• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

منکرین حدیث سے پچاس سوالات

عمران علی

مبتدی
شمولیت
اگست 25، 2012
پیغامات
71
ری ایکشن اسکور
38
پوائنٹ
21
سوال نمبر12۔
مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اﷲَ وَ مَنْ تَوَلّٰی فَمَآ اَرْسَلْنٰکَ عَلَیْھِمْ حَفِیْظًا (سورۃ النسائ:80)۔ جو شخص رسول کی فرمانبرداری کرے گا تو بیشک اُس نے اللہ کی فرمانبرداری کی اور جو نافرمانی کرے تو اے پیغمبر تمہیں ہم نے اُن کا نگہبان بنا کر نہیں بھیجا ۔

اللہ رب العزت نے فرمایا: جس نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی اُس نے اللہ کی پیروی کی۔ اب بتائیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی ہم کس طرح کریں گے؟ یقینا احادیث کے ذریعے۔ تو مان لیں کہ احادیث دین کا لازمی جز ہیں۔
محترم ارسلان صاحب،
اگر ہم محدب عدسہ بھی لگا کر دیکھیں تو اس آیت میں کہیں بھی "حدیث کی اطاعت" کا حکم نہیں، نہ ہی حدیث کی اطاعت کی جاسکتی ہے، بلکہ اطاعت تو قرآن کریم کی بھی نہیں کی جا سکتی، چہ جائیکہ حدیث کی اطاعت کی جائے۔ آپ کا مسئلہ یہ ہے کہ آپ آیات سے من مانا مطلب نکال لیتے ہیں ، وہ مطلب جو آپکے عقیدہ کے مطابق ہو۔

اطاعت کا مطلب "کسی کے حکم کی فرمانبرداری کرنا " ہے۔ اور یہ کوئی زندہ سلامت ہستی ہوگی جس کی ہمیں فرمانبرداری کرنی ہے۔اس آیت میں یہ کہا گیا ہے اگر تمہیں اللہ کی اطاعت کرنی ہے تو تمہیں رسول کی اطاعت کرنی ہے۔محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی ذاتی اطاعت پورے قرآن کریم میں کہیں نہیں ہے، ہاں انکی اتباع کا حکم ہے، اور اتباع کسی کے اصولوں پر چلنے کو کہتے ہیں۔ جسے ہم پیروی کرنا کہتے ہیں، فرمانبرداری (اطاعت) اور پیروی (اتباع) میں یہی بنیادی فرق ہے، ہم محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اتباع تو کرسکتے ہیں، لیکن انکی اطاعت ہم نہیں کرسکتے ، کیونکہ اب وہ وفات پا چکے ہیں۔ لہذا ہمیں ایک زندہ ہستی کی اطاعت کرنی ہے۔تبھی اللہ کی اطاعت ممکن ہوگی۔
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,865
ری ایکشن اسکور
41,101
پوائنٹ
1,155
محترم ارسلان صاحب،
اگر ہم محدب عدسہ بھی لگا کر دیکھیں تو اس آیت میں کہیں بھی "حدیث کی اطاعت" کا حکم نہیں، نہ ہی حدیث کی اطاعت کی جاسکتی ہے، بلکہ اطاعت تو قرآن کریم کی بھی نہیں کی جا سکتی، چہ جائیکہ حدیث کی اطاعت کی جائے۔ آپ کا مسئلہ یہ ہے کہ آپ آیات سے من مانا مطلب نکال لیتے ہیں ، وہ مطلب جو آپکے عقیدہ کے مطابق ہو۔

اطاعت کا مطلب "کسی کے حکم کی فرمانبرداری کرنا " ہے۔ اور یہ کوئی زندہ سلامت ہستی ہوگی جس کی ہمیں فرمانبرداری کرنی ہے۔اس آیت میں یہ کہا گیا ہے اگر تمہیں اللہ کی اطاعت کرنی ہے تو تمہیں رسول کی اطاعت کرنی ہے۔محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی ذاتی اطاعت پورے قرآن کریم میں کہیں نہیں ہے، ہاں انکی اتباع کا حکم ہے، اور اتباع کسی کے اصولوں پر چلنے کو کہتے ہیں۔ جسے ہم پیروی کرنا کہتے ہیں، فرمانبرداری (اطاعت) اور پیروی (اتباع) میں یہی بنیادی فرق ہے، ہم محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اتباع تو کرسکتے ہیں، لیکن انکی اطاعت ہم نہیں کرسکتے ، کیونکہ اب وہ وفات پا چکے ہیں۔ لہذا ہمیں ایک زندہ ہستی کی اطاعت کرنی ہے۔تبھی اللہ کی اطاعت ممکن ہوگی۔
وَمَن يُطِعِ ٱللَّهَ وَٱلرَّسُولَ فَأُو۟لَٰٓئِكَ مَعَ ٱلَّذِينَ أَنْعَمَ ٱللَّهُ عَلَيْهِم مِّنَ ٱلنَّبِيِّۦنَ وَٱلصِّدِّيقِينَ وَٱلشُّهَدَآءِ وَٱلصَّٰلِحِينَ ۚ وَحَسُنَ أُو۟لَٰٓئِكَ رَفِيقًۭا ﴿69﴾
ترجمہ: اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں وہ (قیامت کے روز) ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا یعنی انبیاء اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ اور ان لوگوں کی رفاقت بہت ہی خوب ہے (سورۃ النساء،آیت 69)

تمہارے موقف کے مطابق اطاعت ایک زندہ انسان کی جا سکتی ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ کی وفات کے بعد ان کی اطاعت نہیں کی جائے گی۔(نعوذباللہ)
سورۃ النساء کی اس آیت میں بیان کیا گیا ہے کہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کریں گے وہ انبیاء،صدیقین،شہدا،صالحین کے ساتھ ہوں گے۔اب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو چکے ہیں اب جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پیدا ہوئے وہ اس درجے تک کیسے پہنچیں گے،جب کہ قرآن میں تو تمام انسانوں کے لیے قیامت تک رہنمائی موجود ہیں، تمہارے موقف ہے کہ اطاعت زندہ انسان کی کی جائے تو کیا اب یہ درجے قیامت تک کوئی بھی حاصل نہ کر سکے گا؟

دراصل تمہارا جو بنیادی موقف ہے وہ ہے انکار حدیث اور تم اپنے موقف پر تب ہی قائم رہ سکو گے جب چار سوالات کے جواب دے پاؤ گے؟
 

عمران علی

مبتدی
شمولیت
اگست 25، 2012
پیغامات
71
ری ایکشن اسکور
38
پوائنٹ
21
محترم برادر ارسلان صاحب،
پیارے نبی محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی ذات اقدس پر حرف آنے سے ہر مومن کو تکلیف ہوتی ہے، اور یہ اسکے ایمان کا اظہار ہوتا ہے، خدانخواستہ میں نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی اقدس میں کوئی گستاخی نہیں کی اور نہ ہی میں ایسا کرنے کا خواب میں بھی سوچ سکتا ہوں۔ تاہم ہم دونوں ایک علمی بحث کررہے ہیں، اور علمی بحث میں بدتمیزی پر اتر آنا سچے مومنین کا شیوہ نہیں ہوتا۔ میں آپ سے آپ کر کے بات کررہا ہوں تو آپ کو بھی چاہیے کہ آپ بھی حسن اخلاق سے بات کریں۔

