1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

" مقصدِ زندگی کیلیے ہماری ذمہ داریاں اور دھماکوں کی مذمت" از حسین آل شیخ حفظہ اللہ 08-07-2016

'خطبات حرمین' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏جولائی 18، 2016۔

  1. ‏جولائی 18، 2016 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    17,039
    موصول شکریہ جات:
    6,520
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    13686489_1063637893672435_1873055954013717162_n.png

    بسم الله الرحمن الرحيم

    " مقصدِ زندگی کیلیے ہماری ذمہ داریاں اور دھماکوں کی مذمت"


    فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل الشیخ حفظہ اللہ نے 03-شوال-1437 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان " مقصدِ زندگی کیلیے ہماری ذمہ داریاں اور دھماکوں کی مذمت" ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے مسلمانوں کو مقصدِ زندگی حاصل کرنے کیلیے بھر پور کوشش کرنے کی ترغیب دلائی اور کہا کہ جس طرح رمضان میں ہم نے عبادات کی ہیں اسی طرح سال کے بقیہ ایام میں بھی عبادات کریں، پھر انہوں نے مسجد نبوی کے قریب اور دیگر جگہوں میں ہونے والے دھماکوں کی پر زور الفاظ میں مذمت کی اور مسلم معاشرے کے تمام طبقات کو نظریاتی انحراف سے بچنے کیلیے ذمہ داریوں کی یاد دہانی کروائی اور آخر میں انہوں نے ماہِ شوال کے روزے رکھنے سے متعلق ترغیب دلائی۔

    پہلا خطبہ :

    اللہ تعالی کی بے شمار نعمتوں پر اسی کیلیے تعریفیں ہیں ، میں گواہی دیتا ہوں کہ دونوں جہانوں میں اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں اور دنیا و آخرت میں اس کا کوئی شریک نہیں، میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں محمد -ﷺ-اللہ کے برگزیدہ بندے اور چنیدہ رسول ہیں، یا اللہ! ان پر، ان کی آل، اور متقی و سچے صحابہ کرام پر رحمتیں، سلامتی، اور برکتیں نازل فرما۔

    {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا (70) يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا} اے ایمان والو! اللہ تعالی سے ڈرو اور ہمیشہ راست بازی سے کام لو [70]

    اللہ تمہارے اعمال سنوار کر تمہارے گناہ بخش دے گا۔ نیز جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے وہی عظیم کامیابی پا گیا۔[الاحزاب: 70-71]

    اسلامی بھائیو!

    ایام اور مہینے کتنی جلدی اور تیزی کے ساتھ گزر رہے ہیں ، اپنا وقت قرب الہی کی جستجو میں صرف کرنے والا ہی عقل مند اور دانشور ہے ، خلوت و جلوت میں اللہ تعالی کی اطاعت پر کار بند رہے۔

    اپنی زندگی میں مقصد حیات حاصل کرنا مسلمان کی ذمہ داری ہے لہذا اس کے حصول کیلیے عقیدہ توحید ، تقوی اور اللہ تعالی کی اطاعت پر ڈٹ جائے؛ کیونکہ پوری زندگی کا اصل مقصد یہی ہے کہ احکاماتِ الہیہ کی پاسداری ہو اور اللہ تعالی کی بندگی کی جائے، مقصدِ زندگی کے متعلق فرمانِ باری تعالی ہے:

    {قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (162) لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ}

    آپ کہہ دیں: میری نماز، قربانی، زندگی و موت اللہ رب العالمین کیلیے ہے [162] اس کا کوئی شریک نہیں ، مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں۔[الأنعام: 162-163]

    اسی طرح فرمانِ باری تعالی ہے:

    {وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ}

    موت آنے تک اپنے رب کی عبادت میں مگن رہو۔[الحجر: 99]

    اسی پر عمل کرتے ہوئے ہمارے نبی ﷺ ہر وقت اللہ تعالی کا ذکر کیا کرتے تھے۔

    مسلم اقوام!

    اگر مسلمان کو ماہِ رمضان میں اپنے اوقات و لمحات نیکیوں اور دیگر نفل عبادات میں صرف کرنے کی توفیق ملی ہے تو اس پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے نیز پورا سال اپنی استطاعت کے مطابق ممکنہ حد تک انواع و اقسام کی عبادات سر انجام دینی چاہییں؛ کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:

    (اللہ تعالی کے ہاں محبوب ترین اعمال وہ ہیں جو ہمیشہ کیے جائیں چاہے کم ہی کیوں نہ ہوں) متفق علیہ

    ہماری شریعت میں اجر و ثواب لینے کے ذرائع اور طریقے بہت زیادہ ہیں، یہ ہماری شریعت وسیع، آسان اور مسلمانوں کیلیے رحمت و فضیلت والی ہونے کی دلیل ہے۔

    اسلامی بھائیو!

    سب سے اہم بات یہ ہے کہ مسلمان فرائض کی پابندی کیلیے ڈٹ جائے، ہمہ قسم کی بدی، برائی اور ممنوعہ امور سے بچے، فرمانِ باری تعالی ہے:

    {فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطْغَوْا}

    آپ اور آپ کے ساتھ توبہ کرنے والے اسی طرح ڈٹ جائیں جیسے آپ کو حکم دیا گیا ہے اور سرکشی مت کریں۔[هود: 112]

    نیز پیارے پیغمبر ﷺ فرماتے ہیں: (تم کہو: "میں اللہ پر ایمان لایا "اور پھر اس پر ڈٹ جاؤ) مسلم

    اللہ کے بندو!

    اپنی نیکیوں کی حفاظت کرو، اللہ تعالی کی طرف سے تمہیں عطا کردہ نیکیوں کی توفیق کو گدلا مت کرو؛ کیونکہ شرعی اصطلاح میں کتاب و سنت کے مطابق مفلس شخص وہ ہے جو بہت بڑی بڑی نیکیاں کرے اور پھر اپنے اعضا سے خلق الہی پر ظلم ڈھا کر نیکیوں کو تباہ برباد کر دے، یا پھر گفتار یا کردار سے مخلوق پر ظلم و زیادتی کرے۔

    مسلم اقوام!

    ماہِ رمضان کے آخر میں قیام و صیام سمیت تلاوتِ قرآن کی عبادات اللہ تعالی کی توفیق سے تکمیل تک پہنچنے پر مسلمانوں کو مملکت حرمین میں مجرمانہ خونریز تین دھماکوں کی انتہائی اندوہناک خبریں ملیں ، ان مجرمانہ کاروائیوں میں بد ترین جرائم، کبیرہ گناہوں اور قبیح ترین پاپ پر بیک وقت عمل کیا گیا، یہ کاروائی کتاب و سنت سے منحرف گروہ کی جانب سے کی گئی ہے ، اس گروہ نے مسلمانوں کی اجتماعیت سے راہِ فرار اختیار کر کے اسلامی ممالک میں ایسے کرتوت دکھائے ہیں جن سے وسیع و عریض نقصانات ہوئے، ان سے صرف دین دشمن ہی خوش ہو تے ہیں۔

    • کیا انہیں اللہ تعالی کی جبّار اور عزیز و غفار ذات سے ڈر نہیں لگتا؟!
    • وہ اس وقت کیا کریں گے جب اللہ تعالی ان سے معصوم لوگوں کا خون بہانے کے متعلق سوال کرے گا؟!
    • اللہ تعالی کے سامنے وہ اس بات کا کیا جواب دیں گے کہ انہوں نے پر امن ، نمازیوں ، عبادات گزاروں کو خوف وہراس میں مبتلا کیا، بے گناہ روزے داروں کو قتل کیا اور وہ بھی رسول اللہ ﷺ کی مسجد کے قریب ، مقدس ماہ رمضان میں کہ جس وقت لوگ اللہ رب العالمین کے سامنے عاجزی و انکساری کے ساتھ کھڑے تھے!؟

    مسلم نوجوانوں!

