1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مفسر قرآن حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ منہج سلف کےبہترین ترجمان

'تازہ مضامین' میں موضوعات آغاز کردہ از عبد الرشید, ‏جولائی 14، 2020۔

  1. ‏جولائی 14، 2020 #1
    عبد الرشید

    عبد الرشید رکن ادارہ محدث
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    5,243
    موصول شکریہ جات:
    9,944
    تمغے کے پوائنٹ:
    667

    مفسر قرآن حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ
    منہج سلف کےبہترین ترجمان

    تحریر:عبدالعلیم بن عبدالحفیظ سلفی /سعودی عرب
    الحمد لله وحده والصلاة والسلام على من لا نبي بعده, و بعد:
    ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سےمروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا" إن العلماء ورثة الأنبياء، إن الأنبياء لم يورثوا ديناراً ولا درهما، وأورثوا العلم، فمن أخذه؛ أخذ بحظ وافر" "علماء انبیاء کے وارث ہیں، اور نبیوں نے اپنا وارث درہم و دینار کا نہیں بنایا ،بلکہ علم کا وارث بنایا ،تو جس نے علم حاصل کیا اس نے ایک وافر حصہ لے لیا۔"( ابوداود/3641، ترمذی /2682 ، ابن ماجہ223 ، احمد:5/196 ، علامہ البانی نے اسے صحیح قرار دیاہے )۔
    بلا شبہ علماء کی متنوع دینی ، علمی اوردعوتی خدمات ان کے نبی کی وراثت کے سچے حقدار ہونےکی گواہی دیتی ہیں ، اور قدرومنزلت اور خدمت میں ان علماء کا مقام اور بڑھ جاتاہے جنہوں ، فتنوں کے دور میں ثابت قدمی کے ساتھ انہیں ختم کرنے کی سعی کی ، اور کسی بھی طرح کی عملی وفکری گمراہی کے سامنے سینہ سپر ہوکرکھڑے ہوگئے ۔ بسا اوقات ایسا ہوتاہے کہ آدمی کی پوری زندگی علم وعمل ، تعلیم وتعلم اور درس وتدریس میں گزرجاتی ہے ،اور دنیامیں اس کا وہ عمل جاوداں ہوجاتاہے جو دفاعی اندازمیں دین وعقیدہ کی نصرت کے لئے خاص ہوتاہے، اور بسا اوقات اس کی زندگی کا حرف حرف سنہرے اندازمیں تاریخ کے اوراق پر مرصع ہوتاہے ۔
    حافظ صلاح الدین یوسف ہمارے دور کے انہیں علماء میں سے ایک ہیں جن کی خدمات کا نہ یہ کہ ایک عالم معترف ہے بلکہ ان کی دینی خدمات کا زمزم لوگوں کے لئے علمی ودینی سیرابی کا چشمئہ صافی ہے ۔
    حافظ صلاح الدین یوسف کا نام میرے لئے اس وقت سے معروف ہے جب میں جامعہ سلفیہ بنارس کے ابتدائی درجہ کا طالب تھا ، اس وقت برصغیر کے چند سلفی علماء کا نام ہمارے لئے بڑے ہی تعظیم اور تکریم کا ہوا کرتاتھا ، جن سے ہم جیسے چھوٹے اور بے وقعت طلباء بھی بے انتہاء متأثرتھے ،جن میں شیخ صفی الرحمن مبارکپوری بجرڈیہہ بنارس کے مناظرہ میں اہل بدعت پر فتح اور الرحیق المختوم کی عالمی مقبولیت کی وجہ سے ، مولانا مختار احمد ندوی بے انتہاء دینی خدمات کی وجہ سے جن میں مختلف اداروں اور جامعات کی سرپرستی ، مجلہ البلاغ کی تحریریں اور دیگر دینی خدمات شامل ہیں ،خطیب الاسلام عبد الر‌ؤوف جھنڈانگری ، ڈاکٹر محمد لقمان سلفی ، مولانا عبداللہ مدنی جھنڈانگری ، رحمہم اللہ اورشیخ صلاح الدین مقبول حفظہ اللہ ، وغیرہم خصوصی طور پر قابل ذکرہیں ۔ انہیں میں سے نہایت ہی قابل قدر نام حافظ صلاح الدین یوسف کا ہے ۔ فجزاھم اللہ خیرالجزاء ۔
    یوں تو ان کی بے شمار دینی خدمات ہیں جن میں تصنیف وتالیف اور بحث تحقیق کا خاص اورقابل ذکر لائق قدر حصہ ہے ،لیکن یہاں میں سردست ان کی صرف دو کتابوں سے متعلق اپنے خیالات قلمبندکروں گا، جن سے میں تعلیمی ، تدریسی اور دعوتی زندگی میں خاصا متأثر رہاہوں ۔اور وہ ہیں " خلافت و ملوکیت :تاریخی و شرعی حیثیت" اور "احسن البیان"۔
     