اب ہم آتے ہیں موضوع زیر بحث کی طرف: دیکھیے برادر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے آخری نبی تو ہیں، لیکن وہ اللہ کے آخری رسول ہر گز نہیں ہیں، اور نہ ہی اللہ نے قرآن کریم میں ختم الرسل کی اصطلاح اپنے نبی ( محمد صلی علیہ و سلم ) کے لیے استعمال کی ہے۔ بلکہ اللہ نے انکے لیے خاتم النبین کی اصطلاح استعمال کی ہے، یعنی نبیوں کو ختم کرنے والے۔ نبی اور رسول دونوں اللہ تعالی کا پیغام دنیا میں پہنچانے والے انسانوں کے عہدے ہیں۔ نبی وہ ہوتا ہے جو اللہ سے براہ راست وحی وصول کرتا ہے (چاہے فرشتہ کے ذریعے یا پھر خدا سے براہ راست ہمکلام ہو کر جیسے موسی علیہ السّلام ) اور رسول کا کام اسی پیغام کو عوام تک پہنچانا ہوتا ہے۔ایک نبی لازماً رسول بھی ہوتا ہے، لیکن ایک رسول کے لیے ضروری نہیں کہ وہ نبی بھی ہو۔ کیونکہ رسول کا کام تو فقط احکامات خداوندی کا نفاذ کرنا اور اسے لوگوں تک پہنچانا ہوتا ہے۔ اور رسول دونوں صورتوں میں ایسا کرسکتا ہے، یعنی نبی ہونے کی جہت سے بھی اور محض رسول ہونے کی جہت سے بھی ، کیونکہ اگر احکامات خداوندی اپنی اصل صورت میں موجود ہوں بھی تو جب تک انکا نفاذ نہ کیا جائے وہ بے سود ہوتے ہیں، لہذا ان احکامات کا نفاذ کرنے کے لیے ایک زندہ شخصیت درکار ہوتی ہے ، جسے رسول کہا جاتا ہے، رسول کا مطلب ہی "پیغام پہنچانے والا "ہے۔فلہذا جب پیغام پہنچانے والا ہی نہ رہے تو ہر شخض اپنے اپنے عقائد کے ماتحت اپنا اپنا رسول تخلیق کرے گا اور دین میں پھوٹ اور تفرقہ بازی ڈالے گا۔ آج مسلمانوں کے اگر بے تحاشہ فرقے ہیں تو وہ اسی وجہ سے کہ سب کا اپنا اپنا تصور رسول ہے۔ اور سب کے سب اصل ہدایت سے کوسوں دور ہیں۔

محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) چونکہ اللہ کے آخری نبی تھے، لیکن وہ وحی کا بنیادوں پر قائم ہونے والی پہلی مملکت کے پہلے سربراہ مملکت بھی تھے، اسی جہت سے انہیں جگہ جگہ رسول کہا گیا ہے، لیکن یہ ذہن نشین کر لیجیے کہ مدنی سورتوں میں جہاں جہاں بھی رسول کا لفظ استعمال ہوا ہے، وہاں پر اس لفظ کو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی ذاتی حیثیت سے جدا کرکے بتا یا گیا ہے، مثلاً اسی آیت کو دیکھ لیں جو آپ نے شیئر کرائی ہے، "مَن يُطِعِ ٱللَّهَ وَٱلرَّسُولَ " اس آیت میں بھی رسول کو الگ ظاہر کیا گیا ہے۔ کیونکہ رسول ایک عہدہ ہے ، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی اسے جاری رہنا تھا۔اسی طرح اگرآپ سورۃ آل عمران کی آیت نمبر ٣١ جسد ٣٢ کا موازنہ کریں گے تو آپ کو یہ فرق ذیادہ واضح ہو کر ملے گا
قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي ٣:٣١ ترجمہ : کہہ دو کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع (پیروی) کرو
قُلْ أَطِيعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ ۖ ٣:٣٢ ترجمہ : کہہ دو کہ اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت کرو
اب بتائیے کہ اگر رسول کی اطاعت محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی ذاتی اطاعت ہی تھی تو آیت نمبر ٣١ کی طرح آیت نمبر ٣٢ میں اللہ اپنے نبی سے یوں کہلواتا کہ قُلْ أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُو ۖنِي اس سے یہ واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ رسول ایک عہدہ ہے، جسے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی رحلت کے بعد بھی جاری رہنا تھا، اور اس کا ثبوت بھی ہمیں قرآن کریم سے ملتا ہے۔ ملاحظہ فرمائيے سورۃ آل عمران کی ہی آیت نمبر ١٤٤
وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۚ أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ ۚ ٣:١٤٤
ترجمہ :اور محمد (صلی الله علیہ وسلم) تو صرف (خدا کے) پیغمبر ہیں ان سے پہلے بھی بہت سے پیغمبر ہو گزرے ہیں بھلا اگر یہ مر جائیں یا مارے جائیں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے؟
اب دیکھیے کہ رسول کی موجودگی ہمارے بیچ کس قدر ضروری تھی، ملاحظہ کیجیے سورۃ آل عمران کی آیت نمبر ١٠١
وَكَيْفَ تَكْفُرُونَ وَأَنتُمْ تُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ آيَاتُ اللَّهِ وَفِيكُمْ رَسُولُهُ ۗ ٣:١٠١
ترجمہ : اور تم کیسے کفر کر سکتے ہو جبکہ تم پر اللہ کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں اور تمہارے بیچ اسکا رسول موجود ہے۔
اللہ سے دعا ہے کہ سارے مسلمان اللہ کی کتاب کو اس طرح سمجھیں کہ جس طرح اسکے سمجھنے کا حق ہے۔
وما علینا الا البلاغ
ثم تتفکروا
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,865
ری ایکشن اسکور
41,101
پوائنٹ
1,155
اب آپ کا نیا موقف سامنے آیا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخری رسول نہیں ہیں اور ان کے بعد بھی اور رسول آ سکتے ہیں۔اب میں اس موضوع پر مزید گفتگو نہیں کر سکتا، کیونکہ مجھے اس موضوع پر علم نہیں اور میں بغیر علم کے بات نہیں کرنا چاہتا۔ہاں البتہ علماء کو آپ کی اس بات کی طرف ریفر کر سکتا ہوں،امید ہے کہ علماء آپ کو مدلل جواب دیں گے۔ان شاءاللہ

رفیق طاھر
سرفراز فیضی
ابوالحسن علوی
خضر حیات
شاکر
انس نضر
کفایت اللہ
 

عمران علی

مبتدی
شمولیت
اگست 25، 2012
پیغامات
71
ری ایکشن اسکور
38
پوائنٹ
21
برادر ارسلان صاحب،

یہ چاروں سوالات ہمارے نصاب سے ہٹ کر ہیں،

پہلا سوال تاریخ سے متعلق ہے، اور تاریخ پر ایمان لانے کا ہم سے کہیں بھی تقاضا نہیں کیا گیا، بلکہ تاریخ سے سبق سیکھنے کا حکم موجود ہے۔ ہمارے لیے اس دور کی تاریخ یاد رکھنا کار بے کار ہے، ہاں البتہ ہم اپنے حالیہ دور کی تاریخ کو سامنے رکھ کر اگر سبق حاصل کریں تو ہمارے لیے اس میں فائدہ ہے۔
دوسرے سوال میں حرمت کے مہینوں کی معرفت آپ نے سوال کیا ہے، یہ سوال بھی تاریخی نوعیت کا ہے، اگر آپ سورۃ التوبہ کا بغور مطالعہ کریں گے تو آپ کو پتہ چلے گا کہ اس سورۃ مبارکہ میں ان مشرکین کے خلاف فوجی آپریشن کی بات کی گئی ہے جنہوں نے اسلامی حکومت کے ساتھ کیا گیا معائدہ امن سبوتاژ کیا تھا۔ اور مومنین کو ان سے جنگ کرنے کا کہا گیا ۔ لیکن چونکہ اس وقت حرمت کے مہینے چل رہے تھے، لہذا اس وجہ سے اس آپریشن کو حرمت کے مہینوں کے خاتمہ تک التواء میں ڈالا گیا، لہذا یہاں اہمیت اس آپریشن کی ہے، حرمت کے مہینوں کی نہیں، حرمت کے مہینے ، فلہذا ایک خالصتاً تاریخی معاملہ ہے، اور یہ بھی ہمارے ایمان کا حصہ نہیں۔
تیسرے سوال کے حوالے سے آپ کو بہت ذبردست غلط فہمی ہے۔ قرآن کریم کے مطابق خدا کا پہلا گھر خانہ کعبہ ہی ہے، بیت المقدس نہیں۔(اور یہ الگ اور طویل بحث کا متقاضی موضوع ہے)
چوتھا سوال : چوتھے سوال کا جواب اسی سوال میں چھپا ہے ، معلوم کر لیجیے۔
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,865
ری ایکشن اسکور
41,101
پوائنٹ
1,155
پہلا سوال تاریخ سے متعلق ہے، اور تاریخ پر ایمان لانے کا ہم سے کہیں بھی تقاضا نہیں کیا گیا، بلکہ تاریخ سے سبق سیکھنے کا حکم موجود ہے۔ ہمارے لیے اس دور کی تاریخ یاد رکھنا کار بے کار ہے، ہاں البتہ ہم اپنے حالیہ دور کی تاریخ کو سامنے رکھ کر اگر سبق حاصل کریں تو ہمارے لیے اس میں فائدہ ہے۔
قارئیں حضرات! اب ذرا عمران علی صاحب کی علمی اپروچ ملاحظہ فرمائیے،muslim صاحب کی طرح یہ بھی شاید سوالات دیکھ کر بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئے ہیں؟