    دانشمندی اور غور و فکر کیلیے کچھ عقل سے کام لو، اور مسلمانوں کی اجتماعیت سے نکل کر انتہا پسندانہ نظریات کے بھیانک نتائج سے عبرت حاصل کرو کہ ان نظریات کی بنا پر انہوں نے عبادت گزاروں، روزے داروں، معتکفین اور سجدہ ریز لوگوں کے قتل کو ہی حلال سمجھ لیا۔

    درست راستے سے بھٹکنے والے شخص! راہِ حق سے بہکنے والے شخص! اللہ تعالی کے پاس جانے سے پہلے توبہ کر لو نیز اللہ تعالی اور رسول اللہ ﷺ کے فرامین کی روشنی میں مومنوں اور مسلمانوں کے راستے پر واپس آ جاؤ، تمہیں شرعی نصوص منحرف ہونے سے خبردار کرتی ہیں، مسلمانوں کی اجتماعیت سے نکلنے اور پہلو تہی کرنے سے روکتی ہیں۔

    اسلامی تاریخ میں جناتی اور انسانی شیطانوں کیلیے کسی کی عقل خراب کرنے اور صراطِ مستقیم سے بہکانے کا سب سے بڑا ذریعہ یہی ہے کہ اسے صراطِ مستقیم ، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر نمازیوں ، عبادت گزاروں اور مومنین کے راستے سے ہٹا دیا جائے، فرمانِ باری تعالی ہے:

    {وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ}

    شیطانی قدموں پر مت چلو ؛ بیشک وہ تمہارے لیے واضح دشمن ہے۔[البقرة: 168]

    کتاب و سنت نے ہماری رہنمائی صرف اسی راستے کی جانب کی ہے جن سے ہماری حالت سنور سکتی ہے، چنانچہ جس قدر ہم کتاب و سنت سے دور ہوتے جائیں گے خرابیاں بڑھتی چلی جائیں گی۔

    نوجوانانِ اسلام!

    یہ بات ذہن نشین کر لو کہ:

    اسلام اور جناب محمد ﷺ کے دشمنوں کے پاس دین اور مسلم معاشرے کے خلاف جنگ کیلیے سب سے کامیاب ترین ہتھیار یہ ہے کہ مسلمانوں میں فرقہ واریت پھیلائی جائے ، نوجوانوں کو ظاہری طور پر رحمت لیکن حقیقت میں زحمت سے بھر پور دلائل کے ذریعے مسلمانوں کی اجتماعیت سے نکالا جائے ، اس کیلیے دشمنانِ اسلام اپنے دلائل کو غلبۂ دین اور دین کی خدمت کا نام دیتے ہیں، اور ان کے مذموم مقاصد اس وقت تک شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتے جب تک وہ نوجوانوں کو ربانی علمائے کرام ، محقق فقہائے عظام اور اصلاح پسند ائمہ سے دور نہ کر دیں۔

    تاریخ کے جھروکوں میں جھانکنے والے کو یہ باتیں روزِ روشن کی طرح معلوم ہیں کہ امت محمدیہ کی ترقی اور نشر و اشاعت کے راستے میں مسلمانوں کی اجتماعیت سے انحراف جیسی کوئی بھی رکاوٹ سامنے نہیں آئی؛ کیونکہ ایسے فتنوں سے دین کی خدمت نہیں ہوتی اور نہ ہی ان سے دین کی خدمت ممکن ہے، بلکہ ان سے دنیا بھی نہیں بنتی، مزید برآں پوری امت محمدیہ کے خلاف ان فتنوں نے کئی بڑے بڑے محاذ گرم کیے جنہیں یہاں بیان کرنا کسی بھی صاحب بیان کیلیے ممکن نہیں ہے۔

    اس ملک کے باسیو!

    حرمین شریفین کی خدمت کی وجہ سے تمہارا ملک نشانے پر ہے، نیز دشمنوں کو اللہ تعالی کی عطا کردہ نعمتوں پر تم سے حسد بھی ہے، اس لیے اچھے کاموں کیلیے متحد ہو جاؤ، کسی بھی صورت میں بٹنے سے بچو، دشمنوں کے پھندوں اور تمہاری گھات میں لگائے گئے لوگوں کے جالوں سے دور رہو، دشمن تمہارے معاشرے اور نسلوں کو تباہ برباد کرنا چاہتا ہے۔

    میڈیائی ذرائع کی سمت اور ہدف درست کرنے کی ضرورت ہے، میڈیا کا ہدف معاشرے اور آنے والی نسلوں کا تحفظ ہونا چاہیے اور تمام مسلمان افواہوں اور جھوٹی خبروں کی شکل میں مہلک ترین ہتھیار سے بچیں ان کے لگے ہوئے زخم مندمل نہیں ہوتے۔

    سرزمین حرمین شریفین کے مکینوں کی ذمہ داری ہے کہ اپنی ملکی قیادت کے شانہ بشانہ آگے بڑھیں، اپنے علمائے کرام سے علم حاصل کریں، ان کے بارے میں سب کی طرف سے نیکی، تقوی، دینداری ، حکمت و دانائی ، تجربہ اور اہل علم ہونے کی گواہی دی جا چکی ہے۔

    تمام افراد ذاتی مفادات کو عوامی مفادات پر قربان کریں، اجر و ثواب کیلیے اپنے ملک کی خدمت میں صدق دل اور اخلاص کیساتھ جانثاری سے کام لیں، یہی ملک مملکت حرمین شریفین ہے جو مسلمانوں اور دین اسلام کی بیک وقت خدمت کر رہا ہے، سب کی ذمہ داری ہے کہ دینی مقاصد اور شرعی اہداف کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کیلیے بھر پور کوششیں کریں۔

    خاندانی سطح پر نوجوانوں کا خیال رکھیں، ان کی مکمل خبر گیری کریں، ان کے حالات سے اچھی طرح با خبر رہیں، نوجوانوں کے کردار ملحوظِ خاطر رکھیں، اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالی کے سامنے گڑگڑائیں کہ اللہ تعالی نسلِ نو کو ہر قسم کے فتنے ، آزمائش اور گمراہ فکر سے بچائے؛ کیونکہ والدین کی اولاد کیلیے دعا سب سے بہترین ذریعۂ اصلاح ہے۔

    امت مسلمہ کے علمائے کرام!

    امت مسلمہ کے مسائل سے متعلق گفت و شنید کے دوران حکمت، دانائی اور نتائج ضرور سامنے رکھیں، کسی بھی ایسی تقریر یا فتوے سے احتراز کریں جسے نوجوان غلط مفہوم یا معنی میں ڈھال سکیں، یا اس کا صحیح معنی سمجھنے کی بجائے غلط معنی سمجھ لیں۔ یہ اسی وقت ممکن ہو گا جب علمائے اسلام کے بیان کردہ شرعی مقاصد کو سامنے رکھا جائے گا، اس کے ساتھ ساتھ درست فقہی فکر و نظر بھی از حد ضروری ہے جو کہ نوجوانوں کو حکمت ، دانائی، رفق اور ٹھہراؤ کی جانب گامزن کرے۔

    آخر میں ہم ملکی سکیورٹی پر مامور جوانوں کیلیے کلمۂ تشکر کہتے ہیں حقیقت میں یہی ہمارے روحِ رواں ہیں، مسلمانوں کی خدمت کیلیے عزم و جذبہ کی بلندی پر ہیں، اللہ تعالی کے بعد مسلمانوں کی حفاظت کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں، اللہ تعالی انہیں بہترین جزائے خیر سے نوازے، انہیں ہمہ قسم کی مشکلات اور پریشانیوں سے محفوظ رکھے، اپنی جانیں نچھاور کرنے والوں کو اللہ تعالی شہدا میں قبول فرمائے اور تمام زخمیوں کو جلد از جلد شفا یاب فرمائے۔

    میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں ، اللہ تعالی سے اپنے لیے، آپ سب کیلیے اور تمام مسلمانوں کیلیے تمام گناہوں کی بخشش طلب کرتا ہوں، آپ سب بھی اسی سے بخشش طلب کرو، بیشک وہ بخشنے والا اور غفور و رحیم ہے۔

    دوسرا خطبہ :

    میں اپنے رب کیلیے حمد و شکر بجا لاتا ہوں۔

    مسلمانو!