  2. ‏جولائی 14، 2020 #2
    عبد الرشید

    عبد الرشید رکن ادارہ محدث
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    5,243
    موصول شکریہ جات:
    9,944
    تمغے کے پوائنٹ:
    667

    اپنے بعض اساتذہ کی رہنمائی پر میں نے طالبعلمی کے ابتدائی زمانے میں ہی " خلافت وملوکیت :تاریخی و شرعی حیثیت" کا مطالعہ کیا تھا ،جو اب تک میرے لئے نہ یہ کہ ایک خوش کن احساس ہے بلکہ میری فکری نشو ونمامیں اللہ رب العزت کی توفیق کے ساتھ میرے شیخ محترم احمد مجتبی مدنی حفظہ اللہ اور ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری رحمہ اللہ کی ذاتی رہنمائی اور شیخ ابن باز کی سلیس عقائد پرمبنی تحریروں کے بعد اس کتاب کا بہت بڑا حصہ رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ منہج نقدو رد جیسے فن کو سمجھنے کے لئے میں نے اسی کتاب کا انتخاب کیا ، جس نے میرے کچے ذہن پر نہایت ہی تابناک اورانمٹ نقش چھوڑے۔ آگے چل کر ہمارے عقائد وادیان کے دو مؤقر اساتذہ کی تعلیم اور رہنمائی نے اسے مزید مضبوطی عطا کی ، اور وہ ہیں ڈاکٹر محمد ابراہیم مدنی بنارسی اور شیخ احسن جمیل مدنی بنارسی حفظہما اللہ ۔فجزاھما اللہ خیرالجزاء ۔
    جب میں نے اس کتاب کا مطالعہ شروع کیا تو درسی کتابو ں کے علاوہ دوسری کسی کتاب کی طرف نہیں دیکھا یہاں تک اس کو مکمل نہ کرلیا ۔ سچ پوچھئے تو یہ کتاب میرے لئے دین کے نام پر گمراہی سے بچاؤ اور فکری کج روی کو سمجھنے اور اس کے اصول نقد وردکے لئے آج بھی مبتداء اور سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے ۔
     
  3. ‏جولائی 14، 2020 #3
    عبد الرشید

    عبد الرشید رکن ادارہ محدث
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    5,243
    موصول شکریہ جات:
    9,944
    تمغے کے پوائنٹ:
    667

    اس کتاب کی تالیف اس وقت کی گئی تھی جب خلافت کے نام پر پھیلنے والے فتنے نے عصمت صحابہ کو تارتار کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیاتھا، بلکہ ایک مخصوص جماعتی فتنہ اپنے عروج کی طرف گامزن تھا ، ایسے وقت میں مولانا مودووی رحمہ اللہ کی کتاب"خلافت وملوکیت" ( جس کے رد میں مذکورہ کتاب کو ترتیب دیاتھا ) جلتی پر تیل کا کام کررہی تھی ،۔فکری بھٹکاؤکے شکار اہل سنت کے بے شمار افراد کے علاوہ اہل رفض وتشیع کے لئے یہ کتاب ایک مضبوط قلعہ کی طرح تھی ۔ بلکہ اہل رفض وتشیع کے لئے اپنے باطل نظریات وافکار کی ترویج کے لئے مہمیزکا کام کررہی تھی ۔
    یوں تو مولانا مودودی کی کتاب کی رد میں اور بھی تالیفات معرض وجود میں آ‏ئیں لیکن مذکورہ کتاب ان میں سب سے بہترین مفصل اور تشفی بخش تھی ، اور یقین جانئے کہ اس کتاب کی وہی حیثیت وضرورت آج بھی باقی ہے جو پہلے دن تھی ۔
    میں جب بھی فکری گمراہیو ں کے رد میں اسلاف کی خدمات کا تصور کرتاہوں ،خاص طور سے امام احمد بن حنبل ، امام بخاری ، ابو الحسین الملطی ،امام ابن تیمیہ ، امام ابن القیم ، اما م لالکائی ،امام ابو العزالحنفی ،شیخ الاسلام محمدبن عبد الوہاب اور علامہ احسان الہی ظہیروغیرہم رحمہم اللہ کی تو حافظ صلاح الدین یوسف اور ان کی اس کتاب کی طرف ذہن ضرور جاتاہے ۔ کیونکہ ان کی یہ کتاب بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے خلاف بڑھتے فتنوں کو روکنے کے لئے پوری جماعت اہل حدیث کی طرف سے فرض کفایہ کی ادائیگی تھی ۔ اللہ رب العزت موصوف کو اس کا بہترین بدلہ دے ۔
     
