• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مفقود الخبر خاوند

واعظ

مبتدی
شمولیت
جنوری 18، 2014
پیغامات
17
ری ایکشن اسکور
18
پوائنٹ
15
جس عورت کا خاوند مفقود الخبر ہو تو قرآن و حدیث یا فقہ کی روسے اس عورت کو کتنا عرصہ اپنے خاوند کا انتظار کرنے کے بعد شادی کرنے کی اجازت ہوگی؟
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,537
پوائنٹ
791
جس عورت کا خاوند مفقود الخبر ہو تو قرآن و حدیث یا فقہ کی روسے اس عورت کو کتنا عرصہ اپنے خاوند کا انتظار کرنے کے بعد شادی کرنے کی اجازت ہوگی؟

محدث فتوی
فتویٰ نمبر : 11729

اس عورت کا حکم جس کا خاوند گم ہو جائے
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک عورت جس کا خاوند گم ہوجائے وہ کتنی دیر تک اس کا انتظار کرنے کے بعد دوبارہ نکاح کرسکتی ہے؟ قرآن وسنت کی روشنی میں فتویٰ صادر فرمائیں۔
(سائل :عبد الجبار چک نمبر 493 گ ۔ب۔تحصیل سمندری ضلع فیصل آباد)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
بشرط صحت سوال صورت مسئولہ میں واضح ہو کہ اگر واقعی شوہر کی گمشدگی کے بعد اس کے زندہ ہونے یا فوت ہونے کا پتہ نہ چل سکے۔نہ اس کے ددھیال کے کسی مرد اور عورت کو اس کی زندگی میں یاموت کا علم ہو اور اس کے سسرال دوستوں اور جاننے والوں میں سے کسی کو اس کے متعلق کچھ علم نہ ہو تو اس کی بیوی حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مشہورقول کے مطابق چار برس اور چار ماہ دس دن تک اس کا انتظار کرے ۔چار برس اس کے انتظار کے لئے ہیں۔اس مدت کے گزر جانے پر اس کو فوت شدہ قرار دیا جائےگا۔ اور پھر چار ماہ دس دن بیوگی کی عدت منظو ر ہوگی ازاں بعد وہ بی بی اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے میں شرعا مختار اور آذاد ہوگی جیسا کہ سبل السلام میں ہے:

''حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا جس عورت کا شوہر گم ہوجائے دو چار برس تک انتظار کرے۔جب چار برس پورے ہوجائیں( تو گویا وہ فوت ہوچکا ہے اور اسکی بیوی بیوہ قرار پائی) لہذا اب وہ وفات کی عدت چار ماہ دس دن پوری کرے اس کے بعد وہ جہاں چاہے اپنے شرعی ولی سے مشورہ کرکے نکاح کرسکتی ہے۔''(سبل السلام ج2)

''جناب سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ جونہی عورت کاشوہر گم ہوجائے اور اسکےبارے میں علم نہ ہو کہ وہ زندہ ہے یا مرچکا ہے۔کہ جس روز سے اس کی خبر بندہوئی چار برس عورت اس کا انتظار کرے۔اور چار برس پورنے ہونے کے بعد چار ماہ دس دن اپنی بیوگی کی عدت گزاار کرچاہے تو نکاح کرسکتی ہے۔''(موطا امام مالک)

صحیح بخاری میں جناب سعید بن مسیب تابعی کا اپنا فتویٰ یہ ہے کہ وہ عورت گمشدگی کے ایک برس بعد اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کی مجاز ہے۔اور حضرت عبدا للہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسی مدت کے قائل ہیں۔

'' کہ ابن مسیب تابعی نے فرمایا کہ جب کوئی سپاہی میدان دغا میں گم ہوجائے تو اس کی بیوی اس کا ایک برس تک انتطار کرے۔''(صحیح بخاری الطلاق باب نمبر 23)