    اللہ تعالی کا امت پر احسان ہے کہ اللہ تعالی نے ڈھیروں اجر و ثواب کا باعث بننے والی عبادات شریعت میں شامل کیں، نبی ﷺ کا فرمان ہے: (جو شخص رمضان کے روزے رکھنے کے بعد شوال کے چھ روزے بھی رکھے تو گویا اس نے پورے سال کے روزے رکھے) مسلم

    اہل علم کی دو آرا میں سے بہتر رائے کے مطابق جس شخص پر فرض روزوں کی قضا ہو تو ان کی قضا دینے سے پہلے نفل روزے مت رکھے؛ کیونکہ یہ شرعی قواعد اور صحیح نصوص سے متصادم ہے۔

    اللہ کے بندو! ماہ رمضان سے ایسی عادات لے لو جو آپ کی فضیلتوں والے اعمال اور اچھے اخلاق کی جانب رہنمائی کریں، ہمیشہ فیاضی سے کام لو خفیہ و اعلانیہ نیکیاں اور مہربانیاں کرتے رہو، امت محمدیہ پر اس دنیا میں اعلی ترین اخلاق اور خوبیوں کے ساتھ رہنا از بس ضروری ہے؛ کیونکہ ہمارے دین کا مقصد ہی یہی ہے، ہمارے رب کی شریعت کا یہی ہدف اور فرائض میں سے ایک فریضہ بھی ہے۔

    نبی ﷺ پر درود و سلام پڑھنا سب سے افضل ترین عمل ہے۔

    یا اللہ! ہمارے نبی محمد اور ان کی آل سمیت صحابہ کرام پر درود و سلام اور برکتیں نازل فرما۔

    یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! پوری دنیا میں مسلمانوں کی حفاظت فرما، یا اللہ! پوری دنیا میں مسلمانوں کی حفاظت فرما، یا اللہ! پوری دنیا میں مسلمانوں کی حفاظت فرما، یا اللہ! مسلمانوں کی اپنی جانب سے خصوصی حفاظت فرما، یا اللہ! ان کی مشکلات آسان فرما اور مصیبتیں رفع فرما۔

    یا اللہ! اسلام دشمنوں پر اپنی پکڑ نازل فرما، یا اللہ! اسلام دشمنوں پر اپنی پکڑ نازل فرما، یا اللہ! ان کی منصوبہ بندیاں اور مکر و فریب غارت فرما، یا ذا الجلال و الاکرام! یا اللہ! ان کی منصوبہ بندیاں غارت فرما، یا عزیز! یا حکیم!

    یا اللہ! مومن مرد و خواتین ، مسلمان مرد و زن کی بخشش فرما، زندہ اور فوت شدگان سب کی مغفرت فرما۔

    یا اللہ! ہمارے حکمران کو انہی کاموں کی توفیق عطا فرما جو تیری رضا کا باعث بنیں، یا ذا الجلال والاکرام!

    یا اللہ! ہمارے اور تمام مسلمانوں کے ممالک کو ہمہ قسم کے شر سے محفوظ فرما، یا اللہ! ہمارے اور تمام مسلمانوں کے ممالک کو ہمہ قسم کے شر سے محفوظ فرما، یا ذا الجلال والاکرام!

    یا اللہ! ہماری سکیورٹی فورس کے جوانوں کی حفاظت فرما، یا اللہ! ہماری سکیورٹی فورس کے جوانوں کی حفاظت فرما، یا اللہ! انہیں طاقتور بنا، ان کے نشانے درست فرما اور ان کی مدد فرما، یا حیی! یا قیوم!

    یا اللہ! حجاج اور معتمرین کی حفاظت فرما، یا اللہ! حجاج اور معتمرین کی حفاظت فرما، یا اللہ! حجاج اور معتمرین کی حفاظت فرما، یا ذا الجلال والاکرام! یا اللہ! انہیں اپنے علاقوں میں صحیح سلامت اجر و ثواب کے ساتھ واپس لوٹا، یا حیی! یا قیوم!

    یا اللہ! ہمیں دنیا و آخرت میں خیر و بھلائی عطا فرما، اور ہمیں آگ کے عذاب سے محفوظ فرما۔

    یا اللہ! ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جن کے قیام و صیام تو نے قبول فرما کر ان کے گناہوں کو بخش دیا ہے، یا حیی! یا قیوم!

    یا اللہ! مسلمانوں کے معاملات آسان فرما، یا اللہ! مسلمانوں کے معاملات آسان فرما، تا کہ مسلمانوں کے حالات بھی درست ہو جائیں، یا حیی! یا قیوم!

    اور ہماری آخری دعوت بھی یہی ہے کہ تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کیلیے ہیں۔


    پی ڈی ایف فارمیٹ کیلیے کلک کریں

    عربی آڈیو ، ویڈیو سمیت انگلش عربی ٹیکسٹ کیلیے کلک کریں
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں