• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

منٹویت: یعنی جنس زدہ لفظوں کی چھنالی

سرفراز فیضی

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 22، 2011
پیغامات
1,091
ری ایکشن اسکور
3,806
پوائنٹ
376
منٹویت: یعنی جنس زدہ لفظوں کی چھنالی

شعبان بیدارصفوی (بھیونڈی)​
اردو ادب کی دنیا میں ’’منٹو‘‘ شہرت کی بلندیاں چھونے والا ایک زندہ نام ہے۔ اپنی ذہنی ساخت کے اعتبار سے اس نے اچھا بھی لکھا برا بھی لکھا مگر جو بھی لکھا کچھ ایسا لکھا کہ اس پر زمانے کو ادب کی مہر لگانی ہی پڑی!
منٹو 11؍مئی 1912 کولدھیانہ پنجاب میں پیدا ہوئے۔ بٹوارے کے بعد لاہور چلے گئے ، بوجوہ انھوں نے بے حساب شراب نوشی شروع کردی، بالآخر بیمار ہوگئے اور اسی بیماری میں 1955 کو اُس دنیا سے روبرو ہوئے جس کے وہ زندگی بھر منکر رہے۔﴿ولم ادرماحسابیہ یالیتھا کانت القاضیۃ
منٹو کے ادبی کارنامے بہت زیادہ ہیں لیکن ان کا سب سے بڑا کارنامہ جس پر ہمارے نقاد اور تبصرہ نگار عہد سازی، انفرادیت ، جودت طبع، کھلا پن جیسی پر رعب ترکیبوں کا ایک پہاڑی سلسلہ لگادیتے ہیں وہ یہ ہے کہ صاحب نے چکلوں کی گھناؤنی دنیا کو منوں عطر سے نہلایا۔ ایسا کہ اچھے اچھے آہ بھر کر رہ گئے حالانکہ چکلوں کے بعض اسباب وتدراک پر ہماری بھی نظر ہے مگر منٹویت کی نگاہیں اس پر نہیں جم سکتیں۔ اس نے جنسی بے راہ روی کی اندرونی کیفیات و نفسیات کو اس شان سے نطق و صدا کی قوت بخشی کہ گدھوں کا اختلاط پیش کرنے میں بھی حضرت انسان کو کوئی ہچک نہ محسوس ہو۔
الغرض سماج کی گندی مٹی سے ایسے برہنہ پتلے تراشے مانو حسن و جمال کی دیویاں پر کھولے کھڑی ہوں ۔ٹھیک ہمارے اخباروں کی طرح کہ عصمت دری کے واقعات کچھ ایسا پیش کرتے ہیں کہ عابد ہزار شب کو بھی خواہش جرم ہونے لگے!
قارئین کرام! منٹو کے سلسلے میں یہ میری کوئی اندھی بہری رائے نہیں ہے بلکہ یہ رائے کسی قدر منٹو کو پڑھنے کے بعد دی گئی ہے۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ منٹو معروف معنی میں ادیب نہیں تھا جس طرح یہ نہیں کہہ سکتا کہ ابلیس حد درجے کی ذہین، چست اور ذی علم شخصیت نہیں ہے۔
ممتاز ناقد ممتاز علوی کا کہنا ہے کہ ’’اس نے بے شمار عقائد و مسلمات اور تصورات کو توڑا اور شعلہ حیات کو برہنہ انگلیوں سے چھوا‘‘ جبکہ میں تو کہتا ہوں کہ برہنہ دماغ سے بھی چھوا۔علوی ہی کیا بیشتر تنقید نگاروں کے نزدیک دوسرے لفظوں میں ’’حقیقت نگار‘‘ تھا ایسا کہنا ان کی مجبوریوں میں بھی شمار کرسکتے ہیں کیونکہ اسٹیشن اور بک اسٹالوں پر بے ڈھنگی تصویروں والی جنسی ننگی کتابوں کی ورق گردانی میں آنکھوں کا بچا کچھا پانی درمیان کا سمندر بن جاتا ہے۔ ایسے میں ’’منٹو لوگوں‘‘ کا نام غنیمت ہوتا ہے۔ مہذب حیوانیت کی پیاس ، بھڑکتی ہوئی پیاس رگ و ریشے میں دھواں بھر دیتی ہے! ……پیاس: پیاس کا صحرا بن جاتی ہے، دماغ میں لہو کی بوندیں ایسی جم جاتی ہیں جیسے میونسپلٹی کے سنڈاس روم کی پپڑیاں!!…… پھر موقع ملا تو بنام ادب خوشونت سنگھ کی ’’دلی‘‘ کا ذائقہ بھی اٹھا لیتے ہیں اور قوم لوط کی تہذیب سکھوں جیسی بیباکی کے پردے میں چھپادی جاتی ہے۔ پردہ بھی! بدبودار ٹاٹ کا پردہ! روح سے مزمن سیلان کی عفونت اٹھتی ہے۔ مگر ناک! کتوں کی ناک! بھلا ایسی خوشبو کس کے نصیبے میں! صاحب کی چھچھوری اور بچکانہ حقیقت نگاری میری بھی نگاہ سے گزری ہے۔ ایک بھائی اپنی ہمشیرہ کو دیکھتا ہے کہ وہ اپنے ابھار پر پھاہا لگا تی ہے کہ اس کی نگاہوں میں یہ پھوڑے ہیں (پڑھئے پھاہا)۔
منٹو اس سے جو پیغام دینا چاہتا ہے اس پر کوئی سوال نہیں، سوال اس کے ادیب ہونے پر ہے۔ اگر کوئی اپنی بات پیش کرنے کے لیے مہذب استعارہ اور پردہ دار تمثیل نہ تخلیق کرسکے تو وہ ادیب کس لیے ہے۔ اور پھر یہ بھی کہ ہر موضوع کے لیے ہر صنف ادب کیونکر موزوں ہوسکتا ہے۔
جنسیات کو کوئی مولانا صاحب ہی اگر افسانہ کے رنگ میں پیش کرنے لگیں توا نھیں بھی کوڑھ مغز بننا پڑے گا۔ جسے کبھی ہاتھ سے کھانا نصیب نہیں ہوتا گندگی چمچے کے لیے مجبور کردیتی ہے۔ حقیقی بات تو یہ ہے کہ ہر کسی آدمی کی ماں اس کے باپ کی بیوی ہے، اب ہمارے ادباء کے لیے اظہار خیال کا یہ بھی ایک موضوع ہوگا؟…… ادب و فلسفہ کی مہر لگانے کی دیر ہے ورنہ سماج میں منٹوئی مکھیوں کی کمی نہیں، پذیرائی ہوکر رہے گی۔ ویسے سگمنڈ فرائڈ نے یہ موضوع بھی کہاں اچھوت رکھا ہے۔ بچے کی ماں سے وابستگی کی توجیہ اس کے یہاں جنسی معاملہ ہے۔ تعجب بالائے تعجب یہ کہ اس مردبیمار کے افکار بھی کہتے ہیں ذہین لوگوں کی غذا بنے اور مکھی مچھر کی غذا ہو بھی کیا سکتی ہے۔ بتایئے تو سہی کہ دکانوں پر بکنے والی نیلی پیلی کچھ کتابیں کم حقیقت نگاری کرتی ہیں، ان کتابوں سے زیادہ سماج کی گندگی کو کون کوڈ کرسکتا ہے۔ معاشرے کے حقائق یہ کتابیں بھی بیان کرتی ہیں ۔ ہاں ان پر ادب و فلسفہ کا ٹھپا نہیں لگا ہے۔
ہمارے ادیب حضرات پھیپھڑوں کی پوری قوت سے چیختے ہیں کہ یہ غیر ادبی ہیں، ماحول غیر ادبی ہو رہا ہے۔ بھئی کیا ادب صرف خوبصورت لفظوں کا جال ہے۔ مجاز عقلی، مجاز مرسل، تشبیہ و استعارہ کو اعلیٰ درجہ پر برتنا ہی ادب ہے۔ فکر جو بھی ہو جیسی بھی ہو اگر انداز بیان شگفتہ اور طرز تحریر دلنواز ہو، حسن تالیف اور حسن ترتیب میں ندرت تو بس! ادب ہوگیا؟
اور تھوڑی دیر کے لیے میں تسلیم کرتا ہوں کہ وہ غیر ادبی ہیں مگر غیر حقیقی کب ہیں اور حقیقت نگاری پر ہماری آپ کی لڑائی ہے! تو پھر ان کتابوں کی حقیقت نگاری جاری رہنے دیجئے۔
اگر ادب یہی ہے کہ اسالیب ادب کے تمام طریقوں کوبروئے کار لاتے ہوئے عریانیت کا رنگ مزید چوکھا کردیاجائے!
ننگے جسموں کی چمڑیاں بھی ادھیڑ دی جائیں
حسن کا جیتا جیتا لہو رسنے لگے
سماج کی ادبی مکھیاں اس لہو کو چاٹیں!
ماں کی ممتا کوچیر کر ہوس کے لال لال نکتے دکھائے جائیں!
جن پر گدھ اور بونکے اپنی تمام تر حیوانیت کے ساتھ جھپٹیں!

تو پھر ان مردار خور حیوان ادیبوں سے ان کی حقیقت نگاربے ادبی ہی بھلی! تف ہے ہمارے تبصرہ نگاروں پر کہ وہ ماں کی ممتا میں جنس زدہ لفظوں کی چھنالی پر اپنے دل کی روشنی رنگ سیاہی یوں انڈیلتے ہیں:
’’ان الفاظ کا تعلق جنس سے ضرور ہے لیکن جس سیاق و سباق میں منٹو نے ان الفاظ کو اپنے افسانے کا حصہ بنایا ہے اس سے ذرہ برابر بھی انسان کا ذہن جنسی عوامل کی طرف نہیں جاتا……‘‘۔
دراصل یہ وہ لوگ ہیں جو گیلے پائخانے میں اناج کے دانے ڈھونڈتے ہیں، دھول میں بکھرے دانے انھیں نظر نہیں آتے۔کوئی کہہ سکتا ہے یہ تو ادبی عظمت کا انکار ہے۔ فی الواقع ایسا نہیں ہے یہی ادبی عظمت ہی تو ہے جس سے چالاک لوگوں کی چالاکی دھری رہ جاتی ہے اور سامنے کی ملون گندگی بھی ویری گڈ، فائن! کسی غیر ادیب نے ایسی ہی منٹو گیری کی ہوتی تو اسے چغد، وحشی، دیہاتی، بد تہذیب نہ جانے کون کون سے القاب کی نوازش ہوتی۔ منٹو صاحب کا ایک سرسری جائزہ لے لیجئے اور دیکھئے ان کے اعلیٰ افکار کس قماش کے ہیں۔
ذوق جمال دیکھنا ہوتو ’’بلاؤج‘‘ پڑھئے جس میں بغل کا بال ہی نو عمر کے اندرون میں جمالیاتی ہلچل پیدا کردیتا ہے۔ ’’ممی‘‘ کی دلالہ پر جو گرم گوشت کی سرگرم ایجنٹ ہے بیچارے کو بڑا ترس آتا ہے یہ سچ ہے کہ وہ دلالہ جہاں بھی رہے گندگی ہی پھیلائے گی تو کیا اس کے لیے اسے دربدری کی سزا نہیں دی جاسکتی یا اس بنا پر وہ قابل تعریف ہے!
’’محمودہ‘‘ کی کہانی تو ٹھیک ٹھاک ہے مگر نشانہ کے لیے مولوی کی پیٹھ زیادہ فٹ بیٹھتی تھی۔ بھلا کون سا وہ مولوی ہے جو فاقہ کشی کو عین دین و ثواب جانتا ہو، گھر بار سے غافل رہتا ہو، شب و روز تسبیح ہی کرتاہو اور بیوی پیاس کے آنسو روتی ہو ۔غضب تو یہ ہے کہ مولوی کو ہی سب سے زیادہ دنیا کا حریص بھی بولا جاتا ہے۔ اسے چکلے کی بھی سیر کرالاتے ہیں۔ چچا غالب تو شراب کی بھٹی میں مولانا صاحب کو رنگے ہاتھ پکڑ لیتے ہیں ۔ع ……بس اتنا جانتے ہیں کل وہ جاتے تھے کہ ہم نکلے
’’محمودہ‘‘ میں عام آدمی کو مولوی سے جس رنگ ڈھنگ میں تشبیہ دی گئی ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ صاحب کا معلوماتی حدود اربعہ سینٹی میٹر سے بھی تنگ تھا۔ بات تو سخت ہوجائے گی لیکن کہنا بہت ضروری ہے کہ خود منٹو کو اپنا وجود کیسے ہاتھ آگیا۔ لوگوں کے بتانے کے مطابق حضرت کے والد بھی مولوی تھے۔ مولوی غلام حسن منٹو۔ کیا معتقدین نسب نامہ کہیں اور سے لانا چاہیں گے؟…… ویسے یہ سوال میری خوش گمانی ہے ورنہ مداحین سے ایسی جرأت ممکن ہے کیونکہ ان کے یہاں یہ کوئی عیب نہیں۔ ’’ڈرپوک‘‘ کا ہیرو صرف اس لیے بھائی جان کے طنزیہ ادب کا شکار ہوا کہ وہ غلط کاری کے لیے اپنے شرمیلے ضمیر پر چھری نہ چلاسکا۔
’’خوشیا‘‘ کی کہانی قطعی بے دم ہے۔ آخر کسی کا ننگا جسم دکھانے میں کونسی فکری اڑان ہے۔ اب تو آئٹم لوگ بھی ننگے پن سے اکتا گئی ہیں۔ ان کا ایک ہیرو صرف اس لیے اول درجے کا چغد ہے کہ شرم و حیا اس کی ’’ہمت خاص‘‘ پر پانی ڈال دیتی ہے۔
’’ہمت‘‘ جس میں سرد و گرم آگ سلگ رہی ہے
دھوپ سے تیار لکڑیاں اور سوکھے پتے از خود جلنے کو تیار
امکانات کی سرحد پر دھاگا بھی رکاوٹ کے لیے موجود نہیں ہے ایسے مقام پر حددرجہ کریہہ سکھ ڈرائیو ٹپک پڑتا ہے اور لمحوں میں منٹو سے چالاکی کا تحفہ اصول کرتا ہے۔
ایک جگہ بیوہ کی مجبوریوں پر گھڑیالی آنسو بہائے بھی تو جنس کا سوکھا رنگ اتنا ڈال دیا کہ بینائی مرنے لگے۔
قاری زہریلے رنگوں میں اپنی آنکھیں ملے گا کہ بیوہ کی مجبوری دیکھے گا۔
بیوہ نظر ہی نہیں آتی
کچھ نظر بھی آتا ہے تو کھلا ہوا لاوارث گرم گوشت
اس کہانی سے یہ پیغام نہیں ملتا کہ بیوہ کو اپنایا جائے۔ یہاں تو شرابیوں کی ضرورت کا مسئلہ آجاتا ہے۔
لیکن ادباء ہیں کہ:
بھئی منٹو نے کیا بات کہی ہے۔
پلاٹ میں غضب کی فنکاری ہے۔
کلائمکس بڑا دردناک ہے۔
فکر تو ایسے ہے جیسے کوئی ننگی انگلیوں سے انگارے چن رہا ہو
الغرض آہ اور واہ!
(ماخوذ ماہنامہ دی فری لانسر)
 

باذوق

رکن
شمولیت
فروری 16، 2011
پیغامات
888
ری ایکشن اسکور
4,010
پوائنٹ
289
گو کہ تمام باتوں سے تو نہیں البتہ تنقید کے بیشتر حصے سے اتفاق کیا جا سکتا ہے۔ خاص طور پر اس معاملے میں کہ "منٹو نامہ" میں کی گئیں ہزار تاویلات کے باوجود مجھے ذاتی طور پر ادب میں برہنہ الفاظ کی کاریگری کا کوئی مفید مصرف نظر نہیں آیا۔ اور پھر منٹو نے یہ دعویٰ بھی نہیں کیا تھا کہ وہ الفاظ تخلیق کر رہے ہیں۔ مانتا ہوں کہ بعض اوقات مخفی انسانی جذبات کے اظہار کے لیے لغت کے الفاظ کم پڑ جاتے ہیں مگر ادیب کی تخلیقیت تو وہیں سامنے آنا چاہیے۔
اس تنقید میں بعض جگہ الفاظ کچھ سخت ہیں اور کچھ جگہ براہ راست شخصیت پر چوٹ ہے ، حالانکہ مرنے والا مر گیا تو اس کے نظریات کی پول کھولنے کے بجائے اس کی ذات کو ہدف تنقید بنانا اصول تنقید کے علاوہ اسلامی اصول کے بھی خلاف ہے۔
اسی بیماری میں 1955 کو اُس دنیا سے روبرو ہوئے جس کے وہ زندگی بھر منکر رہے۔
کم سے کم ، جتنا میں نے منٹو کی سوانح کا مطالعہ کیا ہے اس کے مطابق یہ تاثر درست نہیں کہ منٹو آخرت کے منکر تھے۔ باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔
بھلا کون سا وہ مولوی ہے جو فاقہ کشی کو عین دین و ثواب جانتا ہو، گھر بار سے غافل رہتا ہو، شب و روز تسبیح ہی کرتاہو اور بیوی پیاس کے آنسو روتی ہو ۔غضب تو یہ ہے کہ مولوی کو ہی سب سے زیادہ دنیا کا حریص بھی بولا جاتا ہے۔ اسے چکلے کی بھی سیر کرالاتے ہیں۔
حقیقت ہو یا نہ ہو ۔۔۔۔ مگر دلچسپ بات تو یہ ہے کہ اتنے طویل عرصہ بعد بھی زمانے کی یہ سوچ نہیں بدلی ۔۔۔ بطور مثال حال میں ریلیز ہوئی فلم "بول" کے مرکزی کردار والے مولوی کو لے لیں۔ بعینہ یہی "منٹو" والا اقتباس فٹ بیٹھتا ہے۔ اور فیس بک کے تبصروں کے مطابق فلم کا یہ کردار حقیقت میں بھی بیشمار "مولویوں" کے کردار سے مماثلت رکھتا ہے (گو ہمارا اور آپ کا اس سے اختلاف ہو ۔۔۔ یہ الگ بات ہے)۔ ویسے یہ بھی ممکن ہے کہ "بول" کے مصنف نے کہانی لکھتے ہوئے منٹو ہی کے اس کردار کو سامنے رکھا ہو؟
منٹو کے برائے بالغان قسم کے ایک اور افسانے "ٹھنڈا گوشت" پر شاید تبصرہ چھوٹ گیا ہے۔ انسانی نفسیات کی اس قدر باریک بینی سے عکاسی شاید ہی کسی اور زبان کے افسانے میں بیان ہوئی ہو۔ ہاں یہ علیحدہ بات ہے کہ جن برہنہ الفاظ کے سہارے سے پلاٹ کی بنت کاری کی گئی ہے اس پر ہم مذہب اور تہذیب کے حوالے سے اعتراض کا یقینی حق محفوظ رکھتے ہیں۔ مگر پھر دوسری الٹی بات یہ ہے کہ اگر یہ الفاظ نکال دئے جائیں تو پھر مرکزی پلاٹ ہی زمین بوس ہو جائے گا :) ۔۔۔ اسلیے ناقد کی یہ بات یہاں نہایت جامع محسوس ہوتی ہے :
اگر کوئی اپنی بات پیش کرنے کے لیے مہذب استعارہ اور پردہ دار تمثیل نہ تخلیق کرسکے تو وہ ادیب کس لیے ہے۔ اور پھر یہ بھی کہ ہر موضوع کے لیے ہر صنف ادب کیونکر موزوں ہوسکتا ہے۔
 

جمشید

مشہور رکن
شمولیت
جون 09، 2011
پیغامات
873
ری ایکشن اسکور
2,345
پوائنٹ
180
منٹو نے یہ کہیں بھی دعویٰ نہیں کیاہے کہ وہ سماج کی اصلاح اورسدھار کاکام کرنے چلے ہیں۔
منٹو نے ایک جگہ خود کہاہے کہ
ادیب کا صرف اس قدر ہے کہ وہ سماج کی برائیوں کو سامنے لائے ۔ان برائیوں کی اصلاح کرنا ادیبوں کا نہیں بلکہ مصلحین کاکام ہے۔

منٹو کے اپنے پیمانے پر دیکھیں تومنٹو بہت زیادہ غلط نہیں ہے۔

ادب اوربطور خاص اردو ادب میں جنسیات کی آمیزش ترقی پسندی کی تحریک اورادب برائے زندگی کے فلسفہ سے شروع ہوئی تھی۔ ترقی پسندی اورادب برائے زندگی دونوں کا چولی دامن کا ساتھ رہاہے۔

پہلے لوگ شعر کہتے تھے خود جھومتے تھے اورانہی کے خیال ومزاج کےکچھ دوسرے لوگ جھوم لیتے تھے اوربس ۔گویایہ دور ادب برائے ادب کاتھا۔
اس کے بعد جب ادب برائے زندگی اورترقی پسندی کی تحریک شروع ہوئی تو ہمارے ادیبوں نے یہ کوشش کی کہ وہ معاشرے کے گھنائونے پہلوئوں کو سامنے لائیں۔اس مین کچھ کامیاب ہوئے اوربیشتر ناکام ہوئے۔اسی دور مین منٹو نے اپنے جنس زدہ ناول اورافسانے لکھے اورعصمت چغتائی نے رسوائے زمانہ لحاف لکھا۔
مصور اورفوٹوگرافرمیں کیافرق ہوتاہے ۔مصور ایک تصویر بناتاہے اوراس مین اپنے خیال کی آمیزش کرتاہے۔ فوٹوگرافر جو تصویر ہے بعینہ اس کو سامنے لے آتاہے۔ فوٹوگرافر کااپناکوئی زاویہ نظرنہیں ہوتا۔


مشکل یہ آپڑی کہ ہمارے دور کے بیشتر ادباء حضرات نے خود کو مصور سمجھنے کے بجائے فوٹوگرافر سمجھ لیاہے اورمعاشرے کی برائیوں کو جوں کا توں پیش کردینے کواپناکمالِ ادب سمجھاہے۔ یہ کمال ادب نہیں بلکہ زوال ِادب ہے۔

ادیب کاکام یہ ہے کہ وہ معاشرے کو آئینہ دکھائے لیکن اس طورپر کہ برائی کی تبلیغ اورتشہیر نہ ہو بلکہ لوگوں کے اندر برائی کو ختم کرنے کا جذبہ جاگے ۔کلیم عاجز صاحب کہہ گئے ہیں۔
بات گرچہ بے سلیقہ ہو کلیم
بات کہنے کا سلیقہ چاہئے۔​

یہ بات کہنے کا سلیقہ ہی اب ہمارے دور کے ادیبوں میں بہت حد تک الاماشاء اللہ مفقود ہے اوریہ فقدان دن بدن تیز ہوتاجارہاہے۔اورہونابھی چاہئے ۔ کیونکہ ادیب بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں۔جب پورامعاشرہ ہی ڈش ٹی وی اورپورن سائٹوں کی بدولت جنس زدہ ہوگا اورنابالغ لڑکیوں کی عصمت ریزی آئے دن کے واقعات ہوجائیں گے تو ادباء خود کو اس بھیڑ چال سے کب تک محفوظ رہ سکیں گے۔

ادب اوراصلاح
ایک بڑاسوال یہ ہے کہ کیاادب کے ذریعہ اصلاح ہوسکتی ہے۔عموماجس ادیب کی کتاب شائع ہوتی ہے اس میں تقریظ لکھنے والے یہ ضرور لکھتے ہیں کہ ان کی معاشرہ اورسماج پر گہری نگاہ ہے اورانہوں نے معاشرہ کے اندرون میں جھانکاہے اوراس کی اصلاح کی کوشش کی ہے وغیرہ وغیرہ ۔

مشہور مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی نے اپنی کسی کتاب کے مقدمہ میں لکھاہے کہ

اگرطنز سے لوگوں کی اصلاح ہوسکتی تو توپ بنانے کی نوبت نہ آتی ۔
مشتاق احمد یوسفی نے یہ بات صرف طنزومزاح کے بارے میں کہی ہے۔
میری رائے میں یہ بات جملہ ادب کے بارے میں کہی جاسکتی ہے کہ

اگرادب سے لوگوں کی اصلاح ہوسکتی تو نہ پولس اسٹیشن کی ضرورت رہتی اورنہ عدالتوں کی اورنہ ہی خفیہ ایجنسیوں کی ضرورت پڑتی۔

معاشرہ کا کوئی فرد چوری میں مبتلاہوتاتواس کو کسی ادیب کے دس افسانے پڑھنے کی صلاح دی جاتی ۔قصہ ختم۔
اگرمعاملہ زیادہ بڑاہوتاتوکہاجاتاکہ دیوان غالب کا بغورمطالعہ کرے اورجو فارسی زدہ اردو اشعار انہوں نے کہے ہیں اس کو حل کرے۔
اگرجرم مزید بڑاہوتاتو دیوان ناسخ وآتش کی لفظی بھول بھلیوں میں غوروفکر کرنے اورشعراء لکھنو کے چیستاں جیسے اشعار کو سمجھنے کی صلاح دی جاتی۔


اسی سے کچھ ملتاجلتاہے تاریخی واقعہ یہ ہے کہ علاء الدین خلجی کے چچااورخسرجلال الدین خلجی(جس کو قتل کرکے علاء الدین نے زمام اقتدارسنبھالا)کے سامنے جب کوئی مجرم لایاجاتاتواس کو نصیحت کرتااورآئندہ جرم نہ کرنے کی تلقین کرتا مجرم اس نصیحت اورتلقین پر فوراًآدمادگی ظاہر کردیتا۔اس کے بعد مجرم کو چھوڑدیاجاتا۔نیتجہ یہ ہواکہ پوراملک بدامنی کا شکار ہوگیا۔

شیخ سعدی نے بھی گلستاں میں اسی قسم کاایک واقعہ لکھاہے کہ کسی مکتب کاایک استاد بہت تندخو اوردرشت مزاج تھا پھول جیسے چہرے والے لڑکوں کو غلطی پر سخت سزادیتاتھا۔شیخ سعدی نے یہ دیکھااورافسوس کیاایک مدت بعد اسی مکتب سے گزرہواتودیکھاکہ استادبہت نرم خو ہے لیکن استاد کی نرم خوئی کااثریہ بھی دیکھاکہ استاد کے سامنے طلباء ایک دوسرے کے سرپر اپنی تختیاں توڑرہے تھے۔

ادب کیاہے لفظوں کا گورکھ دھنداہے۔اس سے کسی کی اصلاح ہو یہ بہت مشکل ہے۔

شاہ ولی اللہ حجۃ اللہ البالغہ میں لکھتے ہیں کہ انسان تین قسم کے ہیں۔
اول ملکوتی مزاج والے کہ نیکی اوربھلائی ان کاخمیر ہے اوربرائیوں سے ان کو طبعی نفرت ہے۔
دوم شیطانی مزاج والے کہ برائی اورشرارت ان کا خمیر ہے اوربھلائی سے یہ ہمیشہ گریزاں رہتے ہیں۔
سوم ملکوتی اورشیطانی مزاج کے اختلاط والے کہ اگران کو برائیوں سے جبر اورزور سے روکاجائے تورکے رہتے ہیں ورنہ برائیوں کی جانب پھسل پڑتے ہیں۔
معاشرہ میں بیشتر افراد اسی تیسری قسم کے ہوتے ہیں اورانہی کیلئے شریعت مین حدود قصاص اورتعزیرات واحتساب کا دفتر قائم کیاگیاہے۔
آپ خود غورکرلیں کہ ادب ان تینوں اقسام کے لوگوں کی اصلاح کیلئے کتنامفید ہے۔
ادب کا فائدہ کیاہے


آخری بات یہ آتی ہے کہ پھر ادب کا فائدہ کیاہے۔ کیادنیا کے تمام ادبی شہہ پاروں کو نذرآتش کردیناچاہئے یازیرخاک دفن کردیناچاہئے یاسپرد دریا کردیناچاہئے۔
گزارش ہے کہ ان تینوں میں سے کچھ بھی نہ کریں بلکہ طلبہ کو اس کی ترغیب دی جائے کہ وہ ادبی شہ پاروں کا مطالعہ کریں اوریہ سیکھیں کہ و ہ اپنی بات بہتر طورپر کس انداز میں پیش کرسکتے ہیں۔

کسی بھی بات کو پیش کرنے کے مختلف انداز ہوتے ہیں یہ سیکھناضروری ہے کہ اس کو کس طورپر پیش کیاجائے تولوگ زیادہ متاثر ہوں گے۔
بسااوقات ایساہوتاہے کہ بات ایک ہوتی ہے لیکن پیش کرنے کا انداز مختلف ہوتاہے جس کی وجہ سے بات ایک ہونے کے باوجود ایک کی واہ واہی ہوتی ہے اوردوسرے کو لوگ پسند نہیں کرتے۔

ایک پامال اوربہت سناہواواقعہ پیش ہےان حضرات کیلئے جنہیں معلوم نہیں ہے جنہیں معلوم ہے وہ اسے قندر مکرر کے طورپر پڑھ لیں اورجن کا قندمکرر بھی مکرر ہوچکاہے اورمزید "تکرار"کی گنجائش نہیں ہے وہ اب خود مستفید ومستفیض ہونے کے بجائے دوسروں تک پہنچائیں(ابتسامہ)

ایک بادشاہ نے خواب میں دیکھاکہ اس کے سارے دانت جھڑگئے ہیں۔ ایک تعبیربتانے والے سے پوچھااس نے کہ آپ کی ساری اولاد آپ کی زندگی میں ہی مرجائے گی ۔بادشاہ یہ سن کر بہت خفاہوا اوراس نے اس تعبیر بتانے والے کو قید خانہ مین ڈالنے کا حکم دے دیا۔
ایک دوسرے تعبیر بتانے والے سے پوچھااس نے کہاکہ آپ کی عمر آپ کے تمام آل واولاد سے طویل اوردراز ہوگی۔ بادشاہ اس بات سے خوش ہوا اوراس کو خلعت وانعام دینے کا حکم دیا۔
بات ایک تھی لیکن طرز تعبیر نے ایک کوقید خانہ اورایک کو انعام واکرام کا مستحق بنادیا۔
ادب کا فائدہ میرے نزدیک یہی ہے کہ انسان یہ جانے کہ میں اپنی بات کو موثر طورپر کس طرح دوسروں تک پہنچاسکتاہوں۔ اس کی ضرورت دعوت وتبلیغ کاکام کرنے والوں کوبھی ہے اورزیادہ ہے ۔لیکن افسوس کہ عمومی طورپر علماء اوردعوت وتبلیغ کاکام کرنے والے اس سے غافل ہیں۔

جنس کے بیان میں قرآن وحدیث کاکیاطریقہ کار رہاہے۔اس بارے میں انشاء اللہ پھر کبھی تفصیلاعرض کروں گا۔
 

باذوق

رکن
شمولیت
فروری 16، 2011
پیغامات
888
ری ایکشن اسکور
4,010
پوائنٹ
289
ایک پامال اوربہت سناہواواقعہ پیش ہےان حضرات کیلئے جنہیں معلوم نہیں ہے جنہیں معلوم ہے وہ اسے قندر مکرر کے طورپر پڑھ لیں اورجن کا قندمکرر بھی مکرر ہوچکاہے اورمزید "تکرار"کی گنجائش نہیں ہے وہ اب خود مستفید ومستفیض ہونے کے بجائے دوسروں تک پہنچائیں
:)
بالا اسمائیلی کو تین کے عدد سے ضرب دے لیں!
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,777
ری ایکشن اسکور
8,430
پوائنٹ
964
سبحان الله ۔۔۔۔۔
اتنی بھاری بھر کم اصطلاحات دوسری سطر پڑھیں تو پہلی کا مفہوم ذہن سے نکل جاتا ہے ۔ ( مسکراہٹ )
لیکن امید ہے کہ اہل ادب حضرات ’’ بے ادبوں ‘‘ کی اغلوطات یونہی بیان کرتے رہے تو کچھ نہ کچھ پلے پڑنے لگ جائے گا ۔
سب بھائیوں کا بہت بہت شکریہ ۔
ایک گزارش ہےکہ اگر مشکل نہ ہو تو مشکل الفاظ کو مُشَکّل کردیا کریں تاکہ ہمارے جیسے اشکال سے بچ سکیں ۔
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,777
ری ایکشن اسکور
8,430
پوائنٹ
964
سبحان الله ۔۔۔۔۔
اتنی بھاری بھر کم اصلاحات و اصطلاحات دوسری سطر پڑھیں تو پہلی کا مفہوم ذہن سے نکل جاتا ہے ۔ ( مسکراہٹ )
لیکن امید ہے کہ اہل ادب حضرات ’’ بے ادبوں ‘‘ کی اغلوطات یونہی بیان کرتے رہے تو کچھ نہ کچھ پلے پڑنے لگ جائے گا ۔
سب بھائیوں کا بہت بہت شکریہ ۔
ایک گزارش ہےکہ اگر مشکل نہ ہو تو مشکل الفاظ کو مُشَکّل کردیا کریں تاکہ ہمارے جیسے اشکال سے بچ سکیں ۔
 

باذوق

رکن
شمولیت
فروری 16، 2011
پیغامات
888
ری ایکشن اسکور
4,010
پوائنٹ
289
لیکن امید ہے کہ اہل ادب حضرات ’’ بے ادبوں ‘‘ کی اغلوطات یونہی بیان کرتے رہے تو کچھ نہ کچھ پلے پڑنے لگ جائے گا ۔
آپ بھی اسی طرح لکھتے رہیں تو ہمارے ذخیرہ الفاظ میں بھی اضافہ ہوتا رہے گا بھائی
ویسے جلدی میں تو میں ہائی لائیٹ شدہ لفظ کو طلسم ہوشربا داستان کا کوئی کردار ہی سمجھ بیٹھا تھا
 

جمشید

مشہور رکن
شمولیت
جون 09، 2011
پیغامات
873
ری ایکشن اسکور
2,345
پوائنٹ
180
:)
بالا اسمائیلی کو تین کے عدد سے ضرب دے لیں!
باذوق صاحب!
یہاں ایک الجھن ہے۔
ایک اسمائیل توموجود ہےتوکیااس کے ساتھ تین مزید اسمائیل جوڑ کر اسے چار کردیں
یاپھر اس کو مثال سمجھتے ہوئے تین ہی سمجھیں گے۔
ویسے اس الجھن سے برطرف ۔چونکہ مجھے اس فورم پر اسمائیل دینے کا طریقہ نہیں معلوم
لہذا اسی اعتبار سے ابتسامہ فرض کرلیں تین ہوئے توتین ۔چار ہوئے توچار۔
خضرحیات صاحب کا اغلوطات سن تومجھے کافی پریشانی ہوئی اوراس کی واحد وجمع اورجمع الجمع کے بارے میں سرگرداں ہوگیا۔
وہ توخیریت ہوئی کہ آفس بوائے اسی وقت چائے لے آیااورواحدوجمع کی فکر کو چائے کی چسکیوں کے ذریعہ ختم کیا
ورنہ تصور کیجئے کہ یہ کتنی بڑی پریشانی تھی خیر
رسیدہ بود بلائے ولے بخیر بگزشت
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,777
ری ایکشن اسکور
8,430
پوائنٹ
964
لفظ اغلوطة ایسی چیز پر بولا جاتا ہے جس کے ذریعے کسی کو دھوکا دیا جائے یعنی مغالطہ آمیز بات ۔ البتہ کسی اعلی قسم کے جھوٹ یا غلطی پر بھی اس کا اطلاق کیاجاتا ہے ۔ اس کی جمع اغالیط اور اغلوطات دونوں طرح آتی ہے ۔
بھائی اس بات کوملحوظ خاطرر کھیں کہ میری یہ جسارت فائدۃ الخبر نہیں بلکہ لازم فائدۃ الخبر کے قبیل سےہے ۔

جمشید بھائی اس عبارت
رسیدہ بود بلائے ولے بخیر بگزشت
کا ترجمہ یا مفہوم بتا سکتے ہیں ۔
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,777
ری ایکشن اسکور
8,430
پوائنٹ
964
ویسے جلدی میں تو میں ہائی لائیٹ شدہ لفظ کو طلسم ہوشربا داستان کا کوئی کردار ہی سمجھ بیٹھا تھا
خضرحیات صاحب کا اغلوطات سن تومجھے کافی پریشانی ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ورنہ تصور کیجئے کہ یہ کتنی بڑی پریشانی تھی
ویسے ہمیں بھی چاہیےتھا کہ آپ کے اسمائیل کو دیکھ کر حیرت و استعجاب میں کھو جاتے کیونکہ آج تک اسماعیل تو سنتے پڑھتے بلکہ دیکھتے بھی آئے ہیں لیکن یہ اسمائیل یہیں دیکھنے کو ملا ہے ۔ ( مسکراہٹ)

اور یہ اسمائیل آپ کا خاص دوست لگتا ہے کیونکہ میں نے ( مسکراہٹ) کی جگہ اس کو لانے کی بڑی کوشش کی ہے لیکن اس نے کہا بھائی اسماعیل تو لگ سکتا ہے لیکن اسمائیل لگانا اتنا آسان نہیں ہے ۔ ( مسکراہٹ )
 
Top