• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

منکرینِ حدیث کی مغالطہ انگیزیوں کے علمی جوابات ( از شیخ جلال الدین قاسمی حفظ اللہ )

مظاہر امیر

مشہور رکن
شمولیت
جولائی 15، 2016
پیغامات
1,279
ری ایکشن اسکور
390
پوائنٹ
190
ظہور مہدی :
.
ظہور مہدی اسلامی عقیدے کا ایک جزو ہے اس کے بارے میں احادیث نبویہ تواتر کے درجے تک پہنچ چکی ہیں حوت بیروتی ، رشید رضا ، فرید وجدی وغیرہ اور مشہور گولڈ زیہر جیسے لوگوں نے ظہور مہدی کا انکار کیا ہے انہوں نے بڑے شد ومد کے ساتھ اس کی تردید کرنے کی کوشش کی ہے ۔
.
عیسائیوں کے نزدیک عیسیٰ علیہ السلام مہدی منتظر ہیں جبکہ اسلامی عقیدے کی رو سے میں وہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی ذریت اور سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی اولاد میں سے ہوں گے ۔ ان کا نام محمد یا احمد بن عبداللہ ہوگا وہ جب آئیں گے تو زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے اور ظلم وجور کا خاتمہ ہوجائیگا مال کی اتنی کثرت ہوگی کہ ہوئی صدقہ لینے والا نہ ہوگا ۔
.
مہدی کی پوری دنیا میں بطور خاص عرب پر سات سال حکومت رہے گی ۔ مہدی کی وفات کے بعد زمام خلافت سیدنا عیسٰی علیہ السلام کے ہاتھوں میں ہوگی اور انہی کے دور میں یاجوج ماجوج کا ظہور ہوگا اور انہی کی دعا سے یاجوج ماجوج ہلاک ہوں گے ۔
.
امام شوکانی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ فرمایا کہ مہدی منتظر کے متعلق احادیث کی تعداد پچاس ہے جن میں کچھ صحیح کچھ حسن درجہ کی اور کچھ ذرا ضعیف ہیں مہدی کے متعلق روایت کرنے والے صحابی کی مجموعی تعداد ۲۶ ہے اور اس متعلق کم و بیش ۲۸ آثار بھی ہیں ۔
.
مہدی کوئی ذاتی نام نہیں ہوگا بلکہ لغوی ”ہدایت یافتہ“ کے ہوں گے ان کے ظہور کی کسی حتمی تاریخ اور دن کی صراحت نہیں ملتی ہاں اس وقت روئے زمین پر عدل و انصاف نام کی کوئئی چیز نہ ہوگی ۔ چارون طرف ظلم وجوار اور جبر استبداد کا دور دورہ ہوگا اس وقت لوگ مہدی کے منتظر ہوں گے رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان ان کی علامات دیکھ کر انہیں پہچان لیا جائے گا ۔ اور پھر ان پر بیعت کا سلسلہ جاری ہوجائے گا ۔
.
اس وقت مسلم حکومت جس کا دار الخلافہ دمشق ہوگا اسے اپنے خلاف سمجھ کر مہدی سے لڑنے کے لیے نکلے گی اور مکہ سے پہلے ہی ایک مقام بیداء میں ایک آدمی کو چھوڑ کر سارا لشکر دھنس جائے گا ۔ (مسلم الفتن الخسف بالجیش الذی ۔ ۔ ۔ ۔ ح 2882 ، 2884)
.
وہی آدمی وآپس جاکر اس واقعہ کی صحیح اطلاع دے گا ۔ پھر یہ خبر پوری دنیا میں پھیل جائے گی ۔ اور سب لوگوں کو یقین ہوجائے گا کہ حقیقت میں مہدی منتظر یہی ہیں اور لوگ جوق در جوق چل کر ان کے ہاتھ پر بیعت کریں گے بیعت کی شروعات رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان سے ہوگی مہدی کو خود علم نہ ہوگا کہ وہ مہدی ہیں یہاں تک کہ لوگ خود ان کے ہاتھ پر بیعت کریں گے وہ خود خلافت کے دعوے دار نہ ہوں گے ۔
.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مہدی میرے اہل یت میں سے ہوں گے اور اللہ تعالیٰ ان کی خلافت کا انتظام ایک ہی رات میں کر دے گا ۔ (ابن ماجہ ، الفتن ، خروج المھدی ، ح 4085)
.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ مہدی ہم میں سے ہوں گے جب کے پیچھے عیسٰی ابن مریم نماز پڑھیں گے ( ابونعیم فی کتاب المھدی وذکرہ المناوی فی فیض القدیر وھو صحیح ، اس سے ملتی جلتی روایت صحیح مسلم میں بھی ہے دیکھیے مسلم الایمان نزول عیسی بن مریم ۔ ۔ ۔ ۔ 156)
.
اس سے ایک بات یہ بھی معلوم ہوتی ہے کہ عیسٰی علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے پابند بن کر اتریں گے کوئی نیا دین لے کر نہیں آئیں گے نہ عیسائیت ہی کے مبلغ ہوں گے ۔ سب لوگ مسلمان ہوجایئں گے اور اسلام غالب آجائے گا ۔
.
اللھم اعزالاسلام والمسلمين
﴿اختتام﴾
مؤلف کی ویب سائٹ
 

مظاہر امیر

مشہور رکن
شمولیت
جولائی 15، 2016
پیغامات
1,279
ری ایکشن اسکور
390
پوائنٹ
190
محترم
میں آپ کے مشورہ پر ضرور عمل کروں گا۔ آپ اس آیت کو دیکھ لیں جو آپ نے اسی تھریڈ میں ذکر کی ہے۔اس سے پہلے میں ایک بحث اسی فورم میں پڑھی ہے کہ حدیث کے پرکھنے کا طریقہ دروایت کا اصول بھی ہے ۔ عموماً جس حدیث کے راوی ثقہ ہوں اس کا متن بھی ٹھیک ہوتا ہے ۔ لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ راوی ثقہ ہیں لیکن متن ٹھیک نہ ہو۔ اس کی مثال حضرت عباس اور حضرت علی کی حدیث ہے جو مسلم میں ہے۔
بھائي جان يه آیت دنیا کے بارے میں جسے آپ نے مذکورہ پوسٹ سے کوٹ کیا ہے ۔ کہ دنیا میں دیدار یا کلام نہیں ہوسکتا اور وہ وحی سے متعلق ہے ۔
جبکہ سورۃ القیامہ 23 یوم حشر اور قیامت سے متعلق ہے ۔ دنیا کی زندگی سے متعلق نہیں ہے ۔
مزید معلومات کے لئے دیکھیں فیض الباری ، جلد 10 صفحہ 693 - 695 (پارہ 30)
 

umaribnalkhitab

مبتدی
شمولیت
مارچ 26، 2017
پیغامات
75
ری ایکشن اسکور
4
پوائنٹ
18
ماشاء اللہ زبردست
جزاکم اللہ خیرا احسن الجزاء

Sent from my SM-J500F using Tapatalk
 
Top