تعالی اسے جاننے والے ہیں

فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہ
پس جو شخص ایک ذرے کے برابر بھلائی کرے گا وہ اسے دیکھ لے گا

وما تفعلوا من خیر یعلمہ اللہ
اور تم جو بھی بھلائی کرو اللہ تعالی اسے جانتے ہیں

تینوں آیات میں بھلائی کے لیے نکرہ اسم استعمال کیا گیا ہے ۔۔اور نکرہ کا اطلاق کسی بھی انجانی اور معمولی چیز پر ہوتا ہے۔۔دو آیات میں خیر کے ساتھ من بھی آیا ہے۔۔۔۔اور یہ من تبعیضیہ ہے یعنی کسی بھی بھلائی میں سے کچھ بھی تم کرو۔۔۔۔گویا کسی بھی نیکی کو یا نیکی کے معمولی سے حصے کو بھی حقیر نہیں جاننا چاہیے ۔۔۔ہو سکتا ہے یہی معمولی نیکی ہماری نجات کا سبب بن جائے
 

ماریہ انعام

مشہور رکن
شمولیت
نومبر 12، 2013
پیغامات
498
ری ایکشن اسکور
373
پوائنٹ
164
دخَلَتِ امرأةٌ النَّارَ في هرَّةٍ ربَطَتْها فلَمْ تَسْقِها ولَمْ تُطعِمْها ولَمْ تُرسِلْها تأكُلُ مِن خَشاشِ الأرضِ حتَّى ماتت في رباطِها ودخَلَتْ مُومِسةٌ الجنَّةَ إذ مرَّتْ على كلبٍ على طَوِيٍّ يُريدُ الماءَ فلا يقدِرُ عليه فنزَعَتْ خُفَّها أو مُوقَها فربَطَتْه في خِمارِها فنزَعَتْ له فسقَتْه حتَّى أَرْوَتْه
الراوي: أبو هريرة المحدث: الطبراني - المصدر: المعجم الأوسط - الصفحة أو الرقم: 1/169​

حديث ملاحظہ کیجیے ۔۔۔اک عورت ایک معمولی بلی کی وجہ سے آگ کا ایندھن بن رہی ہے جبکہ دوسری عورت جو زانیہ بھی ہے محض ایک کتے کو جو ایک نجس جانور ہے پانی پلانے پر جنت میں داخل کی جا رہی ہے۔۔۔۔اللہ تعالی ہماری عبادتوں سے غنی ہیں۔۔۔ وہ ہمارے طویل سجدے یا ہماری محرابیں نہیں دیکھتے۔۔بلکہ ہمارے دل اور نیتیں دیکھتے ہیں۔۔۔ہو سکتا ہے حسن نیت کی وجہ سے ایک معمولی عمل ہماری بخشش کرا دے اور نیت کی خرابی کے باعث بڑے بڑے اعمال اکارت چلے جائیں​
لن ینال اللہ لحومھا ولا دماءھا ولکن ینالہ التقوی منکم
 
Top