  4. ‏جولائی 14، 2020 #4
    عبد الرشید

    عبد الرشید رکن ادارہ محدث
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    5,243
    موصول شکریہ جات:
    9,944
    تمغے کے پوائنٹ:
    667

    حافظ صاحب کی دوسری کتاب جس سے میں بہت زیادہ متاثر ہوا " احسن البیان " ہے جو اردو زبان میں کلام اللہ کی مختصرمگر بہترین اور جامع تشریح ہے ۔ میں اپنی ابتدائی تعلیمی دور سے جب سے قرآن مجید کا ترجمہ اور تفسیر پڑھنا شروع کیا اب تک اس کتاب سے بےنیاز نہ ہو سکاہوں ۔ طالبعلمی کے دور میں ترجمہ وتفسیر کی معرفت اور امتحانات کی تیاری کے لئے ، تدریس اور تالیف وتصنیف اور ترجمہ کے دور میں اور اب جب کہ دعوتی اور تصنیفی وتحقیقی کاموں سے منسلک ہوں ہمیشہ اس سے استفادہ کرتارہتاہوں ، بلکہ حسب ضرورت موبائل میں اکثر اس کا پروگرام ڈاؤنلوڈ کرکے رکھتاہوں ۔ اکثر ایسا ہوتاہے کہ عربی تفسیری مراجع جیسے تفسیر ابن کثیر ، تفسری طبری ، معالم التنزیل اور تفسیر سعدی وغیرہ سے مراجعت کے بعد احسن البیان کی طرف رجوع کرتاہوں تاکہ اس مسئلے پر مکمل اطمینان ہوسکے ۔ اور کتب تفاسیر سے شغف رکھنے والے یہ بخوبی جانتے ہیں کہ احسن البیان دراصل انہیں کتب کا نخبہ اور خلاصہ ہے، جس کے اندران کتب کی روایات و بیانات کو تنقیح وتصحیح اور چھانٹ پھٹک کے بعدنہایت ہی بہترین ترتیب کے ساتھ اور عام فہم زبان میں اس میں شامل کیاگیا ہے ۔
    احسن البیان کی ایک بہت بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس سے علماء وطلباء کے علاوہ عام اردو داں طبقہ بھی مکمل طریقے سے مستفید ہوتاہے، بلکہ اب تو اس کا کئی زبانوں میں ترجمہ کے بعد اس زبان کے جاننے والے اس سے فائدہ اٹھاتےہیں ۔
    دعوتی کاموں سے منسلک ہونےکی وجہ سے کئی بار ایسا ہوتاہے کہ اچانک کہیں خطبہ جمعہ یا خطاب عام کی ضرورت پیش آجاتی ہے، ایسے موقع سے کسی متعین موضوع سے متعلق مواد بھی مستحضر نہیں ہوتا، اور قرآن مجید کی بعض آیات کے مفہوم ومطلب کے لئے یقینی اور تشفی بخش معلومات ضروری ہوتی ہیں ،ایسے مواقع سے آس پاس یا پھرموبائل وغیرہ میں اس تفسیر کا ہونا بہت بڑی غنیمت ہے ۔
     
  5. ‏جولائی 14، 2020 #5
    عبد الرشید

    عبد الرشید رکن ادارہ محدث
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    5,243
    موصول شکریہ جات:
    9,944
    تمغے کے پوائنٹ:
    667

    آج جب حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ اس دنیا میں نہیں رہے ، بار بار ان کا تصور ذہن میں آرہاہے ،اور بار بارسامنے ٹیبل پرپڑے "احسن البیان " کے نسخے کو دیکھ کر ان کے لئے زبان پر رب ذوالجلال والاکرام کے حضوررحمت ومغفرت کی دعاء جاری ہو جارہی ہے ۔ اللهم اغفر له وارحمه، وعافه ،واعف عنه ،وأكرم نُزُله ، ووسع مُدخلهُ ، واغسله بالماء والثلج والبرد ، ونقه من الخطايا كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس ، وأبدله داراً خيراً من داره ، وأهلاً خيراً من أهله وزوجاً خيراً من زوجه، وأدخله الجنة ،وأعذه من عذاب القبر ومن عذاب النار۔
     
  6. ‏جولائی 14، 2020 #6
    ابن طاھر

    ابن طاھر رکن
    جگہ:
    ارض الله
    شمولیت:
    ‏جولائی 06، 2014
    پیغامات:
    164
    موصول شکریہ جات:
    54
    تمغے کے پوائنٹ:
    75

    آمین یا رب العالمین
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں