• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ملحدوں کا مسجد حرم کے حادثے پر اعتراض کا جواب درکار ہے

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,767
ری ایکشن اسکور
5,408
پوائنٹ
562
@ابن قدامہ برادر!
السلام علیکم! آپ کو مندرجہ بالا مراسلوں کے ذریعہ ملحدین کے اعتراضات کے جوابات کے ضمن میں بات کرنے کو کچھ پوائنٹس ملے یا نہیں ؟؟؟ یا ہم نے محض وقت ضائع کیا ؟
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,106
ری ایکشن اسکور
6,770
پوائنٹ
1,069
اپنے گهر بلایا، شہادت کا رتبہ دلایا، زم زم سے نہلایا، امام حرم سے جنازہ پڑهوایا، شہر حرم میں سلایا،،، کوئی حد ہے اس کے کرم کی ؟!!!





الله تبارك و تعالى حرم میں سب حجاج کرام کو جو زخمی ہوئے صحت کاملہ عطاء فرمائے اور جو شہید ہوئے اسے جنت میں عالی مقام عطاء فرمائے امین ثم امین
 

عبدہ

سینئر رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 01، 2013
پیغامات
2,038
ری ایکشن اسکور
1,224
پوائنٹ
425
حرم کے واقعہ پر ایک بد بخت ملحد کی سوچ
حرم کے حادثے پر ایک مومن کی سوچ
اپنے گهر بلایا، شہادت کا رتبہ دلایا، زم زم سے نہلایا، امام حرم سے جنازہ پڑهوایا، شہر حرم میں سلایا،،، کوئی حد ہے اس کے کرم کی ؟!!!





الله تبارك و تعالى حرم میں سب حجاج کرام کو جو زخمی ہوئے صحت کاملہ عطاء فرمائے اور جو شہید ہوئے اسے جنت میں عالی مقام عطاء فرمائے امین ثم امین

محترم ابن قدامہ بھائی اصل میں ان سوچوں کے فرق کی بنیادی وجہ اللہ کے بارے تصورات کا اختلاف ہے وہ بدبخت پہلے یہ عقیدہ بنا لیتے ہیں کہ اللہ اگر کوئی ہو گا تو وہ بھی مکمل بادشاہ نہیں ہو گا بلکہ اسکی بادشاہت میں بھی کسی اور کی طرف سے تکلیفیں آ سکتی ہوں گی جیسے دنیا کے بادشاہوں کی بادشاہت میں انکی مرضی کے خلاف آفات آتی ہیں چنانچہ وہ سمجھ رہے ہیں کہ یہ جو حرم کا حادثہ ہوا یہ کسی اور کی طرف سے بھیجا ہوا تھا پس انکے اللہ نے اسکو روکنا تھا مگر وہ نہ روک سکا
جبکہ ہمارا اللہ وہ ہے کہ الذی لہ ملک السموات والارض یعنی زمین اور آسمانوں کی بادشاہی بھی اسی کی ہے اور اسکی اس بادشاہت سے کوئی جن و انس نکلنا چاہے تو لا تنفذون الا بسلطن یعنی کوشش کے علاوہ کچھ نہیں کر سکے گا اور ہم نے حدیث جبرائیل کے تحت پہلے ہی اس پر ایمان رکھا ہوا ہے کہ اچھی بری تقدیر اسی کی طرف سے ہے

الزامی جواب:
اگر وہ بد بخت سیدھی انگلیوں سے گھی نہیں نکالنے دیتا تو پھر اسکو کہیں کہ آپ ہمارے خالق و مالک پر یہ اعتراض کرتے ہوئے اس کو خالق و مالک تسلیم کرنے سے انکار کرتےہیں کہ یہ کیسا خالق ہے کہ جو تکلیف سے بچا ہی نہیں سکا تو پھر اس طرح تو آپکو کس کس انکار کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا
1۔ مثلا کل کو آپ اپنے بیٹے کے استاد سے کہیں کہ اسکو نہ پڑھنے اور کھیلنے پر خوب مارو تاکہ یہ پڑھ لکھ کر بڑا آدمی بن جائے تو اسوقت آپکو والد ہونے کے انکار کا سامنا کرنا ہو گا کہ والد ہی کیا جو اپنے بچے کو استاد سے بچا نہ سکا

2۔ اسی طرح اگر آپ استاد ہوں اور ممتحن لگائے گئے ہوں اور پیپر کے تین گھنٹے پورے ہونے پر آپ اپنے بچوں سمیت سب سے پیپر لیں لیں اور یہ خواہش رکھیں کہ لوگ مجھے انصاف پسند کہیں کہ وقت ختم ہونے پر اپنے بچوں تک سے بھی پیپر چھین لیا مگر وہاں کوئی ہم آپ جیسا ہی سر پھرا یہ کہ دے کہ دیکھو یہ استاد اور بچوں کا ہمدرد نہیں ہو سکتا یہ تو معصوم بچوں کے مستقبل کا قاتل ہے تو پھر آپ اسکو کیا کہیں گے

اگر اس دنیا کے امتحان ہونے پر اعتراض ہے تو اس پر بات کر لیں خؤاہ مخؤاہ جگ ہنسائی تو نہ کروائیں
 
شمولیت
اگست 23، 2012
پیغامات
188
ری ایکشن اسکور
140
پوائنٹ
70
مادیت نے دماغ خراب کر رکھا ہے یہ لوگ مادیت کو سامنے رکھ کر اللہ اکا انکار کرتے ہیں کہ جب نظر نہیں آتا تو مانیں کیوں..؟
ذرا ان سے یہ پوچھیں کہ دنیا کا کونسا پیمانہ ہے جو انسان میں عقل کو ماپ سکتا یا بتا سکتا ہے اگر عقل کو ماپا نہیں جا سکتا تو اس کا کیا مطلب ہوا کہ انسان بے عقل ہے....
شائید یہ لوگ بے عقل ہی ہوں جبھی ضرورت سے زیادہ عقل کو دوڑاتے ہیں..
 

محمد علی جواد

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 18، 2012
پیغامات
1,988
ری ایکشن اسکور
1,547
پوائنٹ
304
  1. ایک ملحد (یا ناقص العقیدہ مسلمان) جب تک اللہ کو اس کی تمام صفات کے ساتھ تسلیم نہیں کرلیتا، اس وقت تک اس کے کسی بھی ”اعتراض” کا ایسا جواب ممکن نہیں، جو اسے دلی طور پر مطمئن کرسکے۔ لہٰذا سب سے پہلے تو اس سے ملحد سے موحد بننے کے لئے مکالمہ کرنا چاہئے۔ اس طرح کے ہزاروں لاکھوں ”اعتراضات“ از خود ختم ہوجائیں گے۔
  2. اسے کہئے کہ جب آپ اللہ کو اس کی جملہ صفات کے ساتھ مانتے ہی نہیں تو آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ انہیں اللہ نے مہمان بنایا تھا؟ اگر آپ کہتے ہیں کہ اللہ نے مہمان بنایا تھا، تو گویا آپ اللہ کا اقرار کر رہے ہیں؟
  3. اگر کوئی ”خدا“ ہی نہیں ہے تو یہ ”حوادث“ کہاں سے پیدا ہوتے ہیں ؟ کیا بغیر ”فاعل“ کے بھی کوئی ”فعل“ ممکن ہے؟ یا آپ کے خیال میں یہ بڑے بڑے طوفان، زلزلے وغیرہ انسان ”پیدا“ کرتا ہے ؟
  4. ہم مسلمانوں (موحدوں) کا عقیدہ ہے کہ یہ زندگی اور موت دونوں ہم انسانوں کے لئے ”آزمائش“ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ دنیوی زندگی ہمارے لئے ایک امتحان ہے۔ یہاں اللہ ہمیں ”دے“ کر بھی آزماتا ہے۔ ”نہ دے کر“ بھی آزماتا ہے اور ”دینے کے بعد لے کر“ بھی آزماتا ہے۔ اللہ ہمیں ہر طرح سے آزما کر ہمارے لئے ”نتیجہ“ نکالے گا کہ ہم اخروی اور ابدی زندگی کے لئے کامیاب ہوتے ہیں یا ناکام۔ کامیابی کی صورت میں ہم جنت میں جائیں گے اور ناکامی کی صورت میں جہنم میں۔
  5. کامیابی کے بھی درجے ہیں۔ بڑے امتحان، بڑی آزمائش میں بڑی کامیابی کی صورت میں جنت میں اعلیٰ مدارج و مناصب ملیں گے۔
  6. جو لوگ حرمین کے اس حادثہ میں شہید ہوئے ہیں، احادیث سے یہ بات ثابت ہے کہ اگر وہ نیک نیتی کے ساتھ حج کے لئے آئے تھے تو وہ اس دنیا میں کامیاب ہوگئے۔ انہیں شہادت کا عظیم درجہ مل گیا۔
  7. ہم مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ موت اپنے وقت پر آتی ہے۔ بخاری شریف کی ایک حدیث کے مطابق جب فرشتہ ماں کے پیٹ میں نومولود میں روح پھونکنے آتا ہے تو وہ ایسا کرنے سے قبل ہی اللہ کے حکم سے پہلے بچہ کی عمر لکھ دیتا ہے۔ ہم موت کو اس کے مقررہ وقت پر کسی صورت نہیں روک سکتے۔ البتہ موت کے طریقوں کا ”اختیار“ کسی حد تک انسانوں کے پاس ہے۔ جیسے ہم خودکشی کر کے بھی مر سکتے ہیں۔ کسی کو گولی مارکر بھی اسے موت سے ہمکنار کرسکتے ہیں۔ جنگ میں جہاد کرتے ہوئے بھی شہید ہوسکتے ہیں۔ قدرتی آفات وغیرہ میں بھی مر سکتے ہیں۔ اس میں سے کچھ ”ذرائع“ ہمارے اختیار میں ہیں، کچھ نہیں۔ ہم جو بھی ذریعہ ”اختیار“ کریں گے، اسی کی بنیاد پر ہمیں اجر یا گناہ ملے گا۔ لیکن موت پھر بھی اپنے وقت پر ہی آئے گی۔ یعنی بیت اللہ شریف میں شہید والے یہ عازمین حج اگر حج پر نہ بھی جاتے تو یہ اپنے اپنے آبائی علاقوں میں اسی وقت پر لازماً فوت ہوجاتے۔ (طریقہ موت کچھ بھی ہوسکتا تھا)۔
واللہ اعلم بالصواب
جزاک الله
 