دوسرے سوال میں حرمت کے مہینوں کی معرفت آپ نے سوال کیا ہے، یہ سوال بھی تاریخی نوعیت کا ہے، اگر آپ سورۃ التوبہ کا بغور مطالعہ کریں گے تو آپ کو پتہ چلے گا کہ اس سورۃ مبارکہ میں ان مشرکین کے خلاف فوجی آپریشن کی بات کی گئی ہے جنہوں نے اسلامی حکومت کے ساتھ کیا گیا معائدہ امن سبوتاژ کیا تھا۔ اور مومنین کو ان سے جنگ کرنے کا کہا گیا ۔ لیکن چونکہ اس وقت حرمت کے مہینے چل رہے تھے، لہذا اس وجہ سے اس آپریشن کو حرمت کے مہینوں کے خاتمہ تک التواء میں ڈالا گیا، لہذا یہاں اہمیت اس آپریشن کی ہے، حرمت کے مہینوں کی نہیں، حرمت کے مہینے ، فلہذا ایک خالصتاً تاریخی معاملہ ہے، اور یہ بھی ہمارے ایمان کا حصہ نہیں۔
یہاں عمران علی صاحب لکھتے ہیں:
لیکن چونکہ اس وقت حرمت کے مہینے چل رہے تھے
عمران علی صاحب وہ حرمت والے مہینے کون سے تھے،کیونکہ حرمت والے مہینے تو چار ہیں جیسے کہ قرآن مجید میں بھی ہے:
إِنَّ عِدَّةَ ٱلشُّهُورِ‌ عِندَ ٱللَّهِ ٱثْنَا عَشَرَ‌ شَهْرً‌ۭا فِى كِتَـٰبِ ٱللَّهِ يَوْمَ خَلَقَ ٱلسَّمَـٰوَ‌ٰتِ وَٱلْأَرْ‌ضَ مِنْهَآ أَرْ‌بَعَةٌ حُرُ‌مٌ ۚ ذَ‌ٰلِكَ ٱلدِّينُ ٱلْقَيِّمُ ۚ فَلَا تَظْلِمُوا۟ فِيهِنَّ أَنفُسَكُمْ ۚ وَقَـٰتِلُوا۟ ٱلْمُشْرِ‌كِينَ كَآفَّةً كَمَا يُقَـٰتِلُونَكُمْ كَآفَّةً ۚ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلْمُتَّقِينَ ﴿٣٦

اب عمران علی صاحب بتائیں کہ 4 حرمت والے مہینے کون سے ہیں؟
  1. محرم
  2. صفر
  3. ربیع الاول
  4. ربیع الثانی
  5. جمادی الاول
  6. جمادی الثانی
  7. رجب
  8. شعبان
  9. رمضان
  10. شوال
  11. ذوالعقد
  12. ذوالحج
اب ان 12 مہینوں میں سے 4 حرمت والے مہینوں کے نام بتائیں۔
تیسرے سوال کے حوالے سے آپ کو بہت ذبردست غلط فہمی ہے۔ قرآن کریم کے مطابق خدا کا پہلا گھر خانہ کعبہ ہی ہے، بیت المقدس نہیں۔(اور یہ الگ اور طویل بحث کا متقاضی موضوع ہے)
کیا سوال کا یہی جواب ہے؟

چوتھا سوال : چوتھے سوال کا جواب اسی سوال میں چھپا ہے ، معلوم کر لیجیے۔
میں نے سوال کیا ہے،اور آپ مجھے کہہ رہے ہیں کہ معلوم کر لو،میں کیسے معلوم کروں،کیا یہ جواب ہے؟ اگر جواب نہیں آتا تو صاف کہہ دو مجھے علم نہیں۔
 
Top