'' کہ حضرت عبدا للہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کسی سے ادھار لونڈی خریدی پھر لونڈی کا مالک ہوگیا تو حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کا ایک برس انتظا رکیا۔(صحیح بخاری الطلاق باب نمبر 22)

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا رجحان بھی اسی طرف معلوم ہوتا ہے۔اور موجودہ ظروف احوال کے مطابق یہ موقف قرین قیاس بھی ہے۔اب چونکہ زرائع مواصلات اور میڈیا اتنا وسیع اور مستحکم ہوچکا ہے کہ اس ترقی یافتہ دور میں ایک برس کاانتطار بظاہر کافی معلوم ہوتا ہے۔حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کافتویٰ اس دور کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔جس میں آج کی طرح معلومات عامہ اور شعبہ مواصلات یعنی اخبار ریڈیو ٹیلی ویژن وغیرہ موجودہ دور کی فراہم کردہ اطلاعی سہولتیں ہرگز میسر نہ تھیں۔لہذا اب اس دور میں ایک سال کاانتظار کافی معلوم ہوتا ہے۔ ورنہ پرانا فتویٰ تو اپنی جگہ جمہور علمائے اسلام اور مفتیان کرام کے نزدیک بہرحال دائر اور رائج چلا آرہا ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب
فتاویٰ اصحاب الحدیث
ج1ص398

محدث فتویٰ
 
Last edited:

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,773
ری ایکشن اسکور
8,454
پوائنٹ
964
فائدہ :
شاہ اسحاق رحمہ اللہ کے شاگردوں میں ایک بزرگ ہیں ، مفتی صدر الدین آزردہ ، ان کا اس سلسلے میں مستقل رسالہ ہے ، بعنوان ’ دار المقصود فی حکم امرأۃ المفقود ‘ ۔
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,537
پوائنٹ
791
دوسرا فتویٰ
جو استاذ العلماء شیخ عبدالمنان نور پوری کا ہے ؛
ـــــــــــــــــــــــــ
میاں بیوی پر سکون زندگی گزار رہے تھے کہ خاوند گھر سے چلا گیا ،اور چار سال کوئی خبر نہ آئی کہ زندہ یا مردہ ،
چار سال کے بعد عورت نے نئی شادی کرلی ،اور اب پانچ سال بعد پہلا خاوند واپس آگیا ہے ،اب بیوی کس کے پاس رہے گی ؟ نیز مفقود الخبر کی بیوی کتنا انتظار کرے ؟
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
میاں بیوی پر سکون زندگی گزار رہے تھے کہ خاوند گھر سے چلا گیا اور چار سال تک کوئی خبر نہ آئی کہ زندہ ہے یا مردہ؟ چار سال کے بعد عورت نے نئی شادی کرلی۔ اور اب 5 سال بعد پہلا خاوند واپس آگیا ہے۔ اب بیوی کس خاوند کے پاس رہے؟ نیز مفقود الخبرکی بیوی کتنا انتظار کرے؟

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
امام بخاری رحمہ اللہ نے مفقود الخبر والے باب میں لقطہ والی حدیث پیش فرمائی ہے۔

[ اور ابن المسیب نے کہا جب جنگ کے وقت صف سے اگر کوئی شخص گم ہوا تو اس کی بیوی کو ایک سال اس کا انتظار کرنا چاہیے۔ (اور پھر اس کے بعد دوسرا نکاح کرنا چاہیے۔) عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک لونڈی کسی سے خریدی، (اصل مالک قیمت لیے بغیر کہیں چلا گیا اور گم ہوگیا) تو آپ نے اس کے پہلے مالک کو ایک سال تک تلاش کیا، پھر جب وہ نہیں ملا تو (غریبوں کو اس لونڈی کی قیمت میں سے ) ایک ایک دو دو درہم دینے لگے اور آپ نے دعا کی کہ: اے اللہ1 یہ فلاں کی طرف سے ہے (جو اس کا پہلا مالک تھا اور قیمت لیے بغیر گم ہوگیا تھا۔) پھر اگر وہ (آنے کے بعد) اس صدقہ سے انکار کرے گا(اور قیمت کا مطالبہ کرے گا تو اس کا ثواب) مجھے ملے گا اور لونڈی کی قیمت کی ادائیگی مجھ پر واجب ہوگی۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اسی طرح تم راستے میں پڑی ہوئی چیز کے ساتھ کیا کرو۔

