• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مقدمہ: "شعلہ خیال" از نعیم صدیقی مرحوم

باربروسا

مشہور رکن
شمولیت
اکتوبر 15، 2011
پیغامات
311
ری ایکشن اسکور
1,078
پوائنٹ
106
کوئی معشوق ہے۔۔۔۔۔۔۔!


یہ قصہ تو کچھ نیا نہیں ہے کہ جب کسی 'دیوانے' کو 'جوش جنوں 'ہو جاتا ہے تو اہل ہوش اس کے پیچھے پیچھے طوق و زنجیر لیے پھرتے ہیں پہنانے کو! اس قسم کے تجربات سے ہماری قدیم شاعری کا دامن مالامال ہے۔
جدید شاعری کی دنیا بھی نہ تو 'دیوانوں' سے خالی ہوئی ہے اور نہ ان کے'جوش جنوں' کے دوروں میں کوئی کمی واقع ہوئی ہے۔ نہ اہل ہوش نے کبھی ادائے فرض میں کوتاہی کی ہے اور نہ طوق و زنجیر کی جھنجھناہٹ ہی میں کوئی فرق آیا ہے۔
یہ احؤال و مقامات لازمہِ عشق ہیں اور عشق انسانی زندگی کی سب سے بڑی محرک قوت ہے۔"عشق ہے ابن السبیل عشق ہے ام الکتاب!"

عشق میدان عمل میں اپنے اظہار کے لیے جو سب سے اونچی صورت اختیار کر سکا ہے وہ 'جہاد' ہے، لیکن نطق و کلام کی دنیا میں وہ اپنے آپ کو شعر سے زیادہ بہتر کسی پیرائے میں کبھی پیش نہیں کر سکا۔ شعر کی مختلف اصناف میں سے پھر خاص طور پر غزل وہ صنف نازک ہے جس کی فطرت پر از اول تا آخر عشق پرتو افگن ہے۔ جس روز ناطقہِ انسانی پوری طرح عشق کے تصرف میں چلا گیا ہو گا، ٹھیک اسی دن صنف غزل کی تخلیق ہوئی ہو گی۔

غزل کے پردہ زنگاری کے پیچھے ہمیشہ کوئی نہ کوئی 'معشوق 'موجود رہا ہے۔اس کے جمال کی چھن چھنا کر آنے والی جھلکیاں، جن سے بہرہ اندوز ہو کر کسی شاعر کا قلب اس جوئے سیماب کا چشمہ بنتا ہے جسے ہم غزل کا نام دیتے ہیں۔ جب قدیم غزل کے مقابلے میں ہم جدید غزل رکھ کر دیکھتے ہیں تو دونوں کے فرق سے یہ راز ہم پر کھلتا ہے کہ عشق جوں کا توں کارفرما ہے ،لیکن معشوق بدل گیا ہے!

قدیم شعراء نے غزل کی دنیا میں سیدھے سیدھے 'عورت' کو ۔۔۔۔۔ چاہے وہ شریف زادی ہو یا بازاری، حقیقی ہو یا خیالی۔۔۔۔ اپنے اعصاب پر سوار کر لیا تھا؛ چنانچہ ہمارے ہاں قرنوں تک غزل محض 'غم جاناں' کی ترجمان رہی ہے، لیکن زمانے نے ایسے رنگ بدلے کہ آدمی کو 'غم جاں 'اور'غم نا ں'نے اپنے نرغے میں لے لیا۔ اور 'غم جاناں' طاق نسیاں پر دھرا رہ گیا۔وہی بات کہ "یاراں فراموش کردند عشق!"پھر غم جاں اور غم ناں میں گھر کر جب انسان نے یہ حقیقت محسوس کر لی کہ اس کا غم کوئی ذاتی، نجی، انفرادی معاملہ نہیں ہے، بلکہ بہت سے ناخوشگوار غیر اختیاری حالات کے مجموعی عمل کا نتیجہ ہے اور اس کا ہر آنسو ناسازگار ماحول کے سمندر کا ایک قطرہ ہےتو اس نے اپنے اندر 'غم دوراں' کو چٹکیاں لیتے ہوئے پایا۔ خود اس غم دوراں کے تجربے سے گزرتے ہوئے ہر غمزدہ نے یہ حقیقت بھی پا لی کہ ایک دنیا کی دنیا اسی کی طرح غم کی ماری ہوئی ہے، یعنی معاملہ 'مرگ انبوہ' کا تھا۔ درد و کرب کی جاگیر میں ہر فرد کے ساتھ دوسرے لاکھوں افرادبھی شریک تھے۔ آہستہ آہستہ عشق 'غم انساں' کی صورت جلوہ گر ہوا۔

ان سارے غموں نے شعر۔۔۔ اور خصوصا غزل۔۔۔ کے سینے میں اپنی جگہ پیدا کی اور غزل کے پرانے معشوق۔۔۔ایک نسائی پیکر۔۔۔کی جگہ کہیں قومیت،کہیں وطنیت،کہیں آزادی،کہیں مساوات جیسے اجتماعی نصب العین 'بت کافر' بن بن کر جلوہ گر ہوتے گئے۔

دور قدیم کی فارسی اور اردو شاعری میں تصوف زدہ شعراء نے 'معشوق حقیقی 'کے گرد تغزّل کا جو تانا بانا تیار کیا ہے اور غزل کو جس طرح نعت گوئی کا میدان بنایا ، یہ بعد کے لوگوں کے لیے غزل کے میدان کو وسعت دینے میں ذریعہِ راہنمائی بنا ہے۔ ہمارے ہاں حسرت موہانی اور مولانا محمد علی جوہرنے غزل میں وطنیت، آزادی اور خلافت کے معشوق کو جلوہ گر کر کے ایک نیا کامیاب تجربہ کیا ۔ دوسری طرف اقبال نے پہلے 'حسن ازل' کو، اسلامی فکر، خصوصا نظریہ خودی کی غزل کی چلمن کے پیچھے بٹھا کر قدم اور آگے بڑھایا۔ ادھر ترقی پسندوں نے صنم اشتراکیت کی شمع فانوسِ غزل میں رکھ کر رنگ بدلنے کی کوشش کی ۔ ایک نئے انداز سے جگر مراد آبادی اور حالی نے غزل کو جو وسعت دی ہے، بلکہ ایک خاص طرح کی پاکیزگی اور مقصدیت پیدا کی ہے،اس سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا۔ علامہ اقبال نے تو تہذیب اسلامی کی اقدار پر مبنی ایک نیا مکتب فکر (مکتب خودی) پیدا کر دیا۔اسی کی شمعِ شعور اور نغمہ ِفن کے زیر اثر اب ایک نیا تجربہ 'نظامِ اسلامی' کے معشوق کے دلدادگان اپنے جذبات و حسیات کو غزل میں ڈھالنے کا شروع کر رہے ہیں۔

بہرحال اب غزل عورت کے تسلط سے آزاد ہو رہی ہے۔

غزل کا ایک مستقل مزاج ہے اور اس مزاج کے لوازم میں سے ایک جذباتیت ہے اور ایک استعاریت! زندگی کے ہر پہلو سے تعلق رکھنے والی حقیقتیں اور نفس انسانی کے سارے تجربات غزل میں بیان کیے جا سکتے ہیں،لیکن شعر کو غزل کا شعر بنانے کے لیے گہری جذباتیت اور دلکش استعاریت کی رنگ آمیزی ناگزیر ہے۔حقائق و تاثرات کو بیان کرنےمیں گہرا جذباتی رنگ دینے کی ضرورت جب آدمی نے محسوس کی ہے تو اس رنگ کو حاصل کرنے کے لیے اسے اپنے اندر صنفی داعیہ کا سرچشمہ ہاتھ آیا جو خالص صنفی شعبہ حیات کی حقیقی ضرورت سے گئی گنا وافر سرمایہِ جذبات پیہم اگلتا رہتا ہے۔نفس انسانی کے اور سارے داعیات کے سرچشمے جذباتی نکاس کے لحاظ سے حقیقی ضرورت کی حدوں کے پابند ہیں۔صرف صنفی داعیہ کا جذباتی نکاس ایسا طوفانی ہے کہ ضرورت کے ساحلوں تو توڑ پھوڑ کے بہتا ہے۔یہیں سے انسان کو وافر سرمایہِ جذباتیت ملا ہے جس سے شعر و ادب۔۔۔خصوصا غزل ۔۔۔کے خاکوں کو رنگ دیا جاتا ہے۔جذباتی رنگ آمیزی کے لیے صنفی داعیہ سے وافر رنگ لے کر استعمال کرنے کی وجہ سے ناگزیر ہوا کہ استعاریت بھی یہیں سے لی جائے،؛چنانچہ غزل۔۔۔ قدیم ہو یا جدید۔۔۔ استعاریت کا شبنمی لباس حاصل کرنے کے لیے نفس انسانی کے اسی گوشے کی منت کش رہی ہے۔ صنفی استعاریت کا آنچل الگ کر کے غزل کبھی غزل نہیں رہ سکی، ورنہ کم سے کم رنگ تغزّل پھیکا اور ناکام ہو کر رہ گیا ہے۔ ہاں کسی قدر رنگ تصوف کو شامل کر کے پیرایہ ہائے مجاز میں حقیقت کی گل پاشی کے لیے بیان کے کواڑوں میں کچھ درزیں پیدا کر دی گئیں۔

شروع شروع میں میرا اندازہ تھا کہ غزل کی مروجہ استعاریت ہمارے لیے ناقابل قبول ہے۔۔۔۔اور اس تاثر کو پیدا کرنے میں قدیم شاعری کی ایسی تخلیقات کا بڑا دخل ہے جو پاکیزہ استعاریت سے آگے بڑھ کر صراحت، بلکہ کبھی کبھی بیہودگی اور بازاری پن تک جا پہنچتی ہیں۔ان تخلیقات نے انسانی فکر و کردار اور معاشرے کے ارتقاء پر بہت بُرا اثر ڈالا ہے۔ان سے انسانی ذہن و سیرت نے بالیدگی کے بجائے پستی حاصل کی ہے اور اخلاقی قدروں کو نقصان پہنچا ہے۔یہی وجہ تھی کہ میں نے غزل سے اجتناب کر کے نظم کو اپنا میدان بنالیا، لیکن بعد میں جب میری توجہ اُن قصائد کی طرف مبذول ہوئی جو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں غزلیہ رنگ میں لکھے گئے ہیں،بالخصوص وہ اشعار اور قصائد جو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پڑھے گئے۔۔۔۔تو میری رائے بدل گئی۔ پھر میری نگاہ میں ان تمام شعری کارناموں کی ازسرنوقدر پیدا ہو گئی جن میں صحیح، فطری اور معتدل انسانی جذبات و کیفیات کو تغزل کا استعاراتی رنگ دینے کی کوشش کی گئی تھی۔اس میں میرے نزدیک احتیاط جتنی لازم ہے، صرف اس حد تک کہ استعاریت کو ایسی صراحت تک لے جانے سے بچایا جائے کہ جنسیت ابھر کر خود اصل مدعا بن جائے،جذباتی رنگ میں مجاز اتنا غالب ہو جائے کہ ذہن ایک اعلیٰ مفہوم کی بجائے کسی پست مفہوم کی طرف آسانی سے مائل ہو سکے۔مجاز کے دائرے میں بھی اظہار کی راہیں بند نہیں ہو سکتیں ، مگر یہاں بھی شائستگی اور پاکیزگی کے ذوق کو لذتیت سے مغلوب نہیں ہونے دینا چاہیے۔فن میں سب سے بڑی آزمائش یہی ہے کہ صاحب فن احساسات کی لہروں میں بے اختیار ہو کر بہتا نہ چلا جائے، بلکہ لاشعور سے اٹھتی لہروں کا مطالعہ کرتا ہوا ان کو انضباط میں رکھتے۔

جاری ہے
 

باربروسا

مشہور رکن
شمولیت
اکتوبر 15، 2011
پیغامات
311
ری ایکشن اسکور
1,078
پوائنٹ
106
غزل میں فلسفیانہ استدلال، سیاسی پروپیگنڈے یا اخلاقی وعظ کا کوئی مقام نہیں تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک نظریے، ایک اصول، ایک نظام زندگی اور ایک تحریک کے دلدادگان کے لیے غزل کی دنیا میں کونسا میدان کار ہو سکتا ہے؟ اور نظریہ اصول اور مقصد سے کونسا فن کار تہی دامن کبھی پایا گیا!صرف لذتیت بھی ایک مشروب ہو سکتا ہے۔ اخلاقی قدروں کا انکار بھی ایک اصول ہے۔ بے خدا حیات وکائنات کا مطالعہ بھی ایک پیغام بن جاتا ہے۔درحقیقت غزل کسی بھی چیز کے لیے بند نہیں ہیں۔شرط صرف یہ ہے کہ غزل میں جس چیز کو بیان کرنا ہو اسے غزل کے مزاج سے ہم آہنگ کر دیا جائے۔ غزل فلسفے اور نظریے کو بھی اپنے اندر جگہ دیتی ہے، غزل سیاست کو بھی جذب کر لیتی ہے، غزل اخلاقی قدروں کو بھی سینے سے لگا لیتی ہے،لیکن اس شرط پر کہ آپ اصول،اپنے اخلاقی نصب العین اور اپنی سیاسی تحریک کو ایک معشوق بنا کرقلب و نظر میں جگہ دیں۔اس کی تجلی کے مشتاق ہوں، اس کے ہجر میں تڑپیں ، اس کے لیے دنوں کا آرام اور راتوں کی نیندحرام کریں ، اس کے لیے قربانیاں دیں۔ اس کے لیے مخالفتوں کو صبر سے سہیں اور اس کے لیے جان کی بازی کھیلنے پر آمادہ ہو جائیں۔ یوں جب کوئی فلسفہ اور کوئی سیاست اور کوئی نظام اخلاق معشوق بن کر شاعر کے رگ و پے میں سرایت کر جائے، تو پھر اس کے اندر سے جذبات و حسیات کے وہ سوتے ابلنے لگتے ہیں جو استعاریت کا رنگ پا کر تغزل میں ڈھلتے ہیں۔ شاعر اس پیکرِ جمال کا پرتو اپنی فنی تخلیقات کی آرسی میں دکھاتا ہے۔اس کے خال و خد کو نکھارتا ہے،اس کے ناز و انداز کی تصویر کھینچتا ہے، اس کی زلفیں سنوار سنوارتا ہے، اس پر اپنے جذبات نچھاور کرتا ہے۔۔۔ اور فلسفہ وسیاست تک غزل کی بنی سنوری دلہن کی صورت میں سامنے آ کر ہزاروں دلوں پر قیامت ڈھا جاتے ہیں۔

اپنے محبوب تصور حیات کے لیے کشمکش کے لیے حالات سے گزرتے ہوئے مجھے اپنے اندر سے وافر سرمایہِ ِجذبات ملنے لگا تو کبھی کبھی بے اختیار طبیعت غزل کی طرف مائل ہوئی،لیکن غزل کے میدان میں ابھی ابتدائی تجربے ہی سے گزر رہا تھا کہ "معرکہِ دارورسن" پیش آ گیا۔ اس 'امتحانِ وفا' کے زمانے میں عشق جوبن پر آگیا اور ایک گوشہِ خلوت میں بیٹھ کر آفتِ جاں کی تجلیات کو جذب کرنے اور اس کے لیے اپنی وارفتگیوں کا اندازہ کرنے کا موقع ملا ۔جذبات و تاثرات اور حسّیات وکیفیات کے سوتے سے ابلتے نظر آئے۔ نتیجہ طبیعت غزل کی طرف ایک ایسا موڑ مڑ گئی کہ اس عرصہ میں نظم کی طرف شاذ ہی کبھی میلان ہوا۔


اس دور کے نئے تجربے کے پیش نظر امنگیں کروٹ لے رہی ہیں کہ غزل بھی ہمارے محبوب اصول و اقدار کے لیے مفتوح ہو سکتی ہے،جن میں راستی ہے،حسن ہے، توازن و اعتدال ہےاور جن میں ساری انسانیت کے لیے کشش ہے۔اور فنکار کا کام ہے کہ اس کشش کو مزید بڑھائے۔

واضح رہے کہ اس دور کی غزلوں اور نظموں پر 'زندانیت' کی رنگ پوری طرح چھایا ہوا ہے۔۔۔ اور یہ بالکل قدرتی تھا! اسی لیے ضروری محسوس ہوا کہ ایامِ نظر بندی کی شعری تخلیقات کو بالکل الگ مجموعے کی شکل میں مرتب کیا جائے ۔یہ نظامِ جبر کے خلاف ایک صدائے احتجاج ہے۔


غزل کسی مقصدی پیغام کو جامعیت کے ساتھ سہار نہیں سکتی، بلکہ وہ صرف چند اشارات پیش کر سکتی ہے۔ میرا مقصدی پیغام جامعیت کے ساتھ میری ان مطبوعہ و غیرمطبوعہ نظموں ہی میں پڑھا جا سکتا ہے جن کا مجموعہ پیش کر رہا ہوں۔


درد و کرب کا موجب بننے والے تمدنی و تاریخی اور سیاسی و معاشرتی ماحول کے ستائے ہوئے انسان نے جب نئے دور ، نئے نظام اور جنت فردا کے کچھ خواب دیکھنے شروع کیے تو شاعری کی بن آئی اور ایک' روشن مستقبل' کا خیالی معشوق شعر و ادب میں جلوہ گر ہونے لگا۔ پھر آہستہ آہستہ انسان کو امن و مسرت کی ایک نئی دنیا تک پہنچانے کے لیے قابل عمل نظریے ابھرنے لگے۔ تبدیلی کی تمنا کی ماری ہوئی نسل انسانی نے ان نظریوں۔۔۔ جمہوریت(قوم پرستی) اشتراکیت، فسطائیت۔۔۔ کو لپک کر سینے سے لگا لیا۔ ان میں سے ہر نظریہ اپنے قبول کرنے والوں کی نگاہ میں چونکہ فردا کی ایک جنتِ عیش کا مرز تھا، جیسے کوئی معشوق سرمایہِ تسکینِ دل و جان ہو سکتا ہے۔۔۔ اس لیے اس نے اپنے چاہنے والوں سے والہانہ جذبات کا خراج حاصل کیا۔ ایک نظریہ کو دل میں بسا کر جینے والوں کو ناسازگار ماحول میں جو آزمایش پیش آتی ہے، اور مختلف نظریوں کے تصادم کی فضا میں جن ذہنی، کیفیات سے گزرنا پڑتا ہے وہ لازما ایک نئے غم، یعنی 'غم ایماں' کو ابھار دیتی ہیں۔ اس طرح ایک نظریہ و نظام بجائے خود معشوق بن کر عشق کا سرچشمہ قرار پاتا ہے۔ آج دنیا بھر کی شاعری اس نئے معشوقِ ہزار شیوہ کی تجلیات سے مالا مال ہے۔






اسلامی نظریہ و نظام کا جمال انسان کی نگاہوں پر جب تک فاش نہ تھا تو نہ تھا۔صدیوں سے اس کا روئے زیبا گرد و غبار میں اٹا ہوا تھا اور اس کے گرد طرح طرح کے دھندلکے چھائے رہے۔ نگاہیں وہ ذوق کھو چکی تھیں جو اس پیکرِ حسن کی قدر وقیمت پہچان سکتا،لیکن ایک وقت آیا کہ "فکر مغرب" کی بازاریت سے دل اچاٹ ہونے لگے اور ساتھ ہی اسلامی فکر کا من موہنا مکھڑا کچھ نکھراا ور عشاق کی نگاہوں میں کھب گیا۔ آہستہ آہستہ ایک دنیا کی دنیا شہید ناز ہونے لگی۔ اور آج "ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا زمانے میں "۔ہزاروں دلوں کا یہ محبوب رزم گاہ سیاست کی روح و رواں بھی ہے اور بزمِ شعر و ادب کی شمع روشن بھی! نوجوان شعراء کا ایک ہجوم ہےجو اس کے حسن و جمال سے شعر و غزل کے چمن آراستہ کر رہا ہے۔

ہر نظریہ کے فدا کاروں کی طرح نظریہِ اسلامی کے دلدادگان بھی عشق کے ان سارے احوال و مقامات سے گزرتے ہیں جو دور ِ کہن میں محض ایک پیکر نسائی سے وابستہ تھے۔ اس رہزنِ تمکین و ہوش کی ایک نگاہ کبھی گھائل کر جاتی ہے اور کبھی مرہم رکھ دیتی ہے۔ اس کے تصور کا کرب جب بڑ جاتا ہے تو بالکل وصال کی کیفیت محسوس ہونے لگتی ہے، دوری ہو جاتی ہے تو فرق کے کرب سے سابقہ پڑتا ہے، راتوں کی نیند حرام ہو ہو جاتی ہے، دنوں کو وہ کوچہ گردیاں، بلکہ صحرا نوردیاں ہوتی ہیں کہ تن بدن کا ہوش نہیں رہتا۔ دامن چاک ہو ہو جاتے ہیں، گریبانوں کی دھجیاں اڑتی ہیں اور عشاق جیسے ایک تماشا بن کے رہ جاتے ہیں۔ ناصح سمجھانے بیٹھے ہیں، واعظ وعظ کہتے ہیں ، حریف مذاق اڑاتے ہیں۔ رقیب تھانے میں جا جا کر رپٹ لکھواتے ہیں۔" کوئے جاناں" کی طرف اقدام کریں تو شحنہء شہر کے حکم سے لوگ سیفٹی ایکٹ کی زنجیریں لیے عشاق کے درپے ہو جاتے ہیں۔ ان سے انداز جنوں چھڑوانے کے لیے معرکہِ دار و رسن برپا کیا جاتا ہے، لیکن تصور ِجاناں قید خانے کی تنہائی میں اور زیادہ چھا جاتا ہے۔

جذبات و وحسیات میں پیہم وہ اُفت و خیز ہوتی ہے جو لازمہ عشق ہے۔جذبات و حسیات کا یہ طوفان اپنے لیے زبان کی تلاش کرتا ہے تو اسے زبان ِغزل عطا ہوتی ہے!

ختم شد
 
Last edited:

طاہر اسلام

سینئر رکن
شمولیت
مئی 07، 2011
پیغامات
843
ری ایکشن اسکور
731
پوائنٹ
256
بہت خوب؛میرا خیال ہے کہ اسے سہ ماہی کے کسی قریبی؟ شمارے میں شائع کیا جائے؛والامر بیداللہ
 
Top