محمد علی جواد

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 18، 2012
پیغامات
1,988
ری ایکشن اسکور
1,547
پوائنٹ
304
السلام و علیکم و رحمت الله -

اصل میں جو مسلہ @خضرحیات صاحب اور @یوسف ثانی کے درمیان زیر بحث ہے کہ

عازمین حج اگر حج پر نہ بھی جاتے تو یہ اپنے اپنے آبائی علاقوں میں اسی وقت پر لازماً فوت ہوجاتے۔ (طریقہ موت کچھ بھی ہوسکتا تھا) -

یا یہ کہنا حج پر کیوں نہ جاتے ؟ یہ بھی اللہ کا فیصلہ تھا ـ


یہ الجھن اس وجہ سے پیدا ہوتی ہے کہ ہم الله رب العزت کے معامله قضاء و قدرکو اپنے محدود علم پر قیاس کرنے کی کوشش کرتے ہیں -انسان کا ایک معامله جو الله تبارک وتعالیٰ نے تقدیر میں لکھ دیا ہے وہ اسی طرح وقوع پذیر ہونا ہے - لیکن اس کی اصل حقیقت کیا تھی اس کے بارے میں الله رب العزت ہی جانتا ہے کہ اگر وہ واقعہ ایسے نہ ہوتا تو کیسے ہوتا ؟؟- اس علم کی حقیقت کا اشارہ الله رب العزت نے سوره الکہف میں بھی دیا ہے- جس میں الله کے ایک نبی حضرت خضر علیہ سلام کو اس علم کی حقیقت الله کی طرف سے دی گئی تھی -

جب انہوں نے ایک لڑکے کو قتل کیا تو حضرت موسیٰ علیہ سلام نے حضرت خضر علیہ سلام سے کہا کہ یہ تو آپ نے بہت برا کام کیا کہ ایک لڑکے کو نا حق قتل کردیا - جس پر حضرت خضر علیہ سلام نے انھیں اس کی حقیقت بتائی کہ ایک تو میں نے اس لڑکے کو ناحق قتل نہیں کیا بلکہ یہ میں نے الله کے حکم سے کیا ہے اوردوسرے اس کی وجہ بتائی کہ اگر یہ ابھی قتل نہ ہوتا تو بڑا ہو کر اپنے والدین کو کافر بنا دیتا- لہذا الله نے چاہا کہ اس کے والدین کو اس فتنہ پرور اولاد سے نجات دلا کر نیک اولاد سے نوازیں-

اب اگر الله چاہتا تو پہلے ہی ان والدین کو نیک اولاد سے نواز دیتا - لیکن ایک فتنہ پرور لڑکے کو پیدا کرنا اور پھر اس کو اپنے بندے کے ہاتھوں قتل کروانا اس کی مشیت کا حصّہ تھا - اور الله نے یہ بھی بتا دیا کہ اگر وہ لڑکا قتل نہ ہوتا تو اپنے والدین کے لئے مصیبت و آزمائش بن جاتا-

لہذا حاجیوں کا حادثے میں شہید ہونا الله کی مشیت کا حصّہ ہے اور اگر وہ حرم میں شہید نہ ہوتے تو ان کی موت کس طرح وقوع پذیر ہوتی اور کس جگہ ہوتی اس کی حقیقت الله ہی جانتا ہے (واللہ اعلم)-

الله ہم سب کو زندگی اور موت اور یوم حشر کے فتنے سے محفوظ رکھے (آمین)-
 

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,767
ری ایکشن اسکور
5,408
پوائنٹ
562
السلام و علیکم و رحمت الله -

اصل میں جو مسلہ @خضرحیات صاحب اور @یوسف ثانی کے درمیان زیر بحث ہے کہ

عازمین حج اگر حج پر نہ بھی جاتے تو یہ اپنے اپنے آبائی علاقوں میں اسی وقت پر لازماً فوت ہوجاتے۔ (طریقہ موت کچھ بھی ہوسکتا تھا) -

یا یہ کہنا حج پر کیوں نہ جاتے ؟ یہ بھی اللہ کا فیصلہ تھا ـ


یہ الجھن اس وجہ سے پیدا ہوتی ہے کہ ہم الله رب العزت کے معامله قضاء و قدرکو اپنے محدود علم پر قیاس کرنے کی کوشش کرتے ہیں -انسان کا ایک معامله جو الله تبارک وتعالیٰ نے تقدیر میں لکھ دیا ہے وہ اسی طرح وقوع پذیر ہونا ہے - لیکن اس کی اصل حقیقت کیا تھی اس کے بارے میں الله رب العزت ہی جانتا ہے کہ اگر وہ واقعہ ایسے نہ ہوتا تو کیسے ہوتا ؟؟- اس علم کی حقیقت کا اشارہ الله رب العزت نے سوره الکہف میں بھی دیا ہے- جس میں الله کے ایک نبی حضرت خضر علیہ سلام کو اس علم کی حقیقت الله کی طرف سے دی گئی تھی -

جب انہوں نے ایک لڑکے کو قتل کیا تو حضرت موسیٰ علیہ سلام نے حضرت خضر علیہ سلام سے کہا کہ یہ تو آپ نے بہت برا کام کیا کہ ایک لڑکے کو نا حق قتل کردیا - جس پر حضرت خضر علیہ سلام نے انھیں اس کی حقیقت بتائی کہ ایک تو میں نے اس لڑکے کو ناحق قتل نہیں کیا بلکہ یہ میں نے الله کے حکم سے کیا ہے اوردوسرے اس کی وجہ بتائی کہ اگر یہ ابھی قتل نہ ہوتا تو بڑا ہو کر اپنے والدین کو کافر بنا دیتا- لہذا الله نے چاہا کہ اس کے والدین کو اس فتنہ پرور اولاد سے نجات دلا کر نیک اولاد سے نوازیں-

اب اگر الله چاہتا تو پہلے ہی ان والدین کو نیک اولاد سے نواز دیتا - لیکن ایک فتنہ پرور لڑکے کو پیدا کرنا اور پھر اس کو اپنے بندے کے ہاتھوں قتل کروانا اس کی مشیت کا حصّہ تھا - اور الله نے یہ بھی بتا دیا کہ اگر وہ لڑکا قتل نہ ہوتا تو اپنے والدین کے لئے مصیبت و آزمائش بن جاتا-

لہذا حاجیوں کا حادثے میں شہید ہونا الله کی مشیت کا حصّہ ہے اور اگر وہ حرم میں شہید نہ ہوتے تو ان کی موت کس طرح وقوع پذیر ہوتی اور کس جگہ ہوتی اس کی حقیقت الله ہی جانتا ہے (واللہ اعلم)-

الله ہم سب کو زندگی اور موت اور یوم حشر کے فتنے سے محفوظ رکھے (آمین)-
وعلیکم السلام برادر!
میرا یہ جملہ ”ملحد“ کے اعتراض کے پس منظر میں ہے۔ یہ کوئی مستقل جملہ نہیں۔ ملحد کا زور اس بات پر تھا کہ اللہ نے ان عازمین کو اپنے گھر بلا یا، جہاں یہ حادثے میں ہلاک ہوئے۔ گویا اگر یہ حج پر نہ جاتے تو ہلاک نہ ہوتے ۔ کفار کا یہی موقف اللہ نے قرآن میں بھی بیان کیا ہے۔ میں نے اسی ”اعتراض“ کے جواب میں لکھا تھا کہ چونکہ موت کا وقت مقرر ہے (گو کہ جگہ بھی مقرر ہے ) اس لئے انہیں اسی لمحہ موت تو آنی ہی تھی (آگے کا جملہ صرف بربنائے دلیل ہے کہ) خواہ یہ حج پر نہ آبھی آتے ۔ جب کسی غیر مسلم کے اعتراض پر بحث کی جاتی ہے تو انہیں انہی کی ”زبان“ میں دلیل دی جاتی ہے، قرآن و حدیث کی زبان میں نہیں۔ دنیا میں جو کچھ ہوجاتا ہے اور جیسے ہوتا ہے، اسلامی عقیدہ تو یہی ہے کہ یہ سب کچھ اسی طرح ہونا تھا۔ لیکن یہ بات ملحدین نہیں مانتے۔
 

محمد علی جواد

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 18، 2012
پیغامات
1,988
ری ایکشن اسکور
1,547
پوائنٹ
304
وعلیکم السلام برادر!
میرا یہ جملہ ”ملحد“ کے اعتراض کے پس منظر میں ہے۔ یہ کوئی مستقل جملہ نہیں۔ ملحد کا زور اس بات پر تھا کہ اللہ نے ان عازمین کو اپنے گھر بلا یا، جہاں یہ حادثے میں ہلاک ہوئے۔ گویا اگر یہ حج پر نہ جاتے تو ہلاک نہ ہوتے ۔ کفار کا یہی موقف اللہ نے قرآن میں بھی بیان کیا ہے۔ میں نے اسی ”اعتراض“ کے جواب میں لکھا تھا کہ چونکہ موت کا وقت مقرر ہے (گو کہ جگہ بھی مقرر ہے ) اس لئے انہیں اسی لمحہ موت تو آنی ہی تھی (آگے کا جملہ صرف بربنائے دلیل ہے کہ) خواہ یہ حج پر نہ آبھی آتے ۔ جب کسی غیر مسلم کے اعتراض پر بحث کی جاتی ہے تو انہیں انہی کی ”زبان“ میں دلیل دی جاتی ہے، قرآن و حدیث کی زبان میں نہیں۔ دنیا میں جو کچھ ہوجاتا ہے اور جیسے ہوتا ہے، اسلامی عقیدہ تو یہی ہے کہ یہ سب کچھ اسی طرح ہونا تھا۔ لیکن یہ بات ملحدین نہیں مانتے۔
السلام و علیکم و رحمت الله -

جی آپ کی بات صحیح ہے- لیکن کوشش یہی ہونی چاہیے کہ دلیل ہمیں قرآن و حدیث سے ہی سے دیں- چاہے ملحد مانیں یا نہ مانیں - ہدایت الله کے ہاتھ میں ہے-

ویسے "ملحد" تو الگ نظریات کے حامل ہیں- لیکن ہم مسلمانوں میں بھی یہ جملہ عام ہے کہ "اللہ نے ہمیں اپنے گھر بلایا- یا جب الله چاہے گا ہمیں اپنے گھر بلاے لے گا وغیرہ" -

جب کہ الله رب العزت اپنے گھر پر نہیں بلکہ عرش پر مقیم ہے-

صحیح جملہ یہ ہونا چاہیے کہ "جب الله چاہے گا ہمیں اپنے گھر(کعبہ) جانے کی توفیق عطا کردے گا"
 
Top