زہری نے ایسے قیدی کے بارے میں جس کی جائے قیام معلوم ہو، کہا کہ اس کی بیوی دوسرا نکاح نہ کرے اور نہ اس کا مال تقسیم کیا جائے۔ پھر اس کی خبر ملنی بند ہوجائے تو اس کا معاملہ مفقود الخبر کی طرح ہوجاتا ہے۔

نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے کھوئی ہوئی بکری کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ: ’’ اسے پکڑ لو ، کیونکہ یا وہ تمہاری ہوگی (اگر ایک سال تک اعلان کے بعد اس کا مالک نہ ملا) یا تمہارے کسی بھائی کی ہوگی یا پھر بھیڑیے کی ہوگی ۔‘‘ اور نبیؐ سے اونٹ کا سوال ہوا تو آپ غصہ ہوگئے اور آپ کے دونوں رخسار سرخ ہوگئے۔ اور فرمایا: ’’ تمہیں اس سے کیا غرض اس کے پاس کھر ہیں، اس کے پاس مشکیزہ ہے، جس سے وہ پانی پیتا رہے گا اور درخت کے پتے کھاتا رہے گا۔ یہاں تک کہ اس کا مالک اسے پالے گا۔‘‘ اور راستے میں پڑی چیز کا سوال ہوا تو آپؐ نے فرمایا کہ: ’’اس کی رسی اور اس کے ظرف کی پہچان کرو اور اس کا ایک سال تک اعلان کرو ، پھر اگر کوئی شخص آجائے ، جو اسے پہچانتا ہو ورنہ اسے اپنے مال کے ساتھ ملا لو۔‘‘ (صحیح بخاری ، کتاب الطلاق ،باب حکم المفقود فی اھلہ ومالہ )
حضرات صحابہ جناب عمر ، عثمان ، ابن عمر ، ابن عباس، ابن مسعود اور متعدد صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین سے باسانید صحیحہ مروی ہے، ان کو سعید بن منصور اور عبدالرزاق نے نکالا کہ مفقود کی عورت چار برس تک انتظار کرے۔ اگر اس عرصہ تک اس کی خبر نہ معلوم ہو تو اس کی عورت دوسرا نکاح کرلے۔ اگر عورت دوسرا نکاح کرلے ، اس کے بعد پہلے خاوند کا حال معلوم ہو کہ وہ زندہ ہے تو پہلے ہی خاوند کی عورت ہوگی۔ اور شعبی نے کہا: دوسرے خاوند سے قاضی اس کو جدا کردے گا۔ وہ عدت پوری کرکے پھر پہلے خاوند کے پاس رہے۔ ] 3،11،1425ھ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل
جلد 02 ص 488
https://archive.org/stream/Quran-w-Hadees-Ki-Roshni-Me-Ahkaam-o-Msail-2#page/n490
 
شمولیت
جون 13، 2018
پیغامات
109
ری ایکشن اسکور
11
پوائنٹ
44
اگر عورت دوسرا نکاح کرلے ، اس کے بعد پہلے خاوند کا حال معلوم ہو کہ وہ زندہ ہے تو پہلے ہی خاوند کی عورت ہوگی۔ اور شعبی نے کہا: دوسرے خاوند سے قاضی اس کو جدا کردے گا۔ وہ عدت پوری کرکے پھر پہلے خاوند کے پاس رہے۔ ] 3،11،1425ھ
مؤطا امام مالک کی یہ دو روایات صحیح ہیں یا ضعیف؟؟؟
2135-قَالَ مَالِك وَإِنْ تَزَوَّجَتْ بَعْدَ انْقِضَاءِ عِدَّتِهَا فَدَخَلَ بِهَا زَوْجُهَا أَوْ لَمْ يَدْخُلْ بِهَا فَلَا سَبِيلَ لِزَوْجِهَا الْأَوَّلِ إِلَيْهَا قَالَ مَالِك وَذَلِكَ الْأَمْرُ عِنْدَنَا وَإِنْ أَدْرَكَهَا زَوْجُهَا قَبْلَ أَنْ تَتَزَوَّجَ فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا
2136-قَالَ مَالِك وَأَدْرَكْتُ النَّاسَ يُنْكِرُونَ الَّذِي قَالَ بَعْضُ النَّاسِ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ قَالَ يُخَيَّرُ زَوْجُهَا الْأَوَّلُ إِذَا جَاءَ فِي صَدَاقِهَا أَوْ فِي امْرَأَتِهِ قَالَ مَالِك وَبَلَغَنِي أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ فِي الْمَرْأَةِ يُطَلِّقُهَا زَوْجُهَا وَهُوَ غَائِبٌ عَنْهَا ثُمَّ يُرَاجِعُهَا فَلَا يَبْلُغُهَا رَجْعَتُهُ وَقَدْ بَلَغَهَا طَلَاقُهُ إِيَّاهَا فَتَزَوَّجَتْ أَنَّهُ إِنْ دَخَلَ بِهَا زَوْجُهَا الْآخَرُ أَوْ لَمْ يَدْخُلْ بِهَا فَلَا سَبِيلَ لِزَوْجِهَا الْأَوَّلِ الَّذِي كَانَ طَلَّقَهَا إِلَيْهَا قَالَ مَالِك وَهَذَا أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَيَّ فِي هَذَا وَفِي الْمَفْقُودِ
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,537
پوائنٹ
791
مؤطا امام مالک کی یہ دو روایات صحیح ہیں یا ضعیف؟؟؟
محترم بھائی !
اس میں پہلا توخود امام مالک کا قول ہے ، جس کیلئے اسنادکی ضرورت نہیں ؛
قَالَ مَالِك وَإِنْ تَزَوَّجَتْ بَعْدَ انْقِضَاءِ عِدَّتِهَا فَدَخَلَ بِهَا زَوْجُهَا أَوْ لَمْ يَدْخُلْ بِهَا فَلَا سَبِيلَ لِزَوْجِهَا الْأَوَّلِ إِلَيْهَا قَالَ مَالِك وَذَلِكَ الْأَمْرُ عِنْدَنَا وَإِنْ أَدْرَكَهَا زَوْجُهَا قَبْلَ أَنْ تَتَزَوَّجَ فَهُوَ أَحَقُّ بِهَ ))
ترجمہ :
امام مالکؒ نے فرمایا کہ :(جس عورت کا خاوند گم ہوگیا ہو ) اور اس نے عدت گزرنے کے بعد دوسرا نکاح کرلیا ، تو پھر پہلے خاوند کو اختیار نہ رہے گا۔ خواہ دوسرے خاوند نے اس سے صحبت کی ہو یا نہ کی ہو ہمارے نزدیک بھی یہی حکم ہے۔
اوراگردوسری شادی سے پہلے ہی (گم شدہ خاوند ) واپس آجائے تو وہی اس عورت کا حقدار ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​
 
Last edited:
شمولیت
جون 13، 2018
پیغامات
109
ری ایکشن اسکور
11
پوائنٹ
44
اس میں پہلا توخود امام مالک کا قول ہے ، جس کیلئے اسنادکی ضرورت نہیں ؛
جزاک اللہ
اور اس کا جواب بھی دے دیں
2136-قَالَ مَالِك وَأَدْرَكْتُ النَّاسَ يُنْكِرُونَ الَّذِي قَالَ بَعْضُ النَّاسِ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ قَالَ يُخَيَّرُ زَوْجُهَا الْأَوَّلُ إِذَا جَاءَ فِي صَدَاقِهَا أَوْ فِي امْرَأَتِهِ قَالَ مَالِك وَبَلَغَنِي أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ فِي الْمَرْأَةِ يُطَلِّقُهَا زَوْجُهَا وَهُوَ غَائِبٌ عَنْهَا ثُمَّ يُرَاجِعُهَا فَلَا يَبْلُغُهَا رَجْعَتُهُ وَقَدْ بَلَغَهَا طَلَاقُهُ إِيَّاهَا فَتَزَوَّجَتْ أَنَّهُ إِنْ دَخَلَ بِهَا زَوْجُهَا الْآخَرُ أَوْ لَمْ يَدْخُلْ بِهَا فَلَا سَبِيلَ لِزَوْجِهَا الْأَوَّلِ الَّذِي كَانَ طَلَّقَهَا إِلَيْهَا قَالَ مَالِك وَهَذَا أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَيَّ فِي هَذَا وَفِي الْمَفْقُودِ
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,537
پوائنٹ
791
اور اس کا جواب بھی دے دیں
قَالَ مَالِك وَأَدْرَكْتُ النَّاسَ يُنْكِرُونَ الَّذِي قَالَ بَعْضُ النَّاسِ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ قَالَ يُخَيَّرُ زَوْجُهَا الْأَوَّلُ إِذَا جَاءَ فِي صَدَاقِهَا أَوْ فِي امْرَأَتِهِ
امام مالکؒ نے فرمایا : میں نے لوگوں کو اس کا انکار کرتے ہوئے پایا ،جس نے یہ دعوی کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ پہلا خاوند جب بھی آئے اسے مہر یا اپنی بیوی لینے کا اختیار دیا جائے گا ۔
(یعنی یہ روایت غلط ہے )
امام ابوعمرابن عبدالبرؒ " الاستذکار " میں فرماتے ہیں :
فهو عن عمر منقول بنقل العدول من رواية أهل الحجاز وأهل العراق
ذكر عبد الرزاق عن معمر عن الزهري عن بن المسيب أن عمر وعثمان قضيا في المفقود أن امرأته تتربص أربع سنين وأربعة أشهر وعشرا بعد ذلك ثم تزوج فإن جاء زوجها الأول خير بين الصداق وبين امرأته ))

یعنی یہ بات تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اہل حجاز واہل عراق کی روایت کے ثقہ رواۃ سے منقول ہے ،
امام عبدالرزاقؒ نے معمر ،زہریؒ کی سند سے سیدنا سعید ابن المسیبؒ سے روایت کیا ہے کہ سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما نے گم شدہ شوہر والی عورت کے بارے فیصلہ دیا تھا کہ وہ چار سال ،اور چار ماہ دس دنوں تک انتظار کرے ، اس کے بعد دوسرا نکاح کرلے ،اور اس کے بعد اگر پہلا خاوند واپس آجائے تو​
اسے مہر یا اپنی بیوی لینے کا اختیار دیا جائے گا ۔
https://archive.org/stream/Almosanaf/6#page/n47/mode/2up
نیز دیکھئے :
صحيح فقه السنة وأدلته وتوضيح مذاهب الأئمة (جلد 3 ص411)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسری روایت :​
قَالَ مَالِك وَبَلَغَنِي أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ فِي الْمَرْأَةِ يُطَلِّقُهَا زَوْجُهَا وَهُوَ غَائِبٌ عَنْهَا ثُمَّ يُرَاجِعُهَا فَلَا يَبْلُغُهَا رَجْعَتُهُ وَقَدْ بَلَغَهَا طَلَاقُهُ إِيَّاهَا فَتَزَوَّجَتْ أَنَّهُ إِنْ دَخَلَ بِهَا زَوْجُهَا الْآخَرُ أَوْ لَمْ يَدْخُلْ بِهَا فَلَا سَبِيلَ لِزَوْجِهَا الْأَوَّلِ الَّذِي كَانَ طَلَّقَهَا إِلَيْهَا قَالَ مَالِك وَهَذَا أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَيَّ فِي هَذَا وَفِي الْمَفْقُودِ
ترجمہ :
کہا مالک نے مجھے حضرت عمر سے پہنچا آپ نے فرمایا جس عورت کا خاوند کسی ملک میں چلا گیا ہو وہاں سے طلاق کہلا بھیجے اس کے بعد رجعت کر لے مگر عورت کو رجعت کی خبر نہ ہو اور وہ دوسرا نکاح کر لے اس کے بعد پہلا خاوند آئے تو اس کو کچھ اختیار نہ ہو گا خواہ دوسرے خاوند نے صحبت کی ہو یا نہ کی ہو۔

امام ابوعمر ابن عبدالبرؒ "الاستذکار " میں اس کے متعلق فرماتے ہیں :
وَأَمَّا بَلَاغُ مَالِكٍ عَنْ عُمَرَ في الذي طلق فأعلنها فَارْتَجَعَ وَلَمْ يُعْلِمْهَا حَتَّى رَجَعَتْ نَكَحَتْ فَهُوَ غَيْرُ مَشْهُورٍ عَنْ عُمَرَ مِنْ رِوَايَةِ أَهْلِ الْحِجَازِ وَأَهْلِ الْعِرَاقِ
یعنی امام مالکؒ کے اس بلاغ (یعنی جس میں وہ اسناد کے بغیر کہتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی )کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس شخص کے بارےفرمایا جو اپنی بیوی کو دوسرے ملک سے طلاق بھجوائے ،پھر رجوع کرلے اور رجوع کی بابت بیوی کو آگاہ نہ کرے ۔۔ ۔تو یہ بات اہل حجاز واہل عراق کی روایات میں مشہور نہیں ۔
جبکہ امام عبدالرزاقؒ نے​
وَذَكَرَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَمَعْمَرٍ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ أَبَا كَنَفٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثُمَّ خَرَجَ مُسَافِرًا وَأَشْهَدَ عَلَى رَجَعَتِهَا قَبْلَ انْقِضَاءِ عِدَّتِهَا وَلَا أَعْلَمُ لَهَا بِذَلِكَ حَتَّى تَزَوَّجَتْ فَسَأَلَ عَنْ ذَلِكَ عَلَى رَجْعَتِهَا قَبْلَ انْقِضَاءِ الْعِدَّةِ وَلَا عِلْمَ لَهَا بِذَلِكَ حَتَّى تَزَوَّجَتْ فَسَأَلَ عَنْ ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقَالَ إِنْ دَخَلَ بِهَا فَهِيَ امْرَأَتُهُ وَإِلَّا فَهِيَ امْرَأَتُكَ إِنْ أَدْرَكْتَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا
ترجمہ :
* * ابراہیم کی بیان کرتے ہیں: ابوکنف نے اپنی اہلیہ کو طلاق دے دی اور سفر پر روانہ ہو گئے پھر انہوں نے اس خاتون کی عدت گزرنے سے پہلے اس سے رجوع کرنے پر گواہ قائم کر لی لیکن عورت کو اس بات کا پتا نہیں چل سکا یہاں تک کہ اس عورت کی دوسری شادی ہوگئی تو پہلے شوہر نے یہ مسئلہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے پوچھا ،تو انہوں نے فرمایا : اگر دوسرے شوہر نے اس عورت کے ساتھ صحبت کر لی ہے تو یہ دوسرے شوہر کی بیوی شمار ہوگی اوراگر اس نے صحبت نہیں کی تو وہ تیری بیوی ہے ۔ انتہیٰ ۔۔
یہی روایت امام عبدالرزاق ؒ نے بھی روایت کی ہے
دیکھئے :
https://archive.org/stream/Almosanaf/5#page/n345/mode/2up
